October 15, 2026 at 3:10 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

صحابہؓ وصحابیاتؓ، ازواجِ مطہراتؓ اور صاحبزادیاںؓ

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیاں

سوال

بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ہی لڑکی سیّدہ فاطمہؓ تھیں۔ جبکہ میں نے پڑھا ہے کہ آپ کی چار لڑکیاں تھیں اور صاحبزادے ابراہیم تھے جو مدینہ منوّرہ میں وفات پاگئے، لڑکیوں میں سیّدہ فاطمہؓ کا نکاح شیرِ خدا حضرت علیؓ سے ہوا، جبکہ سیّدہ رقیہؓ، سیّدہ زینبؓ کا نکاح حضرت عثمان غنیؓ سے ہوا، چوتھی لڑکی کا علم نہیں، آپ یہ بتائیں کہ یہ چاروں کس کے بطن سے پیدا ہوئی ہیں؟ اور نکاح کن سے ہوا؟ اور وفات کہاں پائی؟ اور اگر ان کے بطن سے کوئی اور اولاد ہوئی ہو تو وہ بھی بتادیں، کیا ان میں سے کسی کا نکاح عرشِ معلی پر باندھا گیا تھا یا نہیں؟ جواب سے مطلع فرمائیں۔

جواب

جواب:۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیاں تو چار تھیں،(۱) سب سے بڑی سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا، ان کا نکاح حضرت ابوالعاص رضی اللہ عنہ سے ہوا،(۲) اور ان سے چھوٹی سیّدہ رقیہ رضی اللہ عنہا اور ان سے چھوٹی سیّدہ اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا، ان دونوں کا نکاح یکے بعد دیگرے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ہوا، اس بنا پر ان کا لقب ’’ذُوالنورین‘‘ ہے۔(۳) سب سے چھوٹی سیّدہ فاطمہ زَہراء خاتونِ جنت ہیں، رضی اللہ عنہا، ان کا عقد حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے ہوا۔(۴)

صاحبزادوں کی تعداد میں اختلاف ہے، بعض نے پانچ لکھے ہیں، قاسم، عبداللہ، طیب، طاہر، ابراہیم رضی اللہ عنہم۔ اوّل الذکر چاروں حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بطن سے تھے،(۵) اور حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ آپ کی حرم حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے تھے،(۶) بعض حضرات فرماتے ہیں کہ طیب و طاہر حضرت عبداللہ ہی کے لقب ہیں۔(۷) رضی اللہ عنہم۔

  1. (۱) وفیھا اسلمت بنات النبی صلی اللہ علیہ وسلم الأربع کلھنّ۔ ۱:زینب وھی أکبر بناتہ، ۲:وفاطمۃ، ۳:ورقیۃ، ۴:وأُمّ کلثوم۔ (بذل القوۃ ص:۴، فصل فی حوادث السَّنَۃ الأولٰی من النبوّۃ، القسم الأوّل)۔
  2. (۲) ابوالعاص بن الربیع زوج زینب بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ (بذل القوۃ ص:۳۰۷ السَّنَۃ الحادیۃ عشرۃ من الھجرۃ)۔
  3. (۳) تزوّج عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ رقیۃ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ (بذل القوۃ ص:۱۴)۔ وتزوّج عثمان رضی اللہ عنہ بأُمّ کلثوم بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ (بذل القوۃ ص:۱۳۶، فصل فی حوادث السَّنَۃ الثالثۃ من الھجرۃ)۔
  4. (۴) تزوّج علی بفاطمۃ رضی اللہ عنہا فی صفر للیال بقین منہ۔ (بذل القوۃ ص:۱۳۴ السَّنَۃ الثالثۃ من الھجرۃ)۔
  5. (۵) ان خدیجۃ بنت خویلد ولدت لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم القاسم والطاہر والطیّب وعبداللہ وزینب ورقیۃ وأُمّ کلثوم وفاطمۃ۔ (اُسد الغابہ ج:۵ ص:۴۳۶)۔
  6. (۶) وأما ابنہ صلی اللہ علیہ وسلم ابراھیم وکان من سریتہ ماریۃ۔ (بذل القوۃ ص:۴، حوادث السَّنَۃ الأولٰی من النبوّۃ)۔
  7. (۷) وعبداللہ الملقب بالطیب والطاھر أیضًا (بذل القوۃ ص:۴، مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ج:۱ ص:۱۵۵)۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیاں - شہید اسلام