صحابہؓ وصحابیاتؓ، ازواجِ مطہراتؓ اور صاحبزادیاںؓ
کیا نو سال کی عمر میں کوئی لڑکی بالغ ہوسکتی ہے؟
سوال
عورت کے بالغ ہونے کی کم از کم کتنی مدّت ہے؟ بعض لوگ حضرت عائشہؓ کی نو سال کی رُخصتی پر اِعتراض کرتے ہیں، کیا یہ جائز ہے؟ مدلل و مفصل جواب دیں۔
سوال یہ ہے کہ اخبارات میں درج شدہ واقعات کو بلاچوں و چرا مان لینا، اور اسی نوعیت کے حدیث میں درج شدہ واقعات پر سو سو طرح کے شبہات ظاہر کرنا، اس کا اصل منشا کیا ہے؟ اس کا منشا یہ ہے کہ ان لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتِ رسالت و نبوّت پر اِیمان نہیں اور ان کے دِل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و احوال اور افعال کی عظمت نہیں، اس لئے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کے خارقِ عادت واقعات کا بڑی جرأت و دلیری سے انکار کردیتے ہیں۔
(۱) وأدنی المدۃ لذٰلک فی حق الغلام اثنا عشرۃ سنۃ وفی حق الجاریۃ تسع سنین۔ (ہدایۃ ج:۳ ص:۳۵۶)۔
جواب
جواب:۔ یہ صرف ملحدین اور منکرینِ حدیث کی اُڑائی ہوئی بات ہے، ورنہ لڑکی نو سال کی بالغ ہوسکتی ہے،(۱)اس سلسلے میں روزنامہ ’’جنگ‘‘ کی خبر ملاحظہ ہو:
’’برازیل میں ایک ۹ سالہ لڑکی گزشتہ ماہ ایک بچی کو جنم دے کر دُنیا کی کمسن ترین ماں بن گئی۔ اخبار ڈیلی مرر نے بدھ کو اس کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ ماریا ایلاینی جینرز نے ۲۵؍مارچ کو شمالی برازیل کے قصبہ ژاکوئی میں آپریشن کے ذریعے بچی کو جنم دیا، نوزائیدہ بچی کے باپ کی عمر ۱۶ برس بتائی جاتی ہے۔ ماریا ایلاینی کی خود کی ماں اسے جنم دینے کے بعد مرگئی تھی جس کے بعد سے ایک ۶۲ سالہ بے زمین کاشتکار نے اس کی کفالت کی۔ مرر نے کمسن ماں اور اس کی نوزائیدہ بچی کی تصویر بھی شائع کی ہے۔‘‘
(روزنامہ ’’جنگ‘‘ کراچی ۱۰؍اپریل ۱۹۸۶ء ص:۱۰)
۱۶؍اپریل کے اخبارات میں اس ’’کمسن ماں‘‘ اور اس کی نومولود بچی کی تصویریں بھی شائع ہوئی ہیں۔ خیال ہے کہ برازیل کے اخبار ’’ڈیلی مرر‘‘ کے حوالے سے یہ عجیب و غریب خبر دُنیا بھر کے اخبارات میں شائع ہوئی ہوگی۔ ماریا ایلاینی کا دُنیا کی سب سے ’’کمسن ماں‘‘ بن جانا بلاشبہ ایک اعجوبہ ہے، لیکن یہ واقعہ خود کتنا ہی عجیب و غریب ہو، چونکہ وجود اور مشاہدے میں آچکا ہے اس لئے کوئی عاقل یہ کہہ کر اس کا انکار نہیں کرسکتا کہ یہ کیونکر ہوسکتا ہے؟
صحیح بخاری شریف اور حدیث و سیر اور تاریخ کی تمام کتابوں میں اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی شادی اور رُخصتی کا واقعہ خود اُمّ المؤمنینؓ ہی کی زبانی یوں منقول ہے:
’’اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَھَا وَھِیَ بِنْتُ سِتَّ سِنِیْنَ، وَاَدْخَلَتْ عَلَیْہِ وَھِیَ بِنْتُ تِسْعَ، وَمَکَثَتْ عِنْدَہٗ تِسْعًا۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۲ ص:۷۷۱)
ترجمہ:۔’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے عقد کیا جب وہ چھ سال کی تھیں، اور ان کی رُخصتی ہوئی جبکہ وہ نو سال کی تھیں، اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نو سال رہیں۔‘‘
فقہائے اُمت نے اس حدیث سے متعدّد مسائل اخذ کئے ہیں، مثلاً ایک یہ کہ والد اپنی نابالغ اولاد لڑکی، لڑکے کا نکاح کرسکتا ہے، چنانچہ اِمام بخاری رحمہ اللہ نے اس پر باب باندھا ہے: ’’باب النکاح الرجل ولدہ الصغار‘‘ یعنی آدمی کا اپنی کمسن اولاد کا نکاح کردینا۔
اس کے ذیل میں حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’قَالَ الْمُهَلَّبُ: أَجْمَعُوا أَنَّهُ يَجُوْزُ لِلأَبِ تَزْوِيْجُ ابْنَتِهِ الصَّغِيْرَةِ الْبِكْرِ، وَلَوْ كَانَتْ لَا يُوْطَأُ مِثْلُهَا، إِلَّا أَنَّ الطَّحَاوِيَّ حَكَى عَنْ ابْنِ شُبْرُمَةَ مَنْعَهُ فِيْمَنْ لَا تُوْطَأُ، وَحَكَى ابْنُ حَزْمٍ عَنْ ابْنِ شُبْرُمَةَ مُطْلَقًا أَنَّ الأَبَ لَا يُزَوِّجُ بِنْتَهُ الْبِكْرَ الصَّغِيْرَةَ حَتَّى تَبْلُغَ، وَتَأْذَنَ، وَزَعَمَ أَنَّ تَزْوِيْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ بِنْتُ سِتِّ سِنِيْنَ كَانَ مِنْ خَصَائِصِهِ.۔‘‘(حاشیہ بخاری ص:۷۷۱، فتح الباری ج:۹ ص:۱۹۰)
ترجمہ:۔’’مہلبؒ فرماتے ہیں کہ: اہلِ علم کا اس پر اِجماع ہے کہ باپ کے لئے جائز ہے کہ اپنی چھوٹی کنواری بیٹی کا عقد کردے، اگرچہ وہ وظیفۂ زوجیت کے لائق نہ ہو۔ البتہ اِمام طحاویؒ نے ابنِ شبرمہؒ سے نقل کیا ہے کہ جو لڑکی وظیفۂ زوجیت ادا کرنے کے قابل نہیں، باپ اس کا نکاح نہیں کرسکتا، اور ابنِ حزمؒ نے ابنِ شبرمہؒ سے نقل کیا ہے کہ باپ چھوٹی بچی کا نکاح نہیں کرسکتا، یہاں تک کہ وہ بالغ ہوجائے، اور اجازت دیدے، ابنِ شبرمہؒ کا خیال ہے کہ حضرت عائشہؓ کا چھ سال کی عمر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عقد کیا جانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہے۔‘‘
گویا اُمت کے تمام فقہاء و محدثین، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس واقعے کو تسلیم کرتے ہیں، اور اس پر اَحکام کی تفریع کرتے ہیں، چودہ صدیوں کے کسی عالم نے اس واقعے کا انکار نہیں کیا، لیکن منکرینِ حدیث اور ملاحدہ اس واقعے کا (جو حدیث، سیرت، تاریخ اور فقہ کی بے شمار کتابوں میں درج اور چودہ صدیوں کی پوری اُمت کا مُسلَّمہ واقعہ ہے) انکار کرتے ہیں، اور انکار کی دلیل صرف یہ کہ نو سال کی بچی کی رُخصتی کیسے ہوسکتی ہے؟ حالانکہ نو سال کی لڑکی بالغ ہوسکتی ہے، چنانچہ ’’ہدایہ‘‘ میں ہے:
وَأَدْنَى الْمُدَّةِ لِذٰلِكَ فِي حَقِّ الْغُلَامِ اثْنَا عَشْرَةَ سَنَةً، وَفِي حَقِّ الْجَارِيَةِ تِسْعُ سِنِينَ۔‘‘(ج:۳ ص:۳۵۶)
ترجمہ:۔’’بلوغ کی ادنیٰ مدّت لڑکے کے حق میں بارہ سال اور لڑکی کے حق میں نو سال ہے۔‘‘
بہرحال یہاں اس مسئلے پر گفتگو مقصود نہیں، بلکہ کہنا یہ ہے کہ اگر کوئی عجیب واقعہ اخبارات میں چھپتا ہے تو ہمارے پڑھے لکھے، روشن خیال حضرات کو نہ کوئی اِشکال ہوتا ہے، اور نہ اس کے تسلیم کرنے میں کوئی جھجک محسوس ہوتی ہے، اور نہ کسی کو اِنکار کی جرأت ہوتی ہے، اور اگر کوئی ایسے واقعے کا انکار کردے تو ہمارا روشن خیال طبقہ اس کو اَحمق کہتا ہے۔ لیکن اسی نوعیت کا بلکہ اس سے بھی ہلکی نوعیت کا کوئی واقعہ حدیث کی کتابوں میں نظر آجاتا ہے تو اس کا فوراً اِنکار کردیا جاتا ہے، اس کا مذاق اُڑایا جاتا ہے، احادیث اور محدثین پر طعن و تشنیع کی بوچھاڑ کردی جاتی ہے، اور غریب مُلَّا کو پیٹ بھر کر گالیاں دی جاتی ہیں، اور کبھی کبھی اَز راہِ ہمدردی کتبِ حدیث کی ’’اصلاح‘‘ کا اعلان کردیا جاتا ہے، اور ایک دہائی بڑھاکر ’’چھ‘‘ کو ’’سولہ‘‘ اور ’’نو‘‘ کو ’’اُنیس‘‘ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، اور اتنی تمیز سے بھی کام نہیں لیا جاتا کہ جس طرح اُردو میں ’’چھ‘‘ کا اِملا ’’سولہ‘‘ کے ساتھ اور ’’نو‘‘ کا ’’اُنیس‘‘ کے ساتھ نہیں ہوسکتا، اسی طرح عربی میں یہ ناممکن ہے۔

