October 15, 2026 at 3:10 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

صحابہؓ وصحابیاتؓ، ازواجِ مطہراتؓ اور صاحبزادیاںؓ

’’اَلصَّحَابَۃُ کُلُّہُمْ عَدُوْلٌ‘‘کی تشریح

سوال

’’اَلصَّحَابَۃُ کُلُّہُمْ عَدُوْلٌ‘‘ ، ’’أَصْحَابِي كَالنُّجُوْمِ‘‘کیایہ اَحادیث کے اَقوال ہیں؟ لیکن حدیث تو مستند ہے کہ: ’’کچھ لوگ حوضِ کوثر پر آئیں گے، فرشتے انہیں روکیں گے، میں کہوں گا یہ میرے اصحاب ہیں، جواب ملے گا: تمہیں نہیں معلوم انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا؟‘‘ اس حدیث شریف سے تمام صحابہ کا عدول ہونا بظاہر ثابت نہیں ہوتا(یہ ایک اِشکال ہے صرف)، اسی طرح یہ حدیث شریف کہ جس صحابی کی اقتداء کروگے ہدایت پاؤگے۔ تو اگر کوئی کہے کہ میں تو عمرو بن العاص اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہما کی اقتدا کرتا ہوں اور معاملات میں انصاف نہ کرے اور حوالہ دے ان کے واقعات کا، مثلاً عمرو بن العاصؓ نے ابو موسیٰ اشعریؓ کے ساتھ جو کیا جبکہ دونوں صفین میں حَکَم بنائے گئے، تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اقتدا جس سے ہدایت ملے وہ صحابہ کرامؓ کے عقیدے اور رُسوخِ ایمان کی ہے جس کی مثال مشکل ہے، ان کے اعمال، عادات و اطوار کی اقتدا مراد نہیں؟

جواب

جواب:۔ ’’أَصْحَابِي كَالنُّجُوْمِ‘‘ کا مضمون صحیح ہے، مگر بایں الفاظ، حدیث صحیح سند سے ثابت نہیں۔(۱) صحابہ کرامؓ کے افعال دو قسم کے ہیں: بعض تو اِتباعِ نصوص کی وجہ سے اور بعض بنا بر اِجتہاد۔ پھر اِجتہادی اُمور بھی دو قسم کے ہیں: ایک وہ جن پر کسی ایک فریق کا صواب یا خطا پر ہونا ظنِ غالب سے متعین نہیں ہوا، ایسے اِجتہادی اُمور میں مجتہد کے لئے کسی ایک قول کا اختیار کرلینا صحیح ہے جو مجتہد کے نزدیک ترجیح رکھتا ہو۔ اور دُوسری قسم وہ ہے کہ ایک فریق کا خطا پر ہونا ظنِ غالب سے ثابت ہوجائے، ایسے اقوال و افعال میں مخطی کا اِتباع نہیں کیا جائے گا، البتہ ان کو اپنے اِجتہاد کی بنا پر معذور بلکہ ماجور قرار دیا جائے گا، اس لئے: ’’بِأَيِّهِمِ اقْتَدَيْتُمْ اهْتَدَيْتُمْ‘‘ کو اس شرط کے ساتھ مشروط کیا جائے گا کہ ان کا خطا پر ہونا غلبۂ ظن سے ثابت نہ ہو، البتہ یوں کہا جائے گا کہ انہوں نے بھی اِتباعِ ہدایت کا قصد کیا، لہٰذا ان پر ملامت نہیں۔ جہاں تک ’’اَلصَّحَابَۃُ کُلُّہُمْ عَدُوْلٌ‘‘ کا تعلق ہے یہ بھی حدیث نہیں بلکہ اہلِ سنت کا قاعدۂ مُسلَّمہ ہے اور ان اکابر کے ’’کُلُّہُمْ عَدُوْلٌ‘‘ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ معصوم تھے، جس ہدایت کو ہم صحابہ کرامؓ سے منسوب کرتے ہیں وہ دو چیزیں ہیں: ایک: یہ کہ وہ کبائر سے پرہیز کرتے تھے اور ان کے نفوسِ طیبہ میں اجتناب عن الکبائر کا ملکہ راسخ ہوچکا تھا، دوم: یہ کہ اگر کسی سے بتقاضائے بشریت احیاناً کسی کبیرہ کا شاذ و نادر کبھی صدور ہوا تو انہوں نے فوراً اس سے توبہ کرلی اور بہ برکت صحبتِ نبوی ان کے نفوس اس گناہ کے رنگ سے رنگین نہیں ہوئے اور :ـ ’’التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ‘‘ ارشادِ نبوی ہے، اس لئے ان ارتکابِ کبیرہ کے باوجود توبہ کی وجہ سے عادل رہے، فاسق نہیں ہوئے۔ حضرت نانوتویؒ اور دیگر اکابر نے اس پر طویل گفتگو فرمائی ہے، میں نے خلاصہ لکھ دیا جو حلِ اِشکال کے لئے اِن شاء اللہ کافی ہے۔(۲)

  1. (۱) واما ما یروی عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم أنہ قال: ’’أصحابی کالنُّجوم، بأیھم اقتدیتم اھتدیتم‘‘ فھو حدیث ضعیف، قال البزار: ھٰذا حدیث لَا یصح عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ولیس ھو فی کتب الحدیث المعتمدۃ۔ (شرح عقیدۃ الطحاویۃ ص:۵۳۰، وایضاً مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ج:۵ ص:۵۲۳)۔
  2. (۲) ولَا نذکر الصحابۃ ای مجتمعین ومنفردین ۔۔۔ اِلّا بخیر، یعنی وان صدر من بعضھم بعض ما فی صورۃ شرّ، فانہ اما کان عن اجتہاد أو لم یکن علٰی وجہ فساد من اصرار وعناد بل کان رجوعھم عنہ الٰی خیر معاد بناء علٰی حسن الظن بھم، لقولہ علیہ الصلٰوۃ والسلام: خیر القرون قرنی! ولقولہ علیہ الصلٰوۃ والسلام: اذا ذکر أصحابی فامسکوا! ولذٰلک ذھب جمہور العلماء الٰی ان الصحابۃ کلھم عدول، قبل فتنۃ عثمان وعلیّ وکذا بعدھا۔ (شرح فقہ الأکبر ص:۸۵، ۸۶)۔
’’اَلصَّحَابَۃُ کُلُّہُمْ عَدُوْلٌ‘‘کی تشریح - شہید اسلام