October 15, 2026 at 3:10 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

صحابہؓ وصحابیاتؓ، ازواجِ مطہراتؓ اور صاحبزادیاںؓ

صحابہ کرامؓ نجومِ ہدایت ہیں

سوال

’’أَصْحَابِي كَالنُّجُوْمِ‘‘ اور ’’الصَّحَابَةُ كُلُّهُمْ عُدُوْلُ‘‘ آپ نے فرمایا کہ دونوں اقوال حدیث شریف کے نہیں، اگر ایسا ہے تو کوئی اشکال نہیں، اگر حدیث شریف ہے تو درایت پر پوری نہیں اترتی، اس لئے کہ بہت سے صحابہؓ سے بڑی بڑی لغزشیں ہوئیں، جیسے حضرت امیر معاویہؓ، عمرو بن العاصؓ، مغیرہ بن شعبہؓ، عبیداللہ بن عمرؓ، عبداللہ بن ابی سرحؓ وغیرہ۔

جواب

جواب:۔ ’’الصَّحَابَةُ كُلُّهُمْ عُدُوْلُ‘‘ حدیث تو نہیں، لیکن اہلِ حق کا مُسلَّمہ عقیدہ ہے،(۱) اور اکابر کی تقلید میں میرا عقیدہ یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ بلا استثنا نجومِ ہدایت تھے، اور سب کے سب عادل تھے، لیکن آنجناب نے عدل کے معنی عصمت کے سمجھے ہیں۔ صحابہ کرامؓ عادل تھے، معصوم نہ تھے، اور عدل کے معنی ہیں: عمداً ارتکاب کبائر سے اور اصرار علی الصغائر سے بچنا اور اگر احیاناً معاصی کا صدور ہوجائے تو فوراً توبہ کرلینا۔(۲)

جن صحابہ کرامؓ کا نام لے کر آپ نے فرمایا ہے کہ ان سے بڑی بڑی لغزشیں ہوئیں، ان میں سے کون سی غلطی ایسی ہے جس کی معافی کا اعلان اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوچکا ہو؟ اور وہ ’’وَكُلّٗا وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلۡحُسۡنَىٰۚ ‘‘کے وعدۂ خداوندی سے مستثنیٰ ہوں، ابن ابی سرحؓ مرتد ہوکر مسلمان ہوگئے تھے،(۳) اس کے بعد ان سے کون سی غلطیاں ہوئیں؟ حضرت عمرو بن العاصؓ، مغیرہ بن شعبہؓ اور امیر معاویہؓ نے جو کچھ کیا وہ ان کی اِجتہادی غلطی تھی اور آنجناب کو معلوم ہے کہ اِجتہادی لغزش تو عصمت کے بھی منافی نہیں، چہ جائیکہ عدل کے منافی ہو۔ قرآنِ کریم میں نبی معصوم کے بارے میں فرمایا گیا ہے: ’’وَعَصَىٰٓ ءَادَمُ رَبَّهُۥ فَغَوَىٰ ‘‘ اس میں عصیان اور غوایت کی نسبت کی گئی ہے، مگر یہ فعل اِجتہاداً تھا، اس لئے یہ عصیان بھی صورتاً ہوا نہ حقیقتاً،(۴) اسی طرح صحابہ کرامؓ کی جن جن بڑی غلطیوں کا آپ ذکر کر رہے ہیں وہ بھی اِجتہاداً تھیں جن پر وہ ماجور ہیں نہ کہ مازور۔(۵) خلاصہ یہ ہے کہ ان حضرات نے جو کچھ کیا اپنے اپنے اجتہاد کے مطابق رضائے الٰہی کے لئے کیا، اگر کسی کا اجتہاد خطا کرگیا تب بھی وہ نہ لائق ملامت ہے اور نہ اس کی اجتہادی خطا کو حقیقتاً غلطی کہنا صحیح ہے، نہ ان کے اجتہاد کی غلطی عدل کے منافی ہے اور نہ ان کے نجوم ہدایت ہونے کے خلاف ہے۔

  1. (۱) ولَا نذکر الصحابۃ ای مجتمعین ومنفردین ۔۔۔ اِلّا بخیر، یعنی وان صدر من بعضھم بعض ما فی صورۃ شرّ، فانہ اما کان عن اجتہاد ولم یکن علٰی وجہ فساد من اصرار وعناد، بل کان رجوعھم عنہ الٰی خیر معاد، بناء علٰی حسن الظن بھم، لقولہ علیہ الصلٰوۃ والسلام: خیر القرون قرنی! ولقولہ علیہ الصلٰوۃ والسلام: اذا ذکر أصحابی فامسکوا! ولذٰلک ذھب جمہور العلماء الٰی ان الصحابۃ کلھم عدول، قبل فتنۃ عثمان وعلیّ وکذا بعدھا، ولقولہ علیہ الصلٰوۃ والسلام: أصحابی کالنجوم بأیّھم اقتدیتم اھتدیتم! رواہ الدارمی۔ (شرح فقہ الأکبر ص:۸۵، ۸۶)
  2. (۲) قولہ العدل قال فی الذخیرۃ: وأحسن ما قیل فی تفسیر العدالۃ: أن یکون مجتنبًا للکبائر، ولَا یکون مُصرًّا علی الصغائر، ویکون صلاحہ اکثر من خطئہ۔ (فتاویٰ شامی کتاب الشہادات ج:۵ ص:۴۶۵)۔ وأیضًا: إن ھٰذہ الآثار المرویۃ فی مساویھم منھا ما ھو کذب، ومنھا ما قد زید فیہ ونقص وغیر وجھہ والصحیح منہ ھم فیہ معذورون، اما مجتھدون مصیبون واما مجتھدون مخطئون، وھم مع ذٰلک لَا یعتقدون أن کل واحد من الصحابۃ معصوم من کبائر الْإثم وصغائرہ بل یجوز علیھم الذنوب فی الجملۃ، ولھم من الفضائل والسوابق ما یوجب مغفرتہ ما یصدر منھم إن صدر۔ (الروضۃ الندیۃ شرح العقیدۃ الواسطیۃ ص:۴۴۹، طبع ریاض، وأیضًا الصواعق المحرفۃ ص:۱۲۹ طبع مصطفی البابی مصر)۔
  3. (۳) وأسلم ذٰلک الیوم فحسن اسلامہ ولم یظھر منہ بعد ذٰلک ما ینکر علیہ وھو أحد العقلاء الکرماء من قریش۔ (اُسد الغابۃ ج:۳ ص:۱۷۳، الْإصابۃ فی تمییز الصحابۃ ج:۲ ص:۳۱۷ طبع بیروت)۔
  4. (۴) البحث الثانی ۔۔۔ أو لم نجد لہ عزمًا علی الْإحتیاط فی کیفیۃ الْإجتھاد اذا قلنا انہ علیہ السلام انما أخطأ بالْإجتھاد (التفسیر الکبیر ج:۲۲ ص:۱۲۴ طبع بیروت)۔
  5. (۵) عن عمرو بن العاص، انہ سمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: اذا حکم الحاکم فاجتھد فأصاب فلہ أجران، واذا حکم فاجتھد ثم أخطأ فلہ أجر۔ (صحیح بخاری ج:۲ ص:۱۰۹۲، باب أجر الحاکم اذا اجتھد فأصاب أو أخطأ)۔ وھٰذا ھو مذھب أھل السُّنَّۃ والجماعۃ ان علیًّا ھو المصیب وإن کان معاویۃ مجتھدًا وھو مأجور إن شاء اللہ۔ (البدایۃ والنھایۃ ج:۷ ص:۲۷۹)۔
صحابہ کرامؓ نجومِ ہدایت ہیں - شہید اسلام