صحابہؓ وصحابیاتؓ، ازواجِ مطہراتؓ اور صاحبزادیاںؓ
سوئِ ادب کی بو آتی ہے
سوال
صحابہ کرامؓ سے محبت رکھنا، عزت و عقیدت سے ان کا ذکر کرنا بندہ کا بھی جزو ایمان ہے، بلکہ اکثر اس میں غلو بھی ہوجاتا ہے۔ میرا سوال صرف یہ تھا کہ یہ جو قول ہے کہ جس کی اقتداء کرو گے، ہدایت پاؤگے۔ تو یہ اقتداء میں نے عرض کیا تھا کہ ان کے عقائد اور ایمان کی معلوم ہوتی ہے کہ اس میں جتنا ان کو رسوخ تھا اس کی مثال مشکل ہے، مگر ان کے اعمال میں اقتداء کا حکم نہیں ہے، مجھے خوشی ہے کہ میرے اس قول میں امام مزنی ؒ کا قول بھی تائید میں ملا ہے،
جواب
جواب:۔ آپ نے حضرت معاویہؓ، حضرت عمرو بن العاصؓ اور حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کے متعلق جو الفاظ لکھے تھے، ان سے کچھ سوئِ ادب کی بو آتی ہے۔ عقائد و ایمان تو سب کا ایک ہی تھا اور بیشتر اعمال بھی، اور بعض اعمال میں اجتہادی اختلاف بھی تھا، تاہم ’’جس کی اقتداء کرو گے ہدایت پاؤگے‘‘ کا یہی مصداق ہے، یعنی سب اپنی جگہ حق و ہدایت پر ہیں،(۱) جیسا کہ ائمہ اربعہؒ کے بارے میں اہلِ سنت قائل ہیں کہ وہ سب برحق ہیں، ان کا ایک دُوسرے کی تردید و تغلیط کرنا بھی بنا بر اِجتہاد ہے، ہر مجتہد اپنی رائے صائب اور غلطی سے مبرا سمجھتا ہے مگر ظنًّا۔(۲)
- (۱) ولَا نذکر الصحابۃ ای مجتمعین ومنفردین ۔۔۔ اِلّا بخیر، یعنی وان صدر من بعضھم بعض ما فی صورۃ شرّ، فانہ اما کان عن اجتہاد ولم یکن علٰی وجہ فساد من اصرار وعناد، بل کان رجوعھم عنہ الٰی خیر معاد، بناء علٰی حسن الظن بھم، لقولہ علیہ الصلٰوۃ والسلام: خیر القرون قرنی! ولقولہ علیہ الصلٰوۃ والسلام: اذا ذکر أصحابی فامسکوا! ولذٰلک ذھب جمہور العلماء الٰی ان الصحابۃ کلھم عدول، قبل فتنۃ عثمان وعلیّ وکذا بعدھا، ولقولہ علیہ الصلٰوۃ والسلام: أصحابی کالنجوم بأیّھم اقتدیتم اھتدیتم! رواہ الدارمی۔ (شرح فقہ الأکبر ص:۸۵، ۸۶)
- (۲) وانما النزاع بین الناس فی أحکام الفروع، وإلیک مجمل الآراء: الأوّل: أن الحق واحد، فإن أصابہ کان لہ أجران، وإن أخطأہ کان معذورًا مأجورًا، وھٰذا مذھب جمھور الفقھاء ومختار عامۃ المحققین۔ (نظریۃ الْإجتھاد فی الشریعۃ الْإسلامیۃ ص:۵۵، الفصل الحادی عشر، المصیب فی الْإجتہاد، طبع دار الشروق۔ وأیضًا فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت ص:۶۱۴ طبع لکھنؤ)۔

