صحابہؓ وصحابیاتؓ، ازواجِ مطہراتؓ اور صاحبزادیاںؓ
’’تمام صحابہ عادل ہیں‘‘ کا مطلب
سوال
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد ’’صحابہ سب عادل ہیں‘‘ کا کیا مفہوم ہے؟ کچھ احباب کا کہنا ہے کہ جو کہ اپنے خیال پر سیّد سلیمان ندویؒ کی طرف سے بھی دلائل دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ روایت کو نقل کرنے میں صحابہ عادل ہیں۔ آپ سے گزارش ہے کہ اپنے کالم میں عدالتِ صحابہؓ کی وضاحت ٹھوس دلائل سے واضح فرمائیں۔
جواب
جواب:۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین روایت میں بھی عادل ہیں اور اپنے اعمال میں بھی۔ اُن سے اگر کوئی لغزش ہوئی تو یا تو اِجتہادی خطا ہے، جس پر وہ مأجور ہیں، یا اگر کبھی گناہ ہوا، تو انہوں نے اس سے فوراً توبہ کرلی، اور ایسا گناہ جس کے بعد فوراً توبہ کرلی جائے عدالت کے منافی نہیں۔ بہرحال ان کی تقلید کا، اور ان پر تنقید نہ کرنے کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا ہے۔ جو لوگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر تنقید کرتے ہیں، وہ اہلِ سنت سے نہیں ہیں۔(۱)
- (۱) ولَا نذکر الصحابۃ ۔۔۔ وفی نسخۃ ۔۔۔ ولَا نذکر أحدًا من أصحاب رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اِلّا بخیر، یعنی وان صدر من بعضھم بعض ما فی صورۃ شرٍّ، فانہ امّا کان عن إجتھاد، أو لم یکن علٰی وجہ فساد من اصرار وعناد، بل کان رجوعھم عنہ الی خیر معاد بناءً علٰی حسن الظن بھم لقولہ علیہ الصلٰوۃ والسلام: ’’خیر القرون قرنی‘‘ ولقولہٖ علیہ الصلٰوۃ والسلام: ’’اذا ذکر أصحابی فأمسکوا‘‘ ۔۔۔ الخ۔ (شرح فقہ اکبر ص:۸۵، أیضًا مکتوبات امام ربانی ص:۸۸، ۸۹ مکتوب:۲۶ دفتر دوم)۔

