صحابہؓ وصحابیاتؓ، ازواجِ مطہراتؓ اور صاحبزادیاںؓ
صحابہؓ کی غلطیوں کو بیان کرنا اور تحریر کرنا کیسا ہے؟
سوال
بعض تعلیم یافتہ حضرات کی طرف سے بڑی معقولیت کے انداز میں یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ جب صحابہ کرامؓ سے غلطیاں اور گناہ سرزد ہوئے ہیں جو ایک تاریخی حقیقت ہے، تو ان کو بیان کرنے اور بذریعہ تحریر ظاہر کرنے میں کوئی قباحت نہیں، یہ حضرات معصوم تو نہیں تھے۔ براہِ کرم روایتاً و درایتاً تسلی بخش جواب تحریر فرمائیں تاکہ اسے احسن انداز میں شائع کرکے اہلِ ایمان کے شبہات دُور کئے جائیں۔
جواب
جواب:۔ سوال میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں جو کہا گیا ہے کہ وہ معصوم نہیں تھے، ان سے غلطیاں اور گناہ سرزد ہوئے، یہ دو مقدمے صحیح ہیں۔ لیکن دو مقدمے اور بھی ہیں، ایک یہ کہ ان کے بہت سے افعال جن کو غلطی اور گناہ تصوّر کیا جاتا ہے، تأویل پر مبنی تھے۔ جس طرح کہ حضرت آدم علیہ السلام کا اَکلِ شجرہ تأویل پر مبنی تھا، اور یہ عصمت کے بھی منافی نہیں، چہ جائیکہ عدالت کے منافی ہو۔ دوم یہ کہ حق تعالیٰ شانہ‘ نے بہ برکتِ صحبتِ نبوی ان کے قصوروں کو معاف کرکے ان کو ’’رضی اللہ عنہم‘‘ کے تاجِ کرامت سے سرفراز فرمایا۔ اور جس قصور کی معافی کا اعلان کردیا گیا ہو، اس کا طعنہ دینا دائرۂ شرافت سے خارج ہے۔ اس لئے ان نام نہاد عیوب کو تقریراً یا تحریراً بیان کرنا اور اس سے ان اکابر پر طعن کا قصد کرنا، شرافت سے بعید اور کمینگی کی حدود میں داخل ہے۔ اُمید ہے کہ یہ اِختصار، اِختصارِ مخل نہیں ہوگا۔(۱)
- (۱) حوالہ بالا

