حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور یزید کے بارے میں مسلکِ اہل سنت
حضرت حسینؓ اور یزید کی حیثیت
سوال
مسلمانوں میں واقعہ کربلا کے حوالے سے بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں، کچھ لوگ جو یزید کی خلافت کو صحیح مانتے ہیں، حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو باغی قرار دیتے ہیں، جبکہ یزید کو امیرالمؤمنین کہتے ہیں۔ از راہ کرم یہ فرمائیے کہ حضرت اِمام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو باغی کہنے والوں کے لئے کیا حکم ہے؟ یزید کو امیرالمؤمنین کہنا کہاں تک دُرست ہے؟
جواب
جواب:۔ اہلِ سنت کا موقف یہ ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ حق پر تھے، ان کے مقابلے میں یزید حق پر نہیں تھا، اس لئے یزید کو امیرالمؤمنین نہیں کہا جائے گا، حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ’’باغی‘‘ کہنے والے اہلِ سنت کے عقیدے سے باغی ہیں۔(۱)
صحیح حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: ’’حسن و حسین (رضی اللہ عنہما) نوجوانانِ اہلِ جنت کے سردار ہیں‘‘ (ترمذی)۔(۲)
جو لوگ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ۔۔۔نعوذ باللہ!۔۔۔ ’’باغی‘‘ کہتے ہیں، وہ کس منہ سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قیادت و سیادت میں جنت میں جائیں گے۔۔۔؟
- (۱) قال أھل السنۃ والجماعۃ: ان الحسین رضی اللہ عنہ کان الحق فی یدہ وقد قُتِل ظلمًا۔ (شرح عقائد ص:۱۶۲، حاشیہ نمبر:۷ طبع مکتبہ خیر کثیر)۔ وأیضًا: وأمّا ما تفوَّہ بعض الجھلۃ من ان الحسین کان باغیًا فباطل عند أھل السُّنَّۃ والجماعۃ، ولعل ھٰذا من ھذیانات الخوارج، الخوارجُ عند الجادۃ۔ (شرح فقہ الأکبر ص:۸۷ طبع دہلی)۔
- (۲) عن أبی سعید قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: الحسن والحسین سیّدا شباب أھل الجنّۃ۔ (ترمذی ج:۲ ص:۲۱۸، مناقب أبی محمد الحسن بن علی والحسین بن علی)۔

