حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور یزید کے بارے میں مسلکِ اہل سنت
یزید پر لعنت بھیجنے کا کیا حکم ہے؟
سوال
کیا یزید پر لعنت بھیجنا جائز ہے؟
جواب
جواب:۔ اہلِ سنت کے نزدیک یزید پر لعنت کرنا جائز نہیں، یہ رافضیوں کا شعار ہے، قصیدہ بدء الامالی، جو اہلِ سنت کے عقائد میں ہے، اس کا شعر ہے:
وَلَمْ يَلْعَنْ يَزِيْدًا بَعْدَ مَوْتٍ
سِوَى الْمُكْثِرِ فِيْ الْإِغْرَاءِ غَالٍ(۱)
اس کی شرح میں علامہ علی قاریؒ لکھتے ہیں کہ: ’’یزید پر سلف میں سے کسی نے لعنت نہیں کی، سوائے رافضیوں، خارجیوں اور بعض معتزلہ کے، جنھوں نے فضول گوئی میں مبالغے سے کام لیا ہے۔‘‘ اور اس مسئلے پر طویل بحث کے بعد لکھتے ہیں:
’’فَلَا شَكَّ أَنَّ السُّكُوْتَ أَسْلَمُ‘‘
’’اس لئے اہلِ سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ نہ تو یزید پر لعنت کی جائے، نہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں اس کی مدح وتوصیف کی جائے۔‘‘

