حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور یزید کے بارے میں مسلکِ اہل سنت
کیا صحابہؓ کو آج کی دُنیا کی رنگینیاں معلوم تھیں؟
سوال
آج کی دُنیا بہت رنگین ہے، کیا صحابہ کرامؓ کو یہ علم تھا کہ کسی زمانے میں دُنیا اس قدر رنگین ہوجائے گی؟ اور لوگوں میں دِین داری کم ہوجائے گی اور دُنیا ان پر غالب ہوجائے گی؟
جواب
جواب:۔ جی ہاں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے آگاہ فرمایا تھا،(۱) جیسا کہ احادیث میں ان کا مفصل تذکرہ موجود ہے۔(۲)
- (۱) ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعث أبا عبیدۃ بن الجرّاح إلی البحرین یأتی بجزیتھا وکان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ھو صالح أھل البحرین وامّر علیھم العلاء بن الحضرمی فقدم أبو عبیدۃ بمال من البحرین فسمعت الأنصار بقدومہ فوافت صلٰوۃ الصبح مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلما انصرف تعرّضوا لہ فتبسّم حین راٰھم فقال أظنّکم سمعتم بقدوم أبی عبیدۃ وأنہ جاء بشیء قالوا أجل یا رسول اللہ! قال فابشروا وامّلوا ما یسرّکم فواللہ! ما الفقر أخشٰی علیکم ولٰـکن أخشٰی علیکم أن تبسط علیکم الدنیا کما بسطت علٰی من کان قبلکم فتنافسوھا کما تنافسوھا وتلھیکم کما الھتھم۔ (صحیح بخاری ج:۲ ص:۹۵۱، باب ما یحذّر من زھرۃ الدنیا والتنافس فیھا)۔
- (۲) تفصیل کے لئے دیکھئے: ’’عصرِ حاضر حدیثِ نبوی کے آئینے میں‘‘ از حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ، طبع مکتبہ لدھیانوی۔

