October 14, 2026 at 12:34 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اِجتہاد وتقلید

تقلید کی تعریف و اَحکام

سوال

تقلید کی تعریف ان الفاظ میں کی جاتی ہے کہ: تقلید کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کا قول مأخذِ شریعت میں سے نہیں ہے، اس کے قول پر دلیل کا مطالبہ کئے بغیر عمل کرلینا۔ اہلِ حدیث حضرات اس عمل کو سخت گناہ کی بات تصوّر کرتے ہیں، لیکن مجھے اس ہی قول کو سمجھنا ہے، مگر پہلے جو میں سمجھا ہوں، ظاہر کرنے کی سعی کرتا ہوں، تاکہ بعد میں آپ کی بات آسانی سے سمجھ سکوں۔

جواب

جواب:۔ شرعی دلائل چار ہیں، ۱:۔کتاب اللہ، ۲:۔ سنتِ رسول اللہ، ۳:۔اِجماعِ اُمت اور۴:۔قیاسِ مجتہدین۔ (۱) پہلی تین چیزوں کے تو اہلِ حدیث بھی منکر نہیں، البتہ چوتھی چیز کے منکر ہیں۔

۲:۔جو مسائل صراحتاً کتاب و سنت یا اِجماع سے ثابت ہوں، اور ان کے مقابلے میں کوئی اور دلیل نہ ہو، وہاں تو قیاسِ مجتہدین کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی، البتہ جن مسائل کا ذکر کتاب و سنت اور اِجماع میں صراحتاً نہ ہو، ان میں شرعی حکم معلوم کرنے کے لئے قیاس و اِجتہاد کی ضرورت پیش آتی ہے۔(۲)

۳:۔اسی طرح جس مسئلے میں بظاہر دلائل متعارض ہوں، وہاں تطبیق یا ترجیح کی ضرورت پیش آتی ہے، اور یہ کہ یہ منسوخ تو نہیں؟ بیانِ جواز پر تو محمول نہیں؟ کسی عذر پر تو محمول نہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔

۴:۔ ان دو مرحلوں کو طے کرنا مجتہد کا کام ہے، یعنی غیرمنصوص مسائل کا حکم معلوم کرنا، اور جن مسائل پر دلائل بظاہر متعارض ہوں، ان میں تطبیق و ترجیح اور ان کے محامل کی تعیین۔(۳)

۵:۔ اور لوگ دو قسم کے ہیں، ایک جو اِجتہاد کی صلاحیت رکھتے ہیں، دُوسرے عامی، جو اس کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ پس مذکورہ بالا دو مرحلوں میں مجتہد پر تو اِجتہاد لازم ہے، کہ وہ انسانی طاقت کے بقدر پوری کوشش کرے کہ اس مسئلے میں اللہ و رسول کا حکم کیا ہے؟ اور عامی کو اس کے سوا چارہ نہیں کہ وہ کسی مجتہد کی پیروی کرے۔(۴)

۶:۔عامی کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ جس مجتہد کی پیروی کر رہا ہے، وہ اہلِ علم کے نزدیک لائقِ اعتماد ہو، ہر مسئلے میں اس سے دلیل کا مطالبہ کرنا، اس کے لئے ممکن نہیں۔ پس یہ حاصل ہوا اس قول کا کہ مجتہد کے قول کو بغیر مطالبہ دلیل کے ماننا تقلید ہے۔(۵)

۷:۔ اہلِ حدیث بھی درحقیقت مقلد ہیں، کیونکہ جن اکابر کے قول کو وہ لیتے ہیں، ان سے دلیل کا مطالبہ نہیں کرتے، نہ کرسکتے ہیں، گویا ترکِ تقلید بھی ایک طرح کی تقلید ہے۔

۸:۔اس تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہوگا کہ کسی مجتہد کا قول دلیلِ شرعی کے بغیر ہوتا ہی نہیں،(۶) البتہ یہ ممکن ہے کہ بعض اوقات وہ دلیل ایک عامی کے فہم و ادراک سے اُونچی ہو، خصوصاً جہاں دلائلِ شرعیہ بظاہر متعارض نظر آتے ہیں۔ اہلِ حدیث حضرات ایسے موقعوں پر اَئمۂ اِجتہاد کے قول کو بے دلیل کہتے ہیں، حالانکہ ’’بے دلیل ہونے‘‘ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ دلیل ان کے فہم سے بالاتر ہے۔ دُوسرے لفظوں میں یہ کہئے کہ دلیل کا علم نہ ہوسکنے کو وہ دلیل کے نہ ہونے کا نام دیتے ہیں، حالانکہ عدم شیٔ اور چیز ہے اور ’’عدمِ علم‘‘ اور چیز ہے۔ پھر عدمِ علم اور چیز ہے، اور ’’علمِ عدم‘‘ اور چیز ہے۔ یہ وہی بات ہے جو آپ نے نمبر۲ میں ذکر کی ہے۔

۹:۔ اَدِلۂ شرعیہ درحقیقت تین ہی ہیں، لیکن قولِ مجتہد کو جو دلیلِ شرعی کہا جاتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ کسی نہ کسی دلیلِ شرعی (خفی یا جلی) پر مبنی ہوتا ہے۔(۷) مگر اس دلیلِ شرعی کو مجتہد ہی ٹھیک طور سے سمجھتا ہے، اس لئے عامی کے حق میں قولِ مجتہد کو دلیلِ شرعی قرار دے دیا گیا ہے۔

۱۰:۔ شیخ ؒکی کتابوں کے بارے میں اس ناکارہ نے جو کچھ لکھا ہے، سیاق و سباق سے اس کا مفہوم بالکل واضح ہے۔ اس کے باوجود اگر کوئی اس سے غلط اِستدلال کرنے بیٹھ جائے تو اس کا کیا علاج ہے؟ لوگوں نے غلط اِستدلال کرنے کے لئے قرآنِ کریم کا بھی لحاظ نہیں کیا، اس ناپاک کی ژولیدہ تحریر کا کیوں لحاظ کرنے لگے۔۔۔؟

  1. (۱) شاہ ولی اللہ محدث دہلوی قدس سرہٗ فرماتے ہیں:
  2. (۲) مبدؤہ ما قالہ ھو عن نفسہ: إنی آخذ بکتاب اللہ إذا وجدتہ فما لم أجدہ فیہ أخذت بسنۃ رسول اللہ، والأثار الصحاح عنہ التی فی أیدی الثقات فإذا لم أجد فی کتاب اللہ ولَا سنۃ رسول اللہ أخذت بقول أصحابہ من شئت وادع قول من شئت، ثم لَا أخرج عن قولھم إلٰی قول غیرھم، فإذا انتھی الأمر إلی التابعین وعدد رجالًا منھم قد اجتھدوا فلی ان أجتھد کما اجتھدوا۔ (نظریۃ الْإجتھاد فی الشریعۃ الْإسلامیۃ ص:۲۰، طبع دار الشروق، جدّۃ)۔
  3. (۳) فتاویٰ شامیۃ، مطلب فی طبقات الفقھاء (ج:۱ ص:۷۷، طبع ایچ ایم سعید)۔
  4. (۴) وھو محمول من لہ قدرۃ علٰی استنباط الأحکام من الکتاب والسُّنَّۃ، واِلّا فقد صرح العلماء بان التقلید واجب علی العامی، لئلا یضل فی دینہٖ۔ ( میزان الکبریٰ ج:۱ ص:۸۸ طبع مصر، الیواقیت والجواہر ج:۲ ص:۹۶)۔
  5. (۵) التقلید: اتباع الْإنسان غیرہ فیما یقول أو یفعل معتقد للحقیۃ من غیر نظر الی الدلیل کان ھٰذا المتبع جعل قول الغیر أو فعلہ قلادۃ فی عنقہ من غیر مطالبۃ دلیل۔ (کشاف اصطلاحات الفنون ج:۲ ص:۱۱۷۸، طبع سھیل اکیڈمی لَاھور)۔
  6. (۶) فقد بان لک یا أخی مما نقلناہ عن الأئمۃ الأربعۃ أن جمیع الأئمۃ المجتھدین دائرون مع أدلّۃ الشرع حیث دارت ۔۔۔ وان مذاھبھم کلھا محررۃ علی الکتاب والسُّنَّۃ۔ (میزان الکبریٰ ج:۱ ص:۵۵ طبع مصر)۔
  7. (۷) فان اُصول الشرع ثلاثۃ: الکتاب والسُّنَّۃ واجماع الاُمّۃ، والأصل الرابع: القیاس، المستنبط من ھٰذہ الاُصول الثلاثۃ۔ (حسامی مع النامی ص:۴، طبع کتب خانہ مجیدیہ ملتان)۔
تقلید کی تعریف و اَحکام - شہید اسلام