اِجتہاد وتقلید
اَئمۂ اَربعہؒ حق پر ہیں
سوال
ایک صاحب نے کچھ سوالات کئے تھے جن کا جواب آپ نے قرآن و حدیث سے نہیں دیا، بلکہ ہر سوال کے جواب میں آپ نے لکھا کہ ہمارے نزدیک یہ ناجائز ہے، یا ہمارے نزدیک یہ جائز ہے۔ کہیں آپ نے لکھا ہے کہ حنفی کے نزدیک اس کا جواب یوں ہے۔ اس جواب سے میں نے اندازہ کیا کہ آپ نبی کو نہیں مانتے ہیں، کیونکہ اگر آپ اللہ اور رسول کو مانتے تو یہی کہتے کہ قرآن وحدیث میں اس طرح ہے، یا یہ کہتے کہ نبی نے اس طرح کیا ہے، فلاں حدیث سے ثابت ہے اور فلاں حدیث سے یہ کام منع ہے۔
جواب
جواب:۔ چونکہ ہمارے یہاں اکثریت حنفی حضرات کی ہے اور یہ ناکارہ خود بھی مجتہد نہیں، بلکہ اِمام ابوحنیفہؒ کا مقلد ہے، اس لئے لازمی ہے کہ فتویٰ اس کے موافق دیا جائے گا، اور اَئمۂ مجتہدینؒ سب کے سب قرآن و سنت کے متبع تھے،(۱) اس لئے جب ہم کسی اِمامِ مجتہد کا حوالہ دیں گے تو گویا یہ قرآن و سنت کا حوالہ ہے، اس کے بارے میں یہ کہنا کہ ہم نعوذ باللہ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتے، ایسی ہی غلط تہمت ہے، جیسا کہ منکرینِ حدیث، حدیث کا حوالہ دینے پر کہا کرتے ہیں کہ یہ لوگ قرآن کو نہیں مانتے۔(۲)
کیا چاروں ائمہ، امام ابوحنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ نعوذباللہ! اللہ اور اس کے رسول کو ماننے والے نہیں تھے؟ اور اگر تھے تو پھر ہم ان کی طرف نسبت کیوں کرتے ہیں، جب کہ وہ بھی سب نبی ہی کو مانتے تھے تو پھر ہم بھی کیوں نہ کہیں کہ نبی کے نزدیک اس مسئلے کا جواب یوں ہے، فلاں حدیث سے ثابت ہے؟
جواب:۔ یہ چاروں ائمہ رحمہم اللہ، اللہ و رسول کے ماننے والے تھے، ان حضرات نے قرآن و حدیث سے استدلال کرکے مسائل بیان فرمائے ہیں اور بعض موقعوں پر اختلاف فہم کی وجہ سے ان کے درمیان اختلاف بھی ہوا ہے، اس لئے ان میں سے کسی ایک کا حوالہ، در اصل اس کے فہم قرآن و حدیث کا حوالہ ہے۔(۳)
ان چاروں اِماموں میں اختلاف کیوں ہے؟ ایک کہتا ہے: نماز میں ہاتھ ناف پر باندھو، دُوسرا کہتا ہے: ہاتھ سینے پر باندھو، تیسرا کہتا ہے: ہاتھ سینے کے نیچے باندھو، چوتھا کہتا ہے: ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھو، دِین میں اگر چاروں طریقے سے ہاتھ باندھنا صحیح ہے، نبی نے اس طرح نماز پڑھی ہے تو پھر ہم دین میں کیوں اختلاف پیدا کرتے ہیں کہ ہمارے نزدیک یوں ہے، چاروں طریقوں کو حدیث سے ثابت کرکے بتائیے؟
جواب:۔یہ اختلافات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان بھی ہوئے، چونکہ ان اکابر کے درمیان اختلافات ہوئے، اس لئے ہمارے لئے ناگزیر ہوا کہ ایک کے قول کو لیں، اور دُوسرے کے قول کو نہ لیں۔(۴)
کیا چاروں اِماموں میں سے ایک کی تقلید کرنا واجب ہے؟ اگر واجب ہے تو نبی نے کہاں فرمایا ہے کہ تقلید ایک اِمام کی ضروری ہے؟
جواب:۔ قرآن و حدیث پر عمل کرنا واجب ہے، اور اختلاف ہونے کی صورت میں، اور غلبۂ ہویٰ اور فہمِ ناقص کی صورت میں قرآن و حدیث پر عمل کرنے کا ذریعہ صرف یہ ہے کہ جن اکابر کا فہمِ قرآن و حدیث مسلّم ہے، ان میں سے کسی ایک کے فتویٰ پر عمل کیا جائے، اس کا نام تقلید ہے۔(۵)
کیا اِماموں نے بھی کہا ہے کہ ہماری تقلید تم پر واجب ہے؟ اور کیا تقلید نہ کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا؟ جبکہ اس کا عمل قرآن و حدیث کے مطابق ہو اور وہ صرف قرآن و حدیث کو ہی مانتا ہو۔
جواب:۔ ان اَئمۂ دِین پر اعتماد کے بغیر قرآن و حدیث پر عمل ہو ہی نہیں سکتا، اور جب قرآن و حدیث پر عمل نہ ہوا تو انجام ظاہر ہے۔(۶)
کیا چاروں اِمامؒ غلط تھے جنہوں نے کسی کی تقلید نہیں کی؟ صحابہؓ اور چاروں خلفاءؓ جنہوں نے کسی کی تقلید نہیں کی، وہ صرف قرآن و حدیث کو مانتے تھے، فقہ کا نام و نشان نہیں تھا، تو کیا نعوذ باللہ! یہ سب غلط راستے پر تھے؟ انہوں نے دِین کو نہیں سمجھا تھا جو بعد کے عالموں نے سمجھا ہے؟
جواب:۔ تقلید کی ضرورت مجتہد کو نہیں غیر مجتہد کو ہے، حضراتِ خلفائے اَربعہ رضی اللہ عنہم، اور حضراتِ اَئمۂ اَربعہ رحمہم اللہ خود مجتہد تھے، ان کو کسی کی تقلید کی ضرورت نہ تھی، جو شخص ان کی طرح خود مجتہد ہو، اس کو بھی ضرورت نہیں، لیکن ایک عام آدمی جو مجتہد نہیں، اس کو تقلید کے بغیر چارہ نہیں۔(۷)
اگر دِین تقلید کا نام ہے اور تقلید کرنا ضروری ہے تو کیوں نہ ہم اپنے آپ کو چاروں خلفاءؓ کی طرف نسبت کریں، ایک کہے: میں صدیقی ہوں۔ دُوسرا کہے: میں فاروقی ہوں۔ تیسرا کہے: میں عثمانی ہوں۔ اور چوتھا کہے: میں علیؓ کو ماننے والا ہوں۔ اگر اس طرح کوئی کہے تو میں سمجھتا ہوں کہ سارے اختلافات ختم ہوجائیں، کیونکہ ان چاروں میں کوئی اختلاف ہی نہیں تھا، یہ تو بعد میں ہوا ہے۔
جواب:۔ جس طرح چاروں اَئمۂ مجتہدینؒ کا مذہب مدوّن ہے، اس طرح چاروں خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کا مذہب مدوّن نہیں ہوا، ورنہ ضرور ان ہی حضرات کی تقلید کی جاتی، اور یہ سمجھنا کہ ان چاروں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں تھا، بے علمی کی بات ہے، حدیث کی کتابوں میں ان کے اختلافات مذکور ہیں۔(۸)
- (۱) فقد بان لک یا أخی مما نقلناہ عن الأئمۃ الأربعۃ أن جمیع الأئمۃ المجتھدین دائرون مع أدلۃ الشرع حیث دارت ۔۔۔ وان مذاھبھم کلھا محررۃ علی الکتاب والسنۃ۔ (میزان الکبریٰ ج:۱ ص:۵۵)۔
- (۲) بل یجب علیھم اتباع الذین سبروا ای تعمّقوا وبوّبوْا ای اوردوا ابوابا لکل مسئلۃ علیحدۃ فھذبوا مسئلۃ علیحدۃ فھذبوا مسئلۃ کل باب، ونقحوا کل مسئلۃ عن غیرھا وجمعوا بینھا بجامع، وفرقوا بفارق وعلّلو ای اوردوا لکل مسئلۃٍ علّۃً وفصلوا تفصیلا، یعنی یجب علی العوام تقلید من تصدق بعلم الفقہ ۔۔۔ وعلیہ بنٰی ابن الصلاح منع تقلید غیر الأئمۃ الأربعۃ الْإمام الھمام امام الأئمۃ إمامنا أبوحنیفۃ الکوفی، والْإمام مالک، والْإمام الشافعی، والْإمام احمد رحمہم اللہ تعالٰی وجزاھم عنا احسن الجزاء لأن ذٰلک المذکور لم یدر فی غیرھم۔ (فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت ص:۶۲۹ طبع لکھنؤ)۔ وأیضًا والْإنصاف ان انحصار المذاھب فی الأربعۃ واتباعھم فضل الٰہی وقبولیتہ عند اللہ تعالٰی لَا مجال فیہ للتوجیہات والأدلۃ۔(تفسیر احمدی لمُلّا جیون ص:۲۹۷)۔
- (۳) حوالہ بالا
- (۴) حوالہ بالا
- (۵) وفی ذٰلک (ای التقلید) من المصالح ما لَا یخفی، لَا سیّما فی ھٰذہ الأیام التی قصرت فیھا الھمم جدّا واشربت النفوس الھوٰی واعجب کل ذی رأی برأیہ۔ (حجۃ اللہ البالغۃ ج:۱ ص:۱۵۴، طبع مصر)۔
- (۶) اعلم ان فی الأخذ لھٰذہ المذاھب الأربعۃ مصلحۃ عظیمۃ، وفی الْإعراض عنہا مفسدۃ کبیرۃ۔ (عقد الجید لشاہ ولی اللہ رحمہ اللہ ص:۳۶، طبع مصر)۔
- (۷) وقد ذکروا أن المجتہد المطلق قد فقد، وأما المقید فعلٰی سبع مراتب مشہورۃ، وأما نحن فعلینا اتباع ما رجحوہ۔۔۔ الخ۔ (درمختار مع الشامی ج:۱ ص:۷۷، طبع ایچ ایم سعید)۔
- (۸) اعلم! ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لم یکن الفقہ فی زمانہ الشریف مدوّنًا، ولم یکن البحث فی الأحکام یومئذ مثل البحث من ھٰؤلَاء الفقہاء ۔۔۔ وکذٰلک کان الشیخان أبوبکر وعمر ۔۔۔ الخ۔ (حجۃ اللہ البالغۃ ج:۱ ص:۱۴۰، ۱۴۱)۔

