October 14, 2026 at 12:34 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اِجتہاد وتقلید

اَئمۂ اَربعہؒ کے حق پر ہونے کا مطلب

سوال

عرض یہ ہے کہ مسئلہ تقلید میں بندہ ایک عجیب مشکل کا شکار ہے، الحمدﷲ! میں حنفی سنی ہوں، کچھ عرصہ قبل مولانا مودودی کے ’’مسلم اعتدال‘‘ کے بارے میں پڑھتا رہا، ان کی رائے یہ ہے کہ جب چاروں اِمام حق پر ہیں، تو پھر ہم جس وقت جس کے مذہب پر چاہیں عمل کرلیں، کوئی نقصان نہ ہوگا۔ مثلاً: کبھی رفع یدین کرے، کبھی نہ کرے، کبھی اِمام کے پیچھے سورۃ پڑھے، کبھی نہ پڑھے، وغیرہ وغیرہ۔ یہ بات واقعی متأثر کن ہے، جس کے بعد درج ذیل سوالات میرے ذہن میں آئے ہیں:
۱:۔چاروں اِمام کے حق پر ہونے کا کیا مطلب ہے؟ ایک اِمام کے نزدیک اِمام کے پیچھے قراء ت سختی سے منع ہے، جبکہ دُوسرا اِمام اسے ضروری قرار دیتا ہے، اور نہ پڑھنے سے نماز نہیں ہوتی، (اسی طرح کے اور دُوسرے فرق ہیں جو آپ کے علم میں ہیں)۔
۲:۔اگر کوئی شخص کبھی کبھار چاروں اِماموں کے مسلک پر عمل کرلے تو کیا حرج ہے؟
۳:۔چاروں اِماموں کی باتوں پر عمل، کیا قرآن و حدیث پر عمل نہ ہوگا؟
۴:۔صرف اِمام ابوحنیفہؒ کی تقلید کو ضروری سمجھ کر دُوسروں کے مسلک پر عمل نہ کرنے کے کیا دلائل ہیں؟
۵:۔عقلی دلائل کے علاوہ چاروں مذہبوں پر عمل نہ کرنے کے شرعی دلائل کیا ہیں؟
۶:۔نیز تقلید کی اہمیت بھی قرآن و حدیث کی روشنی میں واضح کریں اور اہلِ حدیث حضرات جو تقلید کی وجہ سے ہم پر طعن کرتے ہیں، تو ان کی بات کہاں تک دُرست ہے؟ (آپ کی کتاب ’’اِختلافِ اُمت‘‘ میں بھی غالباً ان سوالات کے مکمل یا تفصیلی جواب نہیں ہیں)۔
دُوسرا مسئلہ یہ ہے کہ عورت اور مرد کی نماز میں جو فرق ہے تو قرآن و حدیث کے اس سلسلے میں کیا دلائل ہیں؟ کیونکہ اہلِ حدیث حضرات کی خواتین مردوں کی طرح نماز پڑھتی ہیں اور ہماری خواتین سے یہ لوگ دلیل مانگتے ہیں۔

جواب

جواب:۔ چاروں اِماموں کے برحق ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اِجتہادی مسائل میں ہر مجتہد اپنے اِجتہاد پر عمل کرنے کا مکلف ہے۔ چونکہ چاروں اِمام شرائطِ اِجتہاد کے جامع تھے، اور انہوں نے انسانی طاقت کے مطابق مرادِ اِلٰہی کے پانے کی کوشش کی، اس لئے جس مجتہد کا اِجتہاد جس نتیجے تک پہنچا اس کے حق میں وہی حکمِ شرعی ہے، اور وہ من جانب اللہ اسی پر عمل کرنے کا مکلف ہے۔ اب ایک مجتہد نے دلائلِ شرعیہ پر غور کرکے یہ سمجھا کہ اِمام کی اقتدا میں قراء ت ممنوع ہے، لِقَوْلِهِ تَعَالٰى: ﵟ فَٱسۡتَمِعُواْ لَهُۥ وَأَنصِتُواْ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُونَ ﵞ وَلِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: وَإِذَا قَرَأَ فَانْصِتُوْا وَقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: إِذَا أَمَّنَ الْقَارِيْ فَأَمِّنُوْا‘‘ تو یہ مجتہد اِن دلائلِ شرعیہ کے پیشِ نظر مجبور ہوگا کہ اس سے سختی کے ساتھ منع کرے۔

دُوسرے مجتہد کی نظر اس پر گئی کہ نماز میں سورۂ فاتحہ کا پڑھنا ہر نمازی کے لئے ضروری ہے، خواہ اِمام ہو یا مقتدی، یا منفرد، تو یہ اپنے اِجتہاد کے مطابق اس کے ضروری ہونے کا فتویٰ دے گا۔

الغرض ہر مجتہد اپنے اِجتہاد کے مطابق عمل کرنے اور فتویٰ دینے کا مکلف ہے، یہی مطلب ہے ہر اِمام کے برحق ہونے کا۔

۲:۔جو شخص شرائطِ اِجتہاد کا جامع نہ ہو، وہ اختلافی مسائل میں کسی ایک مجتہد کا دامن پکڑنے اور اس کے فتویٰ پر عمل کرنے کا مکلف ہے، اسی کا نام تقلید ہے۔(۱) پھر تقلید کی ایک صورت تو یہ ہے کہ کبھی کسی اِمام کے فتویٰ پر عمل کرلیا، کبھی دُوسرے اِمام کے فتویٰ پر، یا ایک مسئلے میں ایک اِمام کے فتویٰ کو لے لیا، اور دُوسرے مسئلے میں دُوسرے اِمام کے فتویٰ کو، لیکن آدمی کا نفس حیلہ جو ہے، اگر اس کی اجازت دے دی جائے تو عام لوگوں کے بارے میں اس کا احتمال غالب ہے کہ اپنے نفس کو جس مجتہد کا فتویٰ اچھا لگے گا، یا جو فتویٰ نفس کی خواہش کے مطابق ہوا کرے گا اس کو لے لیا کرے گا۔ اس صورت میں شریعت کی پیروی نہیں ہوگی، بلکہ ہوائے نفس کی پیروی ہوگی۔ اس لئے عوام کو خواہشِ نفس کی پیروی سے بچانے اور انہیں شریعتِ خداوندی کا پابند کرنے کے لئے یہ قرار دیا گیا کہ کسی ایک اِمام کے پابند ہوجائیں۔(۲)

اور بعض صورتوں میں اس بے قیدی سے تلفیق لازم آئے گی، جس کی چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ: ایک شخص نے وضو کی حالت میں عورت کو چھوا، یا اپنے عضوِ مستور کو ہاتھ لگایا، اس نے کہا کہ: ’’میں اس مسئلے میں اِمام ابوحنیفہؒ کے قول کو لیتا ہوں‘‘ ۔۔۔ان کے نزدیک ان چیزوں سے وضو نہیں ٹوٹتا۔۔۔ پھر اس کے بدن سے خون نکلا تو کہا کہ: ’’میں اس مسئلے میں اِمام شافعیؒ کے قول کو لیتا ہوں کہ خون نکلنے سے وضو نہیں ٹوٹتا‘‘ تو اس شخص کا وضو بالاجماع ٹوٹ گیا، مگر اس نے بزعمِ خود ایک مسئلے میں ایک اِمام کے اور دُوسرے مسئلے میں دُوسرے اِمام کے قول کو لے کر یہ سمجھا کہ اس کا وضو قائم ہے، ظاہر ہے کہ ایسی تلفیق شرعاً باطل ہے۔(۳)

البتہ بعض صورتوں میں اپنے اِمامِ مقتدا کے قول کو چھوڑ کر دُوسرے اِمام کے قول کو لینا جائز اور بعض اوقات بہتر ہے، مثلاً: دُوسرے اِمام کے قول میں احتیاط زیادہ ہے اور یہ شخص کمالِ احتیاط کی بنا پر دُوسرے اِمام کے فتویٰ پر عمل کرتا ہے۔ اس کی ایک مثال ابھی گزرچکی ہے کہ اِمام ابوحنیفہؒ کے نزدیک مسِ مرأۃ اور مسِ ذَکَر ناقضِ وضو نہیں، دُوسرے اَئمہ کے نزدیک ناقض ہے، تو کوئی حنفی بہ تقاضائے احتیاط اپنے عمل کے لئے دُوسرے اَئمہ کے قول کو لے تو یہ وَرَع و تقویٰ کی بات ہے۔ یا اِمام شافعیؒ کے نزدیک خون نکلنے سے وضو نہیں ٹوٹتا، اگر کوئی شافعی المذہب اس مسئلے میں حنفیہ کے فتویٰ پر عمل کرے تو یہ وَرَع و تقویٰ کی بات ہے۔ لیکن جس مسئلے میں دُوسرے اِمام کے قول پر عمل کرنے میں اپنے اِمام کی مخالفت لازم آتی ہے، وہاں دُوسرے کے قول پر عمل کرنا خلافِ احتیاط ہوگا۔ مثلاً: کوئی شخص فاتحہ خلف الامام کے مسئلے میں اِمام شافعیؒ کے قول پر عمل کرتا ہے تو اِمام ابوحنیفہؒ کے نزدیک وہ مکروہِ تحریمی بلکہ حرام کا مرتکب ہوگا۔ ایسی حالت میں اِمام ابوحنیفہؒ کے مذہب پر عمل کرنے والے کے لئے اِمام شافعیؒ کے فتویٰ پر عمل کرنا احتیاط نہیں، بلکہ اِرتکابِ حرام کا اندیشہ ہے، جو ظاہر ہے کہ خلافِ احتیاط ہے۔(۴)

اور اسی احتیاط کی ایک نوع یہ ہے کہ ایک شخص اگرچہ درجہ اِجتہاد پر فائز نہیں، لیکن قرآن و حدیث کے نصوص میں اچھی دسترس رکھتا ہے، شریعت کے اُصول و مقاصد اور مبادی پر نظر رکھتا ہے، اَحکام کے علل و اسباب کی معرفت میں اس کو فی الجملہ حذاقت و مہارت حاصل ہے، اس کا دِل اپنے اِمامِ مقتدا کے کسی مسئلے پر مطمئن نہیں ہوتا، بلکہ اس کے مقابلے میں دُوسرے اِمامِ مجتہد کا فتویٰ اسے اَقرب اِلی الکتاب والسنۃ نظر آتا ہے، ایسے شخص کے لئے اس مسئلے میں دُوسرے اِمام کی تقلید کرلینا روا ہوگا، مگر شرط یہ ہے کہ اس دُوسرے اِمامِ مجتہد کے فتویٰ کے تمام شروط و قیود کا لحاظ رکھے، ورنہ وہی تلفیق لازم آئے گی جس کا حرام بالاجماع ہونا اُوپر آچکا ہے۔(۵) سچی بات یہ ہے کہ تفقہ اور اِجتہاد بڑی ہی نازک اور دقیق و لطیف چیز ہے، ہم ایسے عامیوں کو اس کا ٹھیک ٹھیک سمجھنا بھی مشکل ہے، لہٰذا ہمارے لئے دِین و ایمان کی سلامتی اور خود رائی وکج روی سے حفاظت اسی میں ہے کہ ’’یک در گیر ومحکم گیر‘‘ پر عمل کریں۔ اور یہ جو آپ نے فرمایا کہ: ’’کبھی رفع یدین کرلیا، کبھی نہ کیا، کبھی اِمام کے پیچھے قراء ت کی، کبھی نہ کی‘‘ ظاہر ہے کہ ایسے شخص کو کبھی یکسوئی نصیب نہ ہوگی، بلکہ ہمیشہ متحیر و متردّد رہے گا کہ یہ صحیح ہے یا وہ؟ ’’پھر کبھی کیا، کبھی نہ کیا‘‘ کا کوئی معیار تو اس کے ذہن میں ہونا چاہئے کہ کبھی کرنے کی وجہ کیا تھی؟ اور کبھی نہ کرنے کا باعث کیا ہوا؟ کرید کر دیکھا جائے تو اس کا سبب بھی وہی تردّد و تحیر نکلے گا، اور کبھی دِل کی چاہت۔ جبکہ یہ طے شدہ بات ہے کہ چاروں اِمام اپنے اِجتہاد کے مطابق برحق ہیں تو کیوں نہ ’’یک در گیر ومحکم گیر‘‘ پر عمل کیا جائے؟

۳:۔اختلافی مسائل میں بیک وقت سب پر عمل کرنا تو بعض صورتوں میں ممکن ہی نہیں کہ ایک قول کو لے کر دُوسرے کو بہرحال چھوڑنا پڑے گا، اور اگر چاروں کے اقوال پر عمل کرنے کا یہ مطلب ہے کہ جس مسئلے میں جس کے قول پر چاہا عمل کرلیا، یا جب جی چاہا ایک ہی مسئلے میں ایک کے قول پر عمل کرلیا اور جب جی چاہا دُوسرے کے قول پر، تو اس کے بارے میں اُوپر عرض کرچکا ہوں۔ بلاشبہ چاروں اِماموں کا عمل قرآن و حدیث ہی پر ہے، گو مدارکِ اِجتہاد مختلف ہیں۔ لہٰذا کسی ایک کی باتوں کو عمل کے لئے اِختیار کرلینا بھی قرآن و حدیث پر ہی عمل کرنا ہے۔

۴:۔کسی ایک اِمام کی اِقتدا کو لازم پکڑنا (خواہ وہ اِمام ابوحنیفہؒ ہوں یا اِمام مالکؒ یا اِمام شافعیؒ یا اِمام احمدؒ) اس کی ضرورت تو اُوپر عرض کرچکا ہوں کہ تشہی اور تلفیق سے دِین کی حفاظت ہم عامیوں کے لئے اسی میں ہے۔ یہ دلیل تو تمام اَئمہؒ کی تقلیدِ شخصی کی ہے،(۶) اس میں اِمام ابوحنیفہؒ کی تخصیص نہیں، مگر یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ جس اِمامِ مجتہد کی پیروی کی جائے، اس کے اُصول و فروع، راجح مرجوح، قوی و ضعیف کا علم ہونا ضروری ہے۔

پاک و ہند اور افغانستان سے لے کر مشرقِ بعید تک اِمام ابوحنیفہؒ کا مذہب عام طور سے رائج رہا، اور ان ممالک میں فقہِ حنفی کی کتابوں کا ذخیرہ اور اس مذہب کے ماہرین بہ کثرت رہے، جن سے رُجوع کرنا ہر شخص کے لئے آسان تھا، دُوسرے اَئمہ کے مذاہب کا رواج ان علاقوں میں نہیں تھا، اس لئے ان علاقوں میں اِمام ابوحنیفہؒ کی تقلید رائج ہوئی، جیسا کہ بلادِ مغرب میں مالکی مذہب کا عام چرچا رہا، اور دُوسرے مذاہب کا رواج وہاں شاذ و نادر کے حکم میں رہا، اس لئے ان علاقوں میں اِمام مالکؒ کی تقلید متعین ہوگئی۔ الغرض ہمارے علاقوں میں اِمام ابوحنیفہؒ کی تقلید اس بنا پر ضروری قرار پائی کہ یہاں فقہِ حنفی کے ماہرین موجود رہے، اور بلادِ مغرب میں فقہِ مالکی کی تقلید ضروری ٹھہری کہ وہاں اس کے ماہرین موجود تھے، جہاں دُوسری فقہ کے ماہرین ہی موجود نہ ہوں، وہاں دُوسری فقہ پر عمل کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟ اور اس پر عمل کیسے ممکن ہے۔۔۔؟

۵:۔گزشتہ بالا نکات کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے تو اس سوال کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی، اس لئے کہ مطلق تقلید یا تقلیدِ شخصی محض عقلی چیز نہیں، بلکہ شریعتِ مطہرہ کی تعمیل کی عملی شکل ہے، اور جو دلائل شریعت کی پیروی کے ہیں، وہی ایک عامی کے لئے کسی اِمامِ مجتہد کی اِقتدا کے مثبت ہیں۔ اور آیتِ شریفہ: ﵟ فَسۡـَٔلُوٓاْ أَهۡلَ ٱلذِّكۡرِ إِن كُنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ ﵞ (النحل ٤٣) اور حدیثِ نبوی: ’’قَتَلُوْہُ، قَتَلَھُمُ اللہ، اَلَا سَئَلُوْا إِذَا لَمْ یَعْلَمُوْا؟ فَإِنَّمَا شِفَاءُ الْعَیِّ السُّؤَالُ‘‘ (مشکوٰۃ ص:۵۵، بروایت ابی داؤد عن جابرؓ، وابن ماجہ عن ابن عباسؓ) میں اسی کا ضروری ہونا ذکر فرمایا گیا ہے۔

۶:۔تقلید کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں اُوپر واضح ہوچکی ہے، اور سچی بات تو یہ ہے کہ جو حضرات تقلید کی بنا پر ہم ضعفا پر طعن کرتے ہیں، تقلید سے ان کو بھی مفر نہیں، کیونکہ ایک عامی آدمی جو قرآن و حدیث کے فہم میں مرتبۂ اِجتہاد پر فائز نہیں، لامحالہ وہ کسی کی مان کر ہی چلے گا، اور مختلف فیہ مسائل میں کسی نہ کسی اِمامِ مجتہد کی تحقیق پر اِعتماد کرنا اس کے لئے ناگزیر ہوگا، مگر ہم ضعفا میں اور ان حضرات میں چند وجوہ سے فرق ہے:

اوّل:۔یہ کہ ہم ایک اِمامِ مجتہد کی تحقیق پر عمل کرتے ہیں، جس کی اِمامت اور درجۂ اِجتہاد پر اس کا فائز ہونا تمام اکابرِ اُمت کو مسلّم ہے (اس کا خلاصہ میں ’’اِختلافِ اُمت اور صراطِ مستقیم‘‘ میں قلم بند کرچکا ہوں)، اس کے باوجود ہم دُوسرے اکابر اَئمہ اور ان کے متبعین کے بارے میں زبانِ طعن دراز نہیں کرتے، بلکہ ان کے حق میں ان کے اِجتہاد کو واجب العمل جانتے ہیں۔ اور یہ حضرات اپنے سوا باقی سب کو باطل پرست جانتے ہیں، ان پر زبانِ طعن دراز کرتے ہیں، گویا ان حضرات کے نزدیک عمل بالحدیث کا تقاضا پورا نہیں ہوتا، جب تک مقبولانِ اِلٰہی کی پوستین دری نہ کی جائے اور ان پر گمراہی و باطل پرستی کا فتویٰ صادر نہ کیا جائے۔۔۔!

دوم:۔یہ کہ ہم اِمام ابوحنیفہؒ کی تحقیق پر عمل پیرا ہیں، جنہوں نے صحابہ کرامؓ کا زمانہ پایا اور صحابہؓ و تابعینؒ کو دِین پر عمل کرتے ہوئے بچشمِ خود دیکھا۔ اور یہ حضرات اکثر و بیشتر اِمام بخاریؒ یا شیخ ابنِ تیمیہؒ کی تحقیق کو اَوْلیٰ و راجح سمجھتے ہیں، اور کبھی ان کو بھی چھوڑ کر حافظ ابنِ حزمؒ کی تحقیقات کو سرمۂ چشمِ بصیرت سمجھتے ہیں۔ اب یہ حضرات ہی انصاف فرمائیں کہ صحابہؓ و تابعینؒ کے دور میں (جس کو حدیث شریف میں خیرالقرون فرمایا گیا ہے) دِین پر بہتر عمل ہو رہا تھا یا مؤخر الذکر اکابرؒ کے زمانے میں۔۔۔؟

سوم:۔یہ کہ ہم لوگوں کو اپنے عامی ہونے کا اعتراف ہے، اس لئے کسی اِمامِ مجتہد کی اِقتدا دِین کی پیروی کے لئے ضروری سمجھتے ہیں۔ اس کے برعکس یہ حضرات اس کے باوجود کہ ایک آیت یا حدیث کا ترجمہ کرنے کے لئے بھی اُردو تراجم کے محتاج ہیں، اپنے آپ کو عامی ماننے میں عار سمجھتے ہیں اور اپنے کو اَئمۂ مجتہدینؒ کے ہم پلہ، بلکہ ان سے بھی بالاتر سمجھتے ہیں۔۔۔!

بہرحال اہلِ حدیث حضرات اگر ہم عامیوں پر اس لئے طعن کرتے ہیں کہ ہم اپنے جہل کا اعتراف کرتے ہوئے کسی عالمِ ربانی اور عالمِ حقانی کی پیروی کو اِتباعِ شریعت کے لئے کیوں ضروری سمجھتے ہیں؟ تو ہم ان کی طعن و تشنیع سے بدمزہ نہیں ہوتے، اللہ تعالیٰ ان کے علم و اِجتہاد میں برکت فرمائیں۔ ہم لوگ بھی اِن شاء اللہ! اکابر اَئمہؒ کی اِقتدا کرتے ہوئے جنت میں پہنچ ہی جائیں گے۔

وہاں پہنچ کر اِن شاء اللہ! ان طعن کرنے والے حضرات کو بھی کھل جائے گا کہ ان کے طعن و تشنیع کی کیا قیمت تھی۔۔۔؟

۷:۔عورت کی نماز کے بارے میں ’’اِختلافِ اُمت اور صراطِ مستقیم‘‘ حصۂ دوم کے مسئلہ نمبر:۴ میں ضروری تفصیل لکھ چکا ہوں، وہاں ملاحظہ فرمالیا جائے، مگر یہاں ایک نکتے کا مزید اضافہ کروں گا:

میں نے وہاں تین روایات ذکر کی ہیں، دو مرفوع، ایک خلیفہ راشد حضرت علیؓ کا قول۔ نیز میں نے وہاں یہ بھی ذکر کیا کہ قریب قریب تمام اَئمہ اور فقہائے اُمت، مرد و عورت کی نماز میں (بعض مسائل میں) فرق کے قائل ہیں، جن کی تفصیل ان کی کتبِ فقہیہ سے معلوم ہوسکتی ہے۔

اہلِ حدیث حضرات جو نماز کے مسائل میں مرد و زَن کی تفریق کے قائل نہیں، وہ عموماً احادیث کے عموم سے استدلال کرتے ہیں، جن میں فرمایا گیا ہے کہ رُکوع اس طرح کیا جائے، سجدہ یوں کیا جائے اور قعدہ یوں کیا جائے۔ ان حضرات نے ان احادیث کو مرد و عورت کے لئے عام سمجھا اور جن احادیث کا میں نے اُوپر حوالہ دیا، ان کو ضعیف قرار دے کر مسترد کردیا۔ حالانکہ اگر ان حضرات نے غور فرمایا ہوتا تو انہیں یہ سمجھنا مشکل نہیں تھا کہ چاروں اِماموں نے مرد و عورت کی نماز میں بعض مسائل میں جو تفریق فرمائی ہے، اس کا منشا ستر (پردہ) ہے، جس کی طرف میں ’’اِختلافِ اُمت‘‘ میں اشارہ کرچکا ہوں، اور یہ منشا خود اَحادیثِ صحیحہ میں مصرّح ہے۔ چنانچہ مردوں کے لئے جمعہ اور جماعت کی حاضری کو لازم قرار دیا گیا ہے، لیکن عورتوں کے لئے اسی تستر (پردے) کی بنا پر ان کا وجوب ساقط کردیا گیا، اور ان کے حق میں: ’’وَبُیُوْتَھُنَّ خَیْرٌ لَّھُنَّ‘‘ (مشکوٰۃ ص:۹۶) فرمایا گیا۔ اس لئے جن احادیث میں دونوں کی نماز میں تفریق کا مضمون وارِد ہوا ہے، وہ اگر ضعیف بھی ہوں تب بھی وہ عمومات کے مقابلے میں لائقِ ترجیح ہوں گی، کیونکہ عورت کا عورت ہونا خود اس کے تستر کو چاہتا ہے، پھر اَئمۂ مجتہدینؒ کا بالاتفاق فیصلہ بھی اسی کا مؤید ہے، اِمام بخاریؒ نے تعلیقاً اُمّ الدرداء رضی اللہ عنہا کا اثر نقل کیا ہے کہ وہ مردوں کی طرح بیٹھتی تھیں اور وہ فقیہہ تھیں۔(۷)

حافظ ابنِ حجرؒ کی تحقیق یہ ہے کہ: ’’یہ اُمّ الدرداء صغریٰ ہیں جو تابعیہ ہیں، اور تابعی کا مجرّد عمل خواہ اس کا مخالف موجود نہ ہو، حجت نہیں۔‘‘(۸)

اس کے مقابلے میں مسندِ اِمام ابی حنیفہؒ کی روایت ہے کہ: ’’حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا گیا کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورتیں کس طرح نماز پڑھا کرتی تھی؟ فرمایا: پہلے چار زانو بیٹھتی تھیں، پھر انہیں حکم دیا گیا کہ سمٹ کر بیٹھا کریں۔‘‘ (لامع الدراری ج:۱ ص:۳۳۱)

ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی خواتین کا عمل جو حکمِ نبوی کے ماتحت تھا، اُمّ الدرداء صغریٰ تابعیہ کے عمل سے اَوْلیٰ اور اَنسب ہوگا، اور چونکہ اس حکم اور عمل کا منشا وہی تستر تھا، اس لئے اس علت سے مردوں اور عورتوں کی نماز میں تفریق دُوسری جزئیات میں بھی ثابت ہوجائے گی، جو مذکورہ بالا احادیث میں مصرّح ہیں، اور اَئمۂ اَربعہ کے درمیان متفق علیہا بھی ہیں۔وَبِاللّٰهِ التَّوْفِيْقُ، وَاللّٰهُ أَعْلَمُ، وَعِلْمُهُ أَتَمُّ وَأَحْكَمُ!

  1. (۱) التقلید فی اللغۃ ۔۔۔ قال المحققون من الاُصولیین: العامی وھو من لیس لہ أھلیۃ الْإجتھاد وان کان محصلًا لبعض العلوم المعتبرۃ فی الْإجتھاد یلزمہ اتباع قول المجتھدین والأخذ بفتواھم لقولہ تعالٰی: ﵟ فَسۡـَٔلُوٓاْ أَهۡلَ ٱلذِّكۡرِ إِن كُنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ ﵞ۔ (تیسیر الاُصول الٰی علم الاُصول ص:۳۲۳ بحث فی التقلید للشیخ عبدالرحمٰن محلاوی حنفی، وأیضًا: فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت ص:۶۲۶ طبع لکھنؤ)۔
  2. (۲) ۔۔۔ وفی وقت یقلدون من یفسدہ وفی وقت یقلدون من یصححہ بحسب الغرض والھوٰی، ومثل ھٰذا لَا یجوز باتفاق الأمّۃ۔ (الفتاویٰ الکبریٰ ج:۲ ص:۲۴۳ المسألۃ السابعۃ والأربعون، طبع دارالقلم بیروت)۔
  3. (۳) وأن الحکم الملفق باطل بالْإجماع، وفی رد المختار: مثالہ: متوضیٔ سال من بدنہ دم ولمس امرأۃ ثم صلی فإن صحۃ ھٰذہ الصلاۃ ملفقۃ من مذھب الشافعی والحنفی والتلفیق باطل فصحتہ منتفیۃ۔ (رد المختار ج:۱ ص:۷۵)۔
  4. (۴) وأن الحکم الملفق باطل بالْإجماع، وأن الرجوع عن التقلید بعد العمل باطل اتفاقًا۔ (در مختار ج:۱ ص:۷۵)۔
  5. (۵) وأن الحکم الملفق باطل بالْإجماع ۔۔۔ (وفی الشامیۃ) وأنہ یجوز لہ العمل بما یخالف ما عملہ علٰی مذھبہ مقلدًّا فیہ غیر امامہ مستجمعًا شروطہ ویعمل بأمرین متضادین فی حادثتین لَا تعلق لواحدۃ منھما بالاُخرٰی۔ (فتاویٰ شامی ج:۱ ص:۷۵، طبع ایچ ایم سعید)۔
  6. (۶) أما فی زماننا فقال أئمتنا لَا یجوز تقلید غیر الأئمۃ الأربعۃ، الشافعی ومالک وأبی حنیفۃ وأحمد بن حنبل۔ (فتح المبین شرح الأربعین بحوالہ جواہر الفقہ ج:۱ ص:۱۳۲)۔
  7. (۷) ’’وکانت اُمّ الدرداء تجلس فی صلاتھا جِلسۃَ الرجل، وکانت فقیھۃ۔‘‘ (بخاری ج:۱ ص:۱۱۴، باب سنۃ الجلوس فی التشھد)۔
  8. (۸) ’’وعرف من روایۃ مکحول أن المراد بأمّ الدرداء الصغریٰ التابعیۃ لَا الکبریٰ الصحابیۃ، لأنہ ادرک الصغریٰ ولم یدرک الکبریٰ، وعمل التابعی بمفردہ ولو لم یخالف لَا یحتج بہ۔‘‘ (فتح الباری ج:۲ ص:۳۰۶، کتاب الأذان، باب سنۃ الجلوس)۔
اَئمۂ اَربعہؒ کے حق پر ہونے کا مطلب - شہید اسلام