October 14, 2026 at 12:34 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اِجتہاد وتقلید

اَئمۂ اِجتہاد واقعی شارع اور مقنن نہیں

سوال

’’ٱتَّخَذُوٓاْ أَحۡبَارَهُمۡ وَرُهۡبَٰنَهُمۡ أَرۡبَابٗا مِّن دُونِ ٱللَّهِ‘‘ اس کے مصداق تو ہم سب مقلدین بھی معلوم ہوتے ہیں، کیونکہ جو ہمارے مفتی حرام و حلال بتاتے ہیں، ہم بھی اس پر عمل کرتے ہیں۔ ہم خود نہیں جانتے وہ صحیح کہہ رہے ہیں یا غلط؟ خصوصاً اس آیت کے مصداق وہ غالی مریدین بھی ہیں جو اپنے پیر کا حکم کسی صورت نہیں ٹالتے، چاہے وہ صریح خلاف شریعت ہو، ان کے غلط اقوال کی دور ازکار تاویلوں سے صحت ثابت کرتے ہیں۔

جواب

جواب:۔ اگر کوئی احمق، اَئمۂ اِجتہاد رحمہم اللہ کو واقعتا شارع اور مقنن سمجھتا ہے تو کوئی شک نہیں کہ وہ اس آیتِ کریمہ کا مصداق ہے۔ لیکن اہلِ اُصول کا متفقہ فیصلہ ہے کہ ’’اَلْقِيَاسُ مُظْهِرٌ لَا مُثْبِتٌ‘‘ یعنی اَئمۂ اِجتہاد کا قیاس و اِجتہاد اَحکامِ شریعہ کا مثبت نہیں بلکہ’’مُظْهِرٌ مِنَ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ‘‘ ہے،(۱) جو اَحکام صراحتاً کتاب و سنت میں مذکور نہیں اور جن کے اِستخراج اور اِستنباط تک ہم عامیوں کے علم و فہم کی رسائی نہیں، اَئمۂ اِجتہاد کا قیاس و اِستنباط ان اَحکام کو کتاب و سنت سے نکال لاتا ہے۔ تقلید کی ضرورت اس لئے ہے کہ ہم لوگوں کا فہم کتاب و سنت کے اَحکام تک نہیں پہنچتا، پس اِتباع تو دراصل کتاب و سنت کی ہے، اَئمۂ اِجتہاد کا دامن پکڑنے کی ضرورت اس لئے ہوئی کہ ہم اِتباعِ کتابِ ہدیٰ کے بجائے اِتباعِ ہویٰ کے گڑھے میں نہ گر جائیں، اور اکابر مشائخ کی لغزشوں کی تأویل اس لئے ہے کہ ان کے ساتھ حسنِ ظن قائم رہے، اس لئے نہیں کہ ان کی ان لغزشوں کی بھی اِقتدا کی جائے۔(۲)

  1. (۱) نور الأنوار ص:۵، طبع میر محمد۔
  2. (۲) بل یجب علیھم اتباع الذین سبروا، ای تعمّقوا وبوّبوْا، ای اوردوا ابوابا لکل مسئلۃ عن غیرھا، وجمعوا بینھما بجامع، وفرقوا بفارق وعلّلوا ای اوردوا لکل مسئلۃ علّتہ وفصلوا تفصیلًا، وعلیہ بنٰی ابن الصلاح منع تقلید غیر الأئمۃ الأربعۃ: الْإمام الھمام امام الأئمۃ امامنا الکوفی، والْإمام مالک، والْإمام الشافعی، والْإمام احمد رحمہم اللہ تعالٰی وجزاھم عنا احسن الجزاء، لأن ذٰلک المذکور لم یدر فی غیرھم۔ (فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت ص:۲۲۹)۔