October 14, 2026 at 12:34 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اِجتہاد وتقلید

کیا اِجتہاد کا دروازہ بند ہوچکا ہے؟

سوال

علمائے کرام سے سنتے آئے ہیں کہ تیسری صدی کے بعد سے اِجتہاد کا دروازہ بند ہوچکا ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ اور اس کے بعد پیش آنے والے مسائل کے حل کی کیا صورت ہے؟

جواب

جواب:۔ چوتھی صدی کے بعد اِجتہادِ مطلق کا دروازہ بند ہوا ہے، یعنی اس کے بعد کوئی مجتہدِ مطلق پیدا نہیں ہوا۔ جہاں تک نئے پیش آمدہ مسائل کے حل کا تعلق ہے، ان پر اَئمۂ مجتہدین کے وضع کردہ اُصولوں کی روشنی میں غور کیا جائے گا اور اس کی ضرورت ہمیشہ رہے گی۔

اِجتہاد کا دروازہ بند ہوجانے کا یہ مطلب نہیں کہ چوتھی صدی کے بعد اِجتہاد ممنوع قرار دے دیا گیا، بلکہ یہ مطلب ہے کہ اِجتہادِ مطلق کے لئے جس علم و فہم، جس بصیرت و ادراک اور جس وَرَع و تقویٰ کی ضرورت ہے، وہ معیار ختم ہوگیا۔ اب اس درجے کا کوئی آدمی نہیں ہوا جو اِجتہادِ مطلق کی مسند پر قدم رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ شاید اس کی حکمت یہ تھی کہ اِجتہاد سے جو کچھ مقصود تھا، یعنی قرآن و سنت سے شرعی مسائل کا استنباط وہ اُصولاً و فروعاً مکمل ہوچکا تھا، اس لئے اب اس کی ضرورت باقی نہ تھی، ادھر اگر یہ دروازہ ہمیشہ کو کھلا رہتا تو اُمت کی اجتماعیت کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے، والله اعلم!(۱)

  1. (۱) والتفصیل فی تسھیل الوصول الٰی علم الاُصول (ص:۳۱۹ طبع المکتبۃ الصدیقیۃ ملتان) وایضًا فی الشامیۃ ج:۱ ص:۷۷ ’’وقد ذکروا أن المجتھد المطلق قد فقد، وأما المقید فعلٰی سبع مراتب مشھورۃ واما نحن فعلینا اتباع ما رجحوہ ۔۔۔الخ۔‘‘
کیا اِجتہاد کا دروازہ بند ہوچکا ہے؟ - شہید اسلام