سنت وبدعت
اعلانِ وفات کیسے سنت ہے؟
سوال
سوال:۔ آپ کا فتویٰ پڑھ کر تسلی نہیں ہوئی۔ آج کل ہمارے محلے میں یہ مسئلہ بہت ہی زیر بحث ہے، اس لئے اس کا فوٹو اسٹیٹ کرکے آپ کو دوبارہ بھیج رہا ہوں، تاکہ تفصیل سے دلیل سے جواب دے کر مشکور فرمائیں۔ موت کی اطلاع کرنا سنت لکھا ہے تو مہربانی کرکے اس کی دلیل ضرور لکھئے گا۔
۱:۔ زمانۂ جاہلیت میں جو دستور تھا اعلان کا، تو وہ کن الفاظ سے اعلان کرتے تھے؟
۲:۔ مسجد کے اندر اذان دینا کیسا ہے؟ اس کا جواب شاید بھول گیا۔ مہربانی کرکے اس کا جواب جلدی دینا، تاکہ اُلجھن دُور ہو۔ بہت بہت شکریہ۔
جواب
جواب:۔ موت اور میّت کی اِطلاع دینا جائز بلکہ سنت ہے، اس سلسلے میں درج ذیل نصوص ملاحظہ ہوں:
۱:۔’’فی الحدیث اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَعٰی لِلنَّاسِ اَلنَّجَّاشِیْ، اخرجہ الجماعۃ۔‘‘ (بخاری ج:۱ ص:۱۶۷، نسائی ص:۲۲۱، طبع دار السلام ریاض)
ترجمہ:۔’’حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شاہ نجاشی کی موت کا اعلان فرمایا تھا۔‘‘
۲:۔’’وَفِي فَتْحِ الْبَارِي (۱۱۷؍۳) قَالَ ابْنُ الْعَرَبِيِّ: يُؤْخَذُ مِنْ مَجْمُوْعِ الْأَحَادِيْثِ ثَلَاثُ حَالَاتٍ؛ الأُوْلَىٰ إِعْلَامُ الأَهْلِ وَالأَصْحَابِ وَأَهْلِ الصَّلَاحِ، فَهٰذَا سُنَّةٌ۔ الثَّانِيَةُ دَعْوَةُ الْحَفْلِ لِلْمُفَاخَرَةِ، فَهٰذِهِ تُكْرَهُ۔ الثَّالِثَةُ الإِعْلَامُ بِنَوْعٍ آخَرَ كَالنِّيَاحَةِ وَنَحْوِ ذٰلِكَ، فَهٰذَا يُحَرَّمُ۔ وَقَدْ نَقَلَهُ الشَّيْخُ فِي الأَوْجَزِ (۴۴۳؍۱) عَنِ الْفَتْحِ۔‘‘
ترجمہ:۔’’فتح الباری میں ہے کہ ابن عربیؒ فرماتے ہیں کہ موت کی اطلاع دینے کی تین حالتیں ہیں: اوّل:اہل و عیال، احباب و اصحاب اور اہلِ صلاح کو اِطلاع کرنا یہ تو سنت ہے۔ دوم:فخر و مباحات کے لئے مجمع کثیر کو جمع کرنے کے لئے اعلان کرنا یہ مکروہ ہے۔ سوم:لوگوں کو آہ و بکا اور بین کرنے کے لئے اطلاع کرنا اور بلانا یہ حرام ہے۔‘‘
۳:۔ ’’وَفِي الْعَلَائِيَّةِ: وَلَا بَأْسَ بِنَقْلِهِ قَبْلَ دَفْنِهِ وَبِالْإِعْلَامِ بِمَوْتِهِ ۔۔۔إلخ۔ وَفِي الشَّامِيَّةِ: قَوْلُهُ وَبِالْإِعْلَامِ بِمَوْتِهِ، أَيْ إِعْلَامُ بَعْضِهِمْ بَعْضًا، لِيَقْضُوا حَقَّهُ۔ وَفِي الْهِدَايَةِ: وَكَرِهَ بَعْضُهُمْ أَنْ يُنَادَىٰ عَلَيْهِ فِي الْأَزِقَّةِ وَالْأَسْوَاقِ، لِأَنَّهُ يُشْبِهُ نَعْيَ الْجَاهِلِيَّةِ، وَالْأَصَحُّ أَنَّهُ لَا يُكْرَهُ إِذَا لَمْ يَكُنْ مَعَهُ تَنْوِيْهٌ بِذِكْرِهِ وَتَفْخِيْمٌ۔۔۔ فَإِنَّ نَعْيَ الْجَاهِلِيَّةِ مَا كَانَ فِيْهِ قَصْدُ الدَّوَرَانِ مَعَ الضَّجِيْجِ وَالنِّيَاحَةِ، وَهُوَ الْمُرَادُ بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ فِيْ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُوْدَ وَشَقَّ الْجُيُوْبَ وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ۔ شَرْحُ الْمُنِيَّةِ (شامی ۲-۲۳۹) وَكَذَا فِي الْفَتْحِ (۱-۴۶۳)۔‘‘
ترجمہ:۔’’اور علائیہ میں ہے کہ میّت کو دفن کرنے سے پہلے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے اور موت کے اعلان کرنے میں کوئی حرج نہیں۔۔۔الخ۔ اور فتاویٰ شامی میں ہے: ’’اور اس کی موت کی اطلاع دینا یعنی ایک دوسرے کو اس لئے اطلاع دینا تاکہ اس کا حق ادا کرسکیں، (جائز ہے) اور بعض حضرات نے بازاروں اور گلیوں میں کسی کی موت کے اعلان کو مکروہ کہا ہے، کیونکہ یہ زمانہ جاہلیت کی موت کی اطلاع دینے کے مشابہ ہے۔ صحیح یہ ہے کہ یہ مکروہ نہیں ہے، جب کہ اس اعلان کے ساتھ زمانہ جاہلیت کا سا نوحہ اور مردے کی بڑائی کا تذکرہ نہ ہو۔۔۔۔۔ پس بے شک جاہلیت کی سی موت کی اطلاع وہ ہے کہ جس میں دل کی تنگی اور بین کا تذکرہ ہو، اور یہی مقصود ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا کہ: وہ ہم میں سے نہیں ہے جس نے منہ کو پیٹا اور گریبان پھاڑے اور جاہلیت کے دعوے کئے۔‘‘
۲:۔ مسجد میں اذان کہنا مکروہِ تنزیہی ہے،(۱) البتہ جمعہ کی دُوسری اذان کا معمول منبر کے سامنے چلا آتا ہے۔(۲)
- (۱) وینبغی أن یؤذن علی المأذنۃ أو خارج المسجد ولَا یؤذّن فی المسجد کذا فی فتاویٰ قاضیخان۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۵۵، الفصل الثانی فی کلمات الأذان والْإقامۃ وکیفیتھما)۔
- (۲) وإذا جلس علی المنبر أذّن بین یدیہ فأقیم بعد تمام الخطبۃ بذٰلک جری التوارث، کذا فی البحر الرائق۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۴۹، الباب السادس عشر فی صلاۃ الجمعۃ)۔

