سنت وبدعت
پہلاخط
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
مخدوم و مکرم جناب پروفیسر احمد عبدالرحمن صاحب زید لطفہٗ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
نامہ کرم مع ہدیہ مرسلہ ’’اِصلاحِ مفاہیم‘‘ کافی دنوں سے آیا رکھا تھا، کثرتِ مشاغل نے کتاب اُٹھاکر دیکھنے کی بھی مہلت نہ دی، ادھر خود طبیعت بھی اس طرف مائل نہ ہوئی، یہ ناکارہ تو طاقِ نسیان میں بحفاظت رکھ چکا تھا، یکایک خیال آیا کہ آنجناب منتظرِ جواب ہوں گے، چنانچہ کتاب کو پڑھا، داعیہ پیدا ہوا کہ اس پر کسی قدر مفصل تبصرہ کروں، مگر مشاغل اس کی اجازت نہیں دیتے، اس لئے مختصراً لکھتا ہوں کہ کتاب کے بعض مباحث تو بڑے ایمان افروز ہیں، مگر جنابِ مصنف نے جگہ جگہ مخمل میں ٹاٹ کی پیوندکاری کی ہے، اور شکر میں اپنے منفرد افکار و مفاہیم کا زہر ملادیا ہے، لہٰذا کتاب کے بارے میں اس ناکارہ کی رائے جناب محترم مولانا الحاج الحافظ مفتی عبدالستار دام مجدہٗ (صدر مفتی جامعہ خیرالمدارس، ملتان) کے ساتھ متفق ہے، یہ کتاب ہمارے اکابرِ دیوبند کے مسلک و مشرب کی ہرگز ترجمان نہیں، اور اس سے امت کے درمیان اتحاد و اتفاق کی جو اُمیدیں وابستہ کی گئی ہیں وہ نہ صرف موہوم بلکہ معدوم ہیں۔
اس کے برعکس اس ناکارہ کا احساس یہ ہے کہ امت تو امت، یہ کتاب ہمارے احباب کے درمیان منافرت و مغایرت اور تشتت و انتشار کی موجب ہوگی، اگر کتاب کے ترجمہ اور اس کی اشاعت سے قبل اس ناکارہ سے رائے لی جاتی تو یہ ناکارہ نہ ترجمہ کا مشورہ دیتا، نہ اشاعت کا۔ جن حضرات نے اس پر تقریظات ثبت فرمائی ہیں، اس ناکارہ کا احساس ہے کہ انہوں نے بے پڑھے محض مؤلف کے ساتھ حسنِ ظن اور عقیدت سے مغلوب ہوکر لکھ دی ہیں، اور اگر کسی نے پڑھا ہے تو اس کو ٹھیک طرح سمجھا نہیں، نہ ہمارے اکابر کے مسلک کو صحیح طور پر ہضم کیا ہے، بلکہ اس ناکارہ کو یہاں تک ’’حسنِ ظن‘‘ ہے کہ بہت سے حضرات نے کتاب کے نام کا مفہوم بھی نہیں سمجھا ہوگا، اگر ان سے دریافت کرلیا جائے کہ ’’مَفَاهِيمُ يَجِبُ أَنْ تُصَحَّحَ‘‘ کا کیا مطلب ہے؟ تو شاید تیر نشانہ پر نہ لگاسکیں۔ چنانچہ اس کا اُردو نام ’’اِصلاحِ مفاہیم‘‘ غمازی کرتا ہے کہ فاضل مترجم اس کا مطلب نہیں سمجھے، اُمید ہے کہ ان اجمالی معروضات کے بعد مفصل تبصرے کی حاجت نہ ہوگی، دعواتِ صالحہ کا محتاج اور ملتجی ہوں، والسلام!
محمد یوسف عفا اللہ عنہ
۲۰؍۷؍۱۴۱۵ھ

