October 14, 2026 at 2:03 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سنت وبدعت

دوسرا‌خط

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

جناب مخدوم و مکرم زیدت الطافہم، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

جناب کا گرامی نامہ موصول ہوئے کئی دن ہوئے، جس میں اس ناکارہ سے ’’اِصلاحِ مفاہیم‘‘ کے بارے میں رائے طلب کی گئی تھی، مگر یہ ناکارہ جناب کے حکم کی تعمیل سے بوجوہِ چند قاصر رہا:

۱:۔ یہ ناکارہ اپنے مشاغل میں اس قدر اُلجھا ہوا تھا کہ ڈاک کا جواب نمٹانے سے بھی عاجز رہا، اور بعض سوالات ایسے تھے جو ایک مقالے کا موضوع تھے، یہ خیال رہا کہ ذرا ان مشاغل سے فرصت ملے تو کتاب کو دیکھوں تب ہی کوئی رائے عرض کرسکوں گا۔ ایسی عدیم الفرصتی میں ایک ضخیم کتاب کا سرسری پڑھنا بھی مشکل تھا، چونکہ آنجناب کا تقاضا بھی سوہانِ رُوح بنا ہوا ہے، اس لئے دُوسرے مشاغل سے صرفِ نظر کرکے کتاب کو دیکھا اور جواب لکھنے کی نوبت آئی۔

۲:۔ اس ناکارہ کو اکابرِ سلف کی کتابوں سے اُکتاہٹ نہیں ہوتی، نہ ان کے مطالعہ سے سیری ہوتی ہے، لیکن ہمارے جدید محققین کے اسلوب و انداز سے ایسی وحشت ہوتی ہے کہ ان کی کتابوں کے چند صفحے دیکھنا بھی اس ناکارہ کے لئے اچھا خاصا مجاہدہ ہے، اس لئے اس کتاب کو اُٹھاکر دیکھنے ہی کو جی نہیں چاہا۔

۳:۔یہ ناکارہ، زندگی بھر ملحدین و مارقین سے نبرد آزما رہا، اور اس کا ہمیشہ یہ ذوق رہا کہ:

تیغ براں بہر ہر زندیق باش

اے مسلماں! پیرو صدیق باش!

لیکن اپنوں کی لڑائی میں ’’دخل در معقولات‘‘ سے یہ ناکارہ ہمیشہ کتراتا رہا، ’’اِصلاحِ مفاہیم‘‘ کے بارے میں بھی اپنی رائے ظاہر کرنے سے ’’پُرحذر‘‘ رہا، کیونکہ یہ کتاب خود ہمارے شیخ نور اللہ مرقدہٗ کے حلقہ میں بھی متنازع فیہ بنی ہوئی ہے۔ میرے محترم بزرگ جناب صوفی محمد اقبال مہاجر مدنی اس کے پُرزور حامی و مؤید ہیں، انہی کے حکم سے یہ کتاب عربی سے اُردو میں نقل کی گئی، اور انہی کے حکم سے پاکستان میں شائع کی گئی۔ دُوسری طرف حضرت شیخ نور اللہ مرقدہٗ کے عقیدت مندوں کا ایک بڑا حلقہ اس کتاب کو ’’شکر میں لپٹا ہوا زہر‘‘ قرار دیتا ہے۔ اس ناکارہ کا یہ خیال رہا کہ تیری حیثیت ’’نہ تین میں، نہ تیرہ میں!‘‘، اس لئے اگر تو اس معرکہ سے گریز ہی کرے تو بہتر ہے، بقول شاعر:

فَقُلْتُ لِمُحْرِزٍ لَمَّا الْتَقَيْنَا

تَجَنَّبْ لَا يُقَطِّرُك الزِّحَامُ

چنانچہ قبل ازیں صوفی صاحب زید مجدہٗ کے احباب کی جانب سے ایک رسالہ ’’اکابر کا مسلک و مشرب‘‘ شائع ہوا، اور پھر انہی مضامین کو ’’اسلامی ذوق‘‘ نامی رسالہ کی شکل میں شائع کیا گیا، اور اس ناکارہ سے ان دونوں رسالوں کے بارے میں رائے طلب کی گئی، لیکن ’’ایاز! بقدر خویش بہ شناس‘‘ کے پیشِ نظر اس ناکارہ نے مہرِ سکوت نہیں توڑی، اور ان دونوں رسالوں کے بارے میں کچھ لکھنے سے اغماض کیا۔

۴:۔ دراصل سکوت کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ اس زمانے میں کوئی کسی کی سننے کو تیار نہیں، ہر شخص اپنی رائے ایسے جزم اور اتنی پختگی کے ساتھ پیش کرتا ہے کہ گویا ابھی ابھی جبریل علیہ السلام حکمِ خداوندی سے نازل ہوئے ہیں، جب اپنی رائے پر جزم و وثوق کا یہ عالم ہو تو دُوسرے کی رائے کو کون اہمیت دیتا ہے؟ اختلاف کرنے والا خواہ کتنا بڑا عالم ربانی ہو، اور نہایت اخلاص کے ساتھ اختلافِ رائے کا اظہار کرے اس کو -اِلَّا ما شاء اللہ- ہوائے نفس اور کبر و حسد پر محمول کیا جاتا ہے، ایسی فضا میں تنقیدی و اصلاحی رائے تو مفید و کارگر ہوگی نہیں، البتہ قلوب میں منافرت اور فتنہ میں اضافہ کا سبب ضرور بنے گی، اس لئے اس ناکارہ نے ایسے نزاعی اُمور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت کو حرزِ جان بنا رکھا ہے:

’’بَلِ ائْتَمِرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنَاھَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ، حَتّٰی إِذَا رَأَیْتَ شُحًّا مُطَاعًا وَھَوًی مُتَّبَعًا دُنْیًا مُؤْثَرَۃً، وَإِعْجَابَ کُلَّ ذِیْ رَأْیٍ بِرَأْیِہٖ، وَرَأَیْتُ اَمْرًا لَا بُدَّ لَکَ مِنْہُ فَعَلَیْکَ نَفْسَکَ، وَدَعْ اَمْرَ الْعَوَامِ!‘‘ (مشکوٰۃ ص:۴۳۷)

ترجمہ:۔’’نیکی کا حکم کرتے رہو، اور برائی سے بچتے رہو، یہاں تک کہ جب دیکھو کہ حرص و آز کی اطاعت اور خواہشات کی پیروی کی جارہی ہے، اور دنیوی مفاد کو ترجیح دی جارہی ہے، اور ہر صاحبِ رائے اپنی رائے پر نازاں ہے، اور تم دیکھو کہ کام ایسا ہے کہ اس کے بغیر چارہ نہیں، تو اپنی فکر کرو، اور عوام کے قصہ کو چھوڑ دو!‘‘

حضراتِ سلف میں یہ مقولہ معروف تھا کہ اپنی رائے کو متہم سمجھو، یہ حضرات اپنی فہم کو ناقص اور اپنی رائے کو علیل جانتے تھے، اور ہمیشہ اس کے منتظر رہتے تھے کہ کوئی ان کو غلطی سے آگاہ کرے تو وہ اس سے رجوع کرلیں۔ حضرت مولانا سیّد محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ: حضرت مولانا سیّد سلیمان ندویؒ اپنی جلالتِ قدر اور علوِ مرتبت کے باوصف فرماتے تھے کہ: ابتدائی دور میں (حضرت حکیم الامتؒ سے تعلق سے قبل) مجھ سے کچھ غلطیاں ہوئی ہیں، میرا جی چاہتا ہے کہ آپ (حضرت بنوریؒ) جیسے حضرات میری کتابوں کو دیکھ کر غلطیوں کی نشاندہی کردیں تو میں اپنی زندگی میں ان سے رجوع کا اعلان کردوں۔

عارف باللہ حضرتِ اقدس ڈاکٹر عبدالحی عارفی قدس سرہٗ فرماتے تھے کہ: ایک بار مولانا بنوریؒ نے ’’بینات‘‘ میں ایک مضمون لکھا، بعد میں مجھ سے ملنے کے لئے آئے تو میں نے ان سے کہا کہ: یہ بات جو آپ نے لکھی ہے، یہ آپ کی شان کے خلاف ہے! فوراً کہنے لگے کہ: ’’غلطی ہوئی، معاف کردیجئے! آئندہ نہیں ہوگی۔‘‘ حضرت ڈاکٹر صاحبؒ اس بات کو نقل کرکے فرماتے تھے کہ: ’’بھئی! مولانا بنوریؒ بڑے آدمی تھے!‘‘ حضرتؒ بار بار یہ فقرہ دُہراتے۔

یہ ہمارے ان اکابرؒ کے واقعات ہیں جن کو ان گناہگار آنکھوں نے دیکھا، ہمارے شیخ برکۃ العصر، قطب العالم مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی قدس سرہٗ کے یہاں تو مستقل اُصول تھا کہ جب تک ان کی تحریر فرمودہ کتاب کو دو محقق عالم دیکھ کر اس کی تصدیق و تصویب نہیں فرمادیتے تھے وہ کتاب نہیں چھپتی تھی۔ اسی سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ ہمارے اسلاف سلف صالحینؒ کی بے نفسی، اخلاص و للہیت اور فنائیت کا کیا عالم ہوگا؟ لیکن اب ہمارے یہاں استبدادِ رائے کا ایسا غلبہ ہے کہ نہ کوئی کسی کی سننے کو تیار، نہ ماننے کو -اِلَّا ما شاء اللہ- اس لئے یہ ناکارہ اپنے احباب کے درمیان متنازع فیہ مسائل میں اظہارِ رائے سے ہچکچاتا ہے، کہ اوّل تو اس ناکارہ کی رائے کی کوئی قیمت ہی نہیں، پھر اظہارِ رائے سے اِصلاح کی توقع بہت کم ہوتی ہے، بلکہ اگر اپنی رائے کسی صاحب کے خلاف ہوئی تو قلوب میں منافرت پیدا ہونے کا خطرہ قوی ہے۔

حیاۃ الصحابہ (ج:۲ ص:۱۲۰) میں حضرت ابوعبیدہ اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہما کا ایک خط حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نام نقل کیا ہے، جس کے آخر میں یہ بھی لکھا تھا کہ: ’’ہمیں بتایا جاتا تھا کہ آخری زمانہ میں اس امت کا یہ حال ہوجائے گا کہ ظاہر میں بھائی بھائی ہوں گے، اور باطن میں ایک دُوسرے کے دشمن ہوں گے، ہم نے یہ خط آپ کی ہمدردی و خیرخواہی کے لئے لکھا، خدا کی پناہ! کہ آپ اس کو کسی اور چیز پر محمول کریں۔‘‘

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے جواب میں تحریر فرمایا کہ:

’’آخری زمانے کے بارے میں آپ حضرات نے جو کچھ لکھا ہے، آپ اس کے مصداق نہیں اور نہ یہ وہ زمانہ ہے، یہ وہ زمانہ ہوگا جس میں رغبت و رہبت ظاہر ہوجائے گی، اور لوگوں کی رغبت ایک دُوسرے سے دنیاوی مفادات کی غرض سے ہوگی، بلاشبہ آپ حضرات نے جو کچھ لکھا ہے وہ خیرخواہی و ہمدردی کے طور پر لکھا ہے، اور مجھے اس سے استغنا نہیں، اس لئے از راہِ کرم مجھے لکھتے رہا کیجئے!‘‘

الغرض! مذکورہ وجوہات کی بنا پر یہ ناکارہ ’’اِصلاحِ مفاہیم‘‘ کے بارے میں آپ کے حکم کی تعمیل کرنے میں متأمل تھا، اور جی یہی چاہتا کہ میں کچھ نہ لکھوں، لیکن پھر خیال ہوا کہ آپ منتظرِ جواب ہوں گے، اور آپ کو جواب نہ ملنے کی شکایت ہوگی۔ اس لئے محض امتثالِ حکم کے لئے لکھتا ہوں، ورنہ میں جانتا ہوں کہ میں کیا اور میری تحریر کیا؟ دعا کرتا ہوں کہ میری یہ تحریر فتنہ میں اضافہ کا باعث نہ بنے۔ اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِيْ! وہ رحیم و کریم میری تحریر کے شر سے اپنے بندوں کو محفوظ فرمائے، اور میری غلطیوں کی پردہ پوشی فرمائے، انہ رحیم ودود!

کتاب ’’اِصلاحِ مفاہیم‘‘ کے سرسری مطالعہ سے اس ناکارہ نے جو اُمور نوٹ کئے، اگر ان پر مفصل گفتگو کی جائے تو اچھی ضخیم کتاب بن جائے گی، اس لئے جزئیاتِ مسائل پر گفتگو کرنے کے بجائے چند اُصولی اُمور کی نشاندہی پر اکتفا کروں گا،وَاللّٰهُ وَلِيُّ التَّوْفِيقِ!

اوّل:۔جناب مصنف سعودیہ میں اقامت پذیر ہیں، اور اس ماحول میں ایسے حضرات کی آواز غالب ہے جو ذرا ذرا سی باتوں پر شرک کا فتویٰ صادر کرتے ہیں، توسل کا شدّ و مدّ سے انکار کرتے ہیں، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ مقدسہ کی زیارت کے ارادے سے سفر کرنے کو بھی روا نہیں سمجھتے، جناب مصنف کا مطمحِ نظر ان حضرات کی تشدد پسندی کی اصلاح ہے، اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ دلائل کے ساتھ ان حضرات کے رویہ میں لچک اور اعتدال پیدا کیا جائے۔ ہند و پاک کا خرافاتی ماحول جناب مصنف کے سامنے نہیں، اور وہ اس سے واقف نہیں کہ برصغیر پاک و ہند کے عوام کیسی کیسی بدعات و خرافات میں مبتلا ہیں،اس لئے ان عوام کی اصلاح جناب مصنف کے پیشِ نظر نہیں۔ اس لئے فطری بات ہے کہ جناب مصنف کی تحریر میں سلفی حضرات کی شدتِ بے جا کی اصلاح کی کوشش تو نظر آتی ہے -کہ یہی ان کی کتاب کا اصل موضوع ہے- لیکن عوام کی غلط روی و کج فکری کی اصلاح ان کی تحریر میں نظر نہیں آتی۔ اس کے برعکس ہمارے اکابرِ دیوبند کو دونوں فریقوں کے افراط و تفریط سے واسطہ رہا، سلفی حضرات کی شدت و خشکی سے بھی، اور عوام کی عامیانہ رَوِش سے بھی، اس لئے ہمارے اکابرؒ افراط و تفریط کے درمیان راہِ اعتدال پر قائم رہے اور انہوں نے بڑی خوبصورتی و کامیابی کے ساتھ میزانِ اعتدال کے دونوں پلوں کو برابر رکھا:

در کفے جامِ شریعت در کفے سندان عشق

ہر ہوسناکے نہ داند جام و سندان باختن

الغرض! ان متنازع فیہ مسائل میں جو اعتدال و توازن ہمارے اکابرؒ کے یہاں نظر آتا ہے، اسے یہ ناکارہ ’’لِسَانُ الْمِیْزَانِ‘‘ سمجھتا ہے۔ یہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب مصنف کی یہ کتاب ہمارے اکابرؒ کے ذوق و مسلک کی ترجمان نہیں، بلکہ اس کا پلہ اہلِ بدعت کی طرف جھکا ہوا ہے، لہٰذا جن حضرات نے یہ سمجھا ہے کہ مالکی صاحب کی یہ کتاب ہمارے اکابرؒ کے مسلک کی ترجمانی کرتی ہے، اس ناکارہ کے خیال میں ان حضرات نے نہ تو ہمارے اکابرؒ کے مسلک و مشرب کو ٹھیک طرح سے ہضم کیا ہے اور نہ انہوں نے مالکی صاحب کی کتاب ہی کو دقتِ نظر سے پڑھا ہے۔

دوم:۔ کتاب پر بہت سے بزرگوں کی تقریظیں ثبت ہیں، جن کو ایک نظر دیکھنے کے بعد قاری مرعوب ہوجاتا ہے، ان بزرگوں کی تقریظ و تصدیق کے بعد مجھ ایسے کم سواد کے لئے بظاہر اختلاف کی گنجائش نہیں رہتی، لیکن اس ناکارہ کے خیال میں جن بزرگوں نے اس کتاب پر تقریظیں ثبت فرمائی ہیں، انہوں نے حرفاً حرفاً اس کتاب کا مسودہ پڑھنے اور جناب مصنف کے مقاصد تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش نہیں فرمائی، یا تو ان بزرگوں نے کتاب کا مسودہ دیکھنے کی ضرورت نہیں سمجھی، یا ان کو غور و تأمل کا موقع نہیں ملا، محض جناب مصنف کی عقیدت و احترام میں یا بعض کسی لائقِ احترام بزرگ کی تقریظ دیکھ کر انہوں نے بھی کتاب پر صاد کردیا، ایسی تقریظیں لائقِ اعتنا نہیں۔

آج کل محض مصنف کے ساتھ حسنِ ظن کی بنیاد پر تقریظیں لکھنے کا عام رواج ہے، اور اس ناکارہ کے نزدیک یہ رَوِش لائقِ اِصلاح ہے، اور یہ رواج لائقِ ترک ہے۔ خود اس ناکارہ کو ذاتی طور پر اس کے ناخوشگوار نتائج کا تجربہ ہوا ہے، اس ناکارہ کا ذوق خود اپنی کتابوں کے بارے میں یہ رہا ہے کہ اپنی کسی کتاب پر اپنے بزرگوں کو بطورِ ’’تبرک‘‘ چند کلمات لکھنے کی کبھی زحمت نہیں دی، نہ اس کی فرمائش کی، کیونکہ ہمیشہ یہ خیال رہا کہ ان اکابر کے بے حد قیمتی اوقات میں اتنی گنجائش کہاں؟ کہ مجھ ایسے نابکار کی ژولیدہ تحریر پڑھیں اور اپنے قیمتی اوقات کا خون کریں۔ لامحالہ بغیر پڑھے ہی ’’کلماتِ تبرک‘‘ تحریر فرمائیں گے، اور نتیجہ یہ ہوگا کہ اس نادان کی غلطیاں میرے بزرگوں کے سر آن پڑیں گی۔

چنانچہ اس ناکارہ کا رسالہ ’’اِختلافِ اُمت اور صراطِ مستقیم‘‘ جو تمام اکابر نے پسند فرمایا، اور ہند و پاک کے بہت سے ناشرین نے ہزاروں کی تعداد میں اسے شائع کیا، مگر اس ناکارہ نے کسی بزرگ سے تقریظ نہیں لکھوائی، سنا ہے کہ ہمارے شیخ برکۃ العصر نور اللہ مرقدہٗ کی مجلس میں بھی یہ پورا رسالہ حرفاً حرفاً پڑھا گیا، اور حضرت نور اللہ مرقدہٗ کے سامعہ مبارک سے گزرا، لیکن اس ناکارہ کے دل میں کبھی اس کی ہوس پیدا نہیں ہوئی کہ کسی بزرگ سے اس پر تقریظ لکھوائی جائے، اور اپنے کھوٹے سکوں کو بزرگوں کی تقریظات کی مہر سے چالو کیا جائے (اس ناکارہ کی دو کتابوں پر میرے حضرت بنوریؒ نے مقدمہ تحریر فرمایا تھا، مگر میری خواہش اور فرمائش کے علی الرغم، اس کی تفصیل کا موقع نہیں)۔

الغرض کتاب پڑھے بغیر اس پر تقریظیں لکھوانے اور لکھنے کا رواج اس ناکارہ کے خیال میں صحیح نہیں، یہ رَوِش لائقِ اِصلاح ہے، اس ناکارہ کا خیال ہے کہ جناب علوی مالکی صاحب کی کتاب ’’مَفَاهِيمُ يَجِبُ أَنْ تُصَحَّحَ‘‘ (عربی) پر تقریظات کا جو انبار نظر آرہا ہے، یہ جناب مصنف کے احترام میں بغیر کتاب پڑھے لکھی گئی ہیں، یا کسی لائقِ احترام شخصیت کو دیکھ کر ان کی تقلید میں صاد کردیا گیا ہے، اس لئے اگر یہ ناکارہ اس کتاب کے بارے میں ایسی رائے کا اظہار کر رہا ہے جو تقریظ لکھنے والے بزرگوں کی توثیق و تصدیق کے خلاف ہو تو اس کو ان بزرگوں کے حق میں سؤ ادب کا ارتکاب نہ سمجھا جائے، اور نہ ان اکابر کے علم و فضل کے منافی قرار دیا جائے، کیونکہ بزرگوں ہی کا ارشاد ہے کہ:

گاہ باشد کہ کودک ناداں

بہ غلط بر ہدف زند تیرے

سوم:۔ اُوپر عرض کرچکا ہوں کہ جناب مصنف کا اصل مدعا سلفی حضرات کے تشدد کی اِصلاح ہے، جو زیرِ بحث مسائل میں ان کے یہاں پایا جاتا ہے، اور جس میں وہ کسی نرمی اور لچک کے روادار نہیں، جناب مصنف ان کو اپنی اس شدت میں فی الجملہ معذور بھی سمجھتے ہیں، چنانچہ لکھتے ہیں:

’’ان کو ہم اپنے حسنِ ظن کی بنا پر معذور سمجھیں گے، اور کہیں گے کہ نیت تو ان کی صحیح ہے، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اس طرح ان لوگوں نے کیا ہے، لیکن ہم کہیں گے کہ ان حضرات سے ایک بات رہ گئی کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں حکمت و مصلحت اور عمدہ طریقہ اختیار کرنا چاہئے۔‘‘ (اِصلاحِ مفاہیم ص:۴۹)

یہ دو اُصول جو جناب مصنف نے کتاب کے آغاز ہی میں قلم بند کئے ہیں، بڑے ہی قیمتی اور زرّیں اُصول ہیں، بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ داعیانہ اسلوب کی رُوحِ رواں ہیں۔ ایک یہ کہ اپنے مخالفین، ناقدین بلکہ مکفّرین تک کے بارے میں بھی یہ حسنِ ظن رکھا جائے کہ ان کی تنقید کا منشا اگر اخلاص ہے، اور وہ واقعتاً رضائے الٰہی کے لئے ایسا کر رہے ہیں، تو نہ صرف یہ کہ وہ معذور ہیں، بلکہ اِن شاء اللہ ماجور بھی۔

دوم یہ کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے بلند پایہ کام میں بھی حکمت و مصلحت کے مطابق احسن سے احسن طریق اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

مجھے یہ توقع تھی کہ جناب مصنف نے جس داعیانہ اُسلوب کی نشاندہی فرمائی ہے، وہ خود بھی اس کی پابندی فرمائیں گے اور ان کی یہ کتاب اُسلوبِ دعوت کا شاندار مرقع ہوگی، اور وہ متنازع فیہ مسائل کو قلم بند کرتے ہوئے ایسا عمدہ طریق اپنائیں گے کہ ان کی بات بڑی خوشگواری سے ان کے قاری کے گلے سے اُتر جائے۔

بلاشبہ فطری طور پر ہماری یہ خواہش ہوگی کہ جس بات کو ہم حق اور صحیح سمجھتے ہیں، دُوسرے لوگ بھی اس کی حقانیت کے قائل ہوجائیں، لیکن ہم اپنی بات احسن طریق سے مخاطب کو سمجھانے کے مکلف ہیں، اس کو منوانے کے ہم مکلف نہیں، ہم نے بڑی خوش اسلوبی سے اپنی بات مخاطب کے سامنے پیش کردی، ہم اپنے فریضہ سے سبکدوش ہوگئے، آگے اسے مخاطب مانتا ہے یا نہیں؟ یہ اس کی ذمہ داری ہے، اور اس کی صوابدید ہے۔

مجھے افسوس ہے کہ جناب مصنف، جن حضرات کو حسنِ ظن کی بنا پر معذور سمجھتے ہیں، انہی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے داعیانہ اور مصلحانہ اندازِ تخاطب اختیار نہیں فرمایا، بلکہ مناظرانہ و مجادلانہ انداز اختیار کیا ہے۔ اور اگر یہ بات یہیں تک محدود رہتی تب بھی فی الجملہ اسے گوارا کیا جاسکتا تھا، مگر افسوس ہے کہ جناب مصنف نے اپنی تحریر میں ترشی بلکہ تلخی کا عنصر اس قدر تیز کردیا ہے کہ یہ توقع از بس مشکل ہے کہ ان کی بات ان کے مخاطب کے گلے سے بہ آسانی اُتر جائے گی، مصنف نے شاید ہی کوئی نکتہ ایسا اُٹھایا ہو جس میں انہوں نے اپنے مخالفوں کو جاہل، غبی، کم عقل، کم فہم، تنگ نظر، بدفہم جیسے ’’خطابات‘‘ سے نہ نوازا ہو۔

مثلاً: ’’خالق و مخلوق کا مقام‘‘ کے زیرِ عنوان یہ ذکر کرتے ہوئے کہ حق تعالیٰ شانہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت سی خصوصیات عطا فرمائی ہیں، جن کی بنا پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دُوسرے افرادِ بشر سے ممتاز ہیں، مصنف لکھتے ہیں:

’’یہ اُمور بہت لوگوں پر، ان کی کم عقلی، کم فہمی، تنگ نظری اور بدفہمی کی وجہ سے مشتبہ ہوگئے، تو انہوں نے جلدی سے ان اُمور کے قائلین پر فکر اور ملتِ اسلامیہ سے خروج کا حکم لگادیا۔‘‘ (اِصلاحِ مفاہیم ص:۵۷)

ایک جگہ مخالفین کے موقف کا ذکر کرتے ہوئے مصنف لکھتے ہیں:

’’یہ واضح جہالت ہے۔‘‘ (اِصلاحِ مفاہیم ص:۶۵)

مترجم کا یہ ترجمہ اصل عربی متن کے مطابق نہیں، اصل متن کے الفاظ یہ ہیں: ’’وَهٰذَا جَهْلٌ مَحْضٌ‘‘ (اور یہ ’’محض جہالت ہے‘‘ یا ’’خالص جہالت ہے‘‘)۔

ایک اور جگہ لکھتے ہیں:

’’حالانکہ حقیقت میں یہ جہالت و تعنت ہے۔‘‘ (مفاہیم عربی ص:۹۲)

الغرض! کتاب میں مسلسل یہی انداز چلا گیا ہے، اور جناب مصنف نے اپنے موقف سے اختلاف رکھنے والوں کے بارے میں اس قسم کے الفاظ استعمال کرنے میں کسی تکلف سے کام نہیں لیا ہے، ظاہر ہے کہ اگر جناب مصنف کے پیشِ نظر واقعی اس طبقہ کی اِصلاح ہے تو ان کی اِصلاح اس اندازِ گفتگو سے مشکل ہے، بقول غالب:

نکالا چاہتا ہے کام طعنوں سے تو اے غالب!

ترے بے مہر کہنے پر بھلا وہ مہرباں کیوں ہو؟

اس ناکارہ کا خیال ہے کہ سعودیہ کے جن متشدد حضرات کی اِصلاح کے لئے جناب مصنف نے خامہ فرسائی کی ہے، وہ اس کتاب کے مطالعہ سے اِصلاح پذیر نہیں ہوں گے بلکہ ان متوحش الفاظ و خطابات کو پڑھ کر ان کے موقف میں مزید شدت پیدا ہوجائے گی، اس کتاب کے خلاف جوابی کتب و رسائل کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوجائے گا، ادھر کچھ عرب حضرات مصنف کی تائید وحمایت میں کھڑے ہوجائیں گے، اور قلمی جہاد کریں گے، یوں یہ کتاب متعلقہ حلقہ کی اِصلاح کے بجائے ایک نئے معرکۂ کارزار کی راہ ہموار کرے گی۔

یہ تو سعودی ماحول میں اس کتاب کے آثار و نتائج ظاہر ہوں گے، جہاں تک ہمارے ہند و پاک کے ماحول کا تعلق ہے! میں اُوپر ذکر کرچکا ہوں کہ ان متنازع فیہ مسائل میں یہاں تین فریق پہلے سے موجود ہیں، ایک گروہ انہی سلفی حضرات کا ہے جن کا تذکرہ اُوپر آچکا ہے، ان پر تو وہی اثرات ہوں گے جو ابھی ذکر کرچکا ہوں۔

دُوسرا گروہ ہمارے اکابرِ دیوبند کا ہے، میں بتاچکا ہوں کہ یہ کتاب ہمارے اکابرؒ کے ذوق و مشرب کے ساتھ کوئی میل نہیں کھاتی، دیوبندی حلقہ میں یہ کتاب افتراق و انتشار کو جنم دے گی، کچھ حضرات اس کتاب کی تائید و حمایت میں اکابرِ دیوبند کے مسلک کو اس کتاب کے مطابق ڈھالنے کی سعی فرمائیں گے، اور کچھ حضرات اس سے براءت کا اعلان و اظہار فرمائیں گے۔ یوں اہلِ حق کے طبقہ میں ایک نئے انتشار و خلفشار کا دروازہ کھلے گا۔

البتہ تیسرا گروہ بریلوی حضرات کا ہے، وہ اپنے موقف کی تائید و حمایت اور ہمارے اکابرؒ کی تجہیل و تحمیق کے لئے اس کتاب کے خوب حوالے دیں گے، اور کتاب پر ثبت شدہ بھاری بھرکم تقریظات کے ذریعہ ان کو دیوبندی حلقہ پر الزام قائم کرنے میں اچھی خاصی آسانی ہوجائے گی۔ کاش! کہ طباعت سے پہلے اس سلسلے میں مشورہ کرلیا جاتا تو اس ناکارہ کی رائے میں اس کی اشاعت آپ کی جانب سے نہ ہوتی۔

چہارم:۔ جس طرح ہر شیخ کی ’’نسبت‘‘ اپنا ایک خاص رنگ رکھتی ہے، جو اس شیخ کے حلقہ کے اکثر منتسبین پر نمایاں ہوتی ہے، مثلاً: رائے پوری حضرات کی نسبت کا رنگ ان کے حلقہ پر اس قدر نمایاں ہے کہ آدمی دور ہی سے دیکھ کر پہچان جاتا ہے کہ یہ حضرات رائے پوری سلسلہ سے منسلک ہیں۔ اسی طرح حکیم الامت تھانوی قدس سرہٗ کے حلقہ پر حضرتؒ کی نسبت کا رنگ اتنا نمایاں ہے کہ ایک صاحبِ بصیرت آسانی سے پہچان لیتا ہے کہ ان حضرات پر حضرت حکیم الامتؒ کا رنگ غالب ہے، وعلیٰ ہذا۔ الغرض! جس طرح ہر شیخ کی نسبت کا ایک رنگ ہوتا ہے، اسی طرح ہر مصنف کا بھی ایک خاص رنگ ہوتا ہے، جو اس کے حلقۂ عقیدت پر غالب اور نمایاں ہوتا ہے۔ مودودی صاحب کی تحریر کا ایک خاص رنگ ہے، ڈاکٹر اسرار صاحب کی تحریر کا ایک خاص رنگ ہے، وغیرہ، وغیرہ۔

جناب علوی مالکی صاحب نے بھی زیرِ گفتگو کتاب ’’مفاہیم‘‘ میں اپنا ایک خاص رنگ بھرا ہے، جس کی طرف اُوپر اشارہ کرچکا ہوں، یعنی اپنے موقف سے اختلاف رکھنے والوں کو کم عقل، کم فہم، تنگ نظر، جاہل، بدفہم اور متعنت سمجھنا، اب جو حضرات جناب مالکی صاحب سے عقیدت و ارادت رکھتے ہوں گے وہ اسی رنگ کو اپنائیں گے، اور یہی رنگ ان پر غالب ہوجائے گا، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جناب مصنف سے فرطِ عقیدت کی بنا پر ان سے ذرا سا اختلاف کرنے کو بھی تنگ نظری، جہالت و بدفہمی پر محمول کریں گے، یا اس اختلاف کا منشا ضد و عناد اور تعنت و ہٹ دھرمی کو قرار دیں گے۔ ظاہر ہے کہ جن حضرات پر یہ رنگ غالب ہو وہ دُوسرے کی بات کو نہ تو صبر و تحمل سے سنیں گے، نہ مسئلے کے دلائل پر غور کریں گے، نہ ان کے لئے ہمارے اکابرؒ کا حوالہ مفید ہوگا، کیونکہ جب ان حضرات کے دل میں بطورِ عقیدت یہ بات جم گئی ہے کہ جناب محمد علوی مالکی صاحب ہی عاقل و فہیم ہیں، وہی عالم و خوش فہم ہیں، اور وہی منصف و وسیع النظر ہیں، تو ان کے مقابلہ میں دوسروں کی بات کیا وقعت رکھے گی؟

یہ ایک ایسی صورتِ حال ہے جس کے تصور ہی سے یہ ناکارہ پریشان ہے کہ جناب علوی صاحب کے عقیدت مندوں سے افہام و تفہیم کی کیا صورت کی جائے؟ اور ان کے دل پر کس طرح دستک دی جائے؟ وَاللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ! اور اس پریشانی میں اس وقت دوچند اضافہ ہوجاتا ہے جب دیکھتا ہوں کہ ہمارے شیخ نور اللہ مرقدہٗ کے حلقہ ہی کے حضرات، جناب مالکی صاحب کے دامِ عقیدت و محبت کے اَسیر ہیں، اور اپنے اکابرؒ کے مسلک و مشرب کو علوی صاحب کے نظریات پر ڈھال رہے ہیں، فَإِلَى اللّٰهِ الْمُشْتَكَى! کاش! اللہ تعالیٰ ہمیں تواضع اور فنائیت جو ہمارے شیخ نور اللہ مرقدہٗ کا خصوصی رنگ تھا، اس کا کوئی شمہ بھی نصیب فرمادے، تو آپس کے تشتت و انتشار کے منحوس سائے سے ہم محفوظ رہیں۔

پنجم:۔ اس ناکارہ نے یہاں تک جو کچھ لکھا وہ یہ سمجھ کر لکھا کہ جناب شیخ محمد علوی مالکی صاحب خوش عقیدہ عالم ہیں، اور ان کے پیشِ نظر صرف متشدد حضرات کی اِصلاح ہے، لیکن ’’حق چار یار‘‘ میں حضرت مولانا قاضی مظہر حسین مدظلہ العالی نے بریلوی مکتب کے رسالہ ماہنامہ ’’جہانِ رضا، لاہور‘‘ کے حوالہ سے یہ عجیب و غریب انکشاف کیا ہے کہ جناب مصنف محمد علوی مالکی دراصل بریلوی عقیدہ کے حامل اور فاضل بریلوی جناب مولانا احمد رضا خان مرحوم کے بیک واسطہ خلیفہ ہیں، اور جناب علوی صاحب کی فاضل بریلوی سے عقیدت کا یہ عالم ہے کہ علوی صاحب ان کے بارے میں فرماتے ہیں:

’’نَحْنُ نَعْرِفُ تَصْنِيفَاتِهِ وَتَأْلِيفَاتِهِ، فَحُبُّهُ عَلَامَةُ السُّنَّةِ، وَبُغْضُهُ عَلَامَةُ الْبِدْعَةِ۔‘‘

ترجمہ:۔’’ہم امام احمد رضا کو ان کی تصانیف اور تألیفات کے ذریعہ جانتے ہیں، پس ان سے محبت رکھنا سنت کی علامت، اور ان سے عناد، بدعت کی نشانی ہے۔‘‘

(اس تحریر کے بعد حضرت مولانا قاضی مظہر حسین مدظلہ العالی کے پورے مضمون کا فوٹو ماہنامہ ’’حق چار یار‘‘ سے نقل کیا جارہا ہے۔)

حضرت قاضی صاحب مدظلہ العالی کے اس انکشاف کے بعد غور و فکر کا زاویہ یکسر بدل جاتا ہے، اور صاف نظر آنے لگتا ہے کہ:

۱:۔ ’’اِصلاحِ مفاہیم‘‘ دراصل بریلوی مکتبِ فکر کے ایک فاضل اور جناب مولانا احمد رضا خان بریلوی مرحوم کے ایک غالی عقیدت مند کی تالیف ہے، جو بریلوی عقائد و نظریات کی نشر و اشاعت کے لئے مرتب کی گئی ہے۔

۲:۔ اس کتاب کا مدعا صرف سلفیوں کے تشدد کی اِصلاح نہیں (جیسا کہ میں نے بطورِ حسنِ ظن اس کا اُوپر اظہار کیا تھا) بلکہ اس کا اصل ہدف دیوبندی حضرات کے مقابلہ میں بریلوی حضرات کے نقطہ نظر کی بھرپور حمایت و تائید ہے۔

۳:۔ جاہل، غبی، کم فہم، بدفہم اور متعنت وغیرہ الفاظ کی تکرار سے مقصود دراصل اکابرِ دیوبند (حضرت قطب العالم مولانا رشید احمد گنگوہی سے ہمارے شیخ برکۃ العصر مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی تک تمام اکابر، نور اللہ مراقدہم) کی تجہیل و تحمیق ہے۔

۴:۔ جناب مصنف نے دیوبندی حضرات کی تقریظوں کا جو انبار لگایا ہے اس کی اصل غرض بھی ظاہر ہوتی ہے کہ تقریظات کا یہ اہتمام دراصل اکابرِ دیوبندؒ کے خلاف خود دیوبندی حضرات سے ’’اجتماعی فتویٰ‘‘ لینا ہے، تاکہ یہ تمام تقریظ کنندگان بھی اپنے اسلاف کو جاہل و نادان قرار دینے میں متفق ہوجائیں۔

۵:۔ بریلوی حضرات کے خیالات سعودی مشائخ کے بارے میں سب کو معلوم ہیں، لیکن جناب مصنف علوی مالکی نے از راہ احتیاط شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہؒ اور شیخ محمد بن عبدالوہاب نجدیؒ کا نام بڑے احترام سے لیا ہے، اور جگہ جگہ ان کے حوالوں سے اپنی کتاب کو مرصع و مزین کیا ہے۔

ایک ایسا شخص جو مولانا احمد رضا خان بریلوی کی محبت کو سنی ہونے کی اور ان کی مخالفت کو بدعتی ہونے کی علامت قرار دیتا ہو، اس سے ان سعودی اکابر کی مدح و تحسین کچھ عجیب سی بات معلوم ہوتی ہے، لیکن یہ شاید ان کی مجبوری ہے کہ اس کے بغیر سعودی ماحول میں اس کتاب کا شائع ہونا مشکل تھا۔

۶:۔ میرے محترم بزرگ جناب صوفی اقبال صاحب زید مجدہٗ اور ان کے رفقا جو جناب مصنف علوی مالکی صاحب کی کتاب کے بے حد مداح ہیں، اور اس کی نشر و اشاعت میں سعیٔ بلیغ فرما رہے ہیں، ان کو بھی اس ناکارہ کی طرح جناب مصنف سے حسنِ ظن رہا ہوگا، اور یہ خیال ہوا ہوگا کہ یہ بزرگ (جو بہت سی نسبتوں کے جامع ہیں) سلفی تشدد کے مقابلہ میں ’’جہادِ کبیر‘‘ فرما رہے ہیں، اس لئے حتی الامکان ان کی اعانت واجب ہے۔ ان حضرات کو جناب مصنف کی حقیقت معلوم نہیں ہوگی، کیونکہ بزرگوں کا ارشاد ہے کہ:

خبث باطن نہ گردد سالہا معلوم!

اگر یہ روایت صحیح ہے کہ جناب صوفی صاحب زید مجدہٗ جناب علوی مالکی صاحب کے باقاعدہ حلقہ بگوش بن گئے ہیں، تو یہ بھی اسی ناواقفی اور حقیقت تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔ مجھے توقع ہے کہ جلد یا بدیر جیسا ان پر اصل حقائق منکشف ہوں گے تو یہ حضرات اپنے موقف پر نظرِ ثانی میں کسی پس و پیش کا اظہار نہیں فرمائیں گے۔

۷:۔ جب شیخ علوی مالکی صاحب کا بریلوی طبقہ سے منسلک ہونا عالم آشکارا ہوچکا ہے، تو ان کی کتاب کے نکات پر دیوبندی بریلوی اتحاد و مفاہمت کی دعوت دینا دراصل دیوبندیوں کو بریلوی حضرات کے موقف کی حقانیت کے تسلیم کرنے کی دعوت دینا ہے، اور یہ بات بھی کچھ کم اعجوبہ نہیں کہ یہ یک طرفہ دعوت دیوبندی اکابر کے منتسبین کی طرف سے دی جارہی ہے۔ مولانا احمد رضا خان مرحوم کی جماعت کا ایک فرد بھی اس دعوت میں نمایاں نہیں، اس لئے دُوسرے لفظوں میں بلاتکلف یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ دیوبندیوں کو بریلوی بن جانے کی دعوت ہے، اور یہ کہ ہمارے اکابر جو بدعات کے طوفان کے مقابلہ میں اب تک سدِّ سکندری بنے رہے ہیں، اب اس دیوار کو توڑ دیا جائے، اور عوام کو بدعات کی وادیوں میں بھٹکنے کے لئے کھلا چھوڑ دیا جائے، وَلَا فَعَلَ اللّٰهُ ذٰلِكَ!

یہ اس ناکارہ نے ارتجالاً چند نکات عرض کردئیے ہیں، دل کو لگیں تو قبول فرمائیے، ورنہ ’’کلائے بد بریش خاوند!‘‘ امید ہے مزاجِ سامی بعافیت ہوں گے۔

والسلام!

محمد یوسف عفا اللہ عنہ

دوسرا‌خط - شہید اسلام