سنت وبدعت
جواب
جواب
جواب
محترم و مکرم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
حضرت مولانا عزیزالرحمن مدظلہٗ کے ساتھ اس ناکارہ روسیاہ کو بھی نیازمندی کا تعلق ہے، وہ میرے خواجہ تاش ہیں، اور اس ناکارہ سے کہیں بہتر و افضل ہیں، تاہم ’’اِصلاحِ مفاہیم‘‘ کے مضامین سے اس ناکارہ کو اتفاق نہیں، اور یہ ہمارے اکابرؒ حضرت قطب العالم گنگوہی نور اللہ مرقدہ سے لے کر ہمارے شیخ برکۃ العصر قطب العالم قدس سرہٗ تک کے مذاق و مشرب کے قطعاً خلاف ہے۔ اس ناکارہ نے کتاب کے ناشر مولانا احمد عبدالرحمن صدیقی زیدلطفہٗ کے اصرار پر اس کتاب کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار ان کے نام ایک خط میں کردیا ہے۔
کتاب کے مصنف جناب علوی مالکی صاحب دراصل بریلوی مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے ہیں، سنا ہے کہ ہمارے صوفی محمد اقبال صاحب زید مجدہٗ ان سے باقاعدہ بیعت ہوگئے، اس لئے ان کی کتاب کی اشاعت کرنے لگے، واللہ اعلم! یہ روایت کہاں تک صحیح ہے؟ جناب مولانا عزیزالرحمن صاحب زیدہ مجدہٗ صوفی صاحب سے بہت ہی اخلاص رکھتے ہیں، اس لئے وہ بھی اپنے رفقا کے ساتھ اس کے پُرزور مؤید ہوگئے، اور اس تحریک کا نام ’’دیوبندی بریلوی اتحاد کی مخلصانہ کوشش‘‘ رکھ لیا، حالانکہ ہمارے اکابرؒ کی طرف سے تو کبھی افتراق ہوا ہی نہیں تھا کہ ان کو اتحاد کی دعوت دی جائے، جن حضرات (بریلویوں) کی طرف سے افتراق ہوا تھا ان کو اتحاد کی دعوت و تلقین ہونی چاہئے۔
بہرحال اس ناکارہ کے خیال میں یہ بزرگ جو ’’اِصلاحِ مفاہیم‘‘ کی بنیاد پر ’’دیوبندی بریلوی اتحاد‘‘ کی دعوت لے کر اُٹھے ہیں، یہ بزرگ اپنی اس تحریک میں مخلص ہیں، تاہم ان کا موقف چند وجوہ سے درست نہیں، والعلم عند اللہ!
اوّل:۔ یہ کہ حضرت شیخ نور اللہ مرقدہٗ کی خدمت میں سالہا سال رہنے اور خلافت و اجازت کی خلعت سے سرفراز ہونے کے بعد ان کا کسی علوی مالکی سے رشتۂ عقیدت و بیعت استوار کرنا چہ معنی؟ کسی کی طرف آنکھ اُٹھاکر بھی نہیں دیکھنا چاہئے تھا، یہ حضرت شیخ نور اللہ مرقدہٗ سے تعلق و وابستگی سے بے وفائی ہے۔
دوم:۔ ان حضرات نے جناب علوی مالکی صاحب کی حقیقت اور ان کے نظریات کی گہرائی کو نہیں سمجھا، اور یہ کہ ان صاحب کی شخصیت کی تکوین کن کے ہاتھ سے ہوئی؟ اگر ان حضرات کو علم ہوتا کہ یہ حضرت دراصل جناب مولانا احمد رضا خان کے خانوادہ کے ساختہ پرداختہ ہیں، تو مجھے یقین ہے کہ یہ حضرات ان صاحب کے حلقۂ عقیدت میں شامل نہ ہوتے، اور ان کے نظریات کی ترویج و تشہیر میں اپنی صلاحیتیں صرف نہ فرماتے۔
سوم:۔ ’’اِصلاحِ مفاہیم‘‘ کے ذریعہ ان حضرات نے دیوبندی حلقہ کی اصلاح کا بیڑا اُٹھایا ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ دونوں فریقوں کے درمیان اختلاف و نزاع کا جو میدانِ کارزار پون صدی سے گرم رہا ہے، اس میں غلطی اکابرِ دیوبند ہی کی تھی، اب یہ حضرات چاہتے ہیں کہ دیوبندیوں کو ان کی غلطی کا احساس دلاکر اس غلطی کی اصلاح پر آمادہ کیا جائے۔ دُوسری طرف بریلوی حضرات کی اصلاح کی کوشش نام کو بھی نہیں، گویا سارا قصور اکابرِ دیوبند کا تھا، اہلِ بدعت اپنے طرزِ عمل میں سراسر معصوم اور حق بجانب ہیں، چنانچہ بریلوی حضرات اس کو اپنی فتح قرار دے رہے ہیں، اور رسائل میں اس کا برملا اظہار کرنے لگے ہیں، غور کیا جاسکتا ہے کہ اصلاح کی یہ یک طرفہ ٹریفک -خواہ وہ کتنے ہی جذبۂ اخلاص پر مبنی ہو- کہاں تک مبنی برحق اور مثمرِ خیر ہوسکتی ہے؟
چہارم:۔ اصاغر کا کام اکابر کی اتباع و تقلید اور ان کے نقشِ قدم پر چلنا ہے، نہ کہ ان کی اصلاح! یہ ناکارہ اپنے اکابر کا کمترین نام لیوا ہے، اور اپنے اکابر کو اربابِ قوتِ قدسیہ سمجھتا ہے۔ دُوسرے لوگ برسوں کی جھک مارنے کے بعد جس نتیجہ پر پہنچیں گے، میرے یہ اکابرؒ اپنی فراست اور قوتِ قدسیہ کی برکت سے پہلے دن اس نتیجہ پر پہنچ چکے تھے، لیکن ’’اِصلاحِ مفاہیم‘‘ کی تحریک کی رُوح یہ ہے کہ ہمارے اکابرؒ نے غلطی کی تھی، اب ان کے اصاغر کو چاہئے کہ اپنے بڑوں کی غلطی کی اصلاح کریں،إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ!
پنجم:۔ان حضرات نے یہ تو دیکھا کہ اگر دیوبندی، رَدِّ بدعات میں ذرا ڈھیلے ہوجائیں تو دونوں گروہوں کے درمیان اتفاق واِتحاد کا خوشنما شیش محل تیار ہوسکتا ہے، مگر ان حضرات کی نظر اس طرف نہیں گئی کہ پھر تجدیدِ دین اور رَدِّ بدعات کا فرض کون انجام دے گا؟ اور سنت کے اسلحہ سے لیس ہوکر حریمِ دین کی پاسبانی کون کرے گا؟ پھر تو عرس، قوالی اور اس قسم کی چیزیں ہی دین کے بازار میں رہ جائیں گی، وَلَا فَعَلَ اللّٰهُ ذٰلِكَ!
ششم:۔ علوی مالکی نسبت ہی کا اثر ہے کہ یہ حضرات جلی یا خفی انداز سے تبلیغ کی مخالفت کرتے ہیں، اور لوگوں کو اس ’’بیماری‘‘ سے بچانے کے لئے فکرمند رہتے ہیں، حالانکہ ان کو معلوم ہے کہ ہمارے شیخ نور اللہ مرقدہٗ تبلیغ کے ستونِ اعظم تھے، اور اہلِ تبلیغ حضرت شیخ نور اللہ مرقدہٗ کی کتابوں اور آپ کی تعلیمات کو حرزِ جان بنائے ہوئے نقل و حرکت کر رہے ہیں، اگر علوی مالکی صاحب کی نسبت کے بجائے حضرت شیخ نور اللہ مرقدہٗ کی نسبت کا رنگ غالب رہتا تو ان حضرات سے بڑھ کر تبلیغ کا کوئی مؤید نہ ہوتا۔
بہرحال یہ ناکارہ سمجھتا ہے کہ یہ حضرات اپنی جگہ مخلص ہیں، لیکن اس تحریک میں ان کی نظر سے کئی چیزیں اُوجھل ہوگئی ہیں، اور میں اب بھی توقع رکھتا ہوں کہ جلد یا بدیر ان کو اپنی غلطی کا احساس ہوجائے گا۔
آپ کے لئے اس روسیاہ کا مشورہ یہ ہے کہ آپ، حضرت مولانا عزیزالرحمن صاحب کی بیعت میں بدستور شامل رہیں، اور ان کے بتائے ہوئے معمولات کو پوری پابندی سے بجالائیں، لیکن علوی مالکی نسبت کا رنگ قبول نہ کریں، بلکہ اپنے اکابر کے ذوق و مشرب پر رہیں، اگر مولانا موصوف آپ کو خود ہی اپنی بیعت سے خارج کردیں تو کسی دُوسرے بزرگ سے تعلق وابستہ کرلیں، اس کے بعد بھی مولانا موصوف کے حق میں ادنیٰ سے ادنیٰ بے ادبی کا ارتکاب نہ کریں۔
بلاقصد جواب طویل ہوگیا، سمع خراشی پر معذرت چاہتا ہوں، اور کوئی لفظ آپ کے لئے یا آپ کے شیخ کے لئے ناگوار ہو تو اس پر بلاتکلف معافی کا خواستگار ہوں۔
والسلام!
محمد یوسف عفا اللہ عنہ
۲۵؍۱۲؍۱۴۱۵ھ

