سنت وبدعت
”مکیمالکیکٹربریلویہیں”
جواب
۱:۔ قاضی مظہر حسین مدظلہٗ کے انکشافات
ماہنامہ ’’حق چار یار‘‘ کا عکس
’’مکی مالکی کٹر بریلوی ہیں‘‘:
مولانا محمد بن علوی مالکی موصوف کی تصانیف ’’حول الْإحتفال بالمولد النبوی الشریف‘‘ اور زیرِ بحث کتاب ’’اِصلاحِ مفاہیم‘‘ کے مطالعے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ موصوف بریلوی مسلک کے عالم ہیں، یہی وجہ ہے کہ حول الاحتفال کا ترجمہ بھی ’’میلادِ مصطفی‘‘ کے نام سے ایک بریلوی عالم نے لکھا ہے اور اس کتاب کی اشاعت بھی بریلوی مسلک والوں نے کی ہے۔ اسی طرح ان کی بعض دُوسری تصانیف کا ترجمہ بھی بریلوی علماء نے کیا ہے۔
۲:۔لیکن بریلوی مسلک کے ماہنامہ ’’جہانِ رضا‘‘ فروری ۱۹۹۲ء کے مطالعہ سے تو اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ آپ کٹر بریلوی عالم ہیں، چنانچہ اس شمارہ کے ص:۲۶ پر حسبِ ذیل عنوان سے مولانا مکی مالکی کے حالات بیان کئے گئے ہیں:
’’خانوادۂ بریلی کا ایک عرب مفکر‘‘
فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر محمد علوی الحسنی المالکی مدظلہٗ
از جناب مفتی محمد خان صاحب قادری مدظلہ العالی
آپ کا اسمِ گرامی محمد، والد کا نام علوی اور دادا کا نام عباس ہے، آپ کا تعلق خاندانِ سادات سے ہے، سلسلۂ نسب ۲۷ واسطوں سے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا ہے۔ مسلکاً مالکی اور مشرباً قادری ہیں، کیونکہ آپ کے دادا اور والد گرامی دونوں شہزادہ اعلیٰ حضرت اعظم ہند شاہ مصطفی رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے خلفا تھے، اور آپ خلیفہ اعلیٰ حضرت خطیبِ مدینہ مولانا ضیاء الدین مدنی قادری رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ ہیں۔ آپ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے ہیں، وہیں پرورش پائی، مسجد حرام مدرسۃ الفلاح اور مدرسہ تحفیظ القرآن الکریم سے آپ نے تعلیم حاصل کی۔ آپ نہایت قدآور شخصیت کے مالک ہیں۔
(ماہنامہ جہانِ رضا کا ٹائٹل)
(جہانِ رضا کا مضمون)

