سنت وبدعت
اماماحمدرضافاضلبریلویسےعقیدت:
جواب
مولانا غلام مصطفی مدرس شرف العلوم (ڈھاکہ) حج و زیارت کے لئے تشریف لے گئے تو وہاں حضرت مولانا مفتی سعداللہ مکی سے ملاقات کی، مفتی سعداللہ مکی کے ایما پر ان کا وفد علامہ سید محمد علوی مالکی سے ملاقات کے لئے گیا، دورانِ ملاقات مولانا غلام مصطفی نے کہا ہم اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خاں فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردوں کے شاگرد ہیں، اتنا سنتے ہی علامہ مالکی سروقد اُٹھ کھڑے ہوئے اور فرداً فرداً سبھی لوگوں سے مصافحہ اور معانقہ فرمایا اور بے حد تعظیم کی، شربت پلایا گیا، قہوہ پیش کیا گیا، انہوں نے اپنی پوری توجہ مولانا غلام مصطفی اور ان کے ہمراہیوں کی جانب فرمادی اور ایک ٹھنڈی آہ بھرکر فرمایا: ’’سیدی علامہ مولانا احمد رضا خان صاحب فاضل بریلوی کو ہم ان کی تصنیفات اور تعلیقات کے ذریعہ جانتے ہیں، وہ اہلسنّت کے علامہ تھے، ان سے محبت کرنا سنی ہونے کی علامت اور ان سے بغض رکھنا اہل بدعت کی نشانی ہے۔‘‘ (ایضاً ص:۴۱)

