October 14, 2026 at 2:03 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سنت وبدعت

تبصرہ

جواب

مندرجہ بالا حالات و واقعات سے واقف ہونے کے بعد تو یقین کرنا پڑتا ہے کہ مولانا مکی مالکی جو فنا فی البریلویت ہیں، آپ کو مولانا ضیاء الدین صاحب قادری کے علاوہ مولانا احمد رضاخان صاحب کے لڑکے مولانا مصطفی رضاخان صاحب سے بھی اجازت و خلافت حاصل ہے، اور آپ اس حد تک مولانا احمد رضاخان صاحب فاضل بریلوی کے عقیدت مند ہیں کہ ان کو اہلِ حق و اہلِ باطل اور اہلِ سنت و اہلِ بدعت کے لئے معیارِ حق قرار دیتے ہیں، اور غیرمبہم الفاظ میں کہتے ہیں کہ:

’’ان سے محبت کرنا سنی ہونے کی علامت ہے اور ان سے بغض رکھنا اہلِ بدعت کی نشانی ہے۔‘‘

۲:۔مولانا احمد رضاخان بریلوی کی علمِ غیب کے موضوع پر تصنیف ’’الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغینیۃ‘‘ (عربی طبع جدید ۱۹۸۷ء) کے افتتاحیہ میں ڈاکٹر محمد مسعود احمد لکھتے ہیں:

’’امام احمد رضا کی محبوبیت اور مرجعیت کا جو اس وقت عالم تھا اس کے کچھ آثار اب بھی نظر آتے ہیں۔

آئیے مولانا غلام مصطفی (مدرس مدرسہ عربیہ شرف العلوم راجشاہی بنگلہ دیش) کی زبانی سنئے:

’’۱۳۷۲ء میں حج بیت اللہ شریف کے موقع پر چند رفیقوں کے ساتھ مولانا سید محمد علوی (مکہ معظمہ) کے در دولت پر حاضر ہوئے، جب اپنا تعارف ان الفاظ سے کرایا نحن تلامیذ اعلٰی حضرت مولَانا احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ (غلام مصطفی، سفرنامہ حرمین شریفین، بنگلہ دیش مطبوعہ ۱۹۶۰ء ص:۶۶) تو سید محمد علوی سروقد کھڑے ہوگئے اور ایک ایک سے معانقہ و مصافحہ کیا اور پھر فرمایا:

’’نَحْنُ نَعْرِفُ تَصْنِيفَاتِهِ وَتَأْلِيفَاتِهِ، فَحُبُّهُ عَلَامَةُ السُّنَّةِ، وَبُغْضُهُ عَلَامَةُ الْبِدْعَةِ۔‘‘

ہم امام احمد رضاخان کو ان کی تصانیف اور تالیفات کے ذریعہ جانتے ہیں، ان سے محبت سنت کی علامت ہے، اور ان سے عناد بدعت کی نشانی ہے۔‘‘ (ایضاً ص:۳۲)

تبصرہ - شہید اسلام