October 14, 2026 at 2:03 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سنت وبدعت

اکابرِ‌دیوبند،‌مولانا‌احمد‌رضاخان‌کی‌نظر‌میں

جواب

یہ حقیقت کسی اہلِ علم سے مخفی نہیں کہ مولانا احمد رضاخان بریلوی نے اپنی کتاب ’’حسام الحرمین‘‘ میں قطب الارشاد حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی، حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی، مؤلف ’’بذل المجہود‘‘ شرح ابی داؤد و مؤلف ’’براہینِ قاطعہ‘‘ حضرت مولانا خلیل احمد صاحب محدث سہارنپوری، اور حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی، رحمہم اللہ، پر کفر کا فتویٰ لگایا ہے۔

چونکہ اکابر کی عبارتوں میں قطع و برید کرکے تکفیر کی مہم چلائی گئی تھی، اس لئے شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی ان کے جواب میں ’’الشہاب الثاقب‘‘ لکھی، حضرت مولانا محمد منظور صاحب نعمانی اور حضرت مولانا مرتضیٰ حسن صاحب چاندپوری رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ علمائے دیوبند نے ان کے ردّ میں کتابیں لکھیں۔

’’حسام الحرمین‘‘ کے تکفیری فتووں کی بنا پر ہی علمائے حرمین شریفین نے اکابر علمائے دیوبند کو ۲۶ سوالات بھیجے جن کے جوابات حضرت مولانا خلیل احمد صاحب نے لکھے، جن پر اس وقت کے اکابرِ دیوبند اور علمائے حرمین شریفین نے اپنی تصدیقات لکھی ہیں، ہم دیوبندی بریلوی محاذ آرئی نہیں چاہتے اور نہ ہی ہماری یہ بحث بریلوی علماء سے ہے۔

اس وقت ہماری بحث خصوصی طور پر جناب صوفی محمد اقبال صاحب (مقیم مدینہ منورہ)، مولانا عبدالحفیظ صاحب مکی اور مولانا عزیزالرحمن ہزاروی سے ہے، جو حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب مہاجر مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے متوسلین اور خلفاء میں سے ہیں، کیونکہ ان حضرات نے مولانا مکی مالکی کی کتاب مفاہیم کا اُردو ترجمہ ’’اِصلاحِ مفاہیم‘‘ کے نام سے شائع کیا ہے، اور جناب صوفی محمد اقبال صاحب موصوف نے مولانا احمد عبدالرحمن صاحب صدیقی (نوشہرہ) کے نام بعنوان ’’اُردو ترجمہ شائع کرنے کا مقصد‘‘ اس کتاب کی مکمل تائید کی ہے، چنانچہ لکھتے ہیں:

’’زیرِ نظر کتاب ’’المفاہیم‘‘ کے اُردو ترجمہ میں فیصلہ ہفت مسئلہ اور المہند والے ہی مسائل کو علمی دلائل کے ساتھ خوب واضح کیا گیا ہے، جس کو عرب و عجم میں فریقین کے جید علمائے کرام نے خوب سراہا ہے۔‘‘ (ص:۱۲)

اور مولانا عزیزالرحمن صاحب خطیب جامع مسجد صدیق اکبر، چوہڑ (راولپنڈی) نے بھی اپنی تقریظ میں لکھا ہے:

’’ہم نے فضیلۃ العلامۃ الجلیل السید محمد بن العلوی المالکی الحسنی المکی دامت برکاتہم کی کتاب ’مَفَاهِيمُ يَجِبُ أَنْ تُصَحَّحَ‘‘ کا مطالعہ کیا، ہم نے اس کو ماشاء اللہ ایسی تحقیقی کتاب پایا جس میں انہوں نے مختلف انواع کے فوائد کو علماء کے وقار اور حکماء کے انداز کا التزام کرتے ہوئے عمدہ انداز میں جمع کیا ہے۔فَجَزَاهُ اللّٰهُ خَيْرًا كَثِيرًا! اور ہم نے دیکھا کہ جو کچھ اس میں ہے وہ مکمل طور پر متقدمین و متأخرین جمہور اہلِ سنت والجماعت کا مذہب ہے ۔۔۔ الخ۔‘‘

(ص:۲۱)

حالانکہ انہوں نے جو نظریات عرس، انعقادِ محفلِ میلاد اور روحِ نبوی کا ان مجالسِ مولود میں حاضر ہونے وغیرہ کے پیش کئے ہیں، ان کے ردّ میں اکابر علمائے دیوبند کتابیں شائع کرچکے ہیں، تو کیا مولانا عزیزالرحمن صاحب کے نزدیک یہ اکابر علمائے دیوبند، جمہور اہلِ سنت والجماعت میں شامل نہیں ہیں۔

۲:۔مولانا مکی مالکی نے مولانا احمد رضاخان صاحب کی محبت کو اہلِ سنت کی، اور ان کے ساتھ بغض کو اہلِ بدعت کی نشانی قرار دیا ہے، ان کے نزدیک مولانا احمد رضاخان صاحب معیارِ حق ہیں اور مولانا احمد رضا صاحب اکابرِ دیوبند کی تکفیر کرتے ہیں۔

اکابرِ‌دیوبند،‌مولانا‌احمد‌رضاخان‌کی‌نظر‌میں - شہید اسلام