October 14, 2026 at 2:03 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سنت وبدعت

۲:۔‌فضیلۃ‌الشیخ‌ملک‌عبدالحفیظ‌مکی‌کا‌خط:

جواب

’’مخدوم مکرم و محترم حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی، رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَإِيَّانَا مَحَبَّتَهُ وَرِضْوَانَهُ، آمِينَ!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، وبعد!

کچھ دنوں قبل لندن پہنچا تھا، وہاں کچھ دوستوں نے رسالہ ’’بینات‘‘ محرم الحرام ۱۴۱۶ھ کا دکھایا، جس میں آںمخدوم کا مضمون بعنوان ’’کچھ اِصلاحِ مفاہیم کے بارے میں‘‘ دیکھا پڑھا، اس کتاب اور اس کے مصنف سے متعلق کافی کچھ معلومات چونکہ اس سیاہ کار کے ذہن میں ہیں، آنجناب کا مضمون چونکہ کئی جگہ ایسا رُخ اختیار کرگیا ہے جو نہیں ہونا چاہئے تھا (اس سیاہ کار کے خیال میں)، اور وجہ اس کی بظاہر صحیح معلومات کی عدم دستیابی ہے۔ اس لئے خیرخواہی کے طور پر یہ سوچا کہ آںمخدوم کی وسیع النظری اور وسعتِ صدری و کریمانہ اخلاق سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ضرور یہ چیزیں خدمتِ عالی میں عرض کردوں، ویسے یہ سیاہ کار بھی ہمیشہ یہی کوشش کرتا رہا ہے کہ جھگڑوں میں نہ پڑے اور جو آپ نے اس بارے میں فرمایا ہے، آج کل کے حالات کے بارے میں پورا پورا اس کا مؤید ہے۔ مگر یہاں چونکہ مشکل یہ پڑگئی کہ بظاہر یہ معلومات شاید کسی اور ذریعہ سے آںمخدوم تک نہ پہنچ سکتیں اس لئے جلدی میں بے ترتیبی سے ہی سہی چند ملاحظات نمبروار عرض کروں گا۔ آنجناب اپنی عالی حوصلگی و قوی استعداد سے اِن شاء اللہ خود ہی اس کا منشا و مقصد حاصل کرلیں گے۔

۱:۔ آںمخدوم نے کئی جگہ پہلے دُوسرے اور تیسرے خط میں یہ اظہار فرمایا ہے کہ (جن حضرات نے اس پر تقریظات ثبت فرمائی ہیں، اس ناکارہ کا احساس ہے کہ انہوں نے بے پڑھے مؤلف کے ساتھ حسنِ ظن کی وجہ سے لکھ دی ہیں ۔۔۔ الخ) حالانکہ یہ بات واقعہ کے بالکل خلاف ہے، چونکہ حضرت مولانا عاشق الٰہی صاحب مدظلہ العالی کے بارے میں بھی اس سیاہ کار کو یہ اندازہ ہوا تھا کہ ان کو بھی بعض لوگوں نے اس کے خلاف مختلف انداز سے اُبھارا اور یہی تأثر دیا تو انہوں نے حضرت مولانا عزیز الرحمن صاحب مدظلہ کے خلاف باقاعدہ بعض حضرات کو خط لکھا، جس کا اس سیاہ کار کو بہت افسوس ہوا۔ مگر حضرت مولانا عاشق الٰہی صاحب کو اس سیاہ کار نے معذور جانا کہ انہیں صحیح معلومات نہیں تھیں اور لوگوں نے غلط انداز سے بھڑکایا، لہٰذا حضرت کی خدمت میں اس سیاہ کار نے اس بارے میں مفصل عریضہ تحریر کیا، جس کی ایک فوٹواسٹیٹ اس عریضے کے ساتھ ارسال ہے، آںمخدوم سے گزارش ہے کہ اس عریضے کو ضرور اہتمام سے پڑھ لیں، تاکہ تقریظات کے بارے میں حقیقتِ حال واضح ہوجائے۔

۲:۔ پہلے خط میں جو آنجناب نے اخیر میں لکھا ہے کہ (اگر کسی نے پڑھا ہے تو اس کو ٹھیک طرح سمجھا نہیں، نہ ہمارے اکابر کے مسلک کو صحیح طور پر ہضم کیا ہے بلکہ اس ناکارہ کو یہاں تک ’’حسنِ ظن‘‘ ہے کہ بہت سے دُوسرے حضرات نے کتاب کے نام کا مفہوم بھی نہیں سمجھا ہوگا ۔۔۔ الخ) یہ سب کچھ آںمخدوم نے لکھ دیا -یا للعجب- حالانکہ آپ جانتے ہیں کہ مقرظین میں حضرت مولانا محمد مالک کاندھلوی، حضرت مولانا سید حامد میاں، حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب، حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب، اور حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر مدظلہم العالی جیسے حضرات ہیں۔ یہ سیاہ کار اس پر کیا تبصرے کرے۔۔۔؟ بہرحال آنجناب جو کہ مجسمہ تواضع ہیں، طبیعتِ مبارکہ کے لحاظ سے ایسے جملے ایسے حضرات کے بارے میں باعثِ حیرت و تعجب ہیں، اس لئے یہ شبہ پڑتا ہے کہ کسی نے آنجناب کو بھی اس بارے میں گرما نہ دیا ہو، ورنہ ایسے کیوں لکھا جاتا؟ واللہ اعلم! لندن میں ایک صاحبِ علم و تحقیق نے آںمخدوم کا مضمون پڑھ کر از خود اس سیاہ کار سے فرمایا مسکراتے ہوئے (ایسا لگتا ہے کہ کسی نے حضرت مولانا لدھیانوی کو بھڑکایا اور ان سے یہ مضمون لکھوایا ہے) واللہ اعلم!

۳:۔ آںمخدوم نے دُوسرے خط کے دُوسرے صفحہ پر ’’اکابر کا مسلک و مشرب‘‘ کا ذکر بھی فرمایا ہے، اس رسالے کا تازہ ایڈیشن بھی یہ سیاہ کار بھجوارہا ہے، جس میں اس نابکار کا مفصل مقدمہ بھی ہے، اور وہ اسی غرض سے ارسال ہے کہ جیسے حضرت مولانا عاشق الٰہی صاحب کی خدمت میں بھی عرض کیا ہے، اسی طرح آںمخدوم کی خدمت میں بھی عرض ہے کہ اسے بغور و اہتمام سے ملاحظہ فرمایا جائے اور مقدمہ یا اصل رسالہ میں جو اصلاحات آپ تجویز فرماویں گے، اِن شاء اللہ ان پر عمل کیا جائے گا، بشرطیکہ مقصودِ رسالہ کے خلاف نہ ہو۔ یہ بات حضرت مولانا عزیزالرحمن صاحب سے بھی طے ہوچکی ہے، وہ بھی بالکل تیار ہیں کہ جو اصلاح و ردّ و بدل فرماویں گے اِن شاء اللہ کردیا جائے گا، بشرطیکہ رسالہ کا مقصد فوت نہ ہو، اس سے متعلق اصلاحات کے بارے میں چاہے اس سیاہ کار کو مطلع فرمادیا جائے اور چاہے حضرت مولانا عزیزالرحمن صاحب کو راولپنڈی۔

۴:۔ آںمخدوم نے دُوسرے اور تیسرے خط میں حضرت صوفی محمد اقبال صاحب کے بارے میں تحریر فرمایا ہے کہ وہ سید علوی مالکی سے بیعت ہوگئے ہیں، تو اس بارے میں عرض ہے کہ اس سیاہ کار کے علم کے مطابق تو سید محمد علوی مالکی کسی کو بیعت ہی نہیں کرتے۔ اس سیاہ کار نے ایک دفعہ صراحتاً ان سے پوچھا تھا تو انہوں نے فرمایا تھا کہ: میں کسی کو بیعت نہیں کرتا، البتہ یہ صحیح ہے کہ انہوں نے حضرت صوفی صاحب کو سلسلہ شاذلیہ میں اجازت و خلافت دی ہے، اور یہ آنجناب کے علم میں ہوگا کہ حضرت صوفی صاحب کو کئی مشائخ نے حضرت کے بعد اجازت مرحمت فرمائی، اس سیاہ کار کے علم کے مطابق ان میں حضرت مولانا محمد میاں، حضرت مولانا فقیر محمد اور ایک نقشبندی بزرگ جو کہ غالباً ڈیرہ غازی خان میں تھے، اسی طرح ایک اور جگہ سے بھی غالباً ہوئی ہے، اور تصوف کے لحاظ سے اس میں بظاہر کوئی حرج بھی نہیں، جیسا کہ خود آںمخدوم کو حضرت اقدس ڈاکٹر عبدالحی صاحب قدس سرہٗ نے اجازت مرحمت فرمائی، اسی طرح اور حضرات کو کئی اور حضرات نے۔

۵:۔ حضرت مولانا عزیزالرحمن صاحب کے ایک مرید نے آںمخدوم کو جو خط لکھا، اس میں انہوں نے نوٹ دیا کہ: ’’یہ حضرات تبلیغی جماعت کے خلاف بھی ذہن بناتے ہیں، اس سے مجھے سخت تکلیف ہوتی ہے‘‘ اور اس کو من و عن آںمخدوم نے مان کر یہ بھی بے چارے سید محمد علوی مالکی کے کھاتے میں ڈال دیا، حالانکہ اس سیاہ کار کے یقینی علم کے مطابق سید محمد علوی مالکی تبلیغی کام اور تبلیغی اکابرین سے قلبی تعلق رکھتے ہیں، اور خود وہ سعودی حضرات مکہ مکرمہ، جدہ و مدینہ منورہ والے جو پختگی سے تبلیغی کام میں لگے ہوئے ہیں، وہ ہمیشہ ان کی مجلس میں پابندی و اہتمام سے آتے ہیں، بلکہ سید محمد علوی صاحب کے ہاں سبقاً سبقاً اور درساً درساً ’’حیاۃ الصحابہ‘‘ پڑھائی جاتی ہے، جسے سید صاحب طلبہ کو خود پڑھاتے ہیں۔

بہرحال حضرت مولانا عزیزالرحمن صاحب مدظلہم العالی کے متعلق یہ الزام کہ وہ تبلیغ کے خلاف ذہن بناتے ہیں، اس سیاہ کار کے خیال میں غلط فہمی پر مبنی ہے۔ چونکہ رائے ونڈ والوں نے حضرت شیخ قدس سرہٗ کے انتقال کے فوراً بعد تبلیغی نصاب سے ’’فضائلِ درود شریف‘‘ کو نکال دیا تھا، اور جب ان کا محاسبہ کیا گیا تو ان میں سے ایک صاحب نے غلط بیانیوں سے پُر ایک خط لکھا، جس کے جواب میں ان کی غلط بیانیاں واضح کی گئیں اور یہ کہ یہ کام تبلیغی اُصول کے بھی خلاف ہے ۔۔۔ الخ۔ چونکہ ایسے عناصر کی مخالفت ہوگئی ہوگی، اس لئے اس مرید نے یہ سمجھ لیا کہ نعوذ باللہ حضرت مولانا عزیزالرحمن صاحب مدظلہ نے نفس تبلیغی کام کی مخالفت کی ہے۔ حالانکہ یہ سیاہ کار جانتا ہے کہ حضرت مولانا کے کتنے ہی مریدین اگر کہا جائے کہ ان کے سینکڑوں بلکہ ہزاروں مریدین تبلیغی جماعت میں اہتمام سے لگے ہوئے ہیں اور حضرت مولانا خود ان کا تعارف کئی بار اس سیاہ کار سے کرواچکے ہیں، کئی ان میں سے اپنے اپنے محلوں اور علاقوں کے امیر و ذمہ دار ہیں۔ یہ سیاہ کار یہ سب چیزیں خود دیکھ چکا ہے تو کیسے یقین کرلیا جائے اس الزام کا؟ ہاں! البتہ وہ بات برحق ہے کہ بعض ایسے افراد و عناصر کی ضرور مخالفت کرتے ہوں گے اور کی ہوگی جنہوں نے فضائلِ درود شریف نکالا یا اور کوئی بے اُصولی کی ہو، اور اس طرح کی تنقید و اَفراد کی مخالفت، جماعت کی مخالفت تو نہیں ہوتی، وَحَاشَا أَنْ يَكُوْنَ ذٰلِك! اور حضرت مولانا عزیزالرحمن صاحب تو حضرت شیخ قدس سرہٗ کے عاشقِ صادق ہیں، ان سے کیسے ایسی توقع کی جاسکتی ہے؟ نعوذ باللہ!

۶:۔ آخری اور اہم بات یہ کہ آنجناب نے حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحب مدظلہ کے ’’حق چار یار‘‘ میں مضمون کی وجہ سے یہ طے کرلیا کہ ’’سید محمد علوی مالکی دراصل بریلوی عقیدہ کے حامل اور فاضل بریلوی جناب مولانا احمد رضاخان مرحوم کے بیک واسطہ خلیفہ ہیں‘‘ اھ۔

اس بارے میں یہ سیاہ کار اپنی معلومات آںمخدوم کی خدمت میں بھی اور آپ کے توسط سے حضرت قاضی صاحب کی خدمت میں بھی پیش کرنا چاہتا ہے جو مندرجہ ذیل ہیں (پھر اس کے بعد اِن شاء اللہ حضرت قاضی صاحب کے پیش کردہ حوالہ جات و دلائل پر بھی کچھ عرض کروں گا):

عرض ہے کہ سید محمد علوی مالکی جن کی پیدائش غالباً ۱۳۶۴ھ یا ۱۳۶۵ھ کی ہے، مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے، سادات حسنی خاندان ہے، دسیوں پشتوں سے ان کے ہاں علم کا سلسلہ چلا آرہا ہے، علمی لحاظ سے نہایت وجیہ خاندان ہے، ان کے والد سید علوی بن عباس مالکی مرحوم کے ہمارے تمام اکابر سے تعلقات تھے، اور ہمارے اکابر کے بہت زیادہ مداح تھے۔ بچپن سے یہ سیاہ کار خود دیکھ رہا ہے کہ مدرسہ صولتیہ میں ان کا ہمیشہ آنا جانا رہتا تھا، ہمارے آقا حضرت شیخ قدس سرہٗ کی خدمت میں جب تک حیات رہے ہمیشہ بہت ہی محبت و تعلق سے آتے رہے، طرفین سے عجیب مودت و محبت کا معاملہ ہوتا، مرحوم سید علوی صاحب کی طرف سے بہت ہی زیادہ حضرت کا اکرام ہوتا، بالکل حضرت کے شایانِ شان۔ اسی طرح حضرت مولانا خیر محمد صاحب بہاولپوری مکی کے ہاں بھی ان سید علوی مالکی صاحب کی ہمیشہ آمد ورفت رہتی تھی، حضرت مولانا سعید احمد خان صاحب کا ان کے ہاں ہمیشہ جانا اور ان کا بہت اہتمام سے ان کے ہاں آنا۔ ایک دفعہ یہ سیہ کار بھی حضرت مولانا کے ساتھ سید صاحب مرحوم کے ہاں تھا تو سید صاحب نے حضرت مولانا سعید صاحب کے بہت محبت سے ہاتھ پکڑے اور سب لوگوں کو (حاضرین کو) مخاطب کرکے فرمایا: ’’اَشْهَدُوْا أَنِّيْ أُحِبُّ هٰذَا الرَّجُلَ!‘‘ کئی بار جوش و جذبہ میں یہ جملے دُہرائے۔ اسی طرح جو بھی اپنے اکابر ہند و پاک سے مکہ مکرمہ جاتے سب ہی سے تعلق و محبت کا معاملہ فرماتے، اسی وجہ سے جب ان کے بیٹے یہ سید محمد علوی مالکی مصنف ’’مفاہیم‘‘ تعلیم سے فارغ ہوگئے تو انہوں نے ان کو دارالعلوم دیوبند تکمیلِ تعلیم کے لئے بھیجا اور جیسا کہ سید محمد علوی صاحب نے اس سیاہ کار کو خود سنایا کہ وہ چھ ماہ تک دارالعلوم دیوبند میں مقیم حضرت مولانا معراج الحسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی مہمانی و نگرانی میں رہے اور سب اساتذہ خصوصاً حضرت مولانا سید فخرالدین صاحب اور حضرت مولانا فخرالحسن وغیرہ سے استفادہ کیا، مگر وہاں طبیعت سخت خراب ہوگئی جس کی وجہ سے رہنا مشکل ہوگیا اور مجبوراً حسرت سے رخصت لے کر پاکستان سے ہوتے ہوئے واپس مکہ مکرمہ چلے گئے اور پھر جامعہ الازہر سے پی ایچ ڈی کیا۔

خود ان سید محمد علوی مالکی کا حال یہ ہے کہ بہت محبت سے اپنے دارالعلوم دیوبند کے قیام کے قصے سناتے ہیں، بلکہ جب رابطہ کی طرف سے ندوۃ العلماء کے پچاس سالہ جشن میں گئے تو اس کے بعد خاص طور سے حضرت مولانا سید اسعد مدنی کے ہمراہ دارالعلوم دیوبند اور مظاہرالعلوم وہاں کے اکابر سے ملنے و استفادہ کرنے کے لئے گئے۔

حضرت مفتی شفیع صاحب اور حضرت بنوری قدس سرہٗ سے بہت زیادہ تعلق تھا اور ہے، ہمیشہ ان کے تذکرے کرتے ہیں۔ حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب نے اپنی تقریظ میں اس تعلق کا حوالہ بھی دیا ہے، جب حضرت بنوریؒ ختم نبوت کی تحریک سے قبل حرمین شریفین آئے تو اس وقت اس سیاہ کار نے خود دیکھا کہ مدینہ منورہ میں کئی روز تک لگاتار سید محمد علوی مالکی بڑے اہتمام سے حضرت بنوری قدس سرہٗ کے ساتھ ساتھ رہتے تھے۔

اسی طرح جتنے بھی اکابر علمائے دیوبند ہند و پاک سے حرمین میں آتے، سید محمد علوی کا معمول ہے کہ ان کی خدمت میں حاضری دیتے ہیں۔ رہا ہمارے حضرت شیخ کے ساتھ ان کا تعلق، تو وہ بیان سے باہر ہے، ہمیشہ اپنے والد صاحب کے انتقال کے بعد سے حضرت شیخ کو اپنے والد کی جگہ جانا، بلکہ ’’ابی‘‘ کہہ کے ہی مخاطب کرتے، جب بھی حضرت کی خدمت میں آتے (اور اکثر آتے ہی رہتے تھے) ہمیشہ پہلے حضرت شیخ کے دستِ مبارک کو بوسہ دیتے، پھر کبھی کندھے کو بوسہ دیتے، پھر ماتھے پر بوسہ دیتے، پھر کبھی گھٹنوں کو اور کبھی پاؤں کو بھی بوسے دے دیتے، اور حضرت اس پر محبت و شفقت سے ان کو لپٹالیتے، حضرت شیخ ان سے بہت بے تکلف رہتے اور مزاح بھی فرماتے، بالکل جیسے اپنے خواص کے ساتھ معاملہ فرماتے ہیں۔ حضرت شیخ قدس سرہٗ کے تقریباً تمامی خدام اس بات کو جانتے ہیں کہ حضرت نے ہمیشہ سید محمد علوی مالکی کے ساتھ باپ کی طرح معاملہ فرمایا اور انہوں نے بیٹے کی طرح۔ حضرت ہی کی نسبت سے انہیں اس سیاہ کار اور دیگر حضرات کے خدام و متعلقین سے نہایت زیادہ اُنس و محبت ہے، ان کے اسباق میں ہمیشہ موقع بموقع اکابر علمائے حرمین و سلف صالحین کے ساتھ ساتھ ہمارے اکابر کا بھی تذکرہ آتا رہتا ہے، اسی ذیل میں ایک واقعہ سناتا جاؤں کہ کئی سال قبل مولانا سید عبدالقادر آزاد صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ: سید محمد علوی مالکی صاحب سے وقت لے لیں، ہم نے ملاقات کرنی ہے اور چونکہ وقت تھوڑا ہے، اس لئے مختصر ملاقات ہوگی۔ میں نے وقت لے لیا مغرب سے عشاء تک، یہ حضرات یعنی مولانا آزاد صاحب اور ان کے ساتھی مولانا حنیف جالندھری، مولانا عبدالقوی ملتان اور مولانا ضیاء القاسمی عین مغرب کے قریب آئے، چائے کے بعد مولانا ضیاء القاسمی صاحب نے فرمایا کہ: آزاد صاحب فرما رہے ہیں کہ سید محمد علوی سے ملنے جانا ہے، اور میرا دل تو نہیں چاہ رہا چونکہ سنا ہے کہ وہ بریلوی ہے، اس کے ہاں مولود ہوتا ہے۔ میں نے کہا کہ: بریلوی دیوبندی جھگڑا ہند و پاک کا ہے! ایک بات یاد رکھیں کہ عرب نہ کوئی پکا دیوبندی ہوتا ہے نہ بریلوی، البتہ اگر آپ مولود شریف کی مجلس ان کے ہاں ہونے کی وجہ سے انہیں بریلوی کہتے ہیں یا جس نے آپ کو بتایا ہے تو یہ بڑی مشکل پڑجائے گی کیونکہ مولود تو عربوں میں عام ہے۔ شیخ عبدالفتاح ابوغدہ بھی ان میں شریک ہوتے ہیں، شیخ محمد علی صابونی جن کی کتابیں مختصر تفسیر وغیرہ دارالعلوم دیوبند میں پڑھائی جاتی ہیں، ان کے ہاں بھی مولود ہوتا ہے، اور شیخ زینی دحلان و شیخ سید برزنجی جن کی اسانیدِ حدیث ہمارے اکابر رحمہم اللہ نے لی ہیں، ان کے ہاں بھی ہوتا تھا اور خود سیدالطائفہ مکہ مکرمہ میں شرکت فرماتے تھے اور خود حضرت امام ربانی گنگوہی قدس سرہٗ کو مکہ مکرمہ کے مولود پر اِشکال نہیں تھا، ہندوستان میں وہاں کے حالات کی وجہ سے منع فرمایا تھا ۔۔۔۔۔ الخ۔ اس طرح کی بات کی اور یہ صاف کہہ دیا کہ دیکھئے! بہرحال سید محمد علوی مالکی میری معلوماتِ یقینیہ کے مطابق بریلوی تو قطعاً نہیں ہیں، البتہ کٹر دیوبندی بھی نہیں ہیں، البتہ انہیں ہمارے حضراتِ اکابر و اصاغر سے خوب تعلق ہے، اگر شرحِ صدر سے جانا چاہیں تو بسم اللہ، ورنہ میں فون کرکے معذرت کرلیتا ہوں کہ یہ حضرات نہیں آرہے۔ انہوں نے آخر طے کیا کہ نہیں، چلتے ہیں، چلنے میں کیا حرج ہے؟ لہٰذا گئے، وہاں پہنچے مغرب کو تقریباً آدھا گھنٹہ ہوچکا تھا، سید محمد علوی صاحب ہمارے دیر سے پہنچنے کی وجہ سے طلبہ کو درس دے رہے تھے، غالباً حدیث شریف ہی کا درس تھا، ہمیں دیکھتے ہی انہوں نے اعلان کردیا کہ سبق ختم، چونکہ مہمان حضرات آگئے ہیں، طلبہ نے جو کہ تیس چالیس غالباً ہوں گے، تپائیاں اُٹھانی شروع کردیں۔

اور ہم لوگوں نے آگے بڑھ کر باری باری مصافحہ شروع کیا، سب سے پہلے سید عبدالقادر آزاد صاحب کا تعارف ہوا، پھر مولانا محمد حنیف جالندھری کا، جس پر خیرالمدارس کا بھی تذکرہ آیا اور ساتھ حضرت مولانا خیر محمد صاحب اور حضرت اقدس تھانوی کا بھی، پھر اخیر میں مولانا ضیاء القاسمی صاحب نے مصافحہ کیا، جب اس سیاہ کار نے ان کا نام بتایا تو سید صاحب نے فرمایا: ’’اَلْقَاسِمِيُّ نِسْبَةٌ إِلٰى مَنْ؟‘‘ تو عرض کیا گیا کہ: ’’إِلٰى قَاسِمِ الْعُلُوْمِ مَدْرَسَةٍ فِيْ مُلْتَانَ‘‘ تو سید صاحب نے فرمایا: ’’وَالْمَدْرَسَةُ نِسْبَةٌ إِلَى الشَّيْخِ مُحَمَّدٍ قَاسِمٍ النَّانُوْتَوِيِّ، أَلَيْسَ هٰكَذَا؟‘‘ تو ہم نے کہا کہ: ’’نعم!‘‘ تو جھٹ سید صاحب نے اپنے ایک شاگرد کو جو تپائی اُٹھا رہا تھا پوچھا: ’’تَذْكُرُ الشَّيْخُ مُحَمَّدٌ قَاسِمٌ النَّانُوْتَوِيُّ، إِنْ ذَكَرْنَاهُ الْيَوْمَ فِي الدَّرْسِ؟‘‘ تو طالب علم نے تپائی دُوسرے کو پکڑاکر کہا کہ: ’’نَعَمْ۔۔۔۔‘‘ اور پھر تفصیل بتائی کہ فلاں مسئلہ چھڑا تھا تو آپ نے حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی رائے بتائی تھی اور اس پر اعتراض اور پھر اس اعتراض کا جواب۔

یہ ساری بات ہو رہی تھی اور سید صاحب نے مولانا قاسمی کا ہاتھ محبت سے پکڑا ہوا تھا چھوڑا نہیں، سید صاحب نے پوچھا طالب علم سے کہ اور کن علماء و مشائخِ ہند کا ہم نے اس بحث میں تذکرہ کیا؟ تو انہوں نے حضرت انور شاہ صاحبؒ اور حضرت بنوریؒ کا بھی نام لیا تو اس پر پھڑک کر مولانا ضیاء القاسمی نے اپنے انداز میں ہاتھ لہراکر فرمایا: ’’واہ قاسم نانوتویؒ! تیرے ڈنکے مکے تے مدینے!‘‘

سید صاحب نے قاسمی صاحب کا جوش دیکھا تو مجھ سے پوچھا کہ کیا کہا انہوں نے؟ تو میں نے ٹالا کہ ’’انہوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے!‘‘ تو سید صاحب اَڑ گئے کہ انہیں ان کے جوش والے جملے کا لفظی ترجمہ کرکے بتائیں، تو اس سیاہ کار نے اس کا حرفاً حرفاً ترجمہ کردیا، تو اس پر سید صاحب سنجیدہ ہوگئے اور جوش میں فرمایا کہ: ’’نَعَمْ! كَيْفَ لَا، هُوَ الْإِمَامُ الْكَبِيْرُ الْمُجَاهِدُ الْعَظِيْمُ الَّذِيْ جَمَعَ بَيْنَ الْعِلْمِ وَالْعَمَلِ وَالْجِهَادِ وَالرَّدِّ عَلَى النَّصَارَى وَالْهِنْدُوْسِ ۔۔۔ الخ۔‘‘ بہت کچھ تقریباً دوچار منٹ حضرت نانوتوی قدس سرہٗ کی ہی سیرتِ مبارکہ، ان کے کارنامے، ان کے علوم و معارف کو ہی بیان کرتے رہے، جس کا ردّعمل یہ ہوا کہ جب مجلس برخاست ہوئی تو مولانا ضیاء القاسمی مصر ہوئے کہ سید صاحب انہیں کوئی ہدیہ دیں اور انہوں نے اپنے سبز ردا جو کندھوں پر تھا (غالباً) وہی ان کو پیش فرمادیا۔

بہرحال یہ ایک واقعہ ہے جس کے گواہ سب کے سب زندہ سلامت ہیں، ان سے تحقیق کی جاسکتی ہے۔

البتہ یہ بات ضرور ہے کہ چونکہ اس وقت سعودی عرب و خلیجی ممالک میں جو ایک فکری و عقائدی معرکہ برپا ہے، اس میں اگر سلفی حضرات کے بڑے شیخ بن باز ہیں تو اہلِ حق و جمہور اہلِ سنت کے بڑے سید محمد علوی مالکی ہی لوگوں کی نظروں میں شمار ہوتے ہیں، اس وجہ سے بریلوی حضرات کی یہ پوری کوشش ہے کہ وہ سید محمد علوی مالکی کو بریلوی ثابت کردیں، اس لئے بعض جگہ غلط بیانیاں بھی ہو رہی ہیں اور کہیں مبالغہ بھی (جیسے کہ اخیر میں یہ سیاہ کار ثابت کرے گا) لیکن حقیقت حال یہ ہے کہ خود سید محمد علوی مالکی صاحب اپنے آپ کو کس پلڑے میں ڈالتے ہیں؟ اس سیاہ کار کی یقینی و حتمی معلومات کے مطابق وہ اکابرِ دیوبند کی طرف مائل ہیں، خود اسی تقاریظ کے مسئلے میں دیکھئے کہ انہوں نے صرف علمائے دیوبند ہی کی تقاریظ لی ہیں، یہ نہ کہا جائے کہ بریلوی علماء کی تقاریظ شاید اس لئے نہ لی ہوں کہ ’’یہ نجدی سلفی علماء کے مخالف مشہور ہیں، تو اس سے فائدہ نہ اُٹھاسکتے‘‘ چونکہ انہوں نے عرب کے کئی ملکوں کے ایسے علماء کی تقاریظ لی ہیں جو کہ بریلویوں ہی کی طرح ان حضرات نجدی سلفی علماء کے کٹر مخالف سمجھے جاتے ہیں۔

بلکہ اسی سیاہ کار کی قطعی رائے ہے کہ انہوں نے قصداً و عمداً ایسا کیا ہے، تاکہ عملاً وہ اکابر علمائے اہل سنت وجماعت (دیوبند) ہی کے پلڑے میں پڑیں، اس کی تائید میں عرض کروں کہ حضرت مولانا عزیزالرحمن صاحب کی تقریظ میں جو یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں:

’’فَقَدْ رَأَيْنَا دَائِمًا شَيْخَنَا الْإِمَامَ الْقُطْبَ مُحَمَّدَ زَكَرِيَّا الْكَانْدَهْلَوِيَّ الْمَدَنِيَّ قَدَّسَ اللهُ سِرَّهُ يُحِبُّهُ حُبًّا شَدِيْدًا وَيَعْتَبِرُهُ كَأَحَدِ أَبْنَائِهِ، وَهُوَ أَيْضًا مِنْ أَعْظَمِ الْمُحِبِّيْنَ لِشَيْخِنَا فِيْ حَيَاتِهِ وَبَعْدَ مَمَاتِهِ، كَمَا أَنَّهُ عَظِيْمُ الْمَحَبَّةِ وَالتَّقْدِيْرِ لِمَشَايِخِهِ وَمَشَايِخِنَا الَّذِيْنَ اسْتَفَادَ مِنْ عُلُوْمِهِمْ وَفَاضَتْ عَلَيْهِ بَرَكَاتُهُمْ كَإِمَامِ الْعَصْرِ الْمُحَدِّثِ الْجَلِيْلِ السَّيِّدِ مُحَمَّدٍ يُوْسُفَ الْبَنُوْرِيَّ الْحُسَيْنِيَّ، وَالْإِمَامِ الْمُحَدِّثِ الْكَبِيْرِ السَّيِّدِ فَخْرِ الدِّيْنِ الْمُرَادَآبَادِيِّ شَيْخِ الْحَدِيْثِ بِدَارِ الْعُلُوْمِ دِيُوْبَنْدَ، وَالْإِمَامِ الْمُفْتِيْ مُحَمَّدٍ شَفِيْعٍ الدِّيُوْبَنْدِيِّ الْمُفْتِيِ الْأَعْظَمِ لِبَاكِسْتَانَ، وَالْإِمَامِ الدَّاعِيَةِ الْمُحَدِّثِ الشَّيْخِ مُحَمَّدٍ يُوْسُفَ الْكَانْدَهْلَوِيِّ وَأَمْثَالِهِمْ قَدَّسَ اللهُ سِرَّهُمْ، وَالْأَرْوَاحُ جُنُوْدٌ مُجَنَّدَةٌ مَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ۔‘‘

تو جب یہ جملے سید صاحب نے تقریظ میں پڑھے تو ہمارے سامنے تقریظ والے ورق کو محبت و عقیدت سے اپنے سر پر رکھا اور یہ الفاظ فرمائے: ’’نَعَمْ! عَلَى الرَّأْسِ وَالْعَيْنِ!‘‘ تو بتائیے ایسے کوئی بریلوی کرسکتا ہے؟ ہاں! یہ ضرور ہے کہ چونکہ یہ دیوبندی بریلوی جھگڑا ہند و پاک کا ہے، انہیں ان زیادتیوں کی خبر نہیں جو بریلوی حضرات نے اکابرِ دیوبند کے ساتھ کی ہیں، اس لئے علمائے عرب کے دل میں بریلویوں کے بارے میں وہ حساسیت (الرجک) بھی نہیں جو عام طور پر دیوبندیوں میں ہوتی ہے، اور یہ ایک طبعی امر ہے، اس لئے جب کوئی بریلوی عالم ان کے ہاں جاتا ہے تو وہ حضرات نقاء قلب سے اس سے ملتے ہیں اور اگر وہ عقیدت و محبت کا اظہار بھی کرے اور ان کے فکری و عقائدی مخالفین کے ساتھ اپنی بدعقیدگی اور دشمنی کا کھل کر اظہار بھی کرے تو وہ ان سے کھل جاتے ہیں۔

ہر علاقے کے کچھ معروضی حالات ہوتے ہیں، جن کے اثرات لازمی ہوتے ہیں، عرب علاقوں خصوصاً سعودیہ اور خلیجی علاقوں میں و مصر و شام میں تین مسائل میں اختلافات چوٹی پر ہیں:

۱:۔ سلفیت اور اس کے مقابل اشعریت و ماتریدیت۔

۲:۔ تقلید و عدمِ تقلید۔

۳:۔ تصوف کی حقانیت اور انکارِ تصوف۔

خود ہمارا حال یہ ہے کہ جب کوئی شخص اس سیاہ کار کے پاس مصر و شام و عرب کا آتا ہے تو حکمتِ عملی سے ان تینوں چیزوں کے بارے میں تحقیق کرتا ہوں کہ وہ ہمارا موافق ہے یا مخالف؟ تو جب کوئی ان تینوں اُمور میں ہمارے اکابر کے موافق ہوتا ہے تو اگر ایسا شخص اجازتِ حدیث وغیرہ مانگتا ہے تو دے دیتا ہوں اور ایسوں سے بے تکلفی ہوجاتی ہے۔ اب کوئی مصر و شام وغیرہ ان ملکوں میں ان کا کوئی مقامی جھگڑا یا اختلافات ہوں اور ان میں سے کسی میں کوئی گمراہی ہونی بھی ممکن ہے تو یہ سیاہ کار معذور ہوگا کہ اس سے لاعلم تھا، اسی طرح وہاں کے علمائے حرمین شریفین کا عموماً حال ہے، گو اب بہت سی باتیں کھل کر سامنے آرہی ہیں۔ سید محمد علوی مالکی کے بارے میں یہ سیاہ کار اپنی یقینی معلومات کے مطابق عرض کرتا ہے کہ وہ اپنے اکابر کے بہت ہی قریب اور انتہائی محب و چاہنے والے اور ان کے علم و بزرگی کے نہایت اعلیٰ درجے کے مداح، اور ان کے دین و معرفت میں قربِ خداوندی میں اعلیٰ مراتب پر فائز ہونے کے مقر و معترف ہیں۔ دیوبندی بریلوی اختلافات کا کچھ ان کو علم ہے اور دل سے چاہتے ہیں کہ یہ اختلافات ختم ہونے چاہئیں اور ان حضرات (بریلویوں) کی طرف سے اکابرِ دیوبند کی تکفیر کا انہیں علم ہے، جس کی وجہ سے اس امر کی شدید اور پُرزور مذمت کرتے ہیں اور اس پر شدید ترین نکیر کرتے ہیں، البتہ یہ چاہتے ہیں دل سے کہ اس وقت جبکہ عالمی کفر، اسلام و مسلمانوں کے خلاف متحد ہوچکا ہے تو دیوبندی بریلوی اختلافات کو بھی ختم ہونا چاہئے (یہ ان کی خواہش ہے جس کا وہ ہمیشہ اس سیاہ کار سے اظہار کرتے رہتے ہیں)، گو اس کتاب مفاہیم میں یہ جذبہ کار فرما نہیں تھا، بلکہ یہ کتاب تو سلفی حضرات کی طرف سے جب تکفیربازی کی گئی تو اس کے ردّ میں یہ لکھی گئی کہ تکفیر کرنی غلط ہے۔

اب یہ سیاہ کار حضرت قاضی مظہر حسین صاحب مدظلہٗ کے دلائل کی طرف آتا ہے، جس سے انہوں نے سید محمد علوی مالکی کا بریلوی بلکہ ’’کٹر بریلوی‘‘ ہونا مستنبط فرمایا ہے۔ یہاں سفر میں یہ سیاہ کار اصل رسالہ ’’حق چار یار‘‘ کی طرف تو رجوع نہ کرسکا، البتہ آنجناب نے جو ’’بینات‘‘ میں ان کا پورا مضمون اس امر سے متعلق نقل فرمایا ہے، اسی پر اکتفا کیا گیا ہے، اور اسی لئے ’’بینات‘‘ ہی کے صفحات و سطور کے حوالے ہوں گے۔

دعویٰ نمبر ۱:۔ بینات ص:۴۸ سطر:۱۹ پر ہے کہ: ’’آپ خلیفہ اعلیٰ حضرت خطیبِ مدینہ مولانا ضیاء الدین قادری رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ ہیں ۔۔۔۔۔ الخ۔‘‘

یہ تو دعویٰ ہے جناب مفتی محمد خان صاحب قادری کا، ماہنامہ ’’جہانِ رضا‘‘ میں، مگر اس دعویٰ کی دلیل جو چند سطروں کے بعد دی گئی ہے، اسے بھی ملاحظہ فرمائیے ’’بینات‘‘ ص:۴۸ سطر:۲۴ جو بلفظہٖ یہ ہے:

’’خود مولانا مالکی ایک مقام پر لکھتے ہیں کہ جن لوگوں سے میں نے سندِ حدیث حاصل کی ہے،ا ن میں سے ایک معمر ترین بزرگ جن کی عمر سو سال سے زائد ہے مولانا ضیاء الدین قادری ہیں ۔۔۔۔۔ الخ۔‘‘

تو قصہ اجازتِ طریق و خلافت کا نہیں ہے، بلکہ اجازتِ حدیث کا ہے، اور اس سے کوئی کسی کا خلیفہ نہیں بنتا، بلکہ اجازتِ حدیث کے لئے معتقد ہونا اور ہم مذہب اور ہم عقیدہ ہونا کچھ بھی ضروری نہیں ہے، جیسا کہ اہلِ فن سے مخفی نہیں، لہٰذا یہ دعویٰ تو باطل ہوگیا کہ سید محمد علوی مالکی صاحب مولانا ضیاء الدین قادری مدنی کے خلیفہ ہیں۔

دوسرا دعویٰ:۔ ملاحظہ ہو بینات ص:۵۰ سطر:۲۴:

’’بیعت غالباً اپنے والد بزرگوار سے ہیں، حضور مفتی اعظم علامہ مولانا مصطفی رضا نوری بریلوی قدس سرہ تیسری بار جب حج و زیارت کے لئے تشریف لے گئے تو وہاں بہت سے علماء و مشائخ کو خلافت و اجازت سے نوازا، وہیں علامہ سید محمد علوی مالکی کو بھی تمام سلاسل کی اجازت عطا فرمائی۔‘‘

اس سیاہ کار کی رائے یہاں بھی یہی ہے کہ یا تو یہ بھی اجازتِ حدیث ہے، جس کو خلافت و طریقت پر محمول کیا گیا ہے، پھر یہ واقعہ کس زمانہ کا ہے؟ اس کی بھی کچھ خبر نہیں، اور کیا نوعیت ہوئی؟ بہرحال دعوے کی کوئی دلیل نہیں ذکر کی گئی۔

بہرحال تیسرے دعوے و دلیل کو ملاحظہ فرمائیے اور بریلویوں کی غفلت اور ہمارے حضرت قاضی صاحب مدظلہٗ کی سادگی بھی ملاحظہ ہو:

تیسرا دعویٰ:۔ بینات ص:۵۱ سطر:۸ اور اسی طرح ص:۵۳ سطر:۸ پر اور ص:۴۹ سطر:۱۵ پر یہ ہے کہ:

’’مولانا غلام مصطفی مدرس شرف العلوم ڈھاکہ حج و زیارت کے لئے تشریف لے گئے تو وہاں حضرت مولانا مفتی سعداللہ مکی سے ملاقات کی، مفتی سعداللہ مکی کے ایما پر ان کا وفد علامہ سید محمد علوی مالکی سے ملاقات کے لئے گیا، دوران ملاقات مولانا غلام مصطفی نے کہا کہ: ہم اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضاخان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردوں کے شاگرد ہیں، اتنا سنتے ہی علامہ مالکی سروقد اُٹھ کھڑے ہوئے اور فرداً فرداً سبھی لوگوں سے مصافحہ و معانقہ فرمایا اور بے حد تعظیم کی، شربت پلایا گیا، قہوہ پیش کیا گیا، انہوں نے پوری توجہ مولانا غلام مصطفی اور ان کے ہمراہیوں کی جانب فرمادی اور ایک ٹھنڈی آہ بھرکر فرمایا:

سید علامہ احمد رضا خان صاحب فاضل بریلوی کو ہم ان کی تصنیفات اور تعلیقات کے ذریعہ جانتے ہیں، وہ اہل سنت کے علامہ تھے، ان سے محبت سنی ہونے کی علامت ہے اور ان سے بغض رکھنا اہلِ بدعت کی نشانی ہے۔‘‘

اسی طرح ص:۵۱ اور ص:۴۹ پر ہے، مگر دیکھئے ص:۵۲ پر بعینہٖ یہی قصہ جب ڈاکٹر محمد سعود احمد صاحب ’’الدولۃ المکیہ‘‘ کے افتتاحیہ میں نقل فرماتے ہیں تو ذرا تحقیقی انداز سے اس کا سن بھی درج فرماتے ہیں، تو لکھتے ہیں بلفظہٖ بینات ص:۵۲ سطر:۶ ملاحظہ ہو:

’’آئیے مولانا غلام مصطفی مدرسہ عربیہ اشرف العلوم راجشاہی بنگلہ دیش کی زبانی سنئے، ۱۳۷۲ھ میں حج بیت اللہ شریف کے موقع پر چند رفیقوں کے ساتھ مولانا سید محمد علوی مالکی (مکہ معظمہ) کے در دولت پر حاضر ہوئے ۔۔۔ الخ۔‘‘

تو اس سے یہ ثابت ہوا کہ یہ حاضری ۱۳۷۲ھ میں ہوئی، یہاں یہ شبہ نہ کیا جائے کہ ممکن ہے کہ سہو ہوگیا ہو اور یہ حاضری ۱۹۷۲ عیسوی سن میں ہوئی ہو، اس لئے کہ جس سفرنامہ سے یہ حکایت نقل کی جارہی ہے وہ ۱۹۰۶ء میں چھپا ہے جیسا کہ اسی بینات ص:۵۲ سطر:۱۱ پر مذکور ہے۔

اب آئیے دیکھئے ۱۳۷۲ھ میں سید محمد علوی مالکی کی عمر شریف مشکل سے آٹھ سال کی ہوگی، اور ظاہر ہے کہ اس عمر میں مذکورہ وفد ان سے ملنے نہیں آیا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ وفد ان کے والد بزرگوار سید علوی بن عباس مالکی رحمۃ اللہ علیہ سے ملنے آیا ہوگا اور انہوں نے حرمین شریفین کے عام علماء و اشراف کے طریقہ پر جیسے ہر مہمان خصوصاً اگر علماء ہوں تو ان کا بھی اکرام شربت و قہوہ سے کیا، البتہ جو عبارت نقل کی گئی وہ ’’اگر ثابت ہوجائے‘‘ اور اس میں بھی مبالغہ نہ ہو تو اسی پر محمول کی جائے گی کہ اس سے مراد انہی مذکورہ تین مسائل ’’سلفیت، تقلید، تصوف‘‘ کی بنا پر، بربنائے مخاصمت سلفیوں غالیوں کے یہ الفاظ استعمال کئے گئے ہوں نہ کہ بمقابل اکابرِ دیوبند، چونکہ ۱۳۷۲ھ یعنی آج سے تقریباً چوالیس سال پہلے علمائے نجد وہابیین سلفیین اور علمائے حجاز اہل سنت و جماعت کا آپس میں اختلاف بہت زوروں پر نہایت گرم تھا۔ دیکھئے ’’الشہاب الثاقب‘‘ میں حضرت شیخ الاسلام مدنی قدس سرہٗ کے قلمِ مبارک سے اس کا کچھ نمونہ مل جائے گا۔

بہرحال یہ ملاقات جو کہ سید محمد علوی کی طرف منسوب کی گئی اور حضرت قاضی مظہر حسین صاحب مدظلہ بھی اس کے دھوکے میں آگئے اور اس کی بنا پر سید محمد علوی پر کٹر بریلویت کا الزام لگاتے ہیں اور اپنی معلومات کے مطابق ’’حق واضح‘‘ قرار دیتے ہیں، یہ صاف صاف ثابت ہوگیا کہ نہ ملاقات ہمارے ان سید محمد علوی سے ہوئی اور نہ ہی وہ عبارت انہوں نے کہی۔

اس لئے اس سیاہ کار کا یہ پختہ خیال ہے کہ جیسے پہلے دعویٰ میں خلافت مولانا ضیاء الدین سے قطعاً غلط ہے، وہ صرف اجازتِ حدیث ہے، اور یہ تیسرا دعویٰ بھی قطعاً غلط ہے، اسی طرح دُوسرا دعویٰ بھی یا تو اجازتِ حدیث پر ہی محمول ہے اور یا وہ ان کے والد صاحب کا قصہ ہے، ان کا نہیں، اور ہے بھی اس زمانے کا جب سارے اُمور مخفی تھے اور وہ تین اُمور جو اُوپر اس سیاہ کار نے ذکر کئے ہیں کہ انہی کو اصل سب سمجھتے ہیں، چونکہ سید علوی کو پتہ چلا ہوگا کہ یہ لوگ (بریلوی) ۱:۔غالی سلفی نہیں، اشعری یا ماتریدی ہیں۔ ۲:۔حنفی کٹر ہیں۔ ۳:۔تصوف کو مانتے ہیں بلکہ قادری ہیں، تو انہوں نے ان کو بتایا کہ ہم ان کو اہل سنت سمجھتے ہیں، یقین کرتے ہیں اور یہ سب کچھ بمقابل سلفی منکرینِ تصوف و تقلید کے، نہ کہ بمقابلہ اکابرِ دیوبند کے، چونکہ سید علوی مالکی مرحوم کی زندگی بھی ساری ہمارے سامنے ہے کہ ہمارے اکابر کے ہمیشہ مداح و معترف و اکرام و تعظیم میں ہمیشہ مبالغہ کرنے والے رہے، خود اپنے بیٹے کو دارالعلوم دیوبند بھیجا، تو کیسے یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ یہ عبارت انہوں نے مقابلہ علمائے دیوبند کہی ہوگی؟

یہ کچھ معلومات ہیں جو عرض کردی گئی ہیں، آںمخدوم سے گزارش ہے کہ اسے خالی الذہن ہوکر ماحول سے متأثر ہوئے بغیر پڑھیں، اور ارشادِ ربانی:

ﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِن جَآءَكُمۡ فَاسِقُۢ بِنَبَإٖ فَتَبَيَّنُوٓاْ أَن تُصِيبُواْ قَوۡمَۢا بِجَهَٰلَةٖ فَتُصۡبِحُواْ عَلَىٰ مَا فَعَلۡتُمۡ نَٰدِمِينَ ٦ ﵞ (الحجرات ٦)

کو ملحوظ رکھا جائے، مزید کسی استیضاح کی ضرورت سمجھیں تو یہ سیاہ کار حاضر ہے، البتہ جو کچھ غلط بنا پر لکھا گیا، گزارش ہے کہ احسن انداز سے اس کا تدارک ضرور فرمالیا جائے، یہی آںمخدوم سے اُمید ہے۔

وَزَادَكُمُ اللهُ تَوْفِيْقًا لِمَحَابِّهِ وَقُرْبًا لَدَيْهِ بِفَضْلِهِ وَكَرَمِهِ، آمِيْن

وَالسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ

عبدالحفیظ، لندن

۱۹؍جولائی ۱۹۹۵ء۔‘‘

۲:۔‌فضیلۃ‌الشیخ‌ملک‌عبدالحفیظ‌مکی‌کا‌خط: - شہید اسلام