سنت وبدعت
راقمالحروفکاجواب
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلّہِ وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی!
بخدمت عالی قدر مخدوم و معظم جناب الشیخ المحترم مولانا عبدالحفیظ مکی، حفظہ اللہ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کرامت نامہ بسلسلہ ’’اِصلاحِ مفاہیم‘‘ جناب محترم حافظ صغیر احمد زیدلطفہ‘ کے ذریعہ موصول ہوا تھا، اور لندن سے واپسی پر اس کی نقل مولوی محمد رفیق میمن کے ہاتھ بھی موصول ہوئی، جواب لکھنے بیٹھا تو ہجومِ مشاغل نے آدبوچا، بقول صائب:
دیدن یک روئے آتشناک را صد دل کم است
من بیک دل عاشق صد آتشیں رخسارہ ام
بہرحال مختصراً عرض کرتا ہوں:
۱،۲:۔ آنجناب نے پہلے اور دُوسرے نمبر میں حصولِ تقریظات کی تفصیل (بحوالہ خط بنام مولانا عاشق الٰہی مدظلہٗ) درج فرمائی ہے، اسے پڑھ کر اندازہ ہوا کہ ان تقریظات کا مہیا ہونا دراصل آنجناب کی جدوجہد اور وجاہت و شہامت کی کرامت ہے:
کار زلف تست مشک افشانی اما عاشقاں
مصلحت را تہمتے بر آ ہوئے چیں بستہ اند
قارئین کی سہولت کے لئے مناسب ہوگا کہ آنجناب کے مکتوب بنام مولانا عاشق الٰہی مدظلہٗ کا وہ حصہ جس میں آپ نے حصولِ تقریظات کی تفصیل تحریر فرمائی ہے، یہاں نقل کردیا جائے:
’’۔۔۔۔۔۔ جس زمانے میں یہ سیاہ کار مدینہ منورہ میں مقیم تھا تو غالباً ربیع الاول یا ربیع الآخر ۱۴۰۸ھ کے کسی دن سید محمد علوی مالکی کا لندن سے فون آیا کہ میں کچھ دن کے لئے لندن آیا ہوا ہوں، حضرت مولانا یوسف متالا صاحب کے ہاں دو روز دارالعلوم بری گزار کر آیا ہوں، انہوں نے جزاہ اللہ خیراً میری بہت خاطر مدارات کی، بڑا جلسہ بھی کرایا، جس میں ہزاروں کا مجمع ہوا، وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔۔۔ پھر یہ بھی بتایا کہ میں نے اپنی کتاب ’’مفاہیم یجب ان تصحح‘‘ کا ایک نسخہ بھی انہیں ہدیہ دیا جسے پڑھ کر وہ بہت خوش ہوئے اور خصوصاً جو عالم اسلام کے مختلف علمائے کرام نے تقاریظ لکھی ہیں، ان کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے، تو میں نے کہا کہ: گویا یہ اجماع ہے علمائے اسلام کا نجدیوں کے غلط عقائد و نظریات کے خلاف۔ جس پر حضرت مولانا یوسف متالا نے ہنس کر کہا: مگر اس میں ایک کمی ہے! میں نے پوچھا: وہ کیا؟ تو انہوں نے کہا کہ: اس میں علمائے اہل السنت والجماعہ دیوبندی حضرات کی تقاریظ نہیں اور ان کے بغیر اجماع نہیں ہوسکتا، چونکہ ایک عالم ان کے علم کا لوہا مانتا ہے۔ جس پر میں نے کہا کہ: یہ آپ نے سچ کہا اور میں اب فوراً اس کی کوشش کروں گا۔ کچھ اور تفصیل بھی اس ذیل کی بتائی اور پھر یہ کہا کہ: میں ابھی تو فوراً انڈونیشیا، سنگاپور وغیرہ جارہا ہوں، غالباً ایک ڈیڑھ ماہ بعد فلاں فلاں تاریخوں میں چار پانچ دن میرے پاس ہیں، اگر تم بھی ان تاریخوں میں فارغ ہو تو میں سنگاپور سے کراچی آجاؤں گا اور کراچی سے لاہور اکٹھے چلیں گے، چونکہ مجھے تقاریظ میں زیادہ اہمیت ایک تو حضرت مولانا محمد مالک کاندھلوی کی ان کے علم کی وجہ سے، اور دُوسرے مولانا عبدالقادر آزاد کی ان کی سیاسی وجاہت کی بنا پر۔ میں (عبدالحفیظ) نے ان سے وعدہ کرلیا کہ آپ احتیاطاً ایک ہفتہ اس تاریخ سے قبل مجھے فون کرلیں تاکہ بات پکی ہونے پر ان شاء اللہ پاکستان پہنچ جاؤں گا۔
لہٰذا ایک ہفتہ قبل ان کا فون آگیا اور متعین تاریخ سے ایک روز قبل یہ سیاہ کار کراچی پہنچ گیا۔ معہد الخلیل میں حضرت مولانا یحییٰ مدنی مدظلہ کے ہاں مہمان رہے، وہاں سے میں نے سید محمد علوی مالکی سے کہا کہ یہاں کراچی میں ہمارے تین بڑے علمی مراکز ہیں (دارالعلوم، فاروقیہ، بنوری ٹاؤن)، ان کی بھی اگر تقاریظ لے لیں تو بہتر ہوگا، تو انہوں نے اس کو مناسب جانا، لہٰذا رابطہ کیا تو پتہ چلا کہ حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب تو وہاں نہیں ہیں، البتہ دونوں جگہ وقت طے کرکے ہم دونوں مع حضرت مولانا یحییٰ مدنی صاحب کے گئے، دونوں جگہ کے حضرات نے نہایت محبت و اکرام کا معاملہ فرمایا اور دونوں نے یہ مناسب سمجھا کہ کتاب ہمیں دے دی جائے، جب آپ پنجاب سے واپس آویں گے تو ہم اچھی طرح مطالعہ کرکے تقریظ لکھ دیں گے۔ سید صاحب اس پر راضی ہوگئے اور ہم لاہور روانہ ہوگئے، وہاں ہم رات کو پہنچے، حضرت حافظ صغیر احمد صاحب وغیرہ حضرات لینے آئے ہوئے تھے، مطار لاہور پر حضرت حافظ صاحب سے پتہ چلا کہ حضرت مولانا محمد مالک کاندھلوی تو اگلے دن کسی سفر پر جارہے ہیں، لہٰذا مطار لاہور سے سیدھا حضرت مولانا کاندھلوی کے گھر ہی گئے، وہ منتظر تھے کہ انہیں خبر کردی گئی تھی، مل کر بہت خوش ہوئے، اور جب سید صاحب نے مقصود بتایا تو انہوں نے بھی یہی فرمایا کہ ابھی تو مجھے کتاب دے دیں رات کو اِن شاء اللہ مطالعہ کرلوں گا اور صبح آپ میرے ہاں ناشتہ کریں، اسی وقت تقریظ بھی دے دوں گا۔ صبح ہم لوگ ناشتہ کے لئے پہنچے تو حضرت مولانا محمد مالک کاندھلوی نے بہت ہی زیادہ اس کتاب پر خوشی کا اظہار فرمایا، وہاں کے بعض نجدیوں کے غلو کے کچھ لطیفے بھی سنائے اور کتاب کو بہت سراہا، پھر اپنے دست مبارک سے لکھی ہوئی تقریظ مرحمت فرمائی، جس کے یہ الفاظ ملاحظہ فرمائیں:
’’وَفِي الْحَقِيْقَةِ إِنَّ هٰذَا الْكِتَابَ يَحْتَوِيْ عَلٰى مَوْضُوْعٍ مُبْتَكَرٍ وَمَضَامِيْنَ عَالِيَةً تَحْتَاجُ إِلَيْهِ الْعُلَمَاءُ وَالطُّلَّابُ، وَفِيْهِ مِنْ حُسْنِ ذَوْقِ الْمُؤَلِّفِ وَعُلُوِّ فِكْرَتِهِ مَا تُحَلُّ بِهِ الْمُغْلَقَاتُ فِيْ مَوْضُوْعَاتٍ كَثِيْرَةٍ فِيْ أُصُوْلِ الدِّيْنِ، وَلَا شَكَّ أَنَّ هٰذَا الْكِتَابَ كَشَفَ الْحِجَابَ عَنْ نُكَاتٍ مَسْتُوْرَةٍ وَبَعِيْدَةٍ عَنْ أَنْظَارِ الْعُلَمَاءِ، فَجَزَاهُ اللهُ أَحْسَنَ الْجَزَاءِ وَأَسْبَغَ عَلَيْهِ مِنْ نِعَمِهِ الظَّاهِرَةِ وَبَاطِنَةٍ۔ نَسْأَلُ اللهَ تَعَالٰى أَنْ يُمَتِّعَ الْمُسْلِمِيْنَ وَخَاصَّةً أَهْلَ الْعِلْمِ بِهِ وَيُعْلِيَهُ دَائِمًا فِيْ مَشَارِقِ الْأَرْضِ وَمَغَارِبِهَا۔‘‘
یہ الفاظ اپنے قلمِ مبارک سے شیخ الحدیث علامۂ جلیل حضرت مولانا محمد مالک کاندھلوی قدس سرہٗ نے لکھے ہیں، اور خوشی و مسرت کے اس بارے میں جو آثار ان کے چہرے مبارک پر تھے وہ بیان سے باہر ہیں، اور بہت ہی محبت و شفقت اور اکرام و اعزاز کا معاملہ سید محمد علوی صاحب سے کیا جس سے سید صاحب بہت محجوب بھی ہوئے، پھر حضرت مولانا عبیداللہ اور حضرت مولانا عبدالرحمن اشرفی کے ہاں دار الاہتمام میں گئے، انہوں نے بھی بہت زیادہ اعزاز و اکرام فرمایا، جامعہ اشرفیہ دکھایا اور دونوں حضرات نے حضرت کاندھلوی کی تقریظ کی تائید و تصدیق کی۔ پھر یہاں سے مولانا سید عبدالقادر آزاد صاحب سے وعدہ تھا، وہاں گئے، انہوں نے جب حضرت کاندھلوی کی تقریظ دیکھی تو بہت خوش ہوئے، اس وقت مولانا آزاد صاحب نے اپنے کچھ رفقاء و علماء کو بھی مدعو کر رکھا تھا، جن میں حضرت شاہ نفیس صاحب، مولانا عبدالغنی صاحب، مولانا علی اصغر صاحب اور مولانا عبدالواحد صاحب بھی تھے، مولانا آزاد صاحب نے سید صاحب کو پیشکش کی کہ جن الفاظ میں آپ چاہیں ہم تقریظ لکھنے کے لئے تیار ہیں۔ جب ہمارے علمی پیشوا حضرت مولانا محمد مالک کاندھلوی نے پوری رات مطالعہ کے بعد اس کتاب پر یہ تقریظ لکھ دی ہے تو پھر جو چاہیں اس کے بارے میں ہم سے لکھوالیں، مگر سید صاحب نے کہا کہ: نہیں! جس طرح آپ لوگ مناسب سمجھیں لکھ دیں، پھر سب نے مشورہ سے ایک مختصر جامع مضمون تیار کیا، جسے اسی وقت ہاتھوں ہاتھ حضرت نفیس شاہ صاحب مدظلہ العالی نے تحریر فرمادیا، جس کے یہ الفاظ ملاحظہ ہوں:
’’بِأَنّـنِي أَصَالَةً عَنْ نَفْسِي وَنِيَابَةً عَنْ مَجْلِسِ عُلَمَاءِ بَاكِسْتَانَ وَأَعْضَائِهِ الْمُنْتَشِرِيْنَ بِفَضْلِ اللهِ فِيْ كُلِّ مَدِيْنَةٍ مِنْ مُدُنِ بَاكِسْتَانَ وَخَارِجِهَا، وَالَّذِيْ يَضُمُّ نَحْوَ عِشْرِيْنَ أَلْفَ عَالِمٍ، لَقَدِ اطَّلَعْنَا عَلٰى كِتَابِ مَفَاهِيْمُ يَجِبُ أَنْ تُصَحَّحَ الَّذِيْ صَنَّفَهُ فَضِيْلَةُ الْعَلَّامَةِ السَّيِّدِ الشَّرِيْفِ مُحَمَّدُ بْنُ السَّيِّدِ عَلَوِيٍّ مَالِكِيٍّ الْمَكِّيِّ، فَوَجَدْنَاهُ يَحْتَوِيْ عَلٰى مَا عَلَيْهِ أَهْلُ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ سَلَفًا وَخَلَفًا، وَقَدْ أَجَادَ فِيْهِ وَأَفَادَ بِالْأَدِلَّةِ الْقُرْآنِيَّةِ وَالْحَدِيْثِيَّةِ، وَنَرْجُوْا مِنَ اللهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالٰى أَنْ يَجْمَعَ كَلِمَةَ الْمُسْلِمِيْنَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِيْنِ، وَنَحْنُ مَعَهُ فِيْ جِهَادِهِ فِيْ الدَّعْوَةِ إِلَى اللهِ وَنُصْرَةِ أَهْلِ الْحَقِّ، أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ۔۔۔۔۔ الخ۔‘‘
مولانا عبدالقادر آزاد صاحب نے تقریظ پر دستخط کئے اور اُوپر مذکورہ بالا چاروں حضرات نے اس پر تائید و تصدیق فرمائی ۔۔۔‘‘
نیز یہ بھی اندازہ ہوا کہ اس ناکارہ نے تقریظات کے بارے میں جو بات محض ظن و تخمین سے کہی تھی، وہ بڑی حد تک صحیح نکلی، چنانچہ جناب نے مولانا محمد تقی عثمانی زید مجدہٗ کی تقریظ کا بھی حوالہ دیا ہے، یہ اس ناکارہ کی نظر سے نہیں گزری، مگر اب ’’البلاغ‘‘ (ربیع الاول ۱۴۱۶ھ، اگست ۱۹۹۵ء) میں شائع ہوچکی ہے، اس کی تمہید سے واضح ہے کہ یکسوئی کے ساتھ کتاب کو دیکھنے کا موقع ان کو نہیں ملا، یہ ان کی ذہانت و دقیقہ رسی تھی کہ انہوں نے ایک شب کے طائرانہ مطالعے میں بھی کتاب کے اصلاح طلب چند پہلوؤں کی نشاندہی کردی، ورنہ ان کے لمحاتِ فرصت میں اس کی گنجائش نہیں تھی، اس لئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ’’البلاغ‘‘ ۱۴۱۶ھ میں شائع شدہ حضرت مولانا محمد تقی عثمانی مدظلہٗ کی تقریظ مع ترجمہ اور اس کے ملاحظات بھی یہاں نقل کردئیے جائیں۔
وہ لکھتے ہیں:
’’بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
شیخ محمد علوی مالکی کی عربی کتاب ’’المفاہیم یجب ان تصحح‘‘ آج کل بعض علمی حلقوں میں موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے، بالخصوص اس کے اُردو ترجمہ کی اشاعت کے بعد یہ بحث شدت اختیار کرگئی ہے، اس بحث کے دوران یہ حوالہ بھی دیا جارہا ہے کہ احقر نے اس کتاب پر کوئی تقریظ لکھی تھی، اس بنا پر صورتِ حال کی وضاحت کے لئے درج ذیل تحریر شائع کی جارہی ہے:
اس کتاب کے مصنف شیخ محمد علوی مالکی مکہ مکرمہ کے ایک ممتاز و مشہور عالم شیخ سید علوی مالکیؒ کے صاحبزادے ہیں، ان کے والد سے اکابر علمائے دیوبند مثلاً: احقر کے والدِ ماجد حضرت مولانا مفتی شفیع صاحب، حضرت مولانا بدرِعالم صاحب اور حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری صاحب، رحمہم اللہ، کے تعلقات رہے ہیں، اور انہی تعلقات کی بنا پر ان کے صاحبزادے محمد علوی مالکی علومِ دین کی تحصیل کے لئے کچھ مدت پاکستان میں رہے، اور احقر کے والدِ ماجدؒ اور حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری صاحبؒ سے تلمذ اور استفادے کا شرف حاصل کیا۔ اس زمانہ میں ان سے احقر کی بھی ملاقاتیں رہیں، لیکن ان کے واپس سعودی عرب جانے کے بعد مدتوں ان سے کوئی رابطہ نہ ہوا۔
اب سے چند سال پہلے کی بات ہے کہ اچانک ان کا فون آیا کہ میں کراچی میں ہوں، اور انڈونیشیا سے سعودی عرب جاتے ہوئے صرف آپ سے ایک ضروری بات کرنے کے لئے کراچی میں ٹھہرا ہوں، اور ملاقات کرنا چاہتا ہوں، چنانچہ وہ دارالعلوم تشریف لائے، ان کے ساتھ محترم مولانا ملک عبدالحفیظ صاحب بھی تھے، اس وقت انہوں نے ذکر کیا کہ نجد کے علماء جن مسائل میں غیرضروری تشدد کرتے ہیں، ان کی وضاحت کے لئے انہوں نے ’’مفاہیم یجب ان تصحح‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے، اور وہ چاہتے ہیں کہ اس کتاب پر برادرِ معظم حضرت مولانا مفتی محمد رفیع صاحب مدظلہم اور احقر تقریظ لکھے، اتفاق سے اس وقت میں انتہائی مصروف تھا اور ایک دن بعد ایک سفر پر جانے والا تھا۔ احقر نے عذر کیا کہ اس مختصر وقت میں کتاب کو پڑھنا اور تقریظ لکھنا میرے لئے مشکل ہوگا، اس پر انہوں نے عالمِ عرب اور پاکستان کے بعض علماء کی تقریظات دکھائیں، جن میں کتاب کی بڑی تعریف کی گئی تھی، ان کا کہنا تھا کہ آپ ان تحریروں میں سے کسی پر دستخط کرسکتے ہیں، یا ان کی بنیاد پر چند تائیدی سطریں لکھ سکتے ہیں، جس کے لئے زیادہ وقت درکار نہ ہوگا۔
اس کے جواب میں احقر نے عرض کیا کہ: اگرچہ یہ حضراتِ علماء احقر کے لئے قابلِ احترام ہیں، لیکن تقریظ ایک امانت ہے، اور کتاب کو دیکھے بغیر اس کے بارے میں کوئی مثبت رائے ظاہر کرنا میرے لئے جائز نہیں! انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا، لیکن ساتھ ہی یہ اصرار بھی فرمایا کہ میں کسی نہ کسی طرح کتاب پر نظر ڈال کر اس پر ضرور کچھ لکھوں۔
وقت کی تنگی کے باوجود میں نے ان کے اصرار کی تعمیل میں کتاب کے اہم مباحث کا مطالعہ کیا، اس مطالعہ کے دوران جہاں مجھے ان کی بہت سی باتیں درست اور قابلِ تعریف معلوم ہوئیں، وہیں بعض اُمور قابلِ اعتراض بھی نظر آئے، اس لئے میں نے انہیں فون کیا کہ میں کتاب کی کلی تائید و تقریظ سے قاصر ہوں، کیونکہ اس میں بعض اُمور ایسے موجود ہیں جو قابلِ اعتراض ہیں۔ فاضل مؤلف نے مجھ سے کہا کہ میں وہ قابلِ اعتراض اُمور بھی اپنی تقریظ میں شامل کردوں۔ احقر نے پھر یہ درخواست کی کہ یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ میری تحریر پوری شائع کی جائے اور اس میں کوئی حصہ چھوڑا نہ جائے۔ انہوں نے اس بات کا وعدہ کیا۔ اس کے بعد میں نے ایک تحریر لکھی جس میں کتاب کے قابلِ تعریف اور قابلِ اعتراض دونوں پہلوؤں کی ممکنہ حد تک وضاحت کی کوشش کی۔ میرے برادرِ بزرگ حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب مدظلہم نے بھی کتاب کے متعلقہ حصوں کو دیکھنے کے بعد اس تحریر سے اتفاق کرتے ہوئے اس پر دستخط فرمائے، اور یہ تحریر مؤلف کے حوالے کردی گئی۔
اس کے بعد مجھے اس بات کا انتظار رہا کہ کتاب کے نئے ایڈیشن میں یہ تحریر شائع ہو، لیکن باوجودیکہ کتاب کے کئی ایڈیشن اب تک نکل چکے ہیں، غالباً اس کے کسی ایڈیشن میں میری یہ تحریر شامل نہیں کی گئی۔
اب جبکہ بعض حضرات نے اس کتاب کا اُردو ترجمہ کرکے اسے پاکستان میں شائع کیا تو میرے بارے میں بعض جگہ یہ حوالہ بھی دیا گیا کہ ہم نے بھی اس کتاب پر تقریظ لکھی تھی۔ اس لئے عزیز گرامیٔ قدر مولانا محمود اشرف عثمانی صاحب سلّمہ نے ضرورت محسوس کی کہ ہماری اس تحریر کا اُردو ترجمہ شائع کردیا جائے، تاکہ لوگوں کو معلوم ہوسکے کہ ہماری تحریر میں کیا بات لکھی گئی تھی۔
چنانچہ انہوں نے ہماری اس عربی تحریر کا سلیس اور واضح ترجمہ کیا ہے، جو ذیل میں پیش کیا جارہا ہے، اس کے ساتھ ہی شروع میں اہلِ علم کے لئے اصل عربی تحریر کا متن بھی شائع کیا جارہا ہے۔
یہاں یہ بھی واضح رہنا ضروری ہے کہ جب میں نے یہ تحریر لکھی تھی تو کتاب عربی میں شائع ہو رہی تھی، اور اس کے مخاطب اہلِ علم تھے، اس لئے کتاب کے اچھے یا برے پہلوؤں کی طرف مختصر اشارہ کرکے کتاب میں اس تحریر کی اشاعت میں ہم نے کوئی حرج نہیں سمجھا۔ لیکن چونکہ کتاب کے قابلِ اعتراض پہلو عوام کے لئے مضر اور مغالطہ انگیز ہوسکتے تھے، اس لئے ہماری رائے میں اس کے اُردو ترجمہ کی اشاعت مناسب نہیں تھی، لہٰذا اس تحریر کے اُردو ترجمہ کو کتاب کے اُردو ترجمہ پر تقریظ ہرگز نہ سمجھا جائے، اور نہ تقریظ کی حیثیت میں اسے شائع کرنے کی ہماری طرف سے اجازت ہے۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اصل عربی تحریر مصروفیت اور عجلت کی حالت میں لکھی گئی تھی، جس میں اشارے کافی سمجھے گئے۔ کتاب کے ہر ہر جز پر تبصرہ اس وقت پیشِ نظر نہیں تھا، لہٰذا یہ بات خارج از امکان نہیں کہ جن باتوں پر اس تحریر میں تنقید کی گئی ہے، کتاب میں اس کے علاوہ بھی قابلِ تنقید حصے موجود ہوں، وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالٰى الْمُوَفِّقُ!
محمد تقی عثمانی
۵؍صفر المظفر ۱۴۱۶ھ

