October 14, 2026 at 2:03 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سنت وبدعت

تقریظ‌علی‌کتاب

جواب

’’مَفَاهِيْمُ يَجِبُ أَنْ تُصَحَّحَ‘‘

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلٰوَةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأَمِيْنِ، وَعَلٰى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِيْنَ، وَعَلٰى كُلِّ مَنْ تَبِعَهُمْ بِإِحْسَانٍ إِلٰى يَوْمِ الدِّيْنِ۔

إِنَّ الْمَوْضُوْعَاتِ الَّتِيْ تَنَاوَلَهَا الْمُؤَلِّفُ بِالْبَحْثِ فِيْ هٰذَا الْكِتَابِ مَوْضُوْعَاتٌ خَطِيْرَةٌ، ظَهَرَ فِيْهَا مِنَ الْإِفْرَاطِ وَالتَّفْرِيْطِ مَا فَرَّقَ كَلِمَةَ الْمُسْلِمِيْنَ، وَآثَارَ الْخِلَافَ وَالشِّقَاقَ بَيْنَهُمْ بِمَا يَتَأَلَّمُ لَهُ كُلُّ قَلْبٍ مُؤْمِنٍ، وَقَلَّمَا يُوْجَدُ فِيْ هٰذِهِ الْمَسَائِلِ مَنْ يُنَقِّحُهَا بِاعْتِدَالٍ وَاتِّزَانٍ، وَيَضَعُ كُلَّ شَيْءٍ فِيْ مَحَلِّهِ، سَالِكًا مَسْلَكَ الْإِنْصَافِ، مُحْتَرِزًا عَنِ الْإِفْرَاطِ وَالتَّفْرِيْطِ۔

وَأَنَّ كَثِيْرًا مِنْ مِثْلِ هٰذِهِ الْمَسَائِلِ مَسَائِلُ فَرْعِيَّةٌ نَظَرِيَّةٌ لَيْسَ مَدَارًا لِلْإِيْمَانِ، وَلَا فَاصِلَةً بَيْنَ الْإِسْلَامِ وَالْكُفْرِ، بَلْ وَأَنَّ بَعْضَهَا لَا يُسْأَلُ عَنْهَا فِيْ الْقَبْرِ، وَلَا فِيْ الْحَشْرِ، وَلَا عِنْدَ الْحِسَابِ، وَلَوْ لَمْ يَعْلَمْهَا الرَّجُلُ طُوْلَ حَيَاتِهِ لَمْ يَنْقُصْ ذٰلِكَ فِيْ دِيْنِهِ وَلَا إِيْمَانِهِ حَبَّةَ خَرْدَلٍ، مِثْلَ حَقِيْقَةِ الْحَيَاةِ الْبَرْزَخِيَّةِ وَكَيْفِيَّتِهَا، وَمَا إِلٰى ذٰلِكَ مِنَ الْمَسَائِلِ النَّظَرِيَّةِ وَالْفَلْسَفِيَّةِ الْبَحْتَةِ، وَلٰكِنْ مِنَ الْمُؤْسِفِ جِدًّا أَنَّهُ لَمَّا كَثُرَ حَوْلَهَا النِّقَاشُ وَطَالَ الْجِدَالُ، أَصْبَحَتْ هٰذِهِ الْمَسَائِلُ كَأَنَّهَا مِنَ الْمَقَاصِدِ الدِّيْنِيَّةِ الْأَصْلِيَّةِ، أَوْ مِنْ عَقَائِدِ الْإِسْلَامِ الْأَسَاسِيَّةِ، فَجَعَلَ بَعْضُ النَّاسِ يَتَشَدَّدُ فِيْ أَمْثَالِ هٰذِهِ الْمَسَائِلِ، فَيَرْمِيْ مَنْ يُخَالِفُ رَأْيَهُ بِالْكُفْرِ وَالشِّرْكِ وَالضَّلَالِ، وَأَنَّ هٰذِهِ الْعَقْلِيَّةَ الضَّيِّقَةَ رُبَّمَا تَتَسَامَحُ وَتَتَغَاضَى عَنِ التَّيَّارَاتِ الْهَدَّامَةِ الَّتِيْ تَهْجُمُ الْيَوْمَ عَلٰى أُصُوْلِ الْإِسْلَامِ وَأَسَاسِهِ، وَلٰكِنَّهَا تَتَحَمَّسُ لِهٰذِهِ الْأَبْحَاثِ النَّظَرِيَّةِ الْفَرْعِيَّةِ أَكْثَرَ مِنْ حِمَاسِهَا ضِدَّ الْإِلْحَادِ الصَّرِيْحِ، وَالْإِبَاحِيَّةِ الْمُطْلَقَةِ، وَالْخَلَاعَةِ الْمَكْشُوْفَةِ، وَالْمُنْكَرَاتِ الْمُسْتَوْرَدَةِ مِنَ الْكُفَّارِ وَالْأَجَانِبِ۔

لَقَدْ تَحَدَّثَ أَخُونَا الْعَلَّامَةُ السَّيِّدُ مُحَمَّدٌ عَلَوِيٌّ الْمَالِكِيُّ حَفِظَهُ اللّٰهُ عَنْ هٰذِهِ الْعَقْلِيَّةِ بِكَلَامٍ مُوَفَّقٍ، وَأَثْبَتَ أَنَّ مَنْ يُؤْمِنُ بِكُلِّ مَا عُلِمَ مِنَ الدِّينِ بِالضَّرُورَةِ، فَإِنَّهُ لَا يَجُوزُ تَكْفِيرُهُ لاِخْتِيَارِهِ بَعْضَ الْآرَاءِ الَّتِي وَقَعَ فِيهَا الْخِلَافُ بَيْنَ عُلَمَاءِ الْمُسْلِمِينَ قَدِيمًا۔ ثُمَّ تَحَدَّثَ عَنْ بَعْضِ هٰذِهِ الْمَسَائِلِ الْفَرْعِيَّةِ الَّتِي وَقَعَ فِيهَا الْخِلَافُ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، وَطَعَنَ مِنْ أَجْلِهَا بَعْضُهُمْ بَعْضًا بِالتَّكْفِيرِ وَالتَّضْلِيلِ، مِثْلَ مَسْأَلَةِ التَّوَسُّلِ فِي الدُّعَاءِ، وَالسَّفَرِ لِزِيَارَةِ قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالتَّبَرُّكِ بِآثَارِ الْأَنْبِيَاءِ وَالصَّحَابَةِ وَالصَّالِحِينَ، وَحَقِيقَةِ النُّبُوَّةِ وَالْبَشَرِيَّةِ، وَالْحَيَاةِ الْبَرْزَخِيَّةِ۔ وَأَنَّ الْمَوْقِفَ الَّذِي اخْتَارَهُ فِي هٰذِهِ الْمَسَائِلِ مَوْقِفٌ سَلِيمٌ مُؤَيَّدٌ بِالدَّلَائِلِ الْبَاهِرَةِ مِنَ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ، وَتَعَامُلِ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ وَالسَّلَفِ الصَّالِحِينَ۔ وَقَدْ أَثْبَتَ بِأَدِلَّةٍ وَاضِحَةٍ وَأُسْلُوبٍ رَصِينٍ، أَنَّ مَنْ يُجِيزُ التَّوَسُّلَ فِي الدُّعَاءِ، أَوِ التَّبَرُّكَ بِآثَارِ الْأَنْبِيَاءِ وَالصُّلَحَاءِ، أَوْ يُسَافِرُ لِزِيَارَةِ رَوْضَةِ الرَّسُولِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَعْتَقِدُهُ مِنْ أَعْظَمِ الْقُرُبَاتِ، أَوْ يُؤْمِنُ بِحَيَاةِ الْأَنْبِيَاءِ فِي قُبُورِهِمْ حَيَاةً بَرْزَخِيَّةً تَفُوقُ الْحَيَاةَ الْبَرْزَخِيَّةَ الْحَاصِلَةَ لِمَنْ سِوَاهُمْ، فَإِنَّهُ لَا يَقْتَرِفُ إِثْمًا فَضْلًا عَنْ أَنْ يَرْتَكِبَ شِرْكًا أَوْ كُفْرًا۔ فَإِنَّ كُلَّ ذٰلِكَ ثَابِتٌ بِأَدِلَّةِ الْقُرْآنِ وَالسُّنَّةِ، وَتَعَامُلِ السَّلَفِ الصَّالِحِ، وَأَقْوَالِ جُمْهُورِ الْعُلَمَاءِ الرَّاسِخِينَ فِي كُلِّ زَمَانٍ۔

وَكَذٰلِكَ تَحَدَّثَ الْمُؤَلِّفُ عَنِ الْأَشَاعِرَةِ وَمَسْلَكِهِمْ فِيْ تَأْوِيْلِ الصِّفَاتِ، لَا شَكَّ أَنَّ الْمَوْقِفَ الْأَسْلَمَ فِيْ هٰذَا هُوَ مَا يُعَبِّرُ عَنْهُ الْمُحَدِّثُوْنَ بِقَوْلِهِمْ: ’’أَمْرُهَا بِلَا كَيْفٍ‘‘، وَلٰكِنَّ التَّأْوِيْلَ اتِّجَاهٌ أَدَّى إِلَيْهِ اجْتِهَادُ الْأَشَاعِرَةِ حِفَاظًا عَلَى التَّنْزِيْهِ، وَمُعَارَضَةً لِلتَّشْبِيْهِ، وَمَا أَدَاهُمْ إِلٰى ذٰلِكَ إِلَّا شِدَّةُ تَمَسُّكِهِمْ بِعَقِيْدَةِ التَّوْحِيْدِ، وَصِيَانَتُهَا عَنْ شَوَائِبِ التَّجْسِيْمِ، وَقَدْ نَحَا هٰذَا الْمَنْحَى كَثِيْرٌ مِنْ فَطَاحِلِ الْعُلَمَاءِ الْمُتَقَدِّمِيْنَ الَّذِيْنَ لَا يُنْكِرُ فَضْلَهُمْ إِلَّا جَاهِلٌ أَوْ مُكَابِرٌ، فَكَيْفَ يَجُوْزُ رَمْيُ هٰؤُلَاءِ الْأَشَاعِرَةِ بِالْكُفْرِ وَالضَّلَالِ، وَإِخْرَاجُهُمْ مِنْ دَائِرَةِ أَهْلِ السُّنَّةِ، وَإِقَامَتُهُمْ فِيْ صَفِّ الْمُعْتَزِلَةِ وَالْجَهْمِيَّةِ، أَعَاذَنَا اللهُ مِنْ ذٰلِكَ۔

وَمَا أَحْسَنَ مَا قَالَهُ أَخُوْنَا الْمُؤَلِّفُ فِيْ هٰذَا الصَّدَدِ:

أَفَمَا كَانَ يَكْفِيْ أَنْ يَقُوْلَ الْمُعَارِضُ: إِنَّهُمْ رَحِمَهُمُ اللهُ اجْتَهَدُوْا فَأَخْطَأُوْا فِيْ تَأْوِيْلِ الصِّفَاتِ، وَكَانَ الْأَوْلٰى أَنْ لَا يَسْلُكُوْا هٰذَا الْمَسْلَكَ، بَدَلًا أَنْ تُرْمَىٰ بِالزَّيْغِ وَالضَّلَالِ، نَغْضَبُ عَلٰى مَنْ عَدَّهُمْ مِنْ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ۔ (ص:۳۹)

وَأَنَّ هٰذَا الْمَنْهَجَ لِلتَّكْفِيْرِ الَّذِيْ سَلَكَهُ الْمُؤَلِّفُ سَلَّمَهُ اللهُ فِيْ أَمْثَالِ هٰذِهِ الْمَسَائِلِ، لَمَنْهَجٌ عَادِلٌ لَوِ اخْتَارَهُ الْمُسْلِمُوْنَ فِيْ خِلَافَاتِهِمُ الْفَرْعِيَّةِ بِكُلِّ سَعَةٍ فِيْ الْقَلْبِ وَرَحَابَةٍ فِيْ الصَّدْرِ، لَانْحَلَّتْ كَثِيْرٌ مِنَ الْعُقَدِ، وَفَشِلَتْ كَثِيْرٌ مِنَ الْجُهُوْدِ الَّتِيْ يُبْذِلُهَا الْأَعْدَاءُ فِيْ التَّفْرِيْقِ بَيْنَ الْمُسْلِمِيْنَ۔

ثُمَّ لَا بُدَّ مِنْ ذِكْرِ الْمُلَاحَظَاتِ الَّتِيْ سَنَحَتْ لَنَا خِلَالَ مُطَالَعَةِ هٰذَا الْكِتَابِ، وَلَا مَنْشَأَ لَهَا إِلَّا أَدَاءُ وَاجِبِ الْوُدِّ وَالنُّصْحِ لِلّٰهِ، وَامْتِثَالُ أَمْرِ الْمُؤَلِّفِ نَفْسِهِ، وَهِيَ كَالتَّالِي:

١: إِنَّ الْمَبَاحِثَ الَّتِيْ تَكَلَّمَ عَنْهَا الْمُؤَلِّفُ حَفِظَهُ اللهُ، مَبَاحِثُ خَطِيْرَةٌ قَدْ أَصْبَحَتْ حَسَّاسَةً لِلْغَايَةِ، وَوَقَعَ فِيْهَا مِنَ الْإِفْرَاطِ وَالتَّفْرِيْطِ مَا وَقَعَ، وَإِنَّ تَرْمِيْمَ نَاحِيَةٍ رُبَّمَا يُفْسِدُ النَّاحِيَةَ الْأُخْرٰى، وَالتَّرْكِيْزُ عَلٰى جِهَةٍ وَاحِدَةٍ قَدْ يُفَوِّتُ حَقَّ الْجِهَةِ الثَّانِيَةِ، فَالْمَطْلُوْبُ مِنَ الْمُتَكَلِّمِ فِيْ هٰذِهِ الْمَسَائِلِ أَنْ يَأْخُذَ بِاحْتِيَاطٍ بَالِغٍ، وَرِعَايَةٍ لِلْجَانِبَيْنِ، وَيَكُوْنَ عَلٰى حَذَرٍ مِمَّنْ يَسْتَغِلُّ عِبَارَاتِهِ لِغَيْرِ حَقٍّ۔

’’۔۔۔۔۔۔ جس زمانے میں یہ سیاہ کار مدینہ منورہ میں مقیم تھا تو غالباً ربیع الاول یا ربیع الآخر ۱۴۰۸ھ کے کسی دن سید محمد علوی مالکی کا لندن سے فون آیا کہ میں کچھ دن کے لئے لندن آیا ہوا ہوں، حضرت مولانا یوسف متالا صاحب کے ہاں دو روز دارالعلوم بری گزار کر آیا ہوں، انہوں نے جزاہ اللہ خیراً میری بہت خاطر مدارات کی، بڑا جلسہ بھی کرایا، جس میں ہزاروں کا مجمع ہوا، وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔۔۔ پھر یہ بھی بتایا کہ میں نے اپنی کتاب ’’مفاہیم یجب ان تصحح‘‘ کا ایک نسخہ بھی انہیں ہدیہ دیا جسے پڑھ کر وہ بہت خوش ہوئے اور خصوصاً جو عالم اسلام کے مختلف علمائے کرام نے تقاریظ لکھی ہیں، ان کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے، تو میں نے کہا کہ: گویا یہ اجماع ہے علمائے اسلام کا نجدیوں کے غلط عقائد و نظریات کے خلاف۔ جس پر حضرت مولانا یوسف متالا نے ہنس کر کہا: مگر اس میں ایک کمی ہے! میں نے پوچھا: وہ کیا؟ تو انہوں نے کہا کہ: اس میں علمائے اہل السنت والجماعہ دیوبندی حضرات کی تقاریظ نہیں اور ان کے بغیر اجماع نہیں ہوسکتا، چونکہ ایک عالم ان کے علم کا لوہا مانتا ہے۔ جس پر میں نے کہا کہ: یہ آپ نے سچ کہا اور میں اب فوراً اس کی کوشش کروں گا۔ کچھ اور تفصیل بھی اس ذیل کی بتائی اور پھر یہ کہا کہ: میں ابھی تو فوراً انڈونیشیا، سنگاپور وغیرہ جارہا ہوں، غالباً ایک ڈیڑھ ماہ بعد فلاں فلاں تاریخوں میں چار پانچ دن میرے پاس ہیں، اگر تم بھی ان تاریخوں میں فارغ ہو تو میں سنگاپور سے کراچی آجاؤں گا اور کراچی سے لاہور اکٹھے چلیں گے، چونکہ مجھے تقاریظ میں زیادہ اہمیت ایک تو حضرت مولانا محمد مالک کاندھلوی کی ان کے علم کی وجہ سے، اور دُوسرے مولانا عبدالقادر آزاد کی ان کی سیاسی وجاہت کی بنا پر۔ میں (عبدالحفیظ) نے ان سے وعدہ کرلیا کہ آپ احتیاطاً ایک ہفتہ اس تاریخ سے قبل مجھے فون کرلیں تاکہ بات پکی ہونے پر ان شاء اللہ پاکستان پہنچ جاؤں گا۔

لہٰذا ایک ہفتہ قبل ان کا فون آگیا اور متعین تاریخ سے ایک روز قبل یہ سیاہ کار کراچی پہنچ گیا۔ معہد الخلیل میں حضرت مولانا یحییٰ مدنی مدظلہ کے ہاں مہمان رہے، وہاں سے میں نے سید محمد علوی مالکی سے کہا کہ یہاں کراچی میں ہمارے تین بڑے علمی مراکز ہیں (دارالعلوم، فاروقیہ، بنوری ٹاؤن)، ان کی بھی اگر تقاریظ لے لیں تو بہتر ہوگا، تو انہوں نے اس کو مناسب جانا، لہٰذا رابطہ کیا تو پتہ چلا کہ حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب تو وہاں نہیں ہیں، البتہ دونوں جگہ وقت طے کرکے ہم دونوں مع حضرت مولانا یحییٰ مدنی صاحب کے گئے، دونوں جگہ کے حضرات نے نہایت محبت و اکرام کا معاملہ فرمایا اور دونوں نے یہ مناسب سمجھا کہ کتاب ہمیں دے دی جائے، جب آپ پنجاب سے واپس آویں گے تو ہم اچھی طرح مطالعہ کرکے تقریظ لکھ دیں گے۔ سید صاحب اس پر راضی ہوگئے اور ہم لاہور روانہ ہوگئے، وہاں ہم رات کو پہنچے، حضرت حافظ صغیر احمد صاحب وغیرہ حضرات لینے آئے ہوئے تھے، مطار لاہور پر حضرت حافظ صاحب سے پتہ چلا کہ حضرت مولانا محمد مالک کاندھلوی تو اگلے دن کسی سفر پر جارہے ہیں، لہٰذا مطار لاہور سے سیدھا حضرت مولانا کاندھلوی کے گھر ہی گئے، وہ منتظر تھے کہ انہیں خبر کردی گئی تھی، مل کر بہت خوش ہوئے، اور جب سید صاحب نے مقصود بتایا تو انہوں نے بھی یہی فرمایا کہ ابھی تو مجھے کتاب دے دیں رات کو اِن شاء اللہ مطالعہ کرلوں گا اور صبح آپ میرے ہاں ناشتہ کریں، اسی وقت تقریظ بھی دے دوں گا۔ صبح ہم لوگ ناشتہ کے لئے پہنچے تو حضرت مولانا محمد مالک کاندھلوی نے بہت ہی زیادہ اس کتاب پر خوشی کا اظہار فرمایا، وہاں کے بعض نجدیوں کے غلو کے کچھ لطیفے بھی سنائے اور کتاب کو بہت سراہا، پھر اپنے دست مبارک سے لکھی ہوئی تقریظ مرحمت فرمائی، جس کے یہ الفاظ ملاحظہ فرمائیں:

۳:۔ وَكَذٰلِكَ قَالَ الْمُؤَلِّفُ فِي نَبِيِّنَا الْكَرِيمِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَإِنَّهُ حَيُّ الدَّارَيْنِ دَائِمُ الْعِنَايَةِ بِأُمَّتِهِ، مُتَصَرِّفٌ بِإِذْنِ اللّٰهِ فِي شُؤُونِهَا، خَبِيرٌ بِأَحْوَالِهَا، تُعْرَضُ عَلَيْهِ صَلَوَاتُ الْمُصَلِّينَ عَلَيْهِ مِنْ أُمَّتِهِ وَيُبَلَّغُهُ سَلَامُهُمْ عَلٰى كَثْرَتِهِمْ (ص: ۹۱)۔وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ لَمْ يُرِدْ مِنَ التَّصَرُّفِ التَّصَرُّفَ الْكُلِّيَّ الْمُطْلَقَ، وَلَا مِنْ كَوْنِهِ «خَبِيرًا بِأَحْوَالِهَا» الْعِلْمَ الْمُحِيطَ التَّامَّ بِجَمِيعِ الْجُزْئِيَّاتِ، فَإِنَّ ذٰلِكَ بَاطِلٌ لَيْسَ مِنْ عَقَائِدِ أَهْلِ السُّنَّةِ۔وَإِنَّمَا أَرَادَ بَعْضَ التَّصَرُّفَاتِ الْجُزْئِيَّةِ الثَّابِتَةِ بِالنُّصُوصِ، كَمَا يَظْهَرُ مِنْ تَمْثِيلِهِ بِعَرْضِ الصَّلَوَاتِ وَالسَّلَامِ عَلَيْهِ، وَإِجَابَتِهِ عَلَيْهَا۔وَلٰكِنْ نَخْشَى أَنْ يَكُونَ التَّعْبِيرُ مُوهِمًا لِخِلَافِ الْمَقْصُودِ، وَمُتَمَسَّكًا لِبَعْضِ الْمُغَالِينَ فِي الْجَانِبِ الْآخَرِ۔

یہ الفاظ اپنے قلمِ مبارک سے شیخ الحدیث علامۂ جلیل حضرت مولانا محمد مالک کاندھلوی قدس سرہٗ نے لکھے ہیں، اور خوشی و مسرت کے اس بارے میں جو آثار ان کے چہرے مبارک پر تھے وہ بیان سے باہر ہیں، اور بہت ہی محبت و شفقت اور اکرام و اعزاز کا معاملہ سید محمد علوی صاحب سے کیا جس سے سید صاحب بہت محجوب بھی ہوئے، پھر حضرت مولانا عبیداللہ اور حضرت مولانا عبدالرحمن اشرفی کے ہاں دار الاہتمام میں گئے، انہوں نے بھی بہت زیادہ اعزاز و اکرام فرمایا، جامعہ اشرفیہ دکھایا اور دونوں حضرات نے حضرت کاندھلوی کی تقریظ کی تائید و تصدیق کی۔ پھر یہاں سے مولانا سید عبدالقادر آزاد صاحب سے وعدہ تھا، وہاں گئے، انہوں نے جب حضرت کاندھلوی کی تقریظ دیکھی تو بہت خوش ہوئے، اس وقت مولانا آزاد صاحب نے اپنے کچھ رفقاء و علماء کو بھی مدعو کر رکھا تھا، جن میں حضرت شاہ نفیس صاحب، مولانا عبدالغنی صاحب، مولانا علی اصغر صاحب اور مولانا عبدالواحد صاحب بھی تھے، مولانا آزاد صاحب نے سید صاحب کو پیشکش کی کہ جن الفاظ میں آپ چاہیں ہم تقریظ لکھنے کے لئے تیار ہیں۔ جب ہمارے علمی پیشوا حضرت مولانا محمد مالک کاندھلوی نے پوری رات مطالعہ کے بعد اس کتاب پر یہ تقریظ لکھ دی ہے تو پھر جو چاہیں اس کے بارے میں ہم سے لکھوالیں، مگر سید صاحب نے کہا کہ: نہیں! جس طرح آپ لوگ مناسب سمجھیں لکھ دیں، پھر سب نے مشورہ سے ایک مختصر جامع مضمون تیار کیا، جسے اسی وقت ہاتھوں ہاتھ حضرت نفیس شاہ صاحب مدظلہ العالی نے تحریر فرمادیا، جس کے یہ الفاظ ملاحظہ ہوں:

وَمِنْ ذٰلِكَ قَوْلُ الْمُؤَلِّفِ: فَالْقَائِلُ: يَا نَبِيَّ اللّٰهِ اشْفِنِي وَاقْضِ دَيْنِي، لَوْ فُرِضَ أَنَّ أَحَدًا قَالَ هٰذَا، فَإِنَّمَا يُرِيدُ اشْفَعْ لِي فِي الشِّفَاءِ، وَادْعُ لِي بِقَضَاءِ دَيْنِي، وَتَوَجَّهْ إِلَى اللّٰهِ فِي شَأْنِي، فَهُمْ مَا طَلَبُوا مِنْهُ إِلَّا مَا أَقْدَرَهُمُ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَمَلَّكَهُمْ إِيَّاهُ مِنَ الدُّعَاءِ وَالتَّشَفُّعِ، فَالْإِسْنَادُ فِي كَلَامِ النَّاسِ مِنَ الْمَجَازِ الْعَقْلِيِّ (ص: ۹۵)۔ وَهٰذَا تَأْوِيلٌ حَسَنٌ لِلتَّخَلُّصِ مِنَ التَّكْفِيرِ، وَهُوَ مِنْ قَبِيلِ إِحْسَانِ الظَّنِّ بِالْمُؤْمِنِينَ۔ وَلٰكِنَّ حُسْنَ الظَّنِّ هٰذَا إِنَّمَا يَتَأَتَّى فِيمَنْ لَا يَرْفُضُ تَأْوِيلَ كَلَامِهِ بِذٰلِكَ، أَمَّا مَنْ لَا يَرْضَى بِهٰذَا التَّأْوِيلِ بِنَفْسِهِ ـ كَمَا هُوَ وَاقِعٌ مِنْ بَعْضِ النَّاسِ فِيمَا أَعْلَمُ ـ فَكَيْفَ يُؤَوَّلُ كَلَامُهُ بِمَا لَا يَرْضَى بِهِ هُوَ؟

وَبِالتَّالِي، فَإِنَّ هٰذَا التَّأْوِيْلَ وَإِنْ كَانَ كَافِيًا لِلْكَفِّ عَنْ تَكْفِيْرِ الْقَائِلِ، وَلٰكِنَّهُ هَلْ يُشَجِّعُ عَلٰى اسْتِعْمَالِ هٰذِهِ الْكَلِمَاتِ؟ كَلَّا! بَلْ يَمْنَعُ مِنْ ذٰلِكَ تَحَرُّزًا مِنَ الْإِبْهَامِ وَالتَّشَبُّهِ عَلَى الْأَقَلِّ، كَمَا نَهٰى رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ اسْتِعْمَالِ لَفْظِ ’’عَبْدِيْ‘‘ لِلرَّقِيْقِ لِكَوْنِهِ مُوْهِمًا، فَالْوَاجِبُ عِنْدِيْ عَلٰى مَنْ يَلْتَمِسُ التَّأْوِيْلَ لِهٰؤُلَاءِ الْقَائِلِيْنَ أَنْ يُصَرِّحَ بِمَنْعِهِمْ عَنْ ذٰلِكَ، لِئَلَّا يُشَجِّعَهُمْ تَأْوِيْلُهُ عَلٰى اسْتِعْمَالِ الْكَلِمَاتِ الْمُوْهِمَةِ، فَإِنَّ مَنْ يُرَاعِيْ حَوْلَ الْحِمٰى أَوْشَكَ أَنْ يَقَعَ فِيْهِ، وَمِثْلُ ذٰلِكَ يُقَالُ فِيْ كُلِّ تَوَسُّلٍ بِصُوْرَةِ نِدَاءٍ، وَبِإِطْلَاقِ ’’مُفَرِّجِ الْكُرُبَاتِ‘‘ وَ’’قَاضِيِ الْحَاجَاتِ‘‘ عَلٰى غَيْرِ اللهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالٰى۔

نیز یہ بھی اندازہ ہوا کہ اس ناکارہ نے تقریظات کے بارے میں جو بات محض ظن و تخمین سے کہی تھی، وہ بڑی حد تک صحیح نکلی، چنانچہ جناب نے مولانا محمد تقی عثمانی زید مجدہٗ کی تقریظ کا بھی حوالہ دیا ہے، یہ اس ناکارہ کی نظر سے نہیں گزری، مگر اب ’’البلاغ‘‘ (ربیع الاول ۱۴۱۶ھ، اگست ۱۹۹۵ء) میں شائع ہوچکی ہے، اس کی تمہید سے واضح ہے کہ یکسوئی کے ساتھ کتاب کو دیکھنے کا موقع ان کو نہیں ملا، یہ ان کی ذہانت و دقیقہ رسی تھی کہ انہوں نے ایک شب کے طائرانہ مطالعے میں بھی کتاب کے اصلاح طلب چند پہلوؤں کی نشاندہی کردی، ورنہ ان کے لمحاتِ فرصت میں اس کی گنجائش نہیں تھی، اس لئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ’’البلاغ‘‘ ۱۴۱۶ھ میں شائع شدہ حضرت مولانا محمد تقی عثمانی مدظلہٗ کی تقریظ مع ترجمہ اور اس کے ملاحظات بھی یہاں نقل کردئیے جائیں۔

۶:۔ لَقَدْ كَانَ الْمُؤَلِّفُ مُوَفَّقًا فِيْ بَيَانِ الْخَصَائِصِ النَّبَوِيَّةِ حَيْثُ قَالَ: ’’وَالْأَنْبِيَاءُ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِمْ وَإِنْ كَانُوْا مِنَ الْبَشَرِ يَأْكُلُوْنَ وَيَشْرَبُوْنَ ۔۔۔۔۔ وَتَعْتَرِيْهِمُ الْعَوَارِضُ الَّتِيْ تَمُرُّ عَلَى الْبَشَرِ مِنْ ضَعْفٍ وَشَيْخُوْخَةٍ وَمَوْتٍ، إِلَّا أَنَّهُمْ يَمْتَازُوْنَ بِخَصَائِصَ وَيَتَصِفُوْنَ بِأَوْصَافٍ عَظِيْمَةٍ جَلِيْلَةٍ هِيَ بِالنِّسْبَةِ لَهُمْ مِنْ أَلْزَمِ اللَّوَازِمِ‘‘ ۔۔۔۔۔ الخ۔‘‘ (ص:۱۲۷) ثُمَّ ذَكَرَ عِدَّةَ خَصَائِصِ الْأَنْبِيَاءِ، وَلَا سِيَّمَا خَصَائِصَ النَّبِيِّ الْكَرِيمِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِئَلَّا يَزْعُمَ زَاعِمٌ أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يُسَاوِي غَيْرَهُ فِي الصِّفَاتِ وَالْأَحْوَالِ، وَالْعِيَاذُ بِاللّٰهِ۔وَالْحَقُّ أَنَّ خَصَائِصَهُ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوْقَ مَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَتَصَوَّرَهُ، وَلٰكِنَّنَا نَعْتَقِدُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجَلُّ مِنْ أَنْ نَحْتَاجَ فِي إِثْبَاتِ خَصَائِصِهِ إِلٰى الرِّوَايَاتِ الضَّعِيفَةِ، فَإِنَّ خَصَائِصَهُ الثَّابِتَةَ بِالْقُرْآنِ وَالسُّنَّةِ الصَّحِيحَةِ أَكْثَرُ عَدَدًا، وَأَعْلَى مَنْزِلَةً، وَأَقْوَى تَأْثِيرًا فِي الْقُلُوبِ مِنَ الْخَصَائِصِ الْمَذْكُورَةِ فِي بَعْضِ الرِّوَايَاتِ الضَّعِيفَةِ۔مِثْلَ مَا رُوِيَ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لَهُ ظِلٌّ فِي شَمْسٍ وَلَا قَمَرٍ، فَإِنَّهَا رِوَايَةٌ ضَعِيفَةٌ عِنْدَ جُمْهُورِ الْعُلَمَاءِ وَالْمُحَدِّثِينَ۔

۷:۔ يَقُولُ الْمُؤَلِّفُ سَلَّمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰى: إِنَّ الْاِجْتِمَاعَ لِأَجْلِ الْمَوْلِدِ النَّبَوِيِّ الشَّرِيفِ مَا هُوَ إِلَّا أَمْرٌ عَادِيٌّ، وَلَيْسَ مِنَ الْعِبَادَةِ فِي شَيْءٍ، وَهٰذَا مَا نَعْتَقِدُهُ وَنَدِينُ اللّٰهَ تَعَالٰى بِهِ. ثُمَّ يَقُولُ: وَنَحْنُ نُنَادِي بِأَنَّ تَخْصِيصَ الْاِجْتِمَاعِ بِلَيْلَةٍ وَاحِدَةٍ دُونَ غَيْرِهَا هُوَ الْجَفْوَةُ الْكُبْرَى لِلرَّسُولِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔‘‘

وَلَا شَكَّ أَنَّ ذِكْرَ النَّبِيِّ الْكَرِيمِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيَانَ سِيرَتِهِ مِنْ أَعْظَمِ الْبَرَكَاتِ، وَأَفْضَلِ السَّعَادَاتِ، إِذَا لَمْ يَتَقَيَّدْ بِيَوْمٍ أَوْ تَارِيخٍ، وَلَا صَحِبَهُ اعْتِقَادُ الْعِبَادَةِ فِي اجْتِمَاعِ يَوْمٍ مَخْصُوصٍ بِهَيْئَةٍ مَخْصُوصَةٍ۔فَالْاِجْتِمَاعُ لِذِكْرِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهٰذِهِ الشُّرُوطِ جَائِزٌ فِي الْأَصْلِ، لَا يَسْتَحِقُّ الْإِنْكَارَ وَلَا الْمَلَامَةَ۔۔

اس کتاب کے مصنف شیخ محمد علوی مالکی مکہ مکرمہ کے ایک ممتاز و مشہور عالم شیخ سید علوی مالکیؒ کے صاحبزادے ہیں، ان کے والد سے اکابر علمائے دیوبند مثلاً: احقر کے والدِ ماجد حضرت مولانا مفتی شفیع صاحب، حضرت مولانا بدرِعالم صاحب اور حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری صاحب، رحمہم اللہ، کے تعلقات رہے ہیں، اور انہی تعلقات کی بنا پر ان کے صاحبزادے محمد علوی مالکی علومِ دین کی تحصیل کے لئے کچھ مدت پاکستان میں رہے، اور احقر کے والدِ ماجدؒ اور حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری صاحبؒ سے تلمذ اور استفادے کا شرف حاصل کیا۔ اس زمانہ میں ان سے احقر کی بھی ملاقاتیں رہیں، لیکن ان کے واپس سعودی عرب جانے کے بعد مدتوں ان سے کوئی رابطہ نہ ہوا۔

اب سے چند سال پہلے کی بات ہے کہ اچانک ان کا فون آیا کہ میں کراچی میں ہوں، اور انڈونیشیا سے سعودی عرب جاتے ہوئے صرف آپ سے ایک ضروری بات کرنے کے لئے کراچی میں ٹھہرا ہوں، اور ملاقات کرنا چاہتا ہوں، چنانچہ وہ دارالعلوم تشریف لائے، ان کے ساتھ محترم مولانا ملک عبدالحفیظ صاحب بھی تھے، اس وقت انہوں نے ذکر کیا کہ نجد کے علماء جن مسائل میں غیرضروری تشدد کرتے ہیں، ان کی وضاحت کے لئے انہوں نے ’’مفاہیم یجب ان تصحح‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے، اور وہ چاہتے ہیں کہ اس کتاب پر برادرِ معظم حضرت مولانا مفتی محمد رفیع صاحب مدظلہم اور احقر تقریظ لکھے، اتفاق سے اس وقت میں انتہائی مصروف تھا اور ایک دن بعد ایک سفر پر جانے والا تھا۔ احقر نے عذر کیا کہ اس مختصر وقت میں کتاب کو پڑھنا اور تقریظ لکھنا میرے لئے مشکل ہوگا، اس پر انہوں نے عالمِ عرب اور پاکستان کے بعض علماء کی تقریظات دکھائیں، جن میں کتاب کی بڑی تعریف کی گئی تھی، ان کا کہنا تھا کہ آپ ان تحریروں میں سے کسی پر دستخط کرسکتے ہیں، یا ان کی بنیاد پر چند تائیدی سطریں لکھ سکتے ہیں، جس کے لئے زیادہ وقت درکار نہ ہوگا۔

اس کے جواب میں احقر نے عرض کیا کہ: اگرچہ یہ حضراتِ علماء احقر کے لئے قابلِ احترام ہیں، لیکن تقریظ ایک امانت ہے، اور کتاب کو دیکھے بغیر اس کے بارے میں کوئی مثبت رائے ظاہر کرنا میرے لئے جائز نہیں! انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا، لیکن ساتھ ہی یہ اصرار بھی فرمایا کہ میں کسی نہ کسی طرح کتاب پر نظر ڈال کر اس پر ضرور کچھ لکھوں۔

وقت کی تنگی کے باوجود میں نے ان کے اصرار کی تعمیل میں کتاب کے اہم مباحث کا مطالعہ کیا، اس مطالعہ کے دوران جہاں مجھے ان کی بہت سی باتیں درست اور قابلِ تعریف معلوم ہوئیں، وہیں بعض اُمور قابلِ اعتراض بھی نظر آئے، اس لئے میں نے انہیں فون کیا کہ میں کتاب کی کلی تائید و تقریظ سے قاصر ہوں، کیونکہ اس میں بعض اُمور ایسے موجود ہیں جو قابلِ اعتراض ہیں۔ فاضل مؤلف نے مجھ سے کہا کہ میں وہ قابلِ اعتراض اُمور بھی اپنی تقریظ میں شامل کردوں۔ احقر نے پھر یہ درخواست کی کہ یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ میری تحریر پوری شائع کی جائے اور اس میں کوئی حصہ چھوڑا نہ جائے۔ انہوں نے اس بات کا وعدہ کیا۔ اس کے بعد میں نے ایک تحریر لکھی جس میں کتاب کے قابلِ تعریف اور قابلِ اعتراض دونوں پہلوؤں کی ممکنہ حد تک وضاحت کی کوشش کی۔ میرے برادرِ بزرگ حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب مدظلہم نے بھی کتاب کے متعلقہ حصوں کو دیکھنے کے بعد اس تحریر سے اتفاق کرتے ہوئے اس پر دستخط فرمائے، اور یہ تحریر مؤلف کے حوالے کردی گئی۔

اس کے بعد مجھے اس بات کا انتظار رہا کہ کتاب کے نئے ایڈیشن میں یہ تحریر شائع ہو، لیکن باوجودیکہ کتاب کے کئی ایڈیشن اب تک نکل چکے ہیں، غالباً اس کے کسی ایڈیشن میں میری یہ تحریر شامل نہیں کی گئی۔

اب جبکہ بعض حضرات نے اس کتاب کا اُردو ترجمہ کرکے اسے پاکستان میں شائع کیا تو میرے بارے میں بعض جگہ یہ حوالہ بھی دیا گیا کہ ہم نے بھی اس کتاب پر تقریظ لکھی تھی۔ اس لئے عزیز گرامیٔ قدر مولانا محمود اشرف عثمانی صاحب سلّمہ نے ضرورت محسوس کی کہ ہماری اس تحریر کا اُردو ترجمہ شائع کردیا جائے، تاکہ لوگوں کو معلوم ہوسکے کہ ہماری تحریر میں کیا بات لکھی گئی تھی۔

چنانچہ انہوں نے ہماری اس عربی تحریر کا سلیس اور واضح ترجمہ کیا ہے، جو ذیل میں پیش کیا جارہا ہے، اس کے ساتھ ہی شروع میں اہلِ علم کے لئے اصل عربی تحریر کا متن بھی شائع کیا جارہا ہے۔

یہاں یہ بھی واضح رہنا ضروری ہے کہ جب میں نے یہ تحریر لکھی تھی تو کتاب عربی میں شائع ہو رہی تھی، اور اس کے مخاطب اہلِ علم تھے، اس لئے کتاب کے اچھے یا برے پہلوؤں کی طرف مختصر اشارہ کرکے کتاب میں اس تحریر کی اشاعت میں ہم نے کوئی حرج نہیں سمجھا۔ لیکن چونکہ کتاب کے قابلِ اعتراض پہلو عوام کے لئے مضر اور مغالطہ انگیز ہوسکتے تھے، اس لئے ہماری رائے میں اس کے اُردو ترجمہ کی اشاعت مناسب نہیں تھی، لہٰذا اس تحریر کے اُردو ترجمہ کو کتاب کے اُردو ترجمہ پر تقریظ ہرگز نہ سمجھا جائے، اور نہ تقریظ کی حیثیت میں اسے شائع کرنے کی ہماری طرف سے اجازت ہے۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اصل عربی تحریر مصروفیت اور عجلت کی حالت میں لکھی گئی تھی، جس میں اشارے کافی سمجھے گئے۔ کتاب کے ہر ہر جز پر تبصرہ اس وقت پیشِ نظر نہیں تھا، لہٰذا یہ بات خارج از امکان نہیں کہ جن باتوں پر اس تحریر میں تنقید کی گئی ہے، کتاب میں اس کے علاوہ بھی قابلِ تنقید حصے موجود ہوں، وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالٰى الْمُوَفِّقُ!

برادر مکرم، علامہ محقق جناب شیخ السید محمد علوی مالکی، حفظہ اللہ ورعاہ، نے خواہش ظاہر فرمائی ہے کہ ان کی کتاب ’’مفاہیم یجب ان تصحح‘‘ پر ہم اپنی رائے تقریظ کی صورت میں پیش کریں، وہ جس شریف علمی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، اس کی بنا پر وہ اپنی تصانیف میں ہم جیسوں کی تقریظ سے بے نیاز ہیں، ان کے والدؒ اپنے علم و فضل اور زہد و تقویٰ کی بدولت عالم اسلام میں معروف شخصیت کے حامل تھے اور خود مصنف بحمداللہ اپنے والد گرامی کے جانشین ہیں۔ اس لئے ان کی یہ خواہش درحقیقت ان کی تواضع فی اللہ، علم اور طالبانِ علم سے ان کی محبت، اور ان کی طرف سے تلاشِ حق کی آئینہ دار ہے۔

بہرحال آئندہ سطور کی تحریر کا مقصد ان کی خواہش کی تکمیل بھی ہے اور ان کی دعاؤں کا حصول بھی، نیز جہاں اس تحریر کا مقصد اپنی مسرت کو ظاہر کرنا ہے، کیونکہ کتاب کے اکثر مباحث کو دیکھ کر ہمیں بہت مسرت ہوئی وہاں اس تحریر کے ذریعہ کتاب کے بعض مباحث کے بارے میں اپنا تبصرہ ظاہر کرنا بھی پیشِ نظر ہے۔

مؤلف نے اپنی کتاب میں جن مسائل کو موضوع بحث بنایا ہے، بلاشبہ وہ نازک موضوعات ہیں، ان مباحث میں افراط و تفریط نے مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرکے ان میں اختلاف و افتراق کی فضا کو جنم دیا ہے، جس سے آج ہر مؤمن کا دل دکھا ہوا ہے، ان مباحث میں ایسے افراد کی تعداد بہت کم ہے، جو اعتدال اور توازن کے ساتھ ان مسائل کو پَرکھیں، ہر بات کو اپنی صحیح جگہ پر رکھیں، اور افراط و تفریط سے بچتے ہوئے انصاف کا راستہ اختیار کریں۔

ان مسائل میں اکثر مسائل وہ ہیں جو فروعی بھی ہیں اور نظریاتی بھی، نہ ان پر ایمان کا دار و مدار ہے، نہ یہ مسائل اسلام اور کفر کے درمیان حدِ فاصل کی حیثیت رکھتے ہیں، بلکہ ان میں سے بعض مسائل تو وہ ہیں کہ ان کے بارے میں نہ قبر میں سوال ہوگا، نہ حشر میں، نہ حساب و کتاب کے وقت ان کے بارے میں بازپُرس کی جائے گی۔ اگر کسی شخص کو عمر بھر ان مسائل کا علم نہ ہو تو نہ اس کے دین میں کوئی کمی آتی ہے اور نہ اس کے ایمان میں رائی برابر فرق آتا ہے، جیسے مثلاً: یہ مسئلہ کہ حیاتِ برزخی کی کیا حقیقت اور اس کی کیا کیفیت ہے؟ اس جیسے مسائل محض نظریاتی اور فلسفیانہ حیثیت رکھتے ہیں۔

لیکن کس قدر افسوس کی بات ہے کہ انہی جیسے مسائل میں جب بحثیں کھڑی ہوجاتی ہیں اور طویل مناظرے کئے گئے تو یہی مسائل ’’دین کے اصلی مقاصد‘‘ یا ’’اسلام کے بنیادی عقائد‘‘ سمجھے جانے لگے اور کتنے ہی لوگ ان جیسے مسائل میں تشدد کی راہ اختیار کرکے اپنے مخالفین پر کفر، شرک اور گمراہی کے الزامات عائد کرنے لگے۔ بسااوقات اس انتہاپسندانہ تنگ نظری کا یہ خاصہ ہوتا ہے کہ وہ ان جیسے فروعی نظریاتی مسائل میں تو بہت پرجوش ہوتی ہے، مگر اسلام کے اساسی اصولوں پر حملہ آور ان قوتوں کے مقابلہ میں چشم پوشی سے کام لے کر ان سے صرف نظر کرلیتی ہے جو کھلی دہریت، مادر پدر آزادی اور کھلی عریانی کو پھیلانا، اور کفار و اغیار سے درآمد شدہ منکرات کو فروغ دینا چاہتی ہوں۔

برادرم جناب علامہ سید محمد علوی مالکی -حفظہ اللہ- نے اس ذہنیت کے بارے میں خاص توفیق کے ساتھ گفتگو کی ہے اور یہ بات ثابت کی ہے کہ جو آدمی دین کی تمام ضروریات پر ایمان رکھتا ہو تو محض اس بنا پر اس کی تکفیر جائز نہیں کہ اس نے ان اختلافی مسائل میں کسی ایک جانب کی رائے کو اختیار کرلیا ہے، جن میں علمائے اسلام کے مابین شروع سے اختلاف رہا ہے۔

پھر مؤلف نے ان فروعی مسائل میں سے بعض کا ذکر کیا ہے، جن میں مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقع ہوا، اور کچھ لوگوں نے محض ان مسائل کی وجہ سے دوسروں کو کافر یا گمراہ قرار دیا۔ ان مسائل میں دعا میں وسیلہ کا جواز، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر اطہر کی زیارت کی نیت سے سفر کی اجازت، انبیائے کرامؑ، صحابہؓ اور صلحاء کی نشانیوں سے برکت حاصل کرنا، نبوت، بشریت اور حیاتِ برزخی کی حقیقت میں اختلاف جیسے مسائل شامل ہیں۔

مؤلف نے ان جیسے مسائل میں جو درست موقف اختیار کرلیا وہ بلاشبہ قرآن و سنت کے روشن دلائل، اور صحابہؓ اور سلف صالحینؒ کے تعامل سے ثابت ہے، مؤلف نے واضح دلائل اور قوی اسلوب کے ساتھ یہ بات ثابت کی ہے کہ جو شخص دعا میں توسل کو جائز سمجھتا ہو، یا انبیاء اور صلحاء کی باقی ماندہ نشانیوں کو باعثِ برکت جانتا ہو، یا روضۂ اطہر کی زیارت کو باعثِ ثوابِ عظیم سمجھ کر اس کے لئے سفر کرتا ہو، یا انبیاء علیہم السلام کے لئے قبروں میں ایسی حیاتِ برزخی پر ایمان جو دوسروں کے مقابلہ میں کہیں زیادہ بڑھی ہوئی ہے، تو ایسا شخص کسی گناہ کا بھی مرتکب نہیں، چہ جائیکہ وہ شرک یا کفر میں مبتلا گردانا جائے، چونکہ یہ سب باتیں قرآن و سنت کے دلائل سے ثابت ہیں، سلف صالحین کا ان پر عمل رہا ہے، اور جمہور علمائے راسخین ہر زمانہ میں اس کے قائل رہے ہیں۔

اسی طرح مؤلف نے اشاعرہ اور ان کی جانب سے صفاتِ باری تعالیٰ میں تأویل کے مسلک پر بھی گفتگو کی ہے، اس میں تو کوئی شک نہیں کہ سب سے بہتر سلامتی کا موقف تو وہی ہے جسے محدثین نے اپنے اس قول سے تعبیر کیا ہے: ’’أمَرُوْهَا بِلاَ كَيْفٍ‘‘ یعنی بلاکیفیت بیان کئے ان کے قائل رہو، لیکن بہرحال تأویل کا وہ مسلک جسے اشاعرہ نے تشبیہ کے بالمقابل تنزیہ باری تعالیٰ کے پیشِ نظر اجتہادی طور پر اختیار کیا ہے وہ بھی ایک جائز توجیہ ہے، جسے اشاعرہ نے محض عقیدۂ توحید پر مکمل تمسک اور تجیم کے شبہات سے بچنے کے لئے اختیار کیا، اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ متقدمین میں سے بہت سے ایسے اکابر علماء نے اس مسلک کو اختیار فرمایا ہے، جن کے علم و فضل سے وہی شخص انکار کرسکتا ہے جو یا جاہل ہو، یا حقائق کا منکر، اس لئے ان اشاعرہ پر کفر و گمراہی کی تہمت لگانا یا انہیں اہلِ سنت کے دائرہ سے نکال کر معتزلہ اور جہمیہ کی صف میں لاکھڑا کرنا کیسے جائز ہوسکتا ہے؟ أَعَاذَنَا اللهُ مِنْ ذٰلِكَ!

برادر مؤلف نے اس سلسلہ میں کتنی اچھی بات کہی ہے:

’’کیا معترض کے لئے اتنا کافی نہیں کہ وہ یہ کہہ دے کہ ان (علمائے اشاعرہ) نے اجتہاد کیا تھا، جس میں ان سے تأویلِ صفات کے مسئلے میں چوک ہوگئی، اور بہتر یہ تھا کہ وہ یہ راستہ اختیار نہ کرتے، بجائے اس کے کہ ہم ان پر کجی اور گمراہی کی تہمتیں لگائیں اور جو شخص انہیں اہل سنت والجماعت میں سے سمجھتا ہو اس پر غضبناک ہوں۔‘‘

(ص:۳۹)

ان جیسے مسائل میں مؤلف سلمہ اللہ نے جو فکری راستہ اختیار کیا ہے بلاشبہ وہ اعتدال کا راستہ ہے، جسے اگر مسلمان کشادہ قلبی اور وسعتِ صدر کے ساتھ اختیار کریں تو بہت سی اُلجھنیں دور ہوسکتی ہیں، اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے والی دشمن کی کوششوں پر پانی پھیرا جاسکتا ہے۔

اس کتاب کے مطالعہ کے دوران بعض ایسے اُمور بھی سامنے آئے جن کے بارے میں اپنا تبصرہ پیش کرنا ضروری ہے اور اس کا مقصد بھی ادائیگیٔ محبت، جذبۂ خیرخواہی نیز مؤلف کے حکم کی اطاعت کے سوا کچھ اور نہیں ہے، وہ اُمور درج ذیل ہیں:

ا:۔جن مباحث کے بارے میں مؤلف -حفظہ اللہ- نے گفتگو چھیڑی ہے، وہ مباحث نازک بھی ہیں اور انتہائی درجہ کے حساس بھی، ان مسائل میں افراط و تفریط کی بہت گرم بازاری ہوچکی ہے، ان مسائل میں کسی ایک جانب کی اصلاح بعض اوقات دُوسری جانب میں فساد پیدا کردیتی ہے، اور کسی ایک جہت میں پوری توجہ مرکوز کرلینے سے بھی کبھی دُوسری جہت کا حق بالکل ضائع ہوجاتا ہے، لہٰذا ان مسائل میں گفتگو کرنے کے لئے لازم ہے کہ وہ دونوں جانب کا پورا خیال رکھتے ہوئے انتہائی احتیاط کو اپنائے تاکہ اس کی عبارات خلاف حق میں استعمال نہ ہوسکیں۔

چونکہ اس کتاب کا موضوع یہ ہے کہ ان لوگوں کے غلو پر ردّ کیا جائے جو عام مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں، یا ان لوگوں کو مشرک قرار دیتے ہیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اولیاء و صلحاء کے ساتھ محبت و تعظیم کا معاملہ کرتے ہیں، اس لئے یہ فطری امر ہے کہ کتاب میں ان دُوسرے لوگوں پر تفصیلی ردّ موجود نہ ہو جو اس تعظیم کے اندر ایسے غلو میں مبتلا ہیں، جس سے کتاب و سنت نے بھی منع کیا ہے، اور علمائے شریعت بھی ہر زمانے میں اور ہر جگہ اس پر ردّ کرتے آئے ہیں، مگر اس کے باوجود ہمارے خیال میں موضوع کی اہمیت کے پیشِ نظر یہ بات ضروری تھی کہ اس جانب بھی توجہ دی جاتی اور چاہے مختصراً ہی سہی، مگر ان لوگوں پر ضرور ردّ کیا جاتا جو اس تعظیم میں ایسا غلو کرتے ہیں جو کم از کم موہمِ شرک ضرور ہوجاتا ہے۔

۲:۔ہم نے محسوس کیا کہ بعض اہم مسائل میں اتنے اجمال سے کام لیا گیا ہے کہ جس سے لوگوں کو غلط فہمی ہوسکتی ہے، اور وہ اس سے خلافِ مقصود پر استدلال کرتے ہوئے (ان مجمل عبارات کو) اپنے فاسد نظریات کے لئے استعمال کرسکتے ہیں۔ ان مسائل میں سے ایک ’’علمِ غیب‘‘ کا مسئلہ ہے، جس پر مؤلف -حفظہ اللہ- بہت تیزی سے گزرگئے ہیں، انہوں نے اتنا تو ذکر کیا کہ علمِ غیب اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے لئے (خاص) ہے، مگر اس کے فوراً بعد لکھا:

’’یہ بات ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو غیب کا جو حصہ سکھایا تھا وہ سکھادیا اور جو دینا تھا وہ دے دیا۔‘‘

یہ بات تو حق ہے جس سے مؤلف کی مراد یہ ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی انباء الغیب کی ایک بڑی تعداد عطا فرمائی۔ لیکن بعض لوگ ان انباء الغیب کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب اس نسبت پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ وہ صراحتاً یہ بات کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ’’عالم الغیب‘‘ تھے، اور انہیں قیامت تک کا جَمِيْعُ مَا كَانَ وَمَا يَكُوْنُ (جو کچھ ہوچکا اور جو کچھ ہونے والا ہے) کا علمِ محیط حاصل تھا۔ ہمیں ڈر ہے کہ مؤلف کا یہ اجمال کہیں اس نظریہ کا وہم نہ پیدا کردے جس کی جمہور علمائے اہلِ سنت تردید کرتے چلے آئے ہیں۔

۳:۔ اسی طرح مؤلف نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تحریر فرمایا ہے:

’’بے شک وہ دارین میں زندہ ہیں، اپنی امت کی طرف مسلسل متوجہ ہیں، امت کے معاملات میں اللہ کے حکم سے تصرف فرماتے ہیں، امت کے احوال کی خبر رکھتے ہیں، آپ کی امت کے درود پڑھنے والوں کا درود آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیش کیا جاتا ہے، اور ان کی کثیر تعداد کے باوجود ان کا سلام آپ تک پہنچتا رہتا ہے۔‘‘ (ص:۹۱)

ظاہر تو یہی ہے کہ تصرف سے مؤلف کی مراد تصرفِ کلی مطلق نہیں، اور نہ امت کے احوال سے باخبر رہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو تمام جزئیات کا علمِ محیط حاصل ہے، کیونکہ ایسا سمجھنا بالکل باطل بھی ہے اور اہلِ سنت والجماعت کے عقائد کے خلاف بھی۔ بظاہر مؤلف کی مراد یہ ہے کہ آپ کے لئے بعض جزئی تصرفات، نصوص سے ثابت ہیں جیسا کہ خود مؤلف نے مثال میں صلاۃ و سلام کا پیش ہونا اور آپ کا جواب دینا ذکر کیا ہے۔ لیکن ہمیں ڈر ہے کہ یہ تعبیر بھی خلافِ مقصود کا وہم پیدا کرنے والی ہے، اور دُوسری جانب کے بعض غلو پسند افراد اس کو اپنا مستدل بناسکتے ہیں۔

۴:۔ ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ مؤلف نے یہ موقف بہتر اختیار کیا ہے کہ کسی بھی مسلمان کی تکفیر میں پوری احتیاط لازم رکھی جائے، اور جب تک کسی مسلمان کے کلام کا صحیح محمل ممکن ہو یا کم از کم اس کے کلام کا ایسا مطلب مراد لینا ممکن ہو جو اسے کفر سے بچاتا ہو، حتی الامکان اس کی تکفیر نہ کی جائے۔ لیکن (یہ بات ملحوظ رہنی چاہئے) کہ کسی مسلمان کی تکفیر کرنا اور بات ہے اور مسلمان کو باطل کلمات یا موہم کلمات سے روکنا دُوسرا معاملہ ہے، تکفیر میں تو احتیاط یہ ہے کہ جب تک ممکن ہوسکے تکفیر سے بچا جائے، لیکن دُوسرے معاملے میں احتیاط ہی یہ ہے کہ ان کلمات کے استعمال سے بالکلیہ روکا جائے۔

مؤلف نے اس سلسلے میں لکھا ہے:

’’کہنے والے کا یہ کہنا کہ: ’’اے اللہ کے نبی! مجھے شفا دے دے اور میرے قرض ادا کردے‘‘، اگر فرض کرلیا جائے کہ کسی نے یہی کہا تو بھی تو اس کی یہی مراد ہوگی کہ اے نبی! آپ شفا کے لئے سفارش فرمادیں اور میرے قرض کی ادائیگی کے لئے دعا فرمادیں اور میرے معاملے میں اللہ تعالیٰ کی جانب توجہ فرمائیں، تو انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف وہی چیز طلب کی ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو قدرت دی اور مالک بنایا ہے، یعنی دعا اور سفارش، تو عوام کے کلام میں یہ اسناد مجاز عقلی کے قبیل سے ہے۔‘‘ (ص:۹۵)

تکفیر سے بچنے کے لئے یہ اچھی تأویل ہے، اور یہ مؤمنین کے ساتھ حسنِ ظن رکھنے پر مبنی ہے، مگر یہ حسنِ ظن وہیں کام دے سکتا ہے جہاں قائل خود اپنے کلام کی اس تأویل کو ردّ نہ کرتا ہو، لیکن اگر کوئی قائل اس تأویل کو بذاتِ خود قبول نہ کرے، جیسا کہ ہمارے علم کے مطابق بعض حضرات کا یہی حال ہے تو پھر اس کے کلام کی وہ تأویل کیسے ممکن ہے جس پر وہ خود راضی نہیں۔

مزید برآں یہ تأویل اگر اس قائل کو تکفیر سے بچا بھی لے تو کیا ان جیسے کلمات کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جاسکتی ہے؟ ہرگز نہیں! بلکہ ان جیسے کلمات سے اس قائل کو روکا جائے تاکہ ایہام شرک اور مشرکین کے ساتھ تشبیہ کم از کم پیدا نہ ہو۔ اس کی مثال یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث شریف میں اپنے غلام کو ’’عبدی‘‘ کہنے سے صرف اس لئے منع فرمایا کہ یہ لفظ موہم تھا۔ (رواہ مسلم، مشکوٰۃ ص:۴۰۷)

اس لئے ہمارے خیال کے مطابق جو شخص ان قائلین کے کلام میں تأویل کا خواہش مند ہو اس پر واجب ہے کہ وہ صراحتاً انہیں اس جیسے کلام سے روکے تاکہ موہم شرک کلمات کے استعمال کی حوصلہ افزائی نہ ہو، اس لئے کہ جو شخص حمی (سرکاری چراگاہ) کے گرد چراتا ہے اس کے حمی میں چلے جانے کا امکان بہت غالب ہے۔ إشَارَةٌ إِلٰى الْحَدِيْثِ الَّذِيْ أَخْرَجَهُ الشَّيْخَانِ وَفِيْهِ:وَمَنْ وَقَعَ فِيْ الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِيْ الْحَرَامِ، كَرَاعٍ يَرْعٰى حَوْلَ الْحِمٰى يُوْشِكُ أَنْ يَرْتَعَ فِيْهِ، أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمٰى، أَلَا إِنَّ حِمَى اللهِ مَحَارِمُهُ‘‘ مشکوٰۃ المصابیح ص:۲۴۱)

اسی طرح ہر وہ توسل جس میں الفاظِ ندا اختیار کئے جائیں یا غیراللہ کے لئے ’’مفرجِ مکروبات‘‘ یا ’’قاضی الحاجات‘‘ جیسے الفاظ استعمال کئے جائیں، اسی حکم میں داخل ہیں۔

۵:۔ مؤلف -حفظہ اللہ- نے ذکر کیا ہے کہ بدعت کی دو قسمیں ہیں: حسنہ اور سیئہ، دُوسری قسم منکر ہے مگر پہلی نہیں۔ بدعت کے لغوی معنی کے اعتبار سے یہ تقسیم صحیح ہے، اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے معروف قول: ’’نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هٰذِهِ!‘‘ (رواہ البخاری، مشکوٰۃ المصابیح ص:۱۱۵) میں بدعت کو اسی لغوی معنی میں استعمال کیا ہے، لیکن بدعت اگر اپنے معنی اصطلاحی میں لی جائے تو وہ سیئہ ہی سیئہ ہے، اور اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ!‘‘ (رواہ مسلم، مشکوٰۃ المصابیح ص:۲۷) یعنی ہر بدعت گمراہی ہے۔

۶:۔ مؤلف نے بتوفیقِ خداوندی اپنی کتاب میں خصائصِ نبویہ کا بھی ذکر کیا اور فرمایا:

’’انبیائے کرام علیہم السلام اگرچہ انسانوں میں سے ہوتے ہیں، کھاتے اور پیتے ہیں ۔۔۔ اور ان پر بھی وہ تمام عوارض پیش آتے ہیں جو باقی انسانوں کو پیش آتے ہیں، کمزوری، بڑھاپا، موت وغیرہ، مگر وہ اپنی بعض خصوصیات کے ذریعہ عام انسانوں سے ممتاز ہوتے ہیں، اور ان جلیل القدر عظیم الشان صفات کے حامل ہوتے ہیں جو ان کے حوالہ سے لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتی ہیں۔‘‘ (ص:۱۲۷)

پھر مؤلف نے انبیائے کرام علیہم السلام اور خصوصاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات ذکر فرمائیں تاکہ کسی کے ذہن میں یہ بات نہ آجائے کہ العیاذ باللہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم صفات اور احوال میں دُوسرے عام انسانوں کے برابر ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات ہمارے تصورات سے بھی کہیں بالاتر ہیں، لیکن ساتھ ساتھ ہم یہ بھی اعتقاد رکھتے ہیں کہ آپ کی ذاتِ مبارک اس سے بالاتر ہے کہ ہم ضعیف روایات سے آپ کی خصوصیات ثابت کریں۔ اس لئے کہ قرآنِ کریم اور احادیثِ صحیحہ سے آپ کی جو خصوصیات ثابت شدہ ہیں وہ تعداد میں بھی زیادہ ہیں اور فضیلت میں بھی، نیز قلوبِ انسانی میں ان کی تأثیر، روایاتِ ضعیفہ سے ثابت ہونے والی خصوصیات کے مقابلے میں کہیں زیادہ قوی ہے، مثلاً: کتاب میں ذکر کردہ یہ روایت کہ آپ کا سایہ مبارک نہ تھا، جمہور علماء اور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔

۷:۔ مؤلف سلمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’مولد نبوی شریف کے لئے اجتماعات عادت پر مبنی ایک معاملہ ہے، اس کا عبادت سے کوئی تعلق نہیں، ہم اسی کا اعتقاد رکھتے ہیں اور فیما بیننا وبین اللہ اسی کے قائل ہیں۔‘‘

پھر آگے لکھتے ہیں:

’’ہم اعلان کرتے ہیں کہ صرف ایک رات کے ساتھ اجتماع کو مخصوص کرلینا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بڑی بے وفائی ہے۔‘‘ (ص:۲۲۵)

اس میں کوئی شک نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذِکرِ مبارک اور آپ کی سیرتِ مبارکہ کا بیان انتہائی بابرکت اور اور باعثِ سعادت عمل ہے، جبکہ اسے کسی خاص دن یا خاص تاریخ کے ساتھ مقید نہ کیا جائے، اور یہ بھی اعتقاد نہ ہو کہ کسی خاص دن میں، کسی خاص ہیئت کے ساتھ اجتماع کرنا عبادت ہے، ان شروط کا لحاظ رکھتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذِکرِ مبارک کے لئے اجتماع فی نفسہٖ جائز ہے، جو انکار یا ملامت کا مستحق نہیں۔

لیکن یہاں ایک اور نقطہ نظر ہے جسے محقق اور اہلِ تقویٰ علماء کی ایک بڑی جماعت نے اختیار فرمایا، اور وہ یہ کہ یہ اجتماع خواہ فی نفسہٖ جائز ہو، لیکن بہت سے لوگ اسے عباداتِ مقصودہ یا واجباتِ دینیہ میں سے سمجھتے ہیں، اور اس کے لئے مخصوص دنوں کو متعین کیا جاتا ہے، اور پھر اس میں غلط اعتقادات اور ناجائز افعال کا ارتکاب کیا جاتا ہے، مزید برآں عام لوگوں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ عادت اور عبادت کے درمیان دقیق فرق کا خیال رکھیں گے، بڑا مشکل ہے، لہٰذا ان مذکورہ بالا اُمور کے پیشِ نظر کہ جن کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، اگر ان متقی علمائے کرام نے یہ موقف اختیار فرمایا کہ سدِّ ذرائع اور جلبِ مصالح پر دفعِ مفاسد کو مقدم رکھنے جیسے اُصولوں کی بنا پر ان جیسے اجتماعات سے رکنا ہی ضروری ہے، تو یقینا ان کا موقف دلیلِ شرعی پر مبنی ہے اور ان پر انکار و ملامت بھی ہرگز جائز نہیں۔

ان جیسے مسائل میں وہی راستہ درست ہے جو مجتہد فیہ مسائل میں اختیار کیا جاتا ہے کہ ہر آدمی اپنے عمل اور فتویٰ میں وہ راستہ اختیار کرے جو اس کی نگاہ میں درست ہے اور جس کا وہ فیما بینہ وبین اللہ جواب دہ ہوگا، اور اسے چاہئے کہ دُوسرے اجتہادی موقف کے قائل حضرات پر ملامت کے تیر برسانے سے گریز کرے۔

خلاصہ یہ کہ ہم نے مذکورہ تبصرہ میں جو گزارشات پیش کی ہیں، ان کو ملحوظ رکھتے ہوئے محترم جناب علامہ محقق السید محمد علوی المالکی-حَفِظَهُ اللهُ وَنَفَعَ بِهِ الْإِسْلَامَ وَالْمُسْلِمِيْنَ- نے اپنی کتاب میں ان بہت سے دلائل کو منقح کیا ہے جن کے سمجھنے میں لوگوں کو غلطی ہوتی ہے۔ مؤلف نے ان کا حقیقی مفہوم کتاب و سنت کے دلائل کی روشنی میں ذکر کیا ہے۔

ہم اُمید کرتے ہیں کہ ان کی کتاب مخاصمت اور مخالفت کے جوش کے بجائے انصاف کی آنکھ سے مفاہمت کی فضا میں پڑھی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو اس کی توفیق عطا کرے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے لئے حق کی گواہی دیتے ہوئے انصاف قائم کرنے والے بنیں، اگرچہ ہمارے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو؟

إِنَّهُ تَعَالٰى سَمِيْعٌ قَرِيْبٌ مُجِيْبُ الدَّاعِيْنَ، وَصَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلٰى سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِيْنَ!‘‘

مفتی محمد رفیع عثمانی مفتی محمد تقی عثمانی

رئیس جامعہ دارالعلوم کراچی خادم الطلبہ بدارالعلوم کراچی

یہی قصہ مولانا محمد مالک کاندھلویؒ کے ساتھ ہوا، کہ ان کو بھی ایک رات کی مہلت ملی، چونکہ ان کو کتاب کے اصل ہدف سے پہلے ہی آگاہ کردیا گیا تھا کہ یہ کتاب تکفیر کرنے والے سلفی متشددین کی اصلاح کے لئے لکھی گئی ہے، اس لئے انہوں نے اسی نقطئہ نظر سے سرسری دیکھا اور راتوں رات تقریظ لکھ کر صبح ناشتہ پر آپ کے حوالہ کردی، مرحوم زندہ ہوتے اور متنازع فیہ نکات کے بارے میں ان سے رجوع کیا جاتا تو ان کی رائے مولانا محمد تقی صاحب سے مختلف نہ ہوتی، باقی بزرگوں نے مولانا مرحوم کی بھرپور تقریظ دیکھ کر ان کے احترام میں کتاب کو پڑھنے کی ضرورت ہی نہ سمجھی، حد یہ کہ ایک بزرگ نے اپنی طرف سے اصالۃً اور بیس ہزار علماء کی جانب سے نیابتاً صاد کردیا، یہ شاید اپنی نوعیت کی منفرد اور بے نظیر مثال ہوگی۔

۳:۔ آنجناب نے ’’اکابر کا مسلک و مشرب‘‘ نامی رسالہ کے بارے میں (جس کا ذکر میری تحریر میں اسطرداداً آگیا تھا) رائے طلب فرمائی ہے، اور یہ کہ ’’جو اصلاحات تجویز کی جائیں ان پر عمل کیا جائے گا، بشرطیکہ مقصودِ رسالہ کے خلاف نہ ہو‘‘ یہ ایک مستقل اور تفصیل طلب موضوع ہے، تاہم یہ ناکارہ اتنا عرض کردینا کافی سمجھتا ہے کہ اس ناکارہ کے خیال میں ’’مقصودِ رسالہ‘‘ ہی محلِ نظر ہے، جن حضرات نے ہمارے اکابر قدس اللہ اسرارہم کے خلاف فتوے لگائے (اور جن کا سلسلہ تا دَمِ تحریر پوری حدت و شدت کے ساتھ جاری ہے) ان کو اس سے باز رکھنے کی کوشش کی جاتی، نہ کہ ہمارے اکابر کے حاشیہ برداروں کو ’’وَدُّواْ لَوۡ تُدۡهِنُ فَيُدۡهِنُونَ‘‘کی راہ پر ڈالنے کی کوشش کی جاتی، اور اہلِ بدعت کو اہلِ سنت منوانے کی راہ اختیار کی جاتی، کیا ہمارے ’’اکابر کا مسلک و مشرب‘‘ یہی تھا؟

۴:۔ جناب صوفی محمد اقبال دام اقبالہٗ کے بارے میں اس ناکارہ نے سماعی روایت نقل کردی تھی کہ وہ جناب سید علوی سے بیعت ہوگئے ہیں، میں آنجناب کا ممنون ہوں کہ آپ نے اس کی اصلاح فرمادی کہ سید علوی تو کسی کو بیعت ہی نہیں کرتے، ’’البتہ یہ صحیح ہے کہ انہوں نے حضرت صوفی صاحب کو سلسلہ شاذلیہ میں اجازت و خلافت دی ہے‘‘ اِنْتَهٰى بِـلَفْظِكُمُ الشَّرِيْفُ۔ جن صاحب نے مجھ سے نقل کیا تھا، غالباً انہوں نے خلافت و اجازت ہی کو بیعت کرنے سے تعبیر کردیا ہوگا، بہرحال اس اصلاح پر جناب کا تہِ دل سے ممنون ہوں، گو اس ناکارہ کی تقریع اب بھی صحیح ہے، یعنی شیخ علوی سے حضرت صوفی صاحب کی ہم مشربی و ہم رنگی، اور ان کے مسلک و مشرب کی اشاعت کا جذبہ۔

۵:۔ حضرت مولانا عزیزالرحمن کے مسترشد کا نوٹ کہ ’’یہ حضرات تبلیغی جماعت کے خلاف ذہن بناتے ہیں‘‘ آنجناب نے غلط فہمی قرار دیا ہے، کیونکہ ’’حضرت موصوف کے ہزاروں مرید اس کام میں لگے ہوئے ہیں، ہاں البتہ یہ بات برحق ہے کہ بعض افراد وعناصر کی ضرور مخالفت کرتے ہوں گے، جنہوں نے فضائلِ درود شریف کو تبلیغی نصاب سے نکالا‘‘ چلئے! یہ غلط فہمی ہی سہی، اللہ تعالیٰ کرے کہ ہمارے شیخ نور اللہ مرقدہٗ کے لوگوں میں کوئی اس مبارک کام کی مخالفت کرنے والا نہ ہو، حضرتِ موصوف کو بھی اس غلط فہمی سے جو ان کے مرید کو ہوئی، رنجیدہ نہ ہونا چاہئے کہ بقول عارف:

دریائے فراواں نشود تیرہ بہ سنگ

عارف کہ برنجد تنک آب است ہنوز

۶:۔ آنجناب نے شیخ علوی کا ہمارے اکابر خصوصاً ہمارے شیخ نور اللہ مرقدہٗ کے ساتھ والہانہ تعلق بہت ہی تفصیل کے ساتھ زیبِ رقم فرمایا ہے، اور بریلویت کے ساتھ ان کے تعلق کی تردید فرمائی ہے، اور بریلوی ماہنامہ سے ’’حق چاریار‘‘ میں جو کچھ نقل کیا ہے، اس کی بھرپور تغلیط فرمائی ہے، اس سے اس ناکارہ کو بہت ہی انشراح ہوا، فَجَزَاكُمُ اللهُ أَحْسَنَ الْجَزَاءِ! چونکہ قاضی مظہر حسین صاحب اس ناکارہ کی طرح سید علوی کے حالات سے واقف نہیں ہوں گے اس لئے ان کا بریلوی پرچہ ’’جہانِ رضا‘‘ پر اعتماد کرکے ان کو بریلوی قرار دینا ایک فطری امر تھا۔ اس لئے ان کو (اور ان کی تقلید میں اس ناکارہ کو) تو معذور سمجھنا چاہئے۔ ’’جہانِ رضا‘‘ کا یہ پرچہ فروری ۱۹۹۲ء میں شائع ہوا، جس میں بڑے دھڑلے سے سید علوی کو بریلوی ثابت کیا گیا، پورے تین سال کے عرصہ میں شیخ علوی کی جانب سے یا ان کے مداحوں کی جانب سے کوئی تردید نہیں آئی، نہ کسی وضاحت کی زحمت کی گئی، پھر سید علوی کے رسالہ ’’حول الْإحتفال بالمولد النبوی الشریف‘‘ کا ترجمہ بریلوی حلقہ کی جانب سے ’’میلادِ مصطفی‘‘ کے نام سے شائع کیا جاتا ہے، ادھر ان کی کتاب کا ترجمہ ’’اِصلاحِ مفاہیم‘‘ کے نام سے ہمارے سامنے آتا ہے، جس میں متنازع فیہ مسائل میں مصنف کا جھکاؤ بریلویت کی طرف نظر آتا ہے، جبکہ ’’جہانِ رضا‘‘ میں ان کا فقرہ بلاخوفِ تردید نقل کیا جاچکا ہے کہ: ’’سیدی علامہ احمد رضاخان فاضل بریلوی کو ہم ان کی تصنیفات و تعلیقات کے ذریعہ جانتے ہیں، وہ اہلِ سنت کے علامہ تھے، ان سے محبت کرنا سنی ہونے کی علامت ہے، اور ان سے بغض رکھنا اہلِ بدعت کی نشانی ہے‘‘ اور یہ کہ: ’’سید علوی کو فاضل بریلوی کے خلیفہ ضیاء الدین قادری سے، جو معمر ترین بزرگ تھے، اور جن کی عمر سو سال سے زائد ہے، تمام سلاسل میں اجازت و خلافت حاصل ہے۔‘‘

ان تمام اُمور کو پیشِ نظر رکھ کر انصاف کیجئے کہ ایک خالی الذہن آدمی کو جناب مصنف کے بارے میں کیا رائے قائم کرنی چاہئے؟ جناب قاضی مظہر حسین صاحب پر خفا ہونے کے بجائے ہونا یہ چاہئے تھا کہ خود شیخ علوی مالکی کی جانب سے ’’جہانِ رضا‘‘ کے مندرجات کی تردید کرادی جاتی، اور انتساب الی البریلویت سے اظہارِ براء ت کرادیا جاتا، جب تک یہ نہ ہو میں یا آپ اس کی ہزار تردید کریں اس کی کیا قیمت ہے۔۔۔؟ تین سال سے علیٰ رؤوس الاشہاد اعلان کیا جارہا ہے کہ وہ بریلوی ہیں، اور جنابِ شیخ اپنے سکوت سے اس پر مہرِ تصدیق ثبت فرما رہے ہیں، آپ کی تردید کو کون مانے گا۔۔۔؟ اس لئے اگر بریلویت کے انتساب سے ان کی براء ت کرانی ہے تو خود انہی کی جانب سے براء ت کا اعلان کرائیے، اگر شیخ علوی کی حیات میں یہ کام نہ ہوا تو نہ صرف یہ کہ ہماری توجیہات رائیگاں اور بے سود قرار پائیں گی، بلکہ اندیشہ ہے کہ آپ تینوں بزرگوں (قبلہ صوفی صاحب، آپ اور جناب مولانا عزیزالرحمن صاحب زید مجدہٗ) کو بھی یار لوگ اسی لپیٹ میں نہ ڈالیں کہ: ’’یہ تینوں حضرت شیخ محمد مالکی بریلوی کے حلقہ نشین دراصل دیوبندی نما بریلوی تھے، اسی بنا پر دیوبندیوں کو بریلویوں کے ساتھ متحد ہوجانے کے داعی تھے، لہٰذا دیوبندیوں کے مقابلہ میں بریلوی مذہب برحق ہے۔‘‘ یہ صرف خدشات نہیں بلکہ آپ حضرات کی دعوتِ اتحاد پر بریلوی صاحبان نے ایسے شوشے چھوڑنے شروع کردئیے، مرورِ ایام کے بعد نہ جانے اس کو کیا کیا رنگ دیا جائے گا؟ الغرض جناب کی یہ وضاحتیں ہم خدام کے تو سر آنکھوں پر! آمنا وصدقنا! لیکن جب تک آپ خود جناب شیخ علوی مالکی کی جانب سے بریلویت سے اظہارِ براء ت نہیں کراتے، اور خصوصاً اس فقرے سے جو فاضل بریلوی مولانا احمد رضاخان کے بارے میں ’’جہانِ رضا‘‘ نے ان سے منسوب کیا ہے، تب تک مخالفوں پر حجت نہیں قائم ہوگی، اور وہ برابر یہ کہتے رہیں گے کہ فروری ۱۹۹۲ء میں شیخ موصوف کے بریلوی ہونے کا مدلل اعلان کیا گیا، لیکن شیخ نے خود خاموشی اختیار کرکے اس کی تائید کردی، اس کے بعد دوسروں کی وضاحت اور عذر، معذرت کا کیا اعتبار۔۔۔؟

آخر میں گزارش کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر میرے کسی لفظ سے قبلہ صوفی صاحب کی، مولانا عزیزالرحمن صاحب کی، آپ کی یا کسی اور کی دل آزاری ہوئی ہو، اس سے بصد ندامت غیرمشروط معافی کا خواستگار ہوں، جن ایسے الفاظ کی نشاندہی کردی جائے، نشاندہی کے بعد ان کو قلم زَد کردوں گا، حلفاً کہتا ہوں! مجھے نہ ان بزرگوں سے پرخاش ہے، نہ کدورت، بلکہ جیسا کہ پہلے بھی لکھ چکا ہوں ان کو اپنے سے بدرجہا افضل جانتا ہوں۔

جہاں تک شیخ علوی کی کتاب ’’اِصلاحِ مفاہیم‘‘ کا تعلق ہے، وہ آپ کے عرب ماحول میں مفید ہو یا نہ ہو، مگر ہمارے یہاں کے ماحول میں مفید ہونے کے بجائے مضر ہے، کاش! کہ اسے یہاں شائع نہ کیا جاتا۔

آنجناب نے ایک بزرگ کا مقولہ نقل فرمایا ہے کہ لدھیانوی کو بھی کسی نے بھڑکادیا ہے، یوں تو اس فقرہ کی کوئی اہمیت نہیں، بے چاری مٹی پر ہزار جوتے رسید کردو، اس کو شکایت نہیں ہوگی، تاہم یہ عرض کردینا بے جا نہیں ہوگا کہ مجھے میرے اکابرؒ کے تقدس نے بھڑکایا تھا، بقول عارف رومی:

گفتگوئے عاشقاں در امر ربّ

جوشش عشق است نے ترکِ ادب

جن ’’اکابر‘‘ کے انتساب سے ہماری دُنیا و آخرت وابستہ ہے، ایک طبقہ ان کی عزت و حرمت سے کھیل رہا ہو، اور ہم بالواسطہ یا بلاواسطہ ان کے پلڑے میں اپنا وزن ڈال رہے ہوں، تو مجھ ایسی مٹی کے لئے بھڑکنا لازم ہے، آپ یا آپ کے محترم بزرگ اس بارے میں جو رائے بھی قائم فرمائیں، آپ کا حق ہے۔

رَبَّنَا ٱغۡفِرۡ لَنَا وَلِإِخۡوَٰنِنَا ٱلَّذِينَ سَبَقُونَا بِٱلۡإِيمَٰنِ وَلَا تَجۡعَلۡ فِي قُلُوبِنَا غِلّٗا لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ رَبَّنَآ إِنَّكَ رَءُوفٞ رَّحِيمٌ

والسلام

محمد یوسف عفا اللہ عنہ

کراچی

تقریظ‌علی‌کتاب - شہید اسلام