سنت وبدعت
۳:۔مولانازرولیخانکاخط
جواب
محترم و مکرم حضرت مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی زیدت معالیکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
اللہ کرے مزاج سامی بخیر ہوں، آنجناب کا بلادِ عرب کے مشہور اور محقق عالم شیخ محمد علوی مالکی پر تبصرہ اور ان کی کتاب مفاہیم اور اس کے ترجمہ اِصلاحِ مفاہیم پر مبسوط تبصرہ نظر سے گزرا، تبصرہ خالص مخلصانہ مگر حد درجہ غیرناقدانہ اور غیرمحتاط ہے، کیونکہ موصوف کی صرف ایک کتاب بلکہ اس کے ترجمہ کو دیکھ کر انہیں بریلوی اور رضاخانی سمجھنا کم از کم ہمارے بزرگوں کا اور آپ جیسے دانش مند شاہکار لکھنے والے کی شان کے لائق نہیں، یہ دیکھ کر حد درجہ حیرت ہوئی کہ تبصرہ نگار کو شیخ علوی اور ان کی مطبوعہ اور متداول کتب کے بارے میں معلومات نہیں ہیں یا ان کے تبصرہ میں کوئی کام نہیں لیا گیا۔ حضرت اقدس قاضی مظہر حسین صاحب دامت برکاتہم بوجوہ ہم سب کے مخدوم اور کریم بزرگ ہیں، مگر ان کی تحریر اور مزاجِ اقدس کی پُرتشدد جولانیوں میں کبھی کبھی اپنے ہی زیر و زبر ہوجاتے ہیں۔ حضرت والا ہی کے فاضلانہ قلم سے قافلۂ حق کے سالار محمود الملۃ والدّین حضرت اقدس مولانا مفتی محمود صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے خلاف ’’احتجاجی مکتوب بنام مولانا مفتی محمود‘‘ جیسا سوہانِ رُوح رسالہ شائع ہوا ہے، جس کے بارے میں حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن صاحبؒ سے گفتگو کرتے ہوئے حضرت مولانا مفتی محمود صاحبؒ نے فرمایا تھا کہ: ہم اہلِ باطل سے مقابلہ کرتے ہیں تو بفضلہ تعالیٰ کامیاب ہوتے ہیں، لیکن اپنے جو پیچھے سے چھرا گھونپتے ہیں تو اس سے چلا نہیں جاتا۔ حضرت قاضی صاحب کا اخلاص، تدین، منصب احقاقِ حق و ابطالِ باطل ہم جیسے خوردہ نالائق تو کیا اکابر صلحاء کے ہاں مسلّمہ ہیں، مگر مسلسل ردّ و قدح کے میدان نے شاید ان کی تحریر میں کچھ اس طرح کی شدت بھی پیدا فرمائی ہے۔ آپ نے اپنی پوری تحریر کی اساس و بنیاد حضرت قاضی صاحب کے انکشافات جو مبتدعین کی جاہلانہ اور مقلوب حکایات پر مشتمل ہے، رکھی ہے۔ میرے خیال میں شیخ علوی کی کتاب آپ نے دیکھی ہی نہیں جس میں انہوں نے محدثِ کبیر حضرت اقدس الشیخ السید محمد یوسف بنوریؒ کے ساتھ اپنا شرفِ تلمذ بخاری و ترمذی میں اور حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحبؒ سے مؤطا امام مالک اور سنن ابی داؤد میں بلکہ صحیح مسلم میں بھی اور حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب اور دیگر اجلہ علمائے دیوبند سے اپنا شرفِ تلمذ کا ذکر فرمایا ہے۔ شیخ کی کتاب کا نام’’الطالع السعید المنتخب من المسلسلات والأسانید‘‘ ہے، نیز شیخ علوی جامعہ ازہر جانے سے پہلے جامعہ اسلامیہ (مدرسہ عربیہ) میں سال دو پڑھ چکے ہیں، اور اس کا والہانہ عقیدت و محبت بھرا تذکرہ وہ اپنے حضرات میں اور مجالس میں کرتے رہتے ہیں، حضرت شیخ الحدیث صاحبؒ نے ’’آپ بیتی‘‘ وغیرہ میں ان کا محبت بھرا برتاؤ اور ان پر اعتماد کا اظہار فرمایا ہے، بلاشبہ شیخ علوی ہمارے علمائے دیوبند کی طرح محدثات مرسومہ میں متشدد نہیں ہیں، لیکن وہ رضاخانی یا بریلوی یا بدعتی ہرگز نہیں ہیں، انعقادِ میلاد کا مسئلہ خود اجلہ محدثین اور سیدالطائفہ حضرت حاجی صاحبؒ بلکہ اوائل عمر میں خود حکیم الامتؒ کے ہاں بھی رہا ہے، علماء کو وسیع علم اور بسیط معلومات کے ساتھ کچھ علاقائی مسائل کا بھی کبھی ساتھ دینا ہوتا ہے جس میں خطا و صواب کا ایک پہلو غالب رہتا ہے، خدانخواستہ اگر اس قسم کے تبصرے ہمارے جانے پہچانے اور معروف معتمدین پر بغیر تحقیق اور چھان بین کے ہونے لگیں تو کہیں مولوی یونس سہارنپوری کی طرح شیخ ابوالوفاء افغانی اور اپنے زمانے کے امام شیخ زاہد الکوثریؒ جیسے اکابرِ امت پر بدعتی کے احکام صادر نہ ہونے لگیں، آنجناب کے بارے میں تو کبھی ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ آپ صوفی اقبال صاحب یا مولوی عزیزالرحمن صاحب کی جماعت تبلیغ یا حضرت شیخ الحدیث صاحبؒ کی نسبتِ کریمہ کے دُوسری طرف ملتفت ہونے سے متأثر ہوکر اس قدر غیرمحتاط تبصرہ فرمائیں گے اور یہ کوئی مشکل بات نہیں تھی۔ حضرت مولانا عبدالرزاق صاحب اسکندر دامت برکاتہم اور خود حضرت مولانا حبیب اللہ مختار صاحب مدظلہٗ شیخ علوی اور ان کے نظریات مجھ سے زیادہ بہت قریب سے جانتے ہیں، کم از کم ان سے مشورہ ضروری تھا، ’’بینات‘‘ جو ملک و ملت کا نمائندہ شمارہ ہے اسے کسی ایک فردِ متشدد کے صرف اِخلاص اور تقدس کا سہارا لے کر ایسے رجال کے خلاف استعمال نہیں کرنا چاہئے جن پر ہمارے بڑے اعتماد کرچکے ہیں، میں نے یہ چند سطور حضرتِ والا سے قریبی عقیدت اور حضرت کی تحریر اور شوکت تنقید کا غیر مصیب پہلو دیکھ کر لکھی ہیں، اگر تیر نشانے پر بیٹھا تو مناسب اعتذار بینات میں کرنا ہمارے اسلاف کا وطیرۂ دیانت رہا ہے، ورنہ سقطۃ المتاع کی جگہ ردّی کی ٹوکری ہے:
بشنود یا نشنود من ہائے ہوئی می کنم
قاضی صاحب دامت برکاتہم کا انکشاف کہ شیخ علوی بریلوی عقیدے کے حامل اور مولوی احمد رضاخان کے بیک واسطہ خلیفہ ہیں، اور جناب علوی کی فاضل بریلوی کی عقیدت کا یہ عالم ہے کہ وہ احمد رضاخان کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’نَحْنُ نَعْرِفُ تَصْنِيْفَاتِهِ وَتَأْلِيْفَاتِهِ، فَحُبُّهُ عَلَامَةُ السُّنَّةِ، وَبُغْضُهُ عَلَامَةُ الْبِدْعَةِ۔‘‘
واقعی یہ انکشاف و تحقیق عجیب تو کچھ نہیں، غریب و مسکین ضرور ہے، کیونکہ اس کا حوالہ مولوی غلام مصطفی مبتدع ہے، اگر واقعی شیخ علوی کو مولوی احمد رضا سے یہ عقیدت ہے تو اجلہ علمائے دیوبند کو انہوں نے مشائخِ حدیث کیسے تسلیم کیا ہے جن کے بارے میں مولوی احمد رضا خان لکھتے ہیں:
’’دیوبندی عقیدہ رکھنے والے کافر اور اسلام سے خارج ہیں۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ ج:۴ ص:۲۲۲)
اور ملفوظات میں لکھتے ہیں کہ:
’’مولوی خلیل احمد، رشید احمد اور غلام احمد اور اشرف علی مَنْ شَكَّ فِيْ كُفْرِهِمْ وَعَذَابِهِمْ فَقَدْ كَفَرَ!‘‘
صرف ضیاء الدین مقدسی سے اوراد میں اجازت لینے سے علوی صاحب علمائے دیوبند کے مخالف اور رضاخانی بدعتی بنتے ہیں، تو حضرت بنوری، حضرت مفتی محمد شفیع اور حضرت شیخ الحدیث اور حضرت مولانا عبدالغفور مدنی رحمہم اللہ سے اسانیدِ حدیث اور اجازتِ اوراد سے اہلِ حق کے قریب کیوں نہیں مانے جاتے؟ امید ہے کہ ان مختصرات پر آپ غور فرمائیں گے:
اندک پیش تو گفتم غم دل ترسیدن
کہ دل آزردہ شوی ورنہ سخن بسیار است
یہ خوش فہمیاں تو اہلِ حق کو بھی لاحق ہوجاتی ہیں، جیسے آپ کی تحریر میں اور قاضی صاحب کی تحریر میں احمد رضا کے لئے ’’مولانا‘‘ اور ’’مرحوم‘‘ کے الفاظ لکھنا بھی مبتدع کے ساتھ لائق برتاؤ روش کے خلاف ہے، جس کے ردّ میں بہت کچھ مواد موجود ہے، تاہم شیخ علوی کی ضیاء مقدسی بدعتی اور مولوی احمد رضا جیسے مبتدع کے بارے میں خوش فہمی اس درجہ کی ہے ورنہ وہ علمائے دیوبند کے شاگرد اور ان کے مستفید اور ان کے حد درجہ معتقد اور معترف ہیں، جو اِن شاء اللہ العزیز آپ کے سامنے بتدریج آئے گی،
وَالسَّلَامُ مَعَ التَّحِيَّةِ وَالْإِكْرَامِ، خَادِمُكُمُ الْفَقِيْرُ
محمد زر ولی خان عفی عنہ
۲۴؍محرم الحرام ۱۴۱۶ھ

