سنت وبدعت
راقمالحروفکاجواب
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
بخدمت مخدوم و محترم جناب مولانا زر ولی خان صاحب، زیدت مکارکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
۱:۔ ’’اِصلاحِ مفاہیم‘‘ کے بارے میں اس ناکارہ و نابکار کی جو تحریر شائع ہوئی ہے، اس کے بارے میں آنجناب کا کرامت نامہ موصول ہوکر موجبِ امتنان ہوا، آنجناب کو اس ناکارہ کی ’’غیرناقدانہ و غیرمحتاط‘‘ تحریر سے اذیت پہنچی، اس پر نادم ہوں، میرے قلم سے جو لفظ ایسا نکلا جو رضائے الٰہی کے خلاف ہو، اس پر بارگاہِ الٰہی سے صدقِ دل سے توبہ کرتا ہوں، اور آنجناب سے اور آپ کی طرح دیگر احباب سے، جن کو اس تحریر سے صدمہ پہنچا ہو، غیرمشروط معافی کا خواستگار ہوں۔
۲:۔ جو جو الفاظ آنجناب کو غیرناقدانہ اور غیرمحتاط محسوس ہوئے ہوں، ان کو نشان زدہ کرکے بھیج دیجئے، میں ان سے رجوع کا اعلان کردوں گا، اور ان کی جگہ جو محتاط الفاظ استعمال ہونے چاہئیں وہ بھی لکھ دئیے جائیں۔
۳:۔ شائع شدہ تحریر کے صفحہ:۲۹ سے صفحہ:۴۱ تک جو کچھ لکھا ہے، وہ جناب شیخ محمد علوی مالکی کو ’’ایک خوش عقیدہ عالم‘‘ سمجھ کر لکھا ہے، جس کی تصریح صفحہ:۴۱ کے نکتہ:۵ کی پہلی دو سطروں میں موجود ہے، البتہ نمبر:۵ سے جو عبارت شروع ہوتی ہے، وہ جناب قاضی صاحب کے انکشافات پر مبنی ہے، یعنی صرف دو صفحے کی تحریر، لیکن آنجناب نے میری پوری تحریر ہی کو جناب قاضی صاحب کی تقلید کا نتیجہ قرار دے دیا۔
۴:۔ قاضی صاحب نے ’’جہانِ رضا‘‘ کا حوالہ دیا ہے، جو فروری ۱۹۹۲ء میں شائع ہوا، ساڑھے تین سال بعد اس ناکارہ نے قاضی صاحب کے حوالہ سے اس کا فوٹو شائع کردیا تو سارا نزلہ اس ’’غریب مسکین‘‘ پر آگرا، تین ساڑھے تین سال تک کسی عقیدت کیش کو خیال تک نہیں آیا کہ شیخ علوی کو خانوادۂ بریلویت سے منسلک کیا جارہا ہے۔
۵:۔ ’’جہانِ رضا‘‘ میں ’’خانوادۂ بریلی کا ایک عرب مفکر‘‘ کے عنوان سے ’’فضیلۃ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر محمد علوی الحسنی المالکی مدظلہ‘‘ پر پورا ایک مضمون شائع ہوتا ہے، جس میں اعلان کیا جاتا ہے کہ: ’’آپ کے دادا اور والد گرامی دونوں شہزادہ اعلیٰ حضرت، مفتی اعظم ہند شاہ مصطفی رضاخان رحمۃ اللہ علیہ کے خلفا تھے، اور آپ، خلیفہ اعلیٰ حضرت، خطیبِ مدینہ مولانا ضیاء الدین مدنی قادری رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ ہیں‘‘ پاکستان کے کسی دیوبندی حلقہ سے اس کے بارے میں ’’صدائے برنخواست‘‘ تین سال کے بعد اگر قاضی صاحب ’’جہانِ رضا‘‘ کے اس مضمون کا فوٹو شائع کر رہے ہیں، اور یہ روسیاہ اس کا حوالہ دے ڈالتا ہے، تو یہ روسیاہ بھی مجرم اور قاضی صاحب بھی متشدد، إنا ﷲ وإنا إلیہ راجعون!
۶:۔ شیخ علوی کی تالیفِ لطیف ’’الطالع السعید‘‘ کا مطالعہ واقعی اس مجہولِ مطلق نے نہیں کیا، اس میں ملاحظہ فرمالیا جائے، اس میں کسی بدعتی کا تذکرہ تو نہیں ہے؟ اگر واقعی ایسا ہو تو کیا تعجب کہ ’’جہانِ رضا‘‘کی روایت (جس کی تردید آج تک اس روسیاہ کے علم میں نہیں آئی) بھی کچھ غلط نہ ہو، کیونکہ خواجہ حافظؒ بہت پہلے فرماگئے ہیں:
اے کبک خوش خرام کجا مے روی بناز
غرہ مشو کہ گربہ زاہد نماز کرد۔۔۔
اور یہ بھی ممکن ہے کہ:
معشوق ما بہ مشرب باہر کس برابر است
با ما شراب خورد و با زاہد نماز کرد
۷:۔ جناب علوی صاحب کی دُوسری کتابوں میں ان کی کتاب ’’حول الْإحتفال النبوی‘‘ بھی تو ہے، جس کو بریلوی حضرات نے اُردو میں شائع کیا ہے، آنجناب نے انعقادِ میلاد کے لئے ’’سیّد الطائفہ‘‘ کا حوالہ تو دے دیا، لیکن یہ نہیں دیکھا کہ اعاظم خلفاء (اور ہمارے اکابرِ دیوبندؒ) کا طرزِ عمل اس بارے میں کیا رہا؟ اور آج شیخ علوی مالکی کی کتاب پر جو ’’دیوبندی بریلوی اتحاد‘‘ کی تحریک چل رہی ہے، اس کا انجام کیا ہوگا۔۔۔؟
۸:۔ اس ناکارہ نے تو ’’اِصلاحِ مفاہیم‘‘ کے ایک دو حوالے، بطورِ نمونہ دئیے تھے، جس میں موصوف نے اپنے نقطئہ نظر سے اختلاف کرنے والوں پر کم عقلی، کم فہمی، تنگ نظری، بدفہمی اور جہالت و تعنت کے فتوے صادر فرمائے ہیں، کتاب کا خود مطالعہ فرمالیجئے اور پھر بتائیے کہ ہمارے اکابرؒ تو ان فتووں کی زد میں نہیں آئے؟
آخر میں سمع خراشی کی معافی چاہتے ہوئے اصلاح کا طالب ہوں، یہ ناکارہ تو واقعی ’’نہ تین میں ہے نہ تیرہ میں!‘‘ میرے اکابرؒ جو فرمائیں ان کا مقلدِ محض ہوں، اور آپ حضرات جو اصلاح فرمائیں وہ سر آنکھوں پر!
اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِيْ، وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ، وَمِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ!
والسلام
محمد یوسف عفا اللہ عنہ
۲۹؍۱؍۱۹۱۶ء

