October 14, 2026 at 2:03 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سنت وبدعت

۴:۔جناب‌محمد‌ابوزبیر‌سکھر‌کا‌خط

جواب

بخدمت اقدس حضرت مولانا محمد یوسف صاحب دامت برکاتہم

سلام مسنون!

ماہنامہ بینات کا بندہ مستقل خریدار ہے، محرم الحرام کا رسالہ پڑھ کر بندہ حیران ہوا کہ اِصلاحِ مفاہیم کے سلسلے میں اختلاف کچھ کم ہوا تھا کہ جناب کے مضمون نے تیل چھڑکنے کا کام کیا، آپ تو جانتے ہیں کہ حضرت شیخ نور اللہ مرقدہٗ کی تڑپ خانقاہوں کو آباد کرنے کی تھی، اس کے لئے آپ نے آخری عمر میں مختلف سفر بھی کئے، حضرتؒ کے وصال کے بعد حضرت شیخ کی تڑپ کو لے کر چلنے والے اگر کوئی ہیں تو وہ یہ ہیں حضرت صوفی صاحب دامت برکاتہم، حضرت مولانا عبدالحفیظ مکی صاحب دامت برکاتہم، حضرت مولانا عزیزالرحمن صاحب دامت برکاتہم، یہ وہ حضرات ہیں جنہوں نے خانقاہوں کو آباد کرنے کے لئے رات دن ایک کردیا اور اس اہم کام کے لئے اپنے آپ کو وقف کردیا اور پوری دُنیا میں جگہ جگہ اس کام کے لئے یہ حضرات سفر فرمارہے ہیں، اس وقت ان حضرات کے اخلاص کی برکت ہے کہ جگہ جگہ ذکر و درود شریف کی مجالس قائم ہوگئیں اور روزانہ لاکھوں مرتبہ درود شریف پڑھا جارہا ہے، غالی مماتیوں نے پوری کوشش کی کہ کسی طرح ان کا راستہ بند کیا جائے، آخر کار ان کو یہ موقع ملا اور اصلاح مفاہیم کے اختلاف کو اتنا بڑھایا گیا گویا کہ کفر و اسلام کی جنگ ہو رہی ہے، اور ہمارے مخلص حضرات نے اپنے رسالے میں اس اختلاف کو بڑھانے کے لئے وقف کردئیے، اس کتاب کو مشہور کرنے والے درحقیقت یہی لوگ ہیں ورنہ اس کتاب کو کوئی جانتا بھی نہیں تھا۔

اور عجیب بات یہ ہے کہ اصلاحِ مفاہیم پر تقریظیں لکھنے والے کئی ایک بزرگ ہیں، لیکن جب تبصرہ کیا جاتا ہے تو سب کو چھوڑ کر حضرت مولانا عزیزالرحمن صاحب دامت برکاتہم پر نزلہ اُتارا جارہا ہے، اس کو ناانصافی نہ کہیں اور تو کیا کہیں آنجناب نے بھی اپنے تبصرہ میں اس ناانصافی کا مظاہرہ کیا ہے، آپ جیسے مخلصوں سے ایسی توقع نہ تھی، یہیں سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ حضرت شیخؒ کے مشن کو لے کر چلنے والوں کے خلاف ایک بہت بڑی سازش کی جارہی ہے اور ان کو بدنام کیا جارہا ہے، اور اب تو ذاتیات تک نوبت پہنچ گئی ہے، جس کی لپیٹ میں آنجناب بھی ہیں کہ ایک نجی خط کو شائع کرکے عوام کو ان حضرات سے دور کرنے کی کوشش کی ہے، ایک نجی خط تھا اس کو ویسے ہی جواب دے دیا جاتا، آنجناب کا قلم غیروں کے مقابلے میں اپنوں کے لئے بہت سخت تھا۔

دُوسری بات یہ ہے کہ مکی مالکی صاحب نے وہ کتاب سلفیوں کے خلاف لکھی ہے، تبصرہ کے شروع میں آنجناب نے بھی یہی فرمایا لیکن آگے چل کر حضرت قاضی صاحب نے انکشاف فرمادیا کہ وہ ہمارے علماء کے بارے میں لکھا ہے، عجیب بات ہے کہ ہم خود اپنے اکابرین کو گالیاں دلوا رہے ہیں، مکی مالکی صاحب نے اپنی کتاب شفاء الفواد میں ہمارے اکابر کا تذکرہ بڑے عمدہ طریقہ سے کیا ہے، اور ’’المہند‘‘ سے تقریباً چھ صفحات اپنی کتاب میں ذکر کئے اور ہمارے اکابرین کا کبار محدثین فی الہند کے نام سے تذکرہ کیا۔ حضرت مولانا عبدالحفیظ مکی صاحب نے بتایا کہ مکی مالکی صاحب حضرت شیخؒ کی خدمت میں حاضری دیتے اور حضرت شیخؒ ان کو سید ہونے کی وجہ سے اپنے ساتھ بٹھاتے تھے، اور آج بھی مالکی صاحب کے ہاں حیات صحابہ کی تعلیم کرائی جاتی ہے۔ حضرت مولانا عبدالحفیظ صاحب مکی نے بتایا کہ مکی مالکی صاحب جب پاکستان تشریف لائے تو میں خود ان کے ساتھ تھا، مختلف علمائے کرام سے انہوں نے اصلاح مفاہیم پر تقریظیں لکھوائیں، تو حضرت مکی صاحب نے عرض کیا کہ: کچھ تقریظیں بریلوی علماء سے بھی لکھوالیں، اس پر مکی مالکی صاحب نے فرمایا کہ: ان میں کوئی بڑا عالم نہیں ہے۔ اب آپ بتائیں ایسے شخص کو جو ہمارے اکابر کی خدمت میں بھی حاضری دے، ہمارے بزرگوں کا تذکرہ بھی کرے اور ہمارے حضرات کی کتاب کی تعلیم بھی کرائے، اس کو ہم زبردستی بریلوی بنانے کی کوشش کریں اور سلفیوں کے متعلق اس نے جو کچھ لکھا، اس کو اپنے اکابر پر چسپاں کردیں، یہ کہاں کا انصاف ہے؟ آنجناب کو اگر مالکی صاحب کے بارے میں کچھ معلوم ہی کرنا تھا تو وہ آپ حضرت مولانا عبدالحفیظ صاحب مکی سے معلوم کرتے، حضرت قاضی صاحب کو ان کے بارے میں کیا علم ہے؟ ان کے حالات تو وہی بتاسکتا ہے جو مکہ شریف میں ان کے قریب ہو، حضرت قاضی صاحب کا حال تو یہ ہے کہ بندہ کی پچھلے مہینہ ملاقات ہوئی، نعل شریف پر کچھ بحث چل پڑی، بندہ نے عرض کیا کہ: میرا تعلق حضرت شیخ نور اللہ مرقدہٗ سے ہے، اور انہوں نے اپنی کتابوں میں اس کے فوائد ذکر کئے ہیں، اس پر حضرت قاضی صاحب نے فرمایا کہ: حضرت شیخؒ کو چھوڑ دو، ان کی بات کیوں مانتے ہو؟ حضرت تھانویؒ کی بات مانو! اب ان کو تو حضرت شیخؒ سے اتنا بغض ہے اور آنجناب ان کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں۔

پھر مکی مالکی صاحب مکہ شریف میں ہیں، وہاں پر دُنیا بھر کے لوگ آتے ہیں، ہر مسلک والے آتے ہیں، اور ان سے بھی مل لیتے ہیں، اور ملاقات کے دوران مالکی صاحب ان کی تعریف فرمادیتے ہیں، تو کیا اس کی وجہ سے وہ کٹر بریلوی ہوگئے؟

آنجناب نے یہ بھی الزام لگایا کہ حضرت صوفی صاحب دامت برکاتہم نے حضرت شیخ رحمہ اللہ سے بے وفائی کی ہے کہ مالکی صاحب کے حلقہ میں داخل ہوگئے ہیں۔

کاش کہ آنجناب اس کی تحقیق فرمالیتے، مالکی صاحب کی کیا حیثیت ہے، حضرت صوفی صاحب زید مجدہٗ کے مقابلے میں یہ سراسر حضرت پر بہتان ہے، قیامت کے دن ان جھوٹے الزامات کا جواب دینا ہوگا، حضرت صوفی صاحب دامت برکاتہم پر ہزار مکی مالکی جیسے قربان ہوجائیں۔

ماہنامہ بینات کے مدیر حضرت ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب بھی مکی مالکی صاحب کے اور ان کی کتاب کے مداح ہیں، آنجناب ان سے تحقیق فرمالیتے۔

چند دن قبل بندہ کا صوبہ سرحد جانا ہوا، کئی علماء سے اس سلسلہ میں بات ہوئی، اکثر علماء کی رائے یہ تھی کہ آنجناب ایک بڑی شخصیت ہیں، آپ کا ایک علمی مقام ہے، آپ کو ایسی باتیں نہیں لکھنی چاہئیں تھیں۔

تحریر کی طوالت کی معافی چاہتا ہوں، اگر کوئی سخت بات محسوس ہو تو اس کی معافی چاہتا ہوں، اللہ پاک تمام قلوب کو حق پر جمع فرمادے، امید ہے کہ دعواتِ صالحہ میں فراموش نہیں فرمائیں گے۔ والسلام محمد ابوزبیر سکھر۔‘‘

۴:۔جناب‌محمد‌ابوزبیر‌سکھر‌کا‌خط - شہید اسلام