سنت وبدعت
محمدابوزبیرسکھرویکےخطکاجواب
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
مخدوم و مکرم! زید مکارکم، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
نامہ کرم لائقِ صد احترام و اکرام ہوا، یہ ناکارہ تو واقعتا ’’نہ آناں میں ہے نہ ایناں میں‘‘، ’’نہ تین میں، نہ تیرہ میں۔‘‘
آنجناب کا گرامی نامہ تین مضامین پر مشتمل ہے:
۱:۔ اکابرِ ثلاثہ (صوفی صاحب، مولانا مکی اور مولانا عزیزالرحمن دامت برکاتہم وزیدت فیوضہم) کا شیخ نور اللہ مرقدہٗ کے فیض کو عام کرنا، اللہ تعالیٰ ان حضرات کو اخلاص کے ساتھ مزید ترقیات سے نوازیں، یہ ناکارہ ان پر اسی طرح رشک کرتا ہے جس طرح ایک فقیرِبے نوا کسی رئیس پر رشک کرے، اس لئے اس ناکارہ نے بلاتکلف اپنے خط میں لکھا ہے:
’’حضرت مولانا عزیزالرحمن مدظلہ کے ساتھ اس ناکارہ و روسیاہ کا بھی تعلق ہے، وہ میرے خواجہ تاش ہیں، اور اس ناکارہ سے کہیں بہتر و افضل ہیں۔‘‘
لہٰذا اس ضمن میں تو آنجناب نے میری معلومات، اور میرے حسنِ ظن میں کوئی اضافہ نہیں فرمایا۔
۲:۔ شیخ علوی مالکی کے بارے میں جو کچھ لکھا وہ بریلویوں کے پرچہ ’’جہانِ رضا‘‘ کے حوالے سے لکھا، اگر یہ غلط ہے تو بہت آسان بات ہے، شیخ علوی مالکی صاحب سے ’’جہانِ رضا‘‘ کے مندرجات کی تردید کرادی جائے، میں اس تردید کو شائع کرکے اپنی تفریعات واپس لے لوں گا۔
۳:۔ حضرت صوفی صاحب مدظلہٗ کے بارے میں ایک ثقہ راوی کی سماعی روایت درج کی ہے، اگر یہ غلط ہے تو اس سے توبہ کرتا ہوں، اور موصوف سے بھی معافی چاہتا ہوں، مناسب ہوگا کہ اس روایت کی تردید حضرت صوفی صاحب زید مجدہٗ ہی سے کرادی جائے تاکہ اس کو شائع کرکے اس کے ساتھ اپنا توبہ نامہ بھی شائع کردوں۔
ان اُمور کے علاوہ جو بات بھی اس ناکارہ نے غلط لکھی ہو اس کی نشاندہی فرمادی جائے، اس سے بلاتکلف رُجوع کرلوں گا، اُمید ہے مزاجِ بعافیت ہوں گے، دُعاؤں کا محتاج اور ملتجی ہوں۔ والسلام
محمد یوسف عفا اللہ عنہ
۲۱؍۲؍۱۴۱۶ھ

