October 14, 2026 at 2:03 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سنت وبدعت

۵:۔جناب‌اختر‌علی‌عزیزی‌کا‌خط

جواب

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تا تو بیدار شوی نالہ کشیدم ورنہ

عشق کاریست کہ بے آہ و فغان نیز کنند

محترمی جناب مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب زید مجدہٗ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مزاج بخیر!

اگرچہ بندہ ماہنامہ ’’بینات‘‘ کا خریدار نہیں تاہم مستقل قاری ضرور ہے، اور آپ کے اداریے اور بیانات محبت سے دیکھتا ہے، لیکن اس شمارہ محرم الحرام میں آپ کا مضمون ’’کچھ اِصلاحِ مفاہیم کے بارے میں‘‘ نظر سے گزرا، اپنے پیر و مرشد، ولی کامل، عالم باعمل حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی نور اللہ مرقدہٗ کے باغِ تصوف اور چمنستانِ سلوک کے حقیقی وارث و نگران مجاہدِ ملت حضرت مولانا محمد عزیزالرحمن صاحب دامت برکاتہم کے متعلق آپ کے تحریر کردہ مضمون کا مطالعہ کیا، فطری بات ہے کہ حزن و ملال سے رنجیدہ اور غم و فکر سے نڈھال ہوا۔

جنابِ محترم! آپ نے ایک ایسے عظیم مجاہد کے خلاف (بدون تحقیق کے) اوراقِ کثیرہ سیاہ کئے ہیں جو کہ ہر باطل کے خلاف سیفِ بے نیام ہوکر میدانِ عمل میں کودتے ہیں۔ ردّ روافض کا فریضہ ہو، یا مودودی صاحب کے غلط نظریات پر ضربِ کاری کا، مرزائیت کا جنازہ نکالنا ہو یا توہینِ رسالت کیس، ڈاکٹر اسرار احمد کا تعاقب ہو یا پروفیسر طاہر القادری کا مقابلہ ہر موقع پر یہ مجاہد فی سبیل اللہ اغیار اور اسلام دشمن قوتوں کا قلع قمع کرتے ہیں اور مع ہذا مثبت رویہ اور تعمیری سوچ رکھتے ہوئے اکابرِ دیوبند کے نقشِ قدم پر خصوصاً اپنے شیخ قدس سرہٗ کی نیابت کرتے ہوئے ہزاروں مخلوقِ خدا کو اللہ کا پیارا نام سکھایا اور ان کی وساطت سے ان بندگانِ خدا کا تعلق اپنے مولیٰ سے بن گیا (اگر اغماض نہ فرمائیں تو آپ بھی اس کے قائل ہوں گے)۔

آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ ان کی توجہ و برکات سے اور اسلوبِ اکابر اپنانے کی وجہ سے راولپنڈی میں (اور جہاں جہاں ان کے مسترشدین ہیں، ان کے علاقوں میں بھی) کتنی مساجد بریلوی مکتبِ فکر والوں سے آزاد ہوکر دیوبندیوں کے ہاتھ آگئی ہیں، خود راقمِ سطور کا جو علاقہ ہے کاٹنگ ضلع مردان، پہلے بریلویوں کے قبضہ میں تھا، ہمارے پانچ چھ علمائے کرام (جو کہ جید مدرس عالم ہیں، اکوڑہ خٹک اور امداد العلوم پشاور سے فارغ التحصیل ہیں اور حضرت مولانا عزیزالرحمن صاحب زید مجدہٗ سے بیعت ہیں) نے یہاں اپنے شیخ کے اُصول پر کام شروع کیا، الحمدللہ کہ کافی علاقہ بریلویت کے زہر سے بچ گیا، لیکن نہ جھگڑا ہوا، نہ خون خرابہ، اپنے اکابر کے طرز پر ذکر و دورد شریف اور تصوف کا راستہ اختیار کرکے بریلویت کا جنازہ نکل گیا، جس کی تصدیق آپ مولانا عطاء الرحمن صاحب اور مولانا امداد اللہ صاحب مدرسین جامعہ بنوری ٹاؤن سے کرسکتے ہیں، کیونکہ وہ ہمارے علاقہ کے رہنے والے ہیں۔

میرے محترم! آپ نے کتاب ’’اِصلاحِ مفاہیم‘‘ اور اصل عربی کتاب پر جو تبصرہ کیا ہے، عجیب ہے، آپ نے لکھا ہے:

’’جن حضرات نے اس پر تقریظات ثبت کی ہیں، اس ناکارہ کا احساس ہے کہ انہوں نے بے پڑھے محض مؤلف کے ساتھ حسنِ ظن اور عقیدت سے مغلوب ہوکر لکھ دی ہیں۔‘‘ (ص:۳۰)

بات یہ ہے کہ آپ نے صرف کتاب کو دیکھا ہے لیکن کتاب کے پسِ منظر اور پیشِ منظر سے اطلاع حاصل نہیں کی ہے، واقعہ اس کا شاہد ہے کہ جن حضرات نے تقریظات ثبت کی ہیں وہ بعد مطالعہ کتاب کی ہیں، مثلاً: شیخ الحدیث مولانا محمد مالک کاندھلوی مرحوم نے بغیر مطالعہ کے تقریظ کرنے سے معذرت ظاہر کی تھی، پھر جب مطالعہ فرمایا تو تقریظ ثبت فرمائی (اس کی آپ معلومات کرسکتے ہیں)، اس طرح باقی حضرات کے تقاریظ بھی، لہٰذا نتیجہ یہ نکلا کہ آپ کا احساس مبارک مبنی بر غلط ہے اور ان حضرات نے تقریظات کتاب پڑھ کر عقیدہ رکھتے ہوئے اظہارِ حق کی بنیاد پر ثبت فرمائی ہیں۔ پھر آپ نے لکھا ہے:

’’اگر کسی نے پڑھا ہے تو اس کو ٹھیک طرح سمجھا نہیں، نہ ہمارے اکابر کے مسلک کو صحیح طور پر ہضم کیا ہے ۔۔۔۔۔ الخ۔‘‘ (بینات ص:۳۱)

تو یہ بھی علم کے سمندر پر اجارہ داری اور ٹھیکیداری کا دعویٰ ہے کہ صرف آپ کا مطالعہ اور فہم ٹھیک ہے، باقی تمام حضرات (شیخ الحدیث مولانا محمد مالک کاندھلوی، شیخ الحدیث مولانا سید حامد میاں صاحب، خلیفہ شیخ الاسلام حضرت مدنی نور اللہ مرقدہٗ امیر جمعیت علمائے اسلام، جامعہ العلوم الاسلامیہ کے ناظم تعلیمات مولانا عبدالرزاق اسکندر صاحب، شیخ الحدیث مولانا عبدالکریم صاحب کلاچی، مولانا عبدالقادر آزاد، شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد فرید صاحب دامت برکاتہم العالیہ اور ان جیسے بیسیوں حضراتِ علمائے کرام کا ہاضمہ خراب ہے۔ نہ کتاب کے نام کا مفہوم سمجھتے ہیں اور نہ اکابر علمائے دیوبند (كَثَّرَ اللهُ جَمَاعَتَهُمْ) کے مذاق سے واقفیت، شاباش! بایں عقل و دانش بباید گریخت۔

پھر تو وہی بات ثابت ہوئی جس سے آپ انتہائی حد تک اظہارِ بیزاری کرچکے ہیں کہ

’’اب ہمارے استبدادِ رائے کا ایسا غلبہ ہے کہ نہ کوئی کسی کے سننے کو تیار نہ ماننے کو ۔۔۔۔۔ الخ۔‘‘ (بینات ص:۳۴)

لیکن اس تحریر کے باوجود آپ اپنی رائے کو حرفِ آخر اور وحدہٗ لا شریک لہٗ مانتے ہیں، باقی تمام اکابر علماء کا ہاضمہ خراب ہوگیا، بلکہ کتاب کے نام تک نہیں پہنچ سکے، پس مثل سائر صادق ہوا: ’’فَرَّ مِنَ الْمَطَرِ وَوَقَعَ تَحْتَ الْمِيْزَابِ‘‘۔

آپ نے صاحبِ کتاب پر تنقید کی ہے کہ اس نے داعیانہ اسلوب اور مصلحانہ اندازِ تخاطب اختیار نہیں فرمایا ۔۔۔۔۔ الخ، (بینات ص:۳۸) تو راقم کہتا ہے:

غیر کی آنکھوں کا تنکا تجھ کو آتا ہے نظر

دیکھ اپنی آنکھ کا غافل ذرا شہتیر بھی

آپ نے خود حضرت شیخ الحدیث نور اللہ مرقدہٗ کے محبوب خلیفہ سرحلقہ عشاق جناب حضرت صوفی اقبال صاحب زید مجدہٗ ہوشیارپوری ثم المدنی اور مجاہد ملت حضرت مولانا عزیزالرحمن صاحب اور داعی کبیر مولانا عبدالحفیظ صاحب مکی اور دیگر خلفائے کرام کو (جو ابھی تک حقیقی طور پر حضرت قدس سرہٗ کے مشن کے نگہبان ہیں) اپنے شیخ کے ساتھ بے وفائی کا طعنہ دیا ہے اور اپنے شیخ سے بے وفائی نعوذباللہ من ذالک وہ شخص ہی کرسکتا ہے جو کم عقل، کم فہم، تنگ نظر، جاہل، بدفہم اور متعنت ہو، تو جو الفاظ علوی مالکی نے اپنے مخالفین (متشدد سلفی حضرات) کے حق میں استعمال کئے ہیں وہ آپ نے حضرت شیخ کے محبوب خلفائے کرام کے حق میں لکھ دئیے، تو پھر کیوں آپ کا اندازِ تخاطب داعیانہ اور مصلحانہ ہے، اور شیخ علوی کا مناظرانہ و مجادلانہ؟

ایں گناہیست کہ در شہر شما نیز کنند

باقی ہمارے شیخ مولانا عزیزالرحمن صاحب مدظلہٗ کے کسی مرید کا خط جو آپ نے نقل کیا ہے کہ حضرت مولانا تبلیغی جماعت کے خلاف ذہن بناتے ہیں (بینات ص:۴۵)۔ تو یہ محض جھوٹ، بہتان اور ان پر افتراء ہے، لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِيْنَ! راقم کا تعلق حضرت مولانا کے ساتھ اس وقت سے قائم ہے جبکہ بندہ مختصر المعانی پڑھ رہا تھا، اور الحمدللہ! سالِ رواں بندہ کی تدریس کا چھٹا سال ہے، لیکن تاہنوز ہم نے حضرت مولانا صاحب سے اہلِ تبلیغ اور جماعت والوں کے متعلق سوائے خیرخواہی کے کچھ نہیں سنا۔ رہا بعض مبلغین کی کچھ خامیوں کی نشاندہی کرنا، تو اسے تبلیغ کی مخالفت کہنا اور حضرت شیخؒ کے مشن سے وفائی ٹھہرانا سوئِ ظن ہے۔

اگر بعض مفاد پرست علماء پر اِعتراض برداشت کیا جاتا ہے اور اسے علم اور علماء کی مخالفت سے تعبیر نہیں کیا جاتا، یا بعض جاہل متصوفین پر بغرضِ اصلاح طعن کی جاتی ہے اور اسے تصوف کی مخالفت نہیں سمجھا جاتا (بلکہ حق پرست لوگ خیرخواہی سمجھتے ہیں) تو پھر ناواقف مبلغین کی اصلاح کے لئے اگر ایک عالم باعمل (جو کہ حضرت شیخؒ کے مشن کا باغبان بھی ہو) کسی غلطی کی نشاندہی فرمائے تو وہ کیسے تبلیغی جماعت کی مخالفت اور حضرت شیخ رحمہ اللہ سے بے وفائی ہوگی؟ آپ نے بغیر تحقیق کئے ایک شخص کے خط پر (خدا جانے وہ کون ہے؟ اصدق واکذب) ہمارے شیخ پر بے جا تنقیدات واِعتراضات کا دروازہ کھولا ہے، اور اپنے دل کی بھاپ نکالی ہے، کاش کہ آپ اوراق لکھتے وقت ﵟ فَتَبَيَّنُوٓاْ أَن تُصِيبُواْ قَوۡمَۢا بِجَهَٰلَةٖ فَتُصۡبِحُواْ عَلَىٰ مَا فَعَلۡتُمۡ نَٰدِمِينَ ٦ ﵞذہن میں لاتے اور ایک مجہول شخص کی وجہ سے ایک معروف خدارسیدہ عالم پر نہ برستے، پھر ظلم یہ کہ اس شخص نے آپ سے استفسار کیا ہے، آپ اسے جواب دیتے، لیکن ماہنامہ ’’بینات‘‘ میں اس کے چھاپنے کی کیا ضرورت تھی؟ صرف حضرت مولانا صاحب کے متوسلین کے قلوب کو آزار؟

مع ہذا ستم بالائے ستم یہ کہ کتاب ’’مفاہیم‘‘ پر تقریظات تو مختلف علمائے کرام نے کی ہیں، لیکن ہدفِ اِعتراض صرف مولانا عزیزالرحمن صاحب ہیں، کیا انہوں نے کسی کا باپ مارا ہے؟ آپ کم از کم جامعہ کے ناظمِ تعلیمات سے نمٹ جائیں:

تمہاری زلفوں میں آئی تو حسن کہلائی

وہ تیرگی جو میرے نامہ سیاہ میں تھی

باقی آپ نے جن اکابر کے متعلق لکھا ہے کہ انہوں نے اکابر کا مسلک صحیح طور پر ہضم نہیں کیا ہے، ان میں سے شیخ الحدیث حضرت مولانا حامد میاں صاحبؒ اور شیخ الحدیث مولانا محمد مالک کاندھلویؒ اب اس دارِ فنا سے تشریف لے جاچکے ہیں، اور آپ مکرر سہ کرر ان کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ: انہوں نے حسنِ ظن سے کام لیا ہے، مطالعہ نہیں کیا ہے، ایسا نہیں کرنا چاہئے وغیرہ وغیرہ، تو کیا اموات کے متعلق ایسے اقوال کہنا (جبکہ وہ مبنی برحقیقت بھی نہیں جیسا کہ سابق میں گزرا) بے ادبی نہیں ہوگی؟ اگرچہ آپ کہتے ہیں کہ: ’’اس کو ان بزرگوں کے حق میں سوئِ ادب کا اِرتکاب نہیں سمجھنا چاہئے۔‘‘ (بینات ص:۳۷) لیکن یہ ضرور سوئِ ادب ہوگا جبکہ اکابر کے سروں پر ایسے اُمور تھوپ دئیے جائیں جن سے وہ بَری ہیں کہ انہوں نے فرمایا ہے ہم نے کتاب دیکھا مطالعہ کیا اور اسے معتدل اور جامع پایا وغیرہ، اور آپ اِحتمالات کا سہارا لے کر فرماتے ہیں محض حسنِ ظن ہے، تو آپ کی توجیہ برائے کلام اکابر توجیہ الکلام بما لَا یرضٰی بہ قائلہٗ کے قبیل سے ہے۔

یہ تمام اُمور اس پر دلالت کرتے ہیں کہ آپ قاضی مظہر حسین صاحب سے متأثر ہیں، اور ان کا پریشر آپ پر پڑا ہے، لیکن یاد رہے کہ قاضی مظہر حسین صاحب نے کسی کو معاف نہیں کیا ہے، پرائے تو پرائے ہیں، اپنوں پر ایسی یلغار کرتے ہیں جیسے کہ کفر و اسلام کی جنگ ہو۔ حضرت مولانا مفتی محمودؒ اور حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کے ساتھ ان کی لڑائی ہوتی رہی، اس کے بعد مولانا حق نواز شہیدؒ کے ساتھ، مولانا سمیع الحق صاحب، مولانا فضل الرحمن صاحب، مولانا ضیاء الرحمن فاروقی، مولانا عبداللہ صاحب خطیبِ اسلام آباد، مولانا اعظم طارق، مولانا اسحاق سندیلوی اور ان کے علاوہ مختلف علمائے کرام کے ساتھ جہادِ کبیر کرتے رہے، یہی وجہ ہے کہ تحریک خدام اہل سنت سن صغر سے شروع ہوچکی ہے اور ابھی تک صرف چکوال اور جہلم کے مضافات سے باہر نہ نکل سکی، کیونکہ کل قاضی صاحب جن کے دوست تھے، آج ان کے دشمن، اور آج جن کے دوست ہیں کل ان کے ساتھ میدانِ کارزار میں ہوں گے۔

آپ لکھتے ہیں کہ: ’’اگر حضرت شیخؒ کی نسبت کا رنگ غالب رہتا ۔۔۔۔۔ الخ۔‘‘ (بینات ص:۴۷) تو جناب مکرم! حضرت شیخ نوراللہ مرقدہٗ کی نسبت کا رنگ جتنا حضرت مولانا عزیزالرحمن زید مجدہٗ پر چڑھ گیا ہے، اس کی نظیر نہیں ملتی، بلکہ کئی چیدہ چیدہ علمائے کرام سے سنا ہے کہ حضرت شیخ نور اللہ مرقدہٗ کے حقیقی وارث اور نعم البدل حضرت مولانا عزیزالرحمن صاحب ہیں، اور جتنا کام ردّ فرَقِ ضالہ وباطلہ کا ان سے اللہ تعالیٰ نے لیا وہ بھی قابلِ رشک ہے، لہٰذا ایسی شخصیت کے متعلق بدون تحقیق ایسی باتیں منسوب کرنا کسی طرح زیب نہیں دیتا۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق مرحمت فرمائے، ممکن ہے خط میں بعض جملے ناخوشگوار ہوں، لیکن مجروح قلب سے نکلے ہیں لہٰذا برداشت کیا جائے، مع ہذا معافی کا خواستگار ہوں۔ راقم السطور

بندہ اختر علی عزیزی

خادم دارالعلوم عناروقیہ کاٹنگ ضلع مردان

۳؍صفر ۱۴۱۶ھ۔‘‘

۵:۔جناب‌اختر‌علی‌عزیزی‌کا‌خط - شہید اسلام