October 14, 2026 at 2:03 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سنت وبدعت

جناب‌اختر‌علی‌عزیزی‌کے‌خط‌کا‌جواب

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

مخدوم و معظم زیدت الطافہم، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

محبت نامہ موصول ہوکر موجبِ عزت افزائی ہوا، یہ ناکارہ اپنے اسی مضمون میں لکھ چکا ہے کہ یہ ’’نہ تین میں ہے، نہ تیرہ میں!‘‘ میں کیا، اور میری رائے کیا؟ کوئی لفظ صحیح لکھا گیا تو مالک کی عنایت، ورنہ اس روسیاہ کی تحریر حرفِ غلط کی طرح مٹادینے کے لائق ہے، اس ناکارہ کو علم کجا؟ انسانوں کی صف میں شمار کرنے کی گنجائش نہیں، کہ یہ خود اپنے کو بہائم سے بدتر سمجھتا ہے، إلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللّٰهُ بِرَحْمَتِهِ!

میرے اکابر، میری تحریر کے جس لفظ کے بارے میں فرمادیں کہ یہ غلط ہے، اس سے بغیر کسی بحث کے توبہ کرتا ہوں، اس ناکارہ نے کتاب کے بارے میں لکھا تھا کہ یہ ہمارے اکابرؒ کے ذوق و مسلک کی ترجمان نہیں، دیوبندی بریلوی متنازع فیہ مسائل میں ہمارے اکابرؒ کو مخالفین کی جانب سے جو کہا گیا، اور کہا جارہا ہے، ان مسائل میں ہمارے اکابرؒ حق پر تھے، یہ ناکارہ، کم فہم ان مسائل میں کسی لچک کو گوارا نہیں کرتا، نہ مصالحت کو صحیح سمجھتا ہے، جن بزرگوں نے اس کتاب کو ہمارے اکابرؒ کے مسلک کی ترجمان قرار دیا ہے، ان کے بارے میں اپنا احساس لکھا کہ یا تو انہوں نے اس کتاب کو ٹھیک طرح سے پڑھا نہیں یا اس کے مالہٗ و ما علیہ کا احاطہ نہیں کیا، آنجناب کے تیزوتند عنایت نامہ کے بعد بھی مجھے افسوس ہے کہ یہ ناکارہ اپنے اس احساس میں کوئی تبدیلی نہیں پاتا، ان تقریظ کنندگان کی بے ادبی مقصود نہیں تھی، بلکہ بقول عارف رومیؒ:

گفتگوئے عاشقاں در امر ربّ

جوشش عشق است نے ترکِ ادب

بہرحال اگر اس روسیاہ کا کتاب کے بارے میں یہ خیال غلط ہے تو اس سے سو بار توبہ کرتا ہوں،وَمَآ أُبَرِّئُ نَفۡسِيٓۚ إِنَّ ٱلنَّفۡسَ لَأَمَّارَةُۢ بِٱلسُّوٓءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّيٓۚ! اور جن بزرگوں کے بارے میں ’’ترکِ ادب‘‘ سمجھا گیا ہے، اس سے بھی توبہ کرتا ہوں۔

جن بزرگوں کے آنجناب نے فضائل و مناقب رقم فرمائے ہیں، اس ناکارہ کے علم میں کوئی اضافہ نہیں فرمایا، کیونکہ یہ ناکارہ خود ان کو ’’اپنے سے بدرجہا افضل‘‘ لکھ چکا ہے، (اور اس ننگِ بہائم کا ان بزرگوں سے تقابل ہی کیا؟) سید علوی کے بارے میں ’’جہانِ رضا‘‘ کے حوالے سے جو کچھ لکھا ہے، مصنف ما شاء اللہ بقیدِ حیات ہیں، ان سے ’’جہانِ رضا‘‘ کے مضمون کی تردید کرادی جائے تو یہ ناکارہ اپنی تفریعات و نتائج کو بھی علی الاعلان واپس لے لے گا۔

آنجناب نے اس ناکارہ کے بارے میں جو تند و تیز الفاظ استعمال فرمائے ہیں، ان کے لئے حافظؒ بہت پہلے فرماگئے ہیں:

بدم گفتی وخر سندم عفاک اللہ نکو گفتی

یہ میرے مالک کی ستاری ہے کہ اس رُوسیاہ کے سارے عیوب پر آنجناب کو مطلع نہیں فرمایا، ورنہ ’’بتر زانم کہ گفتی‘‘، اللہ تعالیٰ اس رُوسیاہ کے عیوب کی پردہ پوشی فرمائیں، اور میرے اکابرؒ کے درجاتِ عالیہ کو بلند سے بلند تر فرمائیں۔

دعواتِ صالحہ کی درخواست ہے، اور کوئی لفظ جناب کی شان کے خلاف صادر ہوا ہو تو ندامت کے ساتھ معذرت اور معافی کی اِلتجا کرتا ہوں، والسلام!

محمد یوسف عفا اللہ عنہ

۲۶؍۲؍۱۴۱۶

جناب‌اختر‌علی‌عزیزی‌کے‌خط‌کا‌جواب - شہید اسلام