October 14, 2026 at 2:03 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سنت وبدعت

۶:۔مولانا‌عزیزالرحمن‌کے‌ایک‌مرید‌کے‌خط‌کا‌جواب

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

محترم حضرت اقدس جناب مولانا محمد یوسف صاحب دامت برکاتہم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

خیریت کے بعد عرض ہے کہ بندہ آپ کی رہنمائی چاہتا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ بندہ کا اصلاحی تعلق مولانا عزیزالرحمن صاحب دامت برکاتہم سے ہے، ان کا اور حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحب دامت برکاتہم کا اختلاف پیدا ہوا ہے، چنانچہ ان کی طرف سے میں نے خود سنا ہے کہ اب وہ فرماتے ہیں کہ یہ بدعتی ہے، فتنہ اقبالیہ یا فتنہ عزیزیہ کہہ کر پکارتے ہیں۔

یہ خط میں اس لئے لکھ رہا ہوں کہ ایک بات کی تصدیق چاہتا ہوں، اور وہ یہ کہ حضرت مولانا عزیزالرحمن صاحب دامت برکاتہم کے خلیفہ کی مجلس میں میں خود بیٹھا ہوا تھا، تو انہوں نے یہ بات آپ کی طرف نسبت کرکے فرمائی کہ حضرت مولانا محمد یوسف صاحب دامت برکاتہم نے حضرت مولانا عزیزالرحمن صاحب دامت برکاتہم سے مسجدِ حرام میں معافی مانگی ہے، کیا آپ کے نزدیک ایسی کوئی بات ہوئی ہے یا نہیں؟ برائے مہربانی اس کی حقیقت سے بندہ کو مطلع فرمادیں کہ ایسا ہوا یا نہیں؟ اور قاضی صاحب کا ہر رسالہ میں ان کا تذکرہ کرنا کیسا ہے؟ اور اب ان میں سے حق پر کون ہے؟ یعنی کون اعتدال پر ہے؟ اور کون اپنے اکابرین کی اتباع کر رہا ہے؟ اور ان کو بدعتی کہنا اور سابق دیوبندی کہنا کیسا ہے؟ مہربانی فرماکر بندہ کی رہنمائی فرمائیں، بندہ بہت زیادہ پریشان ہے، کیونکہ اصلاحی تعلق کا معاملہ ہے اور اس میں آج کل کے دور میں دیر نہیں کرنی چاہئے، نیز بندہ کے لئے خصوصی دعا کی درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کے ساتھ رکھے اور ان کے ساتھ اُٹھائے، ایمان پر خاتمہ فرمائے اور ہر بدعت سے بچائے، تحریر میں غلطی کی معافی چاہتا ہوں،

والسلام!

دعاؤں کا محتاج

اجمل حسین

الجواب

برادرِ محترم ۔۔۔۔۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

حضرت مولانا عزیزالرحمن صاحب سے اس بندہ کو اختلاف تھا، اور ہے، مگر اس ناکارہ کی عادت کسی کے پیچھے پڑنے کی نہیں ہے، اور یہ جو آپ نے فرمایا ہے کہ:

’’حضرت مولانا عزیزالرحمن صاحب دامت برکاتہم کے خلیفہ کی مجلس میں میں خود بیٹھا تھا، انہوں نے آپ کی طرف نسبت کرکے فرمایا کہ: محمد یوسف نے حضرت مولانا عزیزالرحمن دامت برکاتہم سے مسجدِ حرام میں معافی مانگی ہے۔‘‘

یہ واقعہ اُلٹ گیا ہے، اصل قصہ یہ ہے کہ ہمارے دوستوں نے حضرت مولانا عزیزالرحمن صاحب دامت برکاتہم سے گفتگو شروع کردی، اور یہ گفتگو بیت اللہ شریف کے دروازے تک جاری رہی، مولانا عزیزالرحمن پٹھان آدمی ہیں، انہوں نے غصہ سے کہہ دیا کہ میں اس پر مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہوں، میں اس گفتگو سے لاتعلق تھا، لیکن جب انہوں نے مباہلہ کا تذکرہ کیا تو میں نے مولانا محترم کا دامن پکڑا اور کہا کہ: بیت اللہ شریف سامنے ہے، چلئے میں اسی وقت آپ سے مباہلہ کرتا ہوں! اس پر وہ ڈھیلے پڑگئے اور بات گئی گزری ہوگئی، بعد میں انہوں نے اس پر معذرت کی، یہ خلاصہ ہے ساری کہانی کا۔

مولانا عزیزالرحمن میرے پیر بھائی ہیں، میں ان کا احترام کرتا ہوں اور ان کو اپنے سے ہزارہا درجہ بہتر جانتا ہوں، لیکن مسلکِ علمائے دیوبند کے نام سے جو کچھ انہوں نے لکھا ہے، میں اس سے بیزار ہوں، اور اس کو اپنے شیخؒ کے مسلک کے خلاف سمجھتا ہوں۔

آپ ان سے اصلاحی تعلق رکھیں اور ان سے اکتسابِ فیض کریں، لیکن ان فضولیات اور لغویات میں اپنے اوقات کو ضائع مت کریں۔ میرا دین و عقیدہ یہ ہے کہ:

’’حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ اللہ کی طرف سے لے کر آئے، اور جو کچھ سلف صالحین، صحابہؓ وتابعینؒ، اور ہمارے شیخ نور اللہ مرقدہٗ تک ہمارے اکابرِ دیوبند نے سمجھا وہ برحق ہے، اگر میری رائے یا کسی اور کی رائے کسی مسئلے میں ان کے خلاف ہو تو وہ قابلِ ردّ ہے!‘‘

والسلام

محمد یوسف عفا اللہ عنہ

۲۰؍۴؍۱۴۱۸ھ

۶:۔مولانا‌عزیزالرحمن‌کے‌ایک‌مرید‌کے‌خط‌کا‌جواب - شہید اسلام