سنت وبدعت
۷:۔دیوبندیبریلویاختلافحقیقییافروعی؟
جواب
دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل میں ہمارے یہاں تقریباً دو تین سال سے یہ اختلاف روز افزوں ہوتا جارہا ہے اور ہمارے اکابرِ دیوبند کے منتسبین فریقین میں منقسم ہوتے جارہے ہیں، لہٰذا مندرجہ ذیل اُمور کا مفصل و مدلل بحوالہ کتب جواب باصواب تحریر فرماکر ہماری رہنمائی فرمائیں۔ بریلوی، دیوبندی اختلاف فروعی ہے یا اُصولی اور اعتقادی؟ ایک جماعت کہتی ہے کہ فریقین کے درمیان یہ اختلاف فروعی ہے، اور ہمارے علمائے دیوبند اور اکابرِ دیوبند نے جو سختی اختیار کی تھی عارضی اور وقتی تھی، کیونکہ دونوں فریق اہلِ سنت والجماعت میں سے ہیں اور مسلکِ حنفی پر قائم ہیں، اشاعرہ اور ماتریدیہ کے بیان کردہ عقائد پر قائم ہیں، بیعت و ارشاد میں بھی دونوں فریق صحیح طریقہ پر موجود ہیں۔
اب چونکہ اسلام دشمن عناصر قوت سے اُبھر رہے ہیں، لہٰذا دیوبندیوں اور بریلویوں کو متحد ہوکر ان کا مقابلہ کرنا چاہئے، ماضی کے تجربات کی روشنی میں بتلائیں کہ کیا ایسا اتحاد عملاً کامیاب ہوگا؟ کیا اس مقصد کے لئے دیوبندیوں کو اپنے اُصولی موقف اور مسائل سے ہٹنا اور عرس و میلاد اور فاتحہ وغیرہ میں شریک ہونا جائز ہے؟
دُوسری جماعت یہ کہتی ہے کہ اکابرِ دیوبند کا اختلاف بریلویوں سے فروعی ہی نہیں بلکہ اُصولی اور اعتقادی بھی تھا اور ہے، مثلاً: نور و بشر کا اختلاف، علمِ غیب کلی کا اختلاف، مختارِ کل ہونے کا اختلاف، حاضر و ناظر، قبروں پر سجود کا اختلاف وغیرہ وغیرہ اہم اور عظیم ہیں، نیز اکابرِ دیوبند کے بارے میں تکفیری فتاویٰ ان کی کتابوں میں ہیں، لہٰذا ان سے اتحاد کے لئے ضروری ہے کہ پہلے وہ اپنی کتابوں سے تکفیری فتاویٰ نکال دیں اور ان سے براء ت ظاہر کریں اور اپنے عقائد درست کریں۔
اول الذکر حضرات میلاد شریف اور عرس وغیرہ کے جواز اور استحباب پر اکابرِ دیوبند کے بعض اقوال سے استدلال کرتے ہیں، مثلاً: رسالہ ہفت مسئلہ مصنفہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ، نیز حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے بعض اقوال سے۔
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا بریلویوں کی مجالسِ میلاد و عرس وغیرہ میں مصلحتاً شریک ہونا جائز ہے؟ کیا ان کے اعمال کو مصلحتاً برداشت کرکے متحد ہونے کی دعوت دینا جائز ہے؟ کیا یہ اختلاف اُصولی اور اعتقادی ہے یا فروعی؟ کیا بریلوی بھی اہل سنت والجماعت ہیں؟
کیا بریلویوں کی بدعات فی نفسہٖ ہمارے حضراتِ دیوبند کے یہاں بھی جائز ہیں اور مباح؟ نقشِ نعلین شریفین کی کیا حقیقت ہے؟ کیا اس سے استبراک، چومنا، سر پر رکھنا وغیرہ جائز ہے؟ یہ مسائل پاکستان میں بہت عام ہوتے جارہے ہیں، ابھی تک علمائے دیوبند کے فتاویٰ کو یہ لوگ اہمیت دیتے ہیں، اُمید ہے کہ یہ لوگ خلافِ شرع اُمور سے باز آجائیں، بَيِّنُوا و تُؤْجَرُوا! فقط والسلام!
المستفتی اسماعیل بدات
از مدینہ منورہ
۱۸؍۱۰؍۱۴۱۷ھ

