October 14, 2026 at 2:03 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سنت وبدعت

الجواب‌ومن‌اللہ‌التوفیق

جواب

حَامِدًا وَمُصَلِّيًا وَمُسَلِّمًا، أَمَّا بَعْدُ!

دُوسری جماعت کا خیال صحیح ہے کہ دیوبندیوں کا بریلویوں سے اختلاف فروعی نہیں بلکہ اُصولی اور اعتقادی بھی ہے، اور پہلی جماعت کا خیال صحیح نہیں ہے کہ فریقین کے درمیان صرف فروعی اختلاف ہے اور دونوں فریق اہل السنت والجماعت میں سے ہیں اور مسلکِ حنفی پر قائم ہیں، نیز اشاعرہ و ماتریدیہ کے بیان کردہ عقائد پر قائم ہیں، بیعت و ارشاد میں بھی دونوں فریق صحیح طریقہ پر موجود ہیں، کیونکہ بریلویوں (رضاخانیوں) نے اہل السنت والجماعت کے عقائد میں بھی اضافہ کیا ہے، اور ایسے فروعی مسائل کو بھی دین کا جزو بنایا ہے جن کی فقہ حنفی میں واقعی کوئی اصل نہیں ہے، مثلاً: عقائد میں چار اُصول اور بنیادی عقائد بڑھائے ہیں: ۱:۔نور و بشر کا مسئلہ۔ ۲:۔علمِ غیب کلی کا مسئلہ۔ ۳:۔حاضر و ناظر کا مسئلہ۔ ۴:۔مختارِ کل ہونے کا مسئلہ۔ اور فروعی مسائل میں غیراللہ کو پکارنا، قبروں پر سجدہ کرنا، قبروں کا طواف کرنا، غیراللہ کی منتیں ماننا، قبروں پر چڑھاوے چڑھانا، میلادِ مروّجہ اور تعزیہ وغیرہ سینکڑوں باتیں ان کی ایجاد ہیں، جو صریح بدعات ہیں۔

اور بیعت و ارشاد میں بھی ان لوگوں نے بہت سی غیرشرعی چیزوں کی آمیزش کرلی ہے، مثلاً: قوالی اور وجد و سماع وغیرہ۔ نیز فریقِ اوّل کا یہ موقف خلافِ واقعہ ہے کہ ہمارے علمائے دیوبند اور اکابرِ دیوبند نے جو سختی اختیار کی تھی وہ عارضی اور وقتی تھی، بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ دیوبندیت نام ہی تمسک بالسنہ اور تنفیر عن البدعہ کا ہے، اکابرِ دیوبند کا عمل ہمیشہ’’فَٱصۡدَعۡ بِمَا تُؤۡمَرُ‘‘پر رہا ہے، انہوں نے کبھی دین کے معاملے میں مداہنت نہیں فرمائی، البتہ انہوں نے مقابلہ آرائی اور محاذ آرائی اور تکفیر بازی سے بھی گریز کیا ہے، اور ہمیشہ نرمی اور حکمت سے اصلاحِ حال کی کوشش کی ہے، پس آج بھی ان کے اَخلاف کو یہی طریقہ اختیار کرنا چاہئے۔

رسالہ ’’فیصلہ ہفت مسئلہ‘‘، ’’مسلک منقح‘‘ سے پہلے کی تصنیف ہے، اس سے استدلال صحیح نہیں ہے، اور حضرت شیخ سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ کے ایسے اقوال ہمارے علم میں نہیں۔ اور بریلویوں کی مجالسِ میلاد اور عرس وغیرہ میں مصلحتاً شریک ہونا بھی جائز نہیں ہے، اور اس کی ممانعت ’’ وَدُّواْ لَوۡ تُدۡهِنُ فَيُدۡهِنُونَ‘‘ میں مذکور ہے، اور’’لَكُمۡ دِينُكُمۡ وَلِيَ دِينِ‘‘ میں اشارہ بھی اسی طرف ہے، اور حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے امداد الفتاویٰ ج:۵ ص:۳۰۲ میں تحریر فرمایا ہے کہ:

’’رسومِ بدعات کے مفاسد قابلِ تسامح نہیں!‘‘

اور ج:۴ ص:۳۸۰ کے سوال و جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ عرس وغیرہ بدعات میں جو لوگ شریک ہوتے ہیں، ان کی بے ضرورت تعظیم و تکریم کرنے والے بھی ’’مَنْ وَقَّرَ صَاحِبَ بِدْعَةٍ فَقَدْ أَعَانَ عَلٰى هَدْمِ الْإِسْلَامِ‘‘ کا مصداق ہیں۔

اور بعض بدعات کے فی نفسہٖ جائز ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اُمور فی نفسہٖ تو جائز ہوتے ہیں، جیسے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ مبارکہ کا تذکرہ، مگر التزام اور شرائط و قیود کی پابندی کی وجہ سے وہ چیزیں بدعت کے زمرہ میں داخل ہوجاتی ہیں، اور وہ ناجائز ہوجاتی ہیں۔

اور نقشہ نعل مبارک کی کوئی اصل نہیں ہے، اور استبراک اور اس کو چومنا، سر پر رکھنا بے اصل ہے، اور حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے امداد الفتاویٰ ج:۴ ص:۳۷۸ میں اپنے رسالہ ’’نیل الشفاء بنعل المصطفٰی‘‘ سے رجوع فرمالیا ہے، وَاللّٰهُ أَعْلَمُ، وَعِلْمُهُ أَتَمُّ وَأَحْكَمُ!

الجواب صحیح حررہٗ

العبد نظام الدین محمد ظفیرالدین سعیداحمدپالن پوری عفا اللہ عنہ

مفتی دارالعلوم دیوبند مفتی دارالعلوم دیوبند خادم دارالعلوم دیوبند

۲۵؍۱۱؍۱۴۱۷ھ ۲۵؍ذوالقعدہ ۱۴۱۷ھ ۲۳؍ذوالقعدہ ۱۴۱۷ھ

الجواب‌ومن‌اللہ‌التوفیق - شہید اسلام