October 14, 2026 at 2:03 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سنت وبدعت

۸:۔‌مظاہر‌العلوم‌سہارنپور‌کا‌فتویٰ

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین (دیوبند) اس بارے میں کہ حضراتِ اکابرینِ دیوبند کا جماعتِ بریلویہ سے جو اَب تک اختلاف رہا ہے، یہ اختلاف فروعی ہے یا اُصولی و عقائد کا اختلاف ہے؟ اور جو بدعات بریلویوں نے اختیار کر رکھی ہیں، مثلاً: تیجہ، بیسواں، چالیسواں، برسی، قبروں پر سالانہ عرس، میلاد کا قیام، اجتماعی سلام وغیرہ ان اُمور کی اکابرِ دیوبند خصوصاً حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور حضرت مولانا شیخ الاسلام سیّد حسین احمد مدنیؒ اور ان کے خلفاء و تلامذہ نے جو شدت سے ان کی تردید کی تھی، کیا موجودہ علمائے دیوبند اس پر قائم ہیں؟ یا اس میں کچھ خفت آگئی ہے؟ اور کیا جماعتِ بریلویہ کو کسی بھی اعتبار سے اہل سنت والجماعت میں شمار کیا جاسکتا ہے؟

کیا ان لوگوں کا مذہب حضراتِ اشاعرہ اور حضراتِ ماتریدیہ کے موافق ہے؟

بعض ایسے لوگ ہیں جو حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ سے انتساب کے مدعی ہیں، انہوں نے یوں کہنا شروع کیا ہے کہ: اکابرِ دیوبند جو بدعات سے منع فرماتے تھے وہ سدًّا للباب تھا، اور عارضی طور پر ان سے بچنے کی تاکید فرماتے تھے، اور یہ کہ مصلحتوں کی بنا پر ان بدعات کو اختیار کرلینا چاہئے۔

دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا واقعی موجودہ حضرات علمائے دیوبند نے بریلویوں کی بدعات کی مخالفت میں کچھ ہلکا پن اختیار کرلیا ہے؟ اور کیا مصلحتاً ہلکا ہوجانا مناسب ہے؟

اور کیا حضرت شیخ الحدیث صاحب قدس سرہٗ کچے دیوبندی تھے؟ ان کے اکابرؒ نے جو سوچ سمجھ کر بدعات، بریلویہ کا سختی سے مقابلہ کیا تھا، کیا یہ شیخ الحدیثؒ کو گوارا نہیں تھا، ان سے انتساب رکھنے والے جو بعض لوگ بریلویوں کی بدعات (جیسا کہ حال ہی میں ایک پاکستانی صاحب نے ’’اکابر کا مسلک و مشرب‘‘ کے نام سے ایک کتابچہ شائع کیا ہے) والے اعمال کو مصلحت کے نام سے اختیار کرنا مناسب سمجھتے ہیں، ان لوگوں کی رائے کا کیا وزن ہے؟ کیا ان لوگوں کے انتساب سے حضرت شیخ الحدیث صاحب قدس سرہٗ کی شخصیت پر حرف نہیں آرہا ہے؟ بَيِّنُوا تُؤْجَرُوا!

السائل

اسماعیل بدات، مدینہ منورہ

۸:۔‌مظاہر‌العلوم‌سہارنپور‌کا‌فتویٰ - شہید اسلام