October 14, 2026 at 2:03 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سنت وبدعت

الجواب

جواب

حضراتِ علمائے دیوبند جن کے اسمائے گرامی سوال میں مذکور ہیں، اور ان کے تلامذہ اور خلفاء سب پکے متبعِ سنت تھے، اور ہر ایسی چیز کے شدت کے ساتھ مخالف ہے جو شرعی اُصول کے مطابق بدعت کے دائرہ میں آتی ہو، چونکہ حسبِ فرمانِ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر بدعت گمراہی ہے، اس لئے اس گمراہی سے امت کو محفوظ رکھنے کا اہتمام فرماتے تھے، اس سلسلہ میں ان کی چھوٹی بڑی کتابیں معروف و مشہور ہیں، اور ان کے تردیدی مضامین اور فتاویٰ، اور ’’البراہین القاطعہ‘‘، ’’المہند علی المفند‘‘ اور ’’الشہاب الثاقب‘‘، ’’امداد الفتاویٰ‘‘ اور ’’اصلاح الرسوم‘‘ میں موجود ہیں، انہوں نے سوچ سمجھ کر اپنی عالمانہ ذمہ داری کو سامنے رکھ کر خوب کھل کر نہ صرف بریلویوں کی بدعات کی بلکہ ہر اس بدعت کی (جو اعتقادی ہو یا عملی) جس کا کسی بھی علاقہ میں علم ہوا، سختی سے تردید فرمائی، ان کی یہ تردید عارضی نہیں تھی۔

بدعت کبھی سنت نہیں ہوسکتی، لہٰذا اس کی تردید بھی عارضی نہیں ہوسکتی، اور اس کی تردید میں ہلکاپن اختیار کرنے کی شرعاً کوئی اجازت نہیں۔

حضراتِ اکابرِ دیوبند نے جو بدعت کی تردید کی اور اس بارے میں جو مضبوطی کے ساتھ اہلِ بدعت کے ساتھ جم کر مقابلہ کیا، ان کی اس محنت اور کوشش سے کروڑوں افراد نے بدعتوں سے توبہ کی، اور سنتوں کے گرویدہ ہوئے۔

آج اگر کوئی شخص یوں کہتا ہے کہ اب بدعتوں کی تردید میں سختی نہ کرنی چاہئے یا مصلحتاً ان کو کسی تأویل سے اپنالینا چاہئے، ایسا شخص دیوبندی نہیں ہے، اگرچہ اکابرِ دیوبند سے متعلق ہونے کا مدعی ہو۔ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب کاندھلوی قدس سرہٗ بہت ہی پکے دیوبندی تھے، اپنے اکابرؒ کے مسلک سے سرِمو انحراف کرنا انہیں گوارا نہ تھا، ان کی ساری زندگی اور ان کی کتابیں اس پر گواہ ہیں، جو کوئی شخص ان کی طرف بدعت کے بارے میں ڈھیلاپن منسوب کرتا ہے، وہ اپنی بات میں سچا نہیں ہے۔

لفظ ’’اہلِ سنت والجماعت‘‘ کا اطلاق حضراتِ اشاعرہ و ماتریدیہ پر ہوتا ہے، احمد رضاخاں بریلوی اور ان کی جماعت کا ان دو جماعتوں سے کوئی تعلق نہیں، احمد رضا خاں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے علمِ غیب کلی مانتے ہیں یا یوں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سارے اختیارات سپرد کردئیے گئے تھے، یہ دونوں باتیں اشاعرہ اور ماتریدیہ کے یہاں کہیں بھی نہیں، نہ کتبِ عقائد میں کسی نے نقل کی ہیں، اور نہ ان کی کتابوں میں ان کا کوئی ذکر ہے، اور یہ دونوں باتیں قرآن و حدیث کے صریح خلاف ہیں، یہ سب بریلویوں کی اپنی ایجاد ہیں، اگر کوئی شخص بریلوی فرقہ کو اہلِ سنت والجماعت شمار کرتا ہے تو یہ اس کی صریح گمراہی ہے۔

ہم سب دستخط کنندگان کی طرف سے تمام مسلمانوں پر واضح ہوجانا چاہئے کہ اب بھی ہم اسی دیوبندی مسلک پر شدت کے ساتھ قائم ہیں، جو ہمارے عہدِ اوّل کے اکابرؒ سے ہم تک پہنچا ہے، ہمیں کسی قسم کی خفت گوارا نہیں ہے، وباللہ التوفیق!

محمد عاقل عفا اللہ عنہ محمد سلمان

صدر المدرسین قائم مقام ناظم

مقصود علی عبدالرحمن عفی عنہ

مفتی مدرسہ مفتی مدرسہ

(مہر دار الافتاء مظاہر العلوم سہارنپور)

الجواب - شہید اسلام