October 14, 2026 at 2:55 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غلط عقائد رکھنے والے فرقے

اِمام‌مہدیؓ‌خلیفہ‌وحکمران‌ہوں‌گے:

جواب

۲۔ ’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی دُوسری روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: اگر دُنیا کا صرف ایک دن باقی رہ جائے تو اللہ تعالیٰ اس کو طویل کردیں گے یہاں تک کھڑا کریں گے ایسے شخص کو جو میرے اہلِ بیت میں سے ہوگا، اس کا نام میرے نام کے اور اس کے والد کا نام میرے والد کے موافق ہوگا۔ وہ زمین کو عدل واِنصاف سے بھردے گا جیسا کہ وہ ظلم سے بھری ہوئی ہوگی۔‘‘

(ابوداؤد ج:۲ ص:۲۳۲، مشکوٰۃ ص:۴۷۰)(۳)

فائدہ:۔ یہ حدیث ’’چراغ دین نبوی‘‘ میں بھی نقل کی گئی ہے، مگر اس میں دو غلطیاں ہیں، ایک یہ کہ روایت پوری نقل نہیں کی، جس سے حدیث کی مراد واضح ہوجاتی۔ اور دُوسرے یہ ’’اس کے ماں باپ کے نام میرے ہی ماںباپ کے نام ہوں‘‘ کے الفاظ اپنی طرف سے نقل کردئیے ہیں، ابوداؤد میں یہ الفاظ نہیں ہیں۔

۳۔ ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی مضمون کی حدیث مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: قیامت سے پہلے اِمام مہدی حاکم ہوں گے۔‘‘

(ترمذی ج:۲ ص:۴۶، اِمام ترمذیؒ نے اس حدیث کو روایت کرکے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے)(۴)

۴۔ فرقۂ مہدویہ کی کتاب ’’چراغ دین نبوی‘‘ کے حوالے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اِرشاد اُوپر گزرچکا ہے کہ: ’’مہدی خلفیۃ اللہ ہوں گے۔‘‘

۵۔ نیز اسی کتاب میں یہ حدیث بھی گزرچکی ہے کہ: ’’مہدیٔ موعود کا حکم خدا اور رسول کے حکم کے موافق ہوگا۔‘‘

۶۔ نیز اسی کتاب میں ابنِ ماجہ کے حوالے سے یہ حدیث گزرچکی ہے کہ: ’’تم مہدی سے بیعت کرو، گو تم کو ان کے پاس برف پر سے ہوکر گزرنا پڑے۔‘‘ لیکن مصنف نے اس حدیث کا یہ آخری فقرہ چھوڑ دیا: ’’کیونکہ وہ اللہ کے خلیفہ مہدی ہیں۔‘‘ (ابنِ ماجہ)۔(۵)

ان اَحادیث میں صاف صاف بتایا گیا ہے کہ حضرت مہدیٔ آخرالزماں مسلمانوں کے خلیفہ ہوں گے، رُوئے زمین پر ان کی حکومت ہوگی، وہ لوگوں کے درمیان عدل وانصاف کے فیصلے کریں گے، اور ان کے فیصلے خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے موافق ہوں گے۔ الغرض ان احادیث سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی ایسے اِمام مہدی کے بارے میں ہے جو مسلمانوں کے خلیفۂ برحق ہوں گے، ان کے ہاتھ پر بیعتِ خلافت ہوگی، اور وہ اپنی خلافت کے زمانے میں اپنے عدل وانصاف سے زمین کو بھردیں گے، جس طرح کہ ان سے پہلے اللہ کی زمین ظلم وبے انصافی سے بھری ہوئی ہوگی۔

سب جانتے ہیں کہ سیّد محمد جونپوری کو کبھی کسی ایک بستی کی بھی حکومت نصیب نہیں ہوئی، چہ جائیکہ تمام عرب ممالک کے یا پوری دُنیا کے خلیفہ ہوتے؟ ثابت ہوا کہ سیّد محمد جونپوری کا دعویٔ مہدویت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق نہیں تھا، لہٰذا ان کو اِمام مہدیٔ آخرالزماں ماننا غلط ہے۔

نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اِرشاد کہ: ’’دُنیا ختم نہیں ہوگی یہاں تک کہ ان صفات کا خلیفہ ظاہر نہ ہو‘‘ یا یہ کہ: ’’اگر دُنیا کا صرف ایک دن باقی رہ جائے تو اللہ تعالیٰ اس کو دراز کردیں گے یہاں تک کہ ان صفات کا خلیفہ پیدا ہو۔‘‘ اس میں دو باتوں کی طرف اِشارہ ہے، ایک یہ کہ ایسی صفات کے خلیفہ (اِمام مہدی) کا ظہور قیامت سے پہلے ضروری ہے، جب تک ایسا خلیفہ ظاہر نہ ہو قیامت نہیں آسکتی۔ دوم یہ کہ اس خلیفہ (اِمام مہدی) کا ظہور قربِ قیامت میں ہوگا، جبکہ لوگ یہ سمجھیں گے کہ قیامت کے ظہور میں بس ایک آدھ دن باقی رہ گیا ہے۔

اس سے ایک مرتبہ اور ظاہر ہوا کہ نویں صدی میں مہدی کا دعویٰ کرنے والی شخصیت (سیّد محمد جونپوری) کا دعویٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق نہیں تھا، کیونکہ اس کے دعوے کے بعد پوری پانچ صدیاں گزرچکی ہیں، اور چھٹی صدی شروع ہے، اتنے طویل عرصے کو کوئی عاقل ان الفاظ سے تعبیر نہیں کرسکتا ہے کہ: ’’قیامت میں اگر ایک دن بھی باقی ہو‘‘ چہ جائیکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات اِرشاد فرمائیں؟

فائدہ:۔ ان احادیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا اِمام مہدی ہونے کا دعویٰ بھی غلط تھا، کیونکہ اس کو بھی حکومت نصیب نہیں ہوئی، نہ کسی نے اس کے ہاتھ پر بیعتِ خلافت کی، اور اس کو گزرے ہوئے بھی ایک صدی گزرچکی ہے، لہٰذا اس کا دعویٰ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق نہ نکلا۔

  1. (۲) عن عبداللہ بن مسعود قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا تذھب الدنیا حتّٰی یملک العرب رجل من أھل بیتی یواطیٔ اسمہ اسمی۔ (مشکٰوۃ شریف ص:۴۷۰، الفصل الأوّل، باب اشراط الساعۃ)۔
  2. (۳) وفی روایۃ لہ قال: لو لم یبق من الدنیا إلّا یوم لطوّل اللہ ذالک الیوم حتّٰی یبعث اللہ فیہ رجلًا منّی أو من أھل بیتی یواطیٔ اسمہ اسمی واسم أبیہ اسم أبی یملأ الأرض قسطًا وعدلًا کما ملئت ظلمًا وجورًا۔ (مشکٰوۃ ص:۴۷۰، باب أشراط الساعۃ)۔
  3. (۴) عن أبی ھریرۃ قال: لو لم یبق من الدنیا إلّا یومًا لطوّل اللہ ذالک الیوم حتّٰی یلی ھٰذا حدیث حسین صحیح۔ (ترمذی ج:۲ ص:۴۶)۔
  4. (۵) عن ثوبان قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ فقال: فإذا رأیتموہ فبایعوہ ولو حبوا علی الثلج فإنہ خلیفۃ اللہ المھدی۔ (ابن ماجۃ ص:۳۰۰، باب خروج المھدی)
اِمام‌مہدیؓ‌خلیفہ‌وحکمران‌ہوں‌گے: - شہید اسلام