October 14, 2026 at 2:56 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غلط عقائد رکھنے والے فرقے

اِمام‌مہدیؓ‌کے‌ہاتھ‌پر‌بیعتِ‌خلافت‌ہونا:

جواب

مشکوٰۃ شریف میں ابوداؤد کے حوالے سے یہ حدیث نقل کی ہے:

’’حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہ عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اِرشاد نقل کرتی ہیں کہ: ایک خلیفہ (بادشاہ) کی موت پر (ان کی جانشینی کے مسئلے پر) لوگوں میں اِختلاف و نزاع واقع ہوگا، پس اہلِ مدینہ میں سے ایک شخص وہاں سے نکل کر مکہ مکرّمہ کی طرف بھاگ آئے گا (یہ شخص حضرت مہدی ہوں گے، اور اس اِختلاف ونزاع سے بچنے کے لئے مکہ مکرّمہ آکر رُوپوش ہوجائیں گے، کیونکہ مکہ مکرّمہ دارالامن ہے) پس اہلِ مکہ میں سے کچھ لوگ (ان کو پہچان لیں گے کہ یہی مہدی ہیں اور) ان کے پاس آئیں گے، اور ان کو (گھر سے) نکالیں گے، حالانکہ وہ صاحب قبولِ خلافت پر آمادہ نہیں ہوں گے، پس لوگ ان کو مجبور کرکے حجرِ اَسوَد اور مقامِ اِبراہیم کے درمیان ان کے ہاتھ پر بیعت کریں گے، (اس طرح حضرت مہدیؓ مسلمانوں کے اِمام اور خلیفہ بن جائیں گے)۔

ان کے مقابلے میں ایک لشکر شام سے بھیجا جائے گا (یہ سفیانی کا بھیجا ہوا لشکر ہوگا، جو کہ اس وقت ملکِ شام کا بادشاہ ہوگا) پس اس لشکر کو مقامِ بیدا میں (جو مکہ ومدینہ کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے) دھنسادیا جائے گا، (سفیانی کے لشکر کا زمین میں دھنسا دِیا جانا خروجِ مہدی کی علامتوں میں سے ایک اہم ترین علامت ہے، جس کے بارے میں بہت سی احادیث وارِد ہیں جو قریب تواتر کے ہیں) (کذا فی مظاہر حق ج:۴ ص:۳۴۴)۔

پس جب لوگ اس لشکرِ سفیانی کا دھنس کر ہلاک ہونا دیکھیں اور سنیں گے تو (سب کو یقین ہوجائے گا کہ یہی حضرت اِمام مہدیؓ ہیں، چنانچہ یہ سن کر) شام کے اَبدال اور عراق کے نیک لوگوں کی جماعتیں آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر آپ کے ہاتھ پر بیعت کریں گی۔

پھر قریش کا ایک شخص، جس کے ماموں قبیلۂ بنوکلب کے لوگ ہوں گے، حضرت مہدیؓ کے مقابلے میں کھڑا ہوگا، پس یہ شخص بھی (اپنے ماموؤں کے قبیلے کی مدد سے) حضرت مہدیؓ اور ان کے لشکر کے مقابلے میں ایک لشکر بھیجے گا، پس حضرت مہدیؓ اور ان کا لشکر ان پر غالب آئیں گے، اور یہ بنوکلب کا فتنہ ہوگا (اور یہ ظہورِ مہدی کی دُوسری علامت ہوگی)۔

اور حضرت مہدی ؓ لوگوں میں ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے موافق عمل کریں گے، اور اِسلام اپنی گردن زمین میں ڈال دے گا (یعنی ثبات وقرار پکڑے گا، جس طرح کہ اُونٹ جب بیٹھتا اور آرام وقرار پکڑتا ہے تو اپنی گردن پھیلادیتا ہے) پس حضرت مہدیؓ سات سال زمین میں (بحیثیت خلیفہ کے) رہیں گے، پھر ان کی وفات ہوگی، اور مسلمان ان کی نمازِ جنازہ پڑھیں گے۔‘‘(۶)

(مشکوٰۃ شریف ص:۴۷۱، ابوداؤد ج:۲ ص:۲۳۳، جامع الاصول ج:۱۰ ص:۲۷)

اس صحیح حدیث میں حضرت اِمام مہدیؓ کے ظہور کا پورا نقشہ کھینچا گیا ہے، خود اِنصاف کیجئے کہ کیا سیّد محمد جونپوری کے حق میں یہ علامات ظاہر ہوئی ہیں؟ یہاں ایک خاص نکتہ لائقِ توجہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مہدیؓ کے ظہور کی علامات اور ان کے زمانے کے واقعات متواتر اَحادیث میں بیان فرمائے ہیں، لیکن کسی حدیث میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ وہ ’’أَنَا الْمَهْدِيْ!‘‘ کا نعرہ لگائیں گے، اور لوگوں کو اپنے ہاتھ پر بیعت کرنے کی دعوت دیں گے، بلکہ اس کے برعکس یہ فرمایا گیا ہے کہ لوگ ان کو بیعتِ خلافت کے لئے مجبور کریں گے، جبکہ وہ اس سے انکار کریں گے، لیکن اہلِ بصیرت حضرات ان کی ناگواری واِنکار کے باوجود ان کو بیعتِ خلافت پر مجبور کردیں گے، اس طرح ان کو خلیفہ منتخب کرلیا جائے گا۔ یہی ایک علامت ہے جو سچے مہدی اور جھوٹے دعوے داروں کے درمیان فرق کردیتی ہے۔ حضرت مہدیٔ برحق کو ایک دن بھی مہدی ہونے کا دعویٰ کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی، جبکہ سیّد محمد جونپوری سے لے کر غلام احمد قادیانی تک مہدویت کا دعویٰ کرنے والوں کے ہاتھ میں خالی دعوؤں کے سوا کچھ بھی نہیں۔

  1. (۶) عن اُمِّ سلمۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: یکون اختلاف عند موت خلیفۃ فیخرج رجل من أھل المدینۃ ھاربًا إلٰی مکۃ فیأتیہ ناس من أھل مکۃ فیخرجونہ وھو کارہ فیبایعونہ بین الرّکن والمقام، ویبعث إلیہ بعث من الشام فیخسف بھم بالبیداء بین مکۃ والمدینۃ، فإذا رأَی الناس ذالک أتاہ أبدال الشام وعصائب أھل العراق فیبایعونہ ثم ینشأ رجل من قریش أخوالہ کلب فیبعث إلیھم بعثًا فیظھرون علیھم وذالک بعث کلب ویعمل فی الناس بسُنّۃ نبیّھم ویلقی الْإسلام بجرانہ فی الأرض فیلبث سبع سنین ثم یتوفّٰی ویصلّی علیہ المسلمون۔ رواہ أبو داوٗد۔ (مشکٰوۃ ص:۴۷۱، باب أشراط الساعۃ)۔
اِمام‌مہدیؓ‌کے‌ہاتھ‌پر‌بیعتِ‌خلافت‌ہونا: - شہید اسلام