غلط عقائد رکھنے والے فرقے
حضرتمہدیؓ،نصاریٰسےجہادکریںگے:
جواب
۱:۔ ’’نصاریٰ کے اَسّی جھنڈے ہوں گے، اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار کا لشکر، گویا نولاکھ ساٹھ ہزار۔‘‘
۲۔ ’’حضرت مہدیؓ کے لشکر کا ایک تہائی حصہ شکست کھاکر بھاگ جائے گا، جن کی توبہ کبھی قبول نہیں ہوگی۔ ایک تہائی شہید ہوجائیں گے، اور یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک افضل الشہداء شمار ہوں گے، اور ایک تہائی فتح پائیں گے، جو آئندہ کبھی کسی فتنے میں مبتلا نہیں ہوں گے۔‘‘(۷)
۳۔ ’’پہلے دن مسلمان یہ شرط لگاکر جائیں گے کہ یا تو مرجائیں گے، یا غالب ہوکر آئیں گے، سارا دن رات تک یہ لڑائی جاری رہے گی، لیکن فریقین میں سے کوئی غالب نہیں ہوگا، اس لئے دونوں فریق اپنی اپنی جگہ واپس آجائیں گے، لیکن فریقین کے عَلم بردار میدان میں کام آجائیں گے۔ اگلے دن پھر موت کی شرط لگاکر جائیں گے، سارا دن شام تک لڑائی ہوتی رہے گی، لیکن کوئی غالب نہیں آئے گا، پس دونوں فریق اپنی اپنی قیام گاہ میں لوٹ آئیں گے،اور دونوں کے عَلم بردار میدان میں کھیت رہیں گے۔ تیسرے دن پھر موت کی شرط لگاکر جائیں گے، لیکن نتیجہ پھر وہی رہے گا، ان تین دنوں میں بے شمار لوگ قتل ہوگئے ہوں گے، چوتھے دن بقیۃ السیف مسلمان حملہ آور ہوں گے، اور اللہ تعالیٰ نصرانیوں پر شکست ڈال دیں گے، پس ایسی ہولناک جنگ ہوگی جس کی مثال نہ دیکھی، نہ سنی، اور اتنے آدمی قتل ہوجائیں گے کہ سو میں سے ایک آدمی زندہ بچے گا۔‘‘(۸) (مشکوٰۃ ص:۴۶۷)
احادیث شریفہ میں حضرت مہدیؓ کے زمانے میں ہونے والی ’’ملحمۂ کبریٰ‘‘ (جنگِ عظیم) کا جو نقشہ ذِکر کیا گیا ہے، جس کا خلاصہ میں نے اُوپر درج کیا ہے، سوال یہ ہے کہ کیا کسی مدعیٔ مہدویت کی قیادت میں مسلمانوں کی نصاریٰ کے مقابلے میں ایسی ہولناک جنگ ہوئی ہے؟ کیا سیّد محمد جونپوری نے ملکِ شام جاکر نصاریٰ کے خلاف لڑائی لڑی؟
اگر جواب نفی میں ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق ان کو مہدیٔ آخرالزماں کہنا کیسے صحیح ہوگا؟ اور نصاریٰ کے خلاف حضرت مہدیؓکی لڑائیوں کا نام سن کر مرزا غلام احمد قادیانی کے بدن پر تو لرزی طاری ہوجاتا تھا، اور وہ حضرت مہدیٔ آخرالزماں کو ’’خونی مہدی‘‘ کہہ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اِرشادات کا مذاق اُڑاتا تھا۔
- (۷) عن عوف بن مالک قال ۔۔۔ ثم ھدنۃ تکون بینکم وبین بنی الأصفر فیغدرون فیأتونکم تحت ثمانین غایۃ تحت کل غایۃ اثنا عشر ألفًا۔ رواہ البخاری۔ وعن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا تقوم الساعۃ حتّٰی ینزل الروم بالأعماق أو بدابق فیخرج إلیھم جیش من المدینۃ من خیار أھل الأرض یومئذ، فإذا تصافوا قالت الروم: خلوا بیننا وبین الذین سبوا منا نقاتلھم، فیقول المسلمون: لَا واللہ! لَا نخلّی بینکم وبین إخواننا، فیقاتلونھم فینھزم ثلث لَا یتوب اللہ علیھم أبدًا، ویُقتل ثلثھم أفضل الشھداء عند اللہ، ویفتتح الثلث لَا یفتنون أبدًا ۔۔۔إلخ۔ (مشکٰوۃ ص:۴۶۶، باب الملاحم)۔
- (۸)) عن عبداللہ بن مسعود قال: ان الساعۃ لَا تقوم حتّٰی لَا یقسم میراث ولَا یفرح بغنیمۃ ثم قال عدو یجمعون لأھل الشام ویجمع لھم أھل الْإسلام یعنی الروم فیتشرّط المسلمون شرطۃ للموت لَا ترجع إلّا غالبۃ فیقتتلون حتّٰی یحجز بینھم اللیل فیفیٔ ھٰؤلَاء وھٰؤلَاء کل غیر غالب وتفنی الشرطۃ ثم یتشرط المسلمون شرطۃ للموت لَا ترجع إلّا غالبۃ فیقتتلون حتّٰی یحجز بینھم اللیل فیفیٔ ھٰؤلَاء وھٰؤلَاء کل غیر غالب وتفنی الشرطۃ ثم یتشرط المسلمون شرطۃ للموت لَا ترجع إلّا غالبۃ فیقتتلون حتّٰی یمسوا فیفیٔ ھٰؤلَاء وھٰؤلَاء کل غیر غالب وتفنی الشرطۃ فإذا کان یوم الرابع نھد إلیھم بقیۃ أھل الْإسلام فیجعل اللہ الدابرۃ علیھم فیقتتلون مقتلۃ لم یر مثلھا حتّٰی ان الطائر لیمرّ بجنباتھم فلا یخلفھم حتّٰی یخرج میتا فیتاعدّ بنو الأب کانوا مائۃ فلا یجدونہ بقی منھم إلّا الرجل الواحد ۔۔۔إلخ۔ (مشکٰوۃ ص:۴۶۷، باب الملاحم)۔

