October 14, 2026 at 2:56 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غلط عقائد رکھنے والے فرقے

تکمیل:

جواب

’’علاماتِ قیامت کہ مخبرِ صادق عَلَيْهِ وَعَلٰى آلِهِ الصَّلَوَاتُ وَالتَّسْلِيْمَاتُازاں خبر دادہ است حق ست، احتمالِ تخلف ندارد، مثل طلوعِ آفتاب از جانبِ مغرب برخلافِ عادت، وظہور حضرت مہدی علیہ الرضوان، ونزول حضرت رُوح اللہ عَلٰى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، وخروجِ دجال، وظہورِ یاجوج وماجوج، وخروج دابۃ الارض، ودُخانے کہ از آسمان پیدا شود وتمام مردم را فرو گیرد وعذاب دردناک کند، مردم از اِضطراب گویند ’’اے پروردگار! ما ایں عذاب را از ما دُور کن کہ ما اِیمان مے آریم‘‘ وآخر علامات آتش ست کہ ازعدن خیزد۔

وجماعہ از نادانی گمان کنند شخصے را کہ دعویٔ مہدویت نمودہ بود از اہلِ ہند، مہدیٔ موعود بودہ است، پس بزعمِ ایناں مہدی گزشتہ است وفوت شدہ، ونشان میدہند کہ قبرش در فرہ است، در احادیث صحاح کہ بحد شہرت بلکہ بحد تواتر معنے رسیدہ اند تکذیب ایں طائفہ است، چہ آںسرور عَلَيْهِ وَعَلٰى آلِهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُمہدی را علامات فرمودہ است در اَحادیث کہ درحق آں شخص کہ معتقد ایشانست آن علامات مفقود اند۔

در احادیثِ نبوی آمدہ است عَلَيْهِ وَعَلٰى آلِهِ الصَّلٰوۃُ وَالتَّسْلِيْمَاتُکہ مہدیٔ موعود بیرون آید وبر سروے پارہ ابر بود کہ دراں ابر فرشتہ باشد کہ ندا کند کہ ایں شخص مہدی است اور امتابعت کید۔

وفرمودہ عَلَيْهِ وَعَلٰى آلِهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُکہ تمام زمین را مالک شدند چار کس باد وکس ازمؤمناں ودو کس از کافراں، ذُوالقرنین وسلیمان از مؤمناں و نمرود وبخت نصر اَز کافراں، ومالک خواہد شد آں زمین را شخص پنجم از اہلِ بیت من یعنی مہدی۔

وفرمودہ عَلَيْهِ وَعَلٰى آلِهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُدُنیا نرود تاآنکہ بعث کند خدائے تعالیٰ مردے را اَز اہلِ بیت من کہ نام او موافق نام من بود ونام پدر او موافق نام پدر من باشد، پس پرسازد زمین را بداد وعدل چنانچہ پر شدہ بود بجور وظلم۔

ودر حدیث آمدہ است کہ اصحابِ کہف اعوان حضرت مہدیؓ خواہند بود۔ وحضرت عیسیٰ عَلٰى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ در زمان وے نزول خواہد کرد، واو موافقت خواہد کرد باحضرت عیسیٰ َلٰى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ در قتالِ دجال، ودر زمان ظہور سلطنت او در چہار دہم شہر رمضان کسوفِ شمس خواہد شد ودر اوّل آں ماہ خسوفِ قمر برخلافِ عادتِ زمان وبرخلاف حسابِ منجمان۔

بنظرِ انصاف باید دید کہ ایں علامات دراں شخص میت بودہ است یا نہ؟ وعلامات دیگر بسیار ست کہ مخبر صادق فرمودہ است َلَيْهِ وَعَلٰى آلِهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، شیخ ابنِ حجرؒ رسالہ نوشتہ است درعلاماتِ مہدی منتظر کہ بہ دویست علامت میکشد، نہایت جہل ست کہ باوجود وضوح امر مہدی موعود جمعے درضلالت مانند، هَدَاهُمُ اللهُ سُبْحَانَهُ سَوَاءَ الصِّرَاطِ۔‘‘ (مکتوباتِ اِمام ربانی، دفتر دوم، مکتوب:۶۷ ص:۱۸۹ تا ۱۹۱ مطبوعہ کراچی)

ترجمہ:۔ ’’(عقیدہ۱۹) اور علاماتِ قیامت جن کی مخبرِ صادق عَلَيْهِ وَعَلٰى آلِهِ الصَّلَوَاتُ وَالتَّسْلِيْمَاتُ نے خبر دی ہے سب حق ہیں، ان میں تخلف کا کوئی اِحتمال نہیں، مثلاً خلافِ عادت مغرب کی جانب سے آفتاب کا طلوع ہونا، ظہورِ حضرت مہدی علیہ الرضوان، نزول حضرت رُوح اللہ (عیسیٰ) عَلٰى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، خروجِ دجال، ظہورِ یاجوج وماجوج، خروج دابۃ الارض، اور ایک دُھواں جو آسمان سے اُٹھ کر تمام اِنسانوں کو گھیر لے گا اور لوگوں کو دردناک عذاب میں مبتلا کردے گا، اس وقت لوگ مضطرب ہوکر (حق تعالیٰ شانہ‘ سے) عرض کریں گے:

’’اے ہمارے رَبّ! اس عذاب کو ہم سے دُور فرمادے کہ ہم اِیمان لاتے ہیں) اور آخری علامت آگ ہے جو عدن سے اُٹھے گی۔

ایک گروہ (مہدویہ) اپنی نادانی کی وجہ سے ایک شخص کے متعلق، جس نے اہلِ ہند میں سے ہوتے ہوئے ’’مہدیٔ موعود‘‘ ہونے کا دعویٰ کیا تھا، یہ گمان کرتا ہے کہ وہ مہدی ہوا ہے۔ لہٰذا ان کے زعم میں وہ مہدی گزرچکا ہے اور فوت ہوچکا، اور اس کی قبر کا نشان بتاتے ہیں کہ وہ فرو میں ہے۔ (لیکن) وہ صحیح احادیث جو بحدِ شہرت بلکہ معنی کے لحاط سے حدِ تواتر کو پہنچ چکی ہیں، وہ اس گروہ (مہدویہ) کی تکذیب کرتی ہیں، کیونکہ آںسرورعَلَيْهِ وَعَلٰى آلِهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ نے جو علامتیں ’’مہدی‘‘ کی بیان فرمائی ہیں، وہ علامات ان لوگوں کے معتقد فیہ شخص کے حق میں مفقود ہیں، احادیثِ نبوی میں آیا ہے کہ ’’مہدیٔ موعود‘‘ جب ظاہر ہوں گے تو ان کے سر پر بادل کا ایک ٹکڑا ہوگا اور اس اَبر میں ایک فرشتہ ہوگا جو پکار کر کہے گا کہ یہ شخص مہدی ہے، اس کی متابعت کرو۔ اور آپ عَلَيْهِ وَعَلٰى آلِهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ نے فرمایا کہ: چار آدمی پوری رُوئے زمین کے مالک (بادشاہ) ہوئے ہیں، ان میں دو مؤمن اور دو کافر ہیں، ذُوالقرنین اور سلیمان، مؤمنوں میں سے تھے، اور نمرود اور بخت نصر کافروں میں سے، اور اس زمین کا پانچواں مالک میرے اہلِ بیت میں سے ہوگا، یعنی مہدی۔ اور آپ عَلَيْهِ وَعَلٰى آلِهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ نے فرمایا کہ: دُنیا اس وقت تک ختم نہ ہوگی، جب تک کہ خدائے تعالیٰ میرے اہلِ بیت میں سے ایک شخص کو پیدا نہ فرمالے کہ اس کا نام میرے نام پر اور اس کے والد کا نام بھی میرے والد کے نام کے موافق ہوگا، اور وہ زمین کو عدل وانصاف سے اسی طرح بھردے گا جس طرح کہ وہ ظلم وجور سے بھری ہوئی تھی۔

اور حدیث میں وارِد ہے کہ اَصحابِ کہف حضرت مہدی کے معاونین میں سے ہوں گے، اور حضرت عیسیٰ عَلٰى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ ان (مہدی) کے زمانے میں نزول فرمائیں گے، اور وہ (مہدی) دجال کے قتل کرنے میں حضرت عیسیٰ عَلٰى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُکی موافقت کریں گے، اور ان (مہدی) کی سلطنت کے ظہور کے زمانے میں زمانے کی عادت کے برخلاف اور نجومیوں کے حساب کے بھی برخلاف چودہ ماہ رمضان کو سورج گہن ہوگا اور اسی ماہ کے شروع میں چاند گہن ہوگا۔

اب انصاف سے دیکھنا چاہئے کہ یہ علامات جو بیان کی گئی ہیں اس فوت شدہ شخص (سیّد محمد جونپوری یا مرزا غلام احمد قادیانی) میں موجود ہیں یا نہیں؟ (ان کے علاوہ) اور بھی بہت سی علامات ہیں جو مخبرِ صادق علیہ وعلیٰ آلہ الصلوٰۃ والسلام نے بیان فرمائی ہیں، شیخ ابنِ حجرؒ نے ’’علاماتِ مہدی منتظر‘‘ کے بارے میں ایک رسالہ لکھا ہے جس میں دو سو کے قریب علامات بیان کی گئی ہیں۔ بڑی نادانی اور جہالت کی بات ہے کہ مہدیٔ موعود کا معاملہ اتنا واضح ہونے کے باوجود ایک گروہ گمراہی میں مبتلا ہے۔ اللہ سبحانہ‘ ان کو سیدھے راستے کی ہدایت دے۔‘‘ (مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی، ؒ دفتر دوم، مکتوب:۶۷ ص:۲۴۶)

وَصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّآلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ

تکمیل: - شہید اسلام