غلط عقائد رکھنے والے فرقے
القرآنریسرچسینٹرتنظیماوراسکےبانیمحمدشیخکاشرعیحکم
جواب
مولانا صاحب! آج کل ایک نیا فتنہ قرآن سینٹر کے نام سے بہت زوروں پر ہے، اس کا بانی محمد شیخ انگلش میں بیان کرتا ہے اور ضروریاتِ دِین کا انکار کرتا ہے۔ ہم اس انتظار میں تھے کہ ’’آپ کے مسائل اور ان کا حل‘‘ میں آپ کی کوئی مفصل تحریر شائع ہوگی، مگر آپ کے مسائل میں ایک خاتون کے سوال نامے کے جواب میں آپ کا مختصر سا جواب پڑھا، اگرچہ وہ تحریر کسی حد تک شافی تھی مگر اس سلسلے کی تفصیلی تحریر کی اب بھی ضرورت ہے۔ اگر آپ نے ایسی کوئی تحریر لکھی ہو یا کہیں شائع ہوئی ہو تو اس کی نشاندہی فرمادیں، یا پھر اَزراہِ کرم اُمتِ مسلمہ کی اس سلسلے میں راہ نمائی فرماویں۔
جواب:۔
آپ کی بات دُرست ہے، ’’آپ کے مسائل اور ان کا حل‘‘ میں میرا نہایت مختصر سا جواب شائع ہوا تھا، اور احباب کا اصرار تھا کہ اس سلسلے میں کوئی مفصل تحریر آنی چاہئے، چنانچہ میری ایک مفصل تحریر ماہنامہ ’’بینات‘‘ کراچی کے ’’بصائر و عبر‘‘ میں شائع ہوئی ہے، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسے افادۂ عام کے لئے قارئین کی خدمت میں پیش کردیا جائے، جو حسبِ ذیل ہے۔
مسلمانانِ ہندوستان کی دِلی خواہش اور چاہت تھی کہ ایک ایسی آزاد ریاست اور ملک میسر آجائے جہاں مسلمان آزادی سے قرآن و سنت کا آئین نافذ کرسکیں اور انہیں دِین اور دِینی شعائر کے سلسلے میں کوئی رُکاوٹ نہ ہو، چونکہ مسلمانوں کا جذبہ نیک تھا، اس لئے اس میں جوان، بوڑھے، عوام و خواص اور عالم و جاہل سب برابر کے متحرک و فعال تھے۔ بالآخر لاکھوں جانوں اور عزتوں کی قربانی کے بعد ۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء کو ایک مسلم ریاست کی حیثیت سے پاکستان معرضِ وجود میں آگیا۔ قیامِ پاکستان کا مقصد اسلامی نظامِ حکومت یعنی حکومتِ اِلٰہیہ کا قیام باور کرایا گیا تھا، جس کا عنوان تھا: ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ!‘‘ اور یہ ایسا نعرہ تھا جس کے زیرِ اثر تمام مسلمان مرمٹنے کے لئے تیار تھے، حتیٰ کہ وہ مسلمان جن کے علاقے تقسیمِ ہند کے بعد ہندوستان کی حدود میں آتے تھے وہ بھی اس کے قیام میں پیش پیش تھے، لیکن: اے بسا آرزو کہ خاک شدہ! ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی!‘‘ کے مصداق، آج نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود بھی پاکستانی مسلمانوں کو اسلامی نظامِ حکومت نصیب نہیں ہوا، إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ!
اُلٹا پاکستان روز بروز مسائلستان بنتا چلا گیا، اس میں مذہبی، سیاسی، رُوحانی غرض ہر طرح کے فتنے پیدا ہوتے چلے گئے، ایک طرف اگر اِنگلینڈ میں مرتد رُشدی کا فتنہ رُونما ہوا، تو دُوسری طرف پاکستان میں یوسف کذّاب نام کا ایک بدباطن دعویٔ نبوّت لے کر میدان میں آگیا، اسی طرح بلوچستان میں ایک ذکری مذہب اِیجاد ہوا، جس نے وہاں کعبہ اور حج جاری کیا، یہاں رافضیت اور خارجیت نے بھی پَرپُرزے نکالے، یہاں شرک و بدعات والے بھی ہیں اور طبلہ و سارنگی والے بھی، اس ملک میں ایک گوہر شاہی نام کا ملعون بھی ہے جن کے مریدوں کو چاند میں اس کی تصویر نظر آتی ہے، اور خود اس کو اپنے پیشاب میں اپنے مصلح کی شبیہ دِکھائی دیتی ہے، اس میں ایک بدبخت عاصمہ جہانگیر بھی ہے جو تحفظِ حقوق انسانیت کی آڑ میں کتنی لڑکیوں کی چادرِ عفت کو تار تار کرچکی ہے۔
اسی طرح اس ملک میں ’’جماعت المسلمین‘‘ نامی ایک جماعت بھی ہے جو پوری اُمت کی تجہیل و تحمیق کرتی ہے، یہاں ڈاکٹر مسعود کی اولاد بھی ہے جو اپنے علاوہ کسی کو مسلمان ماننے کے لئے تیار نہیں، یہاں غلام احمد پرویز کی ذُرّیت بھی ہے جو اُمت کو ذخیرۂ احادیث سے بدظن کرکے اپنے پیچھے لگانا چاہتی ہے، اور ان سب سے آگے اور بہت آگے ایک نیا فتنہ اور نئی جماعت ہے جس کے تانے بانے اگرچہ غلام احمد پرویز سے ملتے ہیں، مگر وہ کئی اعتبار سے غلام احمد پرویز کو پیچھے چھوڑ گئی ہے، غلام احمد پرویز نے اُمت کو احادیث سے برگشتہ کرنے کی ناکام کوشش کی تھی، ہاں! البتہ اس نے چند آیاتِ قرآنی پر بھی اپنی تأویلاتِ باطلہ کا تیشہ چلایا تھا، مگر اس نئی جماعت اور نئے فتنے کے سربراہ محمد شیخ نامی شخص نے تقریباً پورے اسلامی عقائد کی عمارت کو منہدم کرنے کا تہیہ کرلیا ہے، چنانچہ وہ توراۃ، زَبور، اِنجیل اور دُوسرے صحفِ آسمانی کے وجود اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دُوسرے انبیاء پر فضیلت و برتری اور انبیائے کرام کے مادّی وجود کا منکر ہے، بلکہ وہ بھی اصل میں تو مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح مدعیٔ نبوّت ہے، مگر وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی ناکام حکمتِ عملی کو دُہرانا نہیں چاہتا، کیونکہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح براہِ راست نبوّت اور عقیدۂ اِجرائے وحی کا دعویٰ کرکے قرآن و سنت اور علمائے اُمت کے شکنجے میں نہیں آنا چاہتا، یہ تو وہ بھی جانتا ہے کہ وحیٔ نبوّت بند ہوچکی ہے، اور جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اپنے لئے اِجرائے وحیٔ نبوّت کا دعویٰ کرے وہ دجال و کذّاب اور واجب القتل ہے۔ اس لئے محمد شیخ نامی اس شخص نے اس کا عنوان بدل کر یہ کہا کہ: ’’جو شخص جس وقت قرآن پڑھتا ہے، اس پر اس وقت قرآن کا وہ حصہ نازل ہو رہا ہوتا ہے، اور جہاں قرآن مجید میں ’’قُلْ‘‘ کہا گیا ہے، وہ اس انسان ہی کے لئے کہا جارہا ہے۔‘‘ یوں وہ ہر شخص کو نزولِ وحی کا مصداق بتاکر اپنے لئے نزولِ وحی اور اِجرائے نبوّت کے معاملے کو لوگوں کی نظروں میں ہلکا کرنے کی کوشش کرتا ہے، چنانچہ وہ اس کو یوں بھی تعبیر کرتا ہے:
’’انبیاء، اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے ہیں اور لوگوں کی اصلاح کرتے ہیں اور میں بھی یہی کام انجام دے رہا ہوں۔‘‘
نعوذ باﷲ! منصبِ نبوّت کو اس قدر خفیف اور ہلکا کرکے پیش کرنا اور یہ جرأت کرنا کہ میں بھی وہی کام کر رہا ہوں جو ۔۔۔نعوذباﷲ۔۔۔ انبیائے کرام کیا کرتے ہیں، کیا یہ دعویٔ نبوّت اور منصبِ نبوّت پر فائز ہونے کی ناپاک کوشش نہیں۔۔۔؟
لوگوں کی نفسیات بھی عجیب ہیں، اگر وہ ماننے پر آئیں تو ایک ایسا شخص جو کسی اعتبار سے قابلِ اعتماد نہیں، جس کی شکل و شباہت مسلمانوں جیسی نہیں، جس کا رہن سہن کسی طرح اسلاف سے میل نہیں کھاتا، اِبلیسِ مغرب کی نقالی اس کا شعار ہے، اُسوۂ نبوی سے اسے ذَرّہ بھر مناسبت نہیں، اس کی چال ڈھال، رفتار و گفتار اور لباس و پوشاک سے کوئی اندازہ نہیں لگاسکتا کہ یہ شخص مسلمان بھی ہے کہ نہیں؟ پھر طرہ یہ کہ وہ نصوصِ صریحہ کا منکر ہے، اور تأویلاتِ فاسدہ کے ذریعے اسلام کو کفر، اور کفر کو اسلام باور کرانے میں مرزا غلام احمد قادیانی کے کان کاٹتا ہے، فلسفۂ اِجرائے نبوّت کا نہ صرف وہ قائل ہے، بلکہ اس کا داعی اور مناد ہے۔
وہ تمام آسمانی کتابوں کا یکسر منکر ہے، وہ انبیاء کے مادّی وجود کا قائل نہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رُوحانی وجود کی بھول بھلیوں کے گورکھ دھندوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوّت و رسالت اور مادّی وجود کا انکاری ہے، انبیائے بنی اسرائیل میں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ترجیح دیتا ہے۔
ذخیرۂ احادیث کو من گھڑت کہانیاں کہہ کر ناقابلِ اعتماد گردانتا ہے، غرضیکہ عقائدِ اسلام کے ایک ایک جز کا انکار کرکے ایک نیا دِین و مذہب پیش کرتا ہے، اور لوگ ہیں کہ اس کی عقیدت و اطاعت کا دَم بھرتے پھرتے ہیں، اور اس کو اپنا پیشوا اور راہ نما مانتے ہیں۔
اس کے برعکس دُوسری جانب اللہ کا قرآن ہے، نصوصِ صریحہ اور اَحادیثِ نبویہ کا ذخیرہ ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوۂ حسنہ اور حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سیرت و کردار کی شاہراہ ہے، اور اِجماعِ اُمت ہے، جو پکار پکار کر انسانوں کی ہدایت و راہ نمائی کے خطوط متعین کرتے ہیں، مگر ان اَزلی محروموں کے لئے یہ سب کچھ ناقابلِ اعتماد ہے۔
کس قدر لائقِ شرم ہے کہ یہ حرماں نصیب، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرماںبرداری کی بجائے اپنے گلے میں اس ملحد و بے دِین کی غلامی کا پٹہ سجانے اور اس کی اُمت کہلانے میں ’’فخر‘‘ محسوس کرتے ہیں۔ حیف ہے اس عقل و دانش اور دِین و مذہب پر! جس کی بنیاد اِلحاد و زَندقہ پر ہو، جس میں قرآن و سنت کی بجائے ایک جاہلِ مطلق کے کفریہ نظریات و عقائد کو درجۂ اِستناد حاصل ہو، سچ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں تو عقل و خرد چھین لیتے ہیں، جھوٹ سچ کی تمیز ختم ہوجاتی ہے اور ہدایت کی توفیق سلب ہوجاتی ہے۔۔۔!
گزشتہ ایک عرصے سے اس قسم کی شکایات سننے میں آرہی تھیں کہ سیدھے سادے مسلمان اس فتنے کا شکار ہو رہے ہیں، چنانچہ اس سلسلے میں کچھ لکھنے کا خیال ہوا تو ایک صاحب راقم الحروف اور دارالعلوم کراچی کے فتاویٰ کی کاپی لائے اور فرمائش کی کہ اس فتنے کے خلاف آواز اُٹھائی جائے، اس لئے کہ حکومت اور انتظامیہ اس فتنے کی روک تھام کے لئے نہایت بے حس اور غیرسنجیدہ ہے، جبکہ یہ فتنے روزبروز بڑھ رہے ہیں۔ کس قدر لائقِ افسوس ہے کہ اگر کوئی شخص بانیٔ پاکستان یا موجودہ وزیراعظم کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہوجائے تو حکومت کی پوری مشینری حرکت میں آجاتی ہے، لیکن یہاں قرآن و سنت، دِینِ متین اور حضراتِ انبیاء اور ان کی نبوّت کا انکار کیا جاتا ہے، ان کی شان میں نازیبا کلمات کہے جاتے ہیں، مگر حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتی، اور انتظامیہ کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔
اس لئے مناسب معلوم ہوا کہ ان ہر دو تحریروں کو یکجا شائع کردیا جائے، تاکہ مسلمانوں کا دِین و ایمان محفوظ ہوجائے، اور لوگ اس فتنے کی سنگینی سے واقف ہوکر اس سے بچ سکیں۔
راقم الحروف کا مختصر جواب اگرچہ روزنامہ جنگ کے کالم ’’آپ کے مسائل اور ان کا حل‘‘ میں شائع ہوچکا ہے، مگر دارالعلوم کراچی کا فتویٰ شائع نہیں ہوا، چنانچہ سب سے پہلے ایک ایسی خاتون کا مرتب کردہ سوال نامہ ہے جو براہِ راست اس فتنے سے متأثر رہی ہے، اس کے بعد راقم الحروف کا جواب ہے، اور آخر میں دارالعلوم کراچی کا جواب ہے، اور سب سے آخر میں اختتامیہ کلمات ہیں، چونکہ دارالعلوم کراچی کے فتویٰ میں قرآنی آیات اور دُوسری نصوص کے ترجمے نہیں تھے، اس لئے افادۂ عام کی خاطر قرآنی آیات اور عربی عبارتوں کے ترجمے کردئیے گئے ہیں، قرآنی آیات کا ترجمہ حضرت تھانویؒ کے ترجمہ سے نقل کیا گیا ہے۔

