October 15, 2026 at 8:41 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غلط عقائد رکھنے والے فرقے

راقم‌الحروف‌کا‌جواب

جواب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، میری بہن! یہ فتنوں کا زمانہ ہے اور جس شخص کے ذہن میں جو بات آجاتی ہے، وہ اس کو بیان کرنا شروع کردیتا ہے، اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ سلف بیزاری اور اِنکارِ حدیث کا نتیجہ ہے، اور جو لوگ حدیث کا انکار کرتے ہیں وہ پورے دِین کا انکار کرتے ہیں، ایسے لوگوں کے بارے میں، میں اپنے رسالہ ’’انکارِ حدیث کیوں؟‘‘ میں لکھ چکا ہوں کہ:

’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک ارشادات کے ساتھ بے اعتنائی برتنے والوں اور آپ کے اقوالِ شریفہ کے ساتھ تمسخر کرنے والوں کے متعلق اعلان کیا گیا کہ ان کے قلوب پر خدائی مہر لگ چکی ہے، جس کی وجہ سے وہ ایمان و یقین اور رُشد و ہدایت کی اِستعداد گم کرچکے ہیں، اور ان لوگوں کی ساری تگ و دو خواہشِ نفس کی پیروی تک محدود ہے، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے:

ﵟ وَمِنۡهُم مَّن يَسۡتَمِعُ إِلَيۡكَ حَتَّىٰٓ إِذَا خَرَجُواْ مِنۡ عِندِكَ قَالُواْ لِلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَ مَاذَا قَالَ ءَانِفًاۚ أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ طَبَعَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ وَٱتَّبَعُوٓاْ أَهۡوَآءَهُمۡ ١٦ ﵞ (محمد ١٦)

ترجمہ:۔ ’’اور بعض آدمی ایسے ہیں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کان لگاتے ہیں، یہاں تک کہ جب وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اُٹھ کر باہر جاتے ہیں تو دُوسرے اہلِ علم سے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی تحقیر کے طور پر) کہتے ہیں کہ: حضرت نے ابھی کیا بات فرمائی تھی؟ یہ وہ لوگ ہیں کہ حق تعالیٰ نے ان کے دِلوں پر مہر کردی ہے اور وہ اپنی نفسانی خواہشوں پر چلتے ہیں۔‘‘ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)

قرآنِ کریم نے صاف صاف یہ اعلان بھی کردیا کہ انبیائے کرام علیہم السلام کو صرف اسی مقصد کے لئے بھیجا جاتا ہے کہ ان کی اطاعت کی جائے، پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے انکار اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے سرتابی کرنا گویا انکارِ رسالت کے ہم معنی ہے۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے منکرین، انکارِ رسالت کے مرتکب ہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال کو جب قرآن ہی وحیٔ خداوندی بتلاتا ہے ﵟ وَمَا يَنطِقُ عَنِ ٱلۡهَوَىٰٓ ٣ إِنۡ هُوَ إِلَّا وَحۡيٞ يُوحَىٰ ٤ ﵞ (النجم ٣ و٤)، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلماتِ طیبات کو جب قرآن ہی ’’گفتہ او گفتہ اللہ بود‘‘ کا مرتبہ دیتا ہے، تو بتلایا جائے کہ حدیثِ نبوی کے حجتِ دِینیہ ہونے میں کیا کسی شک و شبہ کی گنجائش رہ جاتی ہے۔۔۔؟ اور کیا حدیثِ نبوی کا انکار کرنے سے، خود قرآن ہی کا انکار لازم نہیں آئے گا؟ اور کیا فیصلۂ نبوّت میں تبدیلی کے معنی خود قرآن کو بدل ڈالنا نہیں ہوں گے؟ اور اس پر بھی غور کرنا چاہئے کہ قرآنِ کریم بھی تو اُمت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی زبانِ مبارک سے سنا، اور سن کر اس پر ایمان لائے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ: ’’یہ قرآن ہے‘‘ یہ ارشاد بھی تو حدیثِ نبوی ہے۔ اگر حدیثِ نبوی حجت نہیں تو قرآنِ کریم کا ’’قرآن‘‘ ہونا کس طرح ثابت ہوگا؟ آخر یہ کون سی عقل و دانش کی بات ہے کہ اس مقدس و معصوم زبان سے صادر ہونے والی ایک بات تو واجب التسلیم ہو اور دُوسری نہ ہو۔۔۔؟

اَمیرِ شریعت سیّد عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے ایک موقع پر فرمایا تھا:

’’یہ تو میرے میاں (صلی اللہ علیہ وسلم) کا کمال تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، اور یہ میرا کلام ہے‘‘ ورنہ ہم نے تو دونوں کو ایک ہی زبان سے صادر ہوتے ہوئے سنا تھا۔‘‘

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ: ’’قرآن تو حجت ہے، مگر حدیث حجت نہیں ہے۔‘‘ ان ظالموں کو کون بتلائے کہ جس طرح ایمان کے معاملے میں خدا اور رسول کے درمیان تفریق نہیں ہوسکتی کہ ایک کو مانا جائے اور دُوسرے کو نہ مانا جائے۔ ٹھیک اسی طرح کلام اللہ اور کلامِ رسول کے درمیان بھی اس تفریق کی گنجائش نہیں کہ ایک کو واجب الاطاعت مانا جائے اور دُوسرے کو نہ مانا جائے، ایک کو تسلیم کرلیجئے تو دُوسرے کو بہرصورت تسلیم کرنا ہوگا۔ اور ان میں سے ایک کا انکار کردینے سے دُوسرے کا انکار آپ سے آپ ہوجائے گا۔ خدائی غیرت گوارا نہیں کرتی کہ اس کے کلام کو تسلیم کرنے کا دعویٰ کیا جائے اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کو ٹھکرادیا جائے، وہ ایسے ظالموں کے خلاف صاف اعلان کرتا ہے:

ﵟ فَإِنَّهُمۡ لَا يُكَذِّبُونَكَ وَلَٰكِنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ يَجۡحَدُونَ ٣٣ ﵞ (الأنعام ٣٣)

ترجمہ:۔ ’’پس اے نبی! یہ لوگ آپ کے کلام کو نہیں ٹھکراتے، بلکہ یہ ظالم، اللہ کی آیتوں کے منکر ہیں۔‘‘

لہٰذا جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے اور کلام اللہ کو ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں، انہیں لامحالہ رسول اور کلامِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر بھی ایمان لانا ہوگا، ورنہ ان کا دعویٔ ایمان حرفِ باطل ہے۔‘‘

جس تنظیم کا آپ نے تذکرہ کیا ہے، ان عقائد کے رکھنے والے مسلمان نہیں ہیں، کیونکہ انہوں نے دِین کی پوری کی پوری عمارت کو مسمار کردینے کا عزم کرلیا ہے، نیز انہوں نے تمام شعائرِ اسلام اور قرآن و حدیث اور انبیاء اور ان پر نازل ہونے والی کتابوں کا انکار کیا ہے، اور جو لوگ اسلامی معتقدات کا انکار کریں، ان میں تأویلاتِ باطلہ کریں، اور اپنے کفر کو اِسلام باور کرائیں، وہ ملحد و زِندیق ہیں،(۱) اور زِندیق، کافر و مرتد سے بڑھ کر ہے، اس لئے کہ وہ بکرے کے نام پر خنزیر کا گوشت فروخت کرتا ہے، اور اُمتِ مسلمہ کو دھوکا دے کر ان کے ایمان و اسلام کو غارت کرتا ہے، اسی بنا پر اگر زِندیق گرفتار ہونے کے بعد توبہ بھی کرلے تو اس کی توبہ کا اعتبار نہیں،(۲) اس لئے حکومتِ پاکستان کا فرض ہے کہ ایسے لوگوں کو اس اِلحاد و زَندقہ سے روکے، اگر رُک جائیں تو فبہا، ورنہ ان پر اسلامی آئین کے مطابق اِرتداد و زَندقہ کی سزا جاری کرے۔

اہلِ ایمان کا ان سے رشتہ ناطہ بھی جائز نہیں، اگر ان میں سے کسی کے نکاح میں کوئی مسلمان عورت ہو تو اس کا نکاح بھی فسخ ہوجاتا ہے۔(۳)

جہاں تک مناظرے کا تعلق ہے، ان حضرات سے مناظرہ بھی کرکے دیکھا، مگر ان کے دِل میں جو بات بیٹھ گئی ہے، اس کو قبر کی مٹی اور جہنم کی آگ ہی دُور کرسکتی ہے، واﷲ اعلم!

  1. (۱) قد ظھر ان الکافر اسم لمن لَا ایمان لہ ۔۔۔ وان کان مع اعترافہ بنبوۃ النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم واظھارہ شعائر الْإسلام ببطن عقائد ھی کفر بالْإتفاق خص باسم الزندیق۔ (شرح مقاصد ج:۲ ص:۲۶۸)۔
  2. (۲) ان الزندیق لو تاب قبل اخذہ، ای: قبل أن یرفع الی الحاکم تقبل توبتہ عندنا وبعدہ لَا اتفاقًا۔ (فتاویٰ شامی ج:۴ ص:۲۳۶، مطلب مھم فی حکم ساب الأنبیاء)۔
  3. (۳) ما یکون کفرًا اتفاقًا یبطل العمل والنکاح ۔۔۔الخ۔ (فتاویٰ شامی ج:۴ ص:۲۴۶، عالمگیری ج:۲ ص: ۲۸۳)۔
راقم‌الحروف‌کا‌جواب - شہید اسلام