October 15, 2026 at 8:41 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غلط عقائد رکھنے والے فرقے

دارالعلوم‌کراچی‌کا‌جواب (1-2)

جواب

۱،۲:۔ سوال میں ذکر کردہ اکثر عقائد قرآن و سنت اور اِجماعِ اُمت کی تصریحات اور موقف کے بالکل خلاف ہیں، اس لئے اگر کسی شخص کے واقعتا یہی عقائد ہیں تو وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے، اور اس کے ماننے والے بھی کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔

مذکورہ نظریات و عقائد کا قرآن و سنت کی رُو سے باطل ہونا ذیل میں ترتیب وار تفصیل سے ملاحظہ فرمائیں:

۱:۔ یہ (کہنا کہ قرآن پاک کو مختلف زمانوں میں مختلف ناموں سے پکارا گیا، کبھی تورات، کبھی اِنجیل اور کبھی زَبور، اور مختلف ادوار میں مختلف کتابیں نازل نہیں ہوئی) کفریہ عقیدہ ہے، کیونکہ پوری اُمت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ صحفِ آسمانی کے علاوہ آسمانی کتابیں چار ہیں، اور قرآنِ کریم میں اس کی تصریح ہے کہ قرآن کے علاوہ تین آسمانی کتابیں اور ہیں، جن میں سے توراۃ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر، اِنجیل حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اور زَبور حضرت داؤد علیہ السلام پر نازل کی گئی، لہٰذا قرآن کے علاوہ مذکورہ تین کتب کے مستقل وجود کا انکار کرنا درحقیقت قرآنِ کریم کی ان آیات کا انکار کرنا ہے جن میں ان کتابوں کے مستقل وجود کا ذکر ہے، درج ذیل آیات اور ان کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:

ﵟ وَأَنزَلَ ٱلتَّوۡرَىٰةَ وَٱلۡإِنجِيلَ ٣ مِن قَبۡلُ هُدٗى لِّلنَّاسِ ﵞ (آل عمران ٣ و ٤)

ترجمہ:۔ ’’اور (اسی طرح) بھیجا تھا توراۃ اور اِنجیل کو اس کے قبل لوگوں کی ہدایت کے واسطے۔‘‘ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)

ﵟ وَمَآ أُنزِلَتِ ٱلتَّوۡرَىٰةُ وَٱلۡإِنجِيلُ إِلَّا مِنۢ بَعۡدِهِۦٓۚ ﵞ (آل عمران ٦٥)

ترجمہ:۔ ’’حالانکہ نہیں نازل کی گئی توراۃ اور اِنجیل مگر ان کے (زمانے کے بہت) بعد۔‘‘ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)

ﵟ وَءَاتَيۡنَٰهُ ٱلۡإِنجِيلَ فِيهِ هُدٗى وَنُورٞﵞ (المائدة ٤٦)

ترجمہ:۔ ’’اور ہم نے ان کو اِنجیل دی جس میں ہدایت تھی اور وضوح تھا۔‘‘

ﵟ وَلۡيَحۡكُمۡ أَهۡلُ ٱلۡإِنجِيلِ بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فِيهِۚ ﵞ (المائدة ٤٧)

ترجمہ:۔ ’’اور اِنجیل والوں کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اس میں نازل فرمایا ہے، اس کے موافق حکم کیا کریں۔‘‘

ﵟ وَإِذۡ عَلَّمۡتُكَ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ وَٱلتَّوۡرَىٰةَ وَٱلۡإِنجِيلَۖ ﵞ المائدة ١١٠)

ترجمہ:۔ ’’اور جبکہ میں نے تم کو کتابیں اور سمجھ کی باتیں اور توارۃ اور اِنجیل تعلیم کیں۔‘‘

ﵟ ٱلَّذِينَ يَتَّبِعُونَ ٱلرَّسُولَ ٱلنَّبِيَّ ٱلۡأُمِّيَّ ٱلَّذِي يَجِدُونَهُۥ مَكۡتُوبًا عِندَهُمۡ فِي ٱلتَّوۡرَىٰةِ وَٱلۡإِنجِيلِ ﵞ (الأعراف ١٥٧)

ترجمہ:۔ ’’جو لوگ ایسے رسول نبی اُمّی کا اتباع کرتے ہیں جن کو وہ لوگ اپنے پاس توراۃ اور اِنجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔‘‘

ﵟ وَلَقَدۡ كَتَبۡنَا فِي ٱلزَّبُورِ مِنۢ بَعۡدِ ٱلذِّكۡرِ أَنَّ ٱلۡأَرۡضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ ٱلصَّٰلِحُونَ ١٠٥ ﵞ (الأنبياء ١٠٥)

ترجمہ:۔ ’’اور ہم (سب آسمانی) کتابوں میں لوحِ محفوظ (میں لکھنے) کے بعد لکھ چکے ہیں کہ اس زمین (جنت) کے مالک میرے نیک بندے ہوں گے۔‘‘

ﵟ وَلَقَدۡ فَضَّلۡنَا بَعۡضَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ عَلَىٰ بَعۡضٖۖ وَءَاتَيۡنَا دَاوُۥدَ زَبُورٗا ﵞ (الإسراء ٥٥)

ترجمہ:۔ ’’اور ہم نے بعض نبیوں کو بعض پر فضیلت دی ہے، اور ہم داؤد (علیہ السلام) کو زبور دے چکے ہیں۔‘‘

ﵟ فَأۡتُواْ بِٱلتَّوۡرَىٰةِ فَٱتۡلُوهَآ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ ٩٣ﵞ (آل عمران ٩٣)

ترجمہ:۔ ’’پھر توراۃ لاؤ، پھر اس کو پڑھو اگر تم سچے ہو۔‘‘

ﵟ وَكَيۡفَ يُحَكِّمُونَكَ وَعِندَهُمُ ٱلتَّوۡرَىٰةُ فِيهَا حُكۡمُ ٱللَّهِ ﵞ (المائدة ٤٣)

ترجمہ:۔ ’’اور وہ آپ سے کیسے فیصلہ کراتے ہیں حالانکہ ان کے پاس توراۃ ہے، جس میں اللہ کا حکم ہے۔‘‘ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)

ﵟ إِنَّآ أَنزَلۡنَا ٱلتَّوۡرَىٰةَ فِيهَا هُدٗى وَنُورٞۚﵞ (المائدة٤٤)

ترجمہ:۔’’ہم نے توراۃ نازل فرمائی تھی جس میں ہدایت تھی اور وضوح تھا۔‘‘

ﵟ وَقَفَّيۡنَا عَلَىٰٓ ءَاثَٰرِهِم بِعِيسَى ٱبۡنِ مَرۡيَمَ مُصَدِّقٗا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ مِنَ ٱلتَّوۡرَىٰةِۖ ﵞ (المائدة ٤٦)

ترجمہ:۔ ’’اور ہم نے ان کے پیچھے عیسیٰ بن مریم کو اس حالت میں بھیجا کہ وہ اپنے سے قبل کی کتاب یعنی توراۃ کی تصدیق فرماتے تھے۔‘‘ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)

ﵟ إِنِّي رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيۡكُم مُّصَدِّقٗا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيَّ مِنَ ٱلتَّوۡرَىٰةِ ﵞ (الصف ٦)

ترجمہ:۔ ’’میں تمہارے پاس اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں کہ مجھ سے پہلے جو توراۃ (آچکی) ہے، میں اس کی تصدیق کرنے والا ہوں۔‘‘ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)

ﵟ وَمَن يَكۡفُرۡ بِٱللَّهِ وَمَلَٰٓئِكَتِهِۦ وَكُتُبِهِۦ وَرُسُلِهِۦ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلَٰلَۢا بَعِيدًا ١٣٦ ﵞ (النساء ١٣٦)

ترجمہ:۔ ’’اور جو شخص اللہ تعالیٰ کا انکار کرے، اور اس کے فرشتوں کا، اور اس کی کتابوں کا، اور اس کے رسولوں کا، اور روزِ قیامت کا، تو وہ شخص گمراہی میں بڑی دور جاپڑا۔‘‘

(ترجمہ حضرت تھانویؒ)

ﵟ كُلٌّ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَمَلَٰٓئِكَتِهِۦ وَكُتُبِهِۦ وَرُسُلِهِۦ ﵞ (البقرة٢٨٥)

ترجمہ:۔ ’’سب کے سب عقیدہ رکھتے ہیں اللہ کے ساتھ، اور اس کے فرشتوں کے ساتھ، اور اس کی کتابوں کے ساتھ، اور اس کے پیغمبروں کے ساتھ۔‘‘

اور یہ کہنا کہ: ’’قرآن جو جس وقت پڑھ رہا ہے، اس پر اسی وقت نازل ہو رہا ہے، اور ’’قُلْ‘‘ اسی کے لئے کہا جارہا ہے جو پڑھ رہا ہے۔‘‘ یہ بھی تعبیر کے لحاظ سے غلط ہے، کیونکہ قرآنِ کریم ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پورا نازل ہوچکا ہے، اس کے اوّلین اور آخرین براہ راست مخاطب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اب جو شخص پڑھ رہا ہے وہ قرآن کا اوّلین اور براہِ راست مخاطب نہیں ہے، بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے مخاطب ہے اور اس اعتبار سے اپنے آپ کو مخاطب سمجھنا بھی چاہئے۔

۲:۔ یہ عقیدہ بھی کفریہ ہے (کہ انبیاء کا مستقل کوئی وجود نہیں تھا)، کیونکہ قرآنِ کریم کی متعدّد آیات اس پر دلالت کرتی ہیں کہ انبیاء کا مستقل وجود تھا، وہ دُنیا میں لوگوں کی ہدایت کے لئے بھیجے گئے اور وہ بشریت کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے، انہوں نے عام انسانوں کی طرح دُنیا میں زندگی گزاری، ان میں بشری حوائج اور مادّی صفات پائی جاتی تھیں، چنانچہ وہ کھاتے بھی تھے، پیتے بھی تھے اور انہوں نے نکاح بھی کئے، اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ سے معجزات بھی ظاہر فرمائے، انہوں نے اللہ کے راستے میں جہاد بھی کیا، یہ تمام چیزیں ایسی ہیں جو اپنے وجود کے لئے مادّہ اور مستقل وجود کا تقاضا کرتی ہیں، اس کے بغیر ان کا وجود اور ظہور ہی محال ہے، لہٰذا یہ کہنا کہ: ’’انبیاء کا مادّی وجود نہیں رہا، قرآن میں وہ صرف فرضی کرداروں اور کہانیوں کی صورت میں موجود ہیں‘‘ بالکل غلط اور قرآن و سنت کی صریح نصوص کے خلاف ہے، اس سلسلے میں درج ذیل آیاتِ قرآنیہ ملاحظہ فرمائیں:

ﵟ كَانَ ٱلنَّاسُ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗ فَبَعَثَ ٱللَّهُ ٱلنَّبِيِّـۧنَ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ وَأَنزَلَ مَعَهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ بِٱلۡحَقِّ لِيَحۡكُمَ بَيۡنَ ٱلنَّاسِ فِيمَا ٱخۡتَلَفُواْ فِيهِۚﵞ (البقرة ٢١٣)

ترجمہ:۔ ’’سب آدمی ایک ہی طریق کے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کو بھیجا جو کہ خوشی (کے وعدے) سناتے تھے اور ڈراتے تھے اور ان کے ساتھ (آسمانی) کتابیں بھی ٹھیک طور پر نازل فرمائیں، اس غرض سے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں میں ان کے اُمورِ اختلافیہ (مذہبی) میں فیصلہ فرمادیں۔‘‘

ﵟ وَمَا نُرۡسِلُ ٱلۡمُرۡسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَۖ ﵞ (الأنعام ٤٨)

ترجمہ:۔ ’’اور ہم پیغمبروں کو صرف اس واسطے بھیجا کرتے ہیں کہ وہ بشارت دیں اور ڈراویں۔‘‘

ﵟ يَٰمَعۡشَرَ ٱلۡجِنِّ وَٱلۡإِنسِ أَلَمۡ يَأۡتِكُمۡ رُسُلٞ مِّنكُمۡ يَقُصُّونَ عَلَيۡكُمۡ ءَايَٰتِي وَيُنذِرُونَكُمۡ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ هَٰذَاۚ ﵞ (الأنعام ١٣٠)

ترجمہ:۔ ’’اے جماعت جنات اور انسانوں کی! کیا تمہارے پاس تم ہی میں کے پیغمبر نہیں آئے تھے؟ جو تم سے میرے اَحکام بیان کرتے تھے اور تم کو آج کے دن کی خبر دیا کرتے تھے۔‘‘ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)

ﵟ وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا رُسُلٗا مِّن قَبۡلِكَ وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ أَزۡوَٰجٗا وَذُرِّيَّةٗۚ ﵞ (الرعد ٣٨)

ترجمہ:۔ ’’اور ہم نے یقینا آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیجے اور ہم نے ان کو بیبیاں اور بچے بھی دئیے۔‘‘

(ترجمہ حضرت تھانویؒ)

ﵟ وَلَقَدۡ بَعَثۡنَا فِي كُلِّ أُمَّةٖ رَّسُولًا أَنِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ وَٱجۡتَنِبُواْ ٱلطَّٰغُوتَۖ ﵞ (النحل ٣٦)

ترجمہ:۔ ’’اور ہم ہر اُمت میں کوئی نہ کوئی پیغمبر بھیجتے رہے ہیں کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور شیطان سے بچتے رہو۔‘‘ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)

ﵟ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّىٰ نَبۡعَثَ رَسُولٗاﵞ (الإسراء١٥)

ترجمہ:۔ ’’اور ہم (کبھی) سزا نہیں دیتے جب تک کسی رسول کو نہیں بھیج دیتے۔‘‘

ﵟ وَمَآ أَرۡسَلۡنَا قَبۡلَكَ مِنَ ٱلۡمُرۡسَلِينَ إِلَّآ إِنَّهُمۡ لَيَأۡكُلُونَ ٱلطَّعَامَ وَيَمۡشُونَ فِي ٱلۡأَسۡوَاقِۗ ﵞ (الفرقان ٢٠)

ترجمہ:۔ ’’اور ہم نے آپ سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے، سب کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے۔‘‘ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)

ﵟ وَكَمۡ أَرۡسَلۡنَا مِن نَّبِيّٖ فِي ٱلۡأَوَّلِينَ ٦ وَمَا يَأۡتِيهِم مِّن نَّبِيٍّ إِلَّا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ ٧ ﵞ (الزخرف ٦ و٨)

ترجمہ:۔ ’’اور ہم پہلے لوگوں میں بہت سے نبی بھیجتے رہے ہیں، اور ان لوگوں کے پاس کوئی نبی ایسا نہیں آیا جس کے ساتھ انہوں نے اِستہزاء نہ کیا ہو۔‘‘

ﵟ كَمَآ أَرۡسَلۡنَا فِيكُمۡ رَسُولٗا مِّنكُمۡ يَتۡلُواْ عَلَيۡكُمۡ ءَايَٰتِنَا وَيُزَكِّيكُمۡ وَيُعَلِّمُكُمُ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ وَيُعَلِّمُكُم مَّا لَمۡ تَكُونُواْ تَعۡلَمُونَ ١٥١ﵞ (البقرة ١٥١)

ترجمہ:۔ ’’جس طرح تم لوگوں میں ہم نے ایک (عظیم الشان) رسول کو بھیجا تم ہی میں سے ہماری آیات (واَحکام) پڑھ پڑھ کر تم کو سناتے ہیں اور (جہالت سے) تمہاری صفائی کرتے رہتے ہیں اور تم کو کتاب (الٰہی) اور فہم کی باتیں بتلاتے رہتے ہیں اور تم کو ایسی (مفید) باتیں تعلیم کرتے رہتے ہیں جن کی تم کو خبر بھی نہ تھی۔‘‘ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)

ﵟ وَقَالُواْ مَالِ هَٰذَا ٱلرَّسُولِ يَأۡكُلُ ٱلطَّعَامَ وَيَمۡشِي فِي ٱلۡأَسۡوَاقِ ﵞ (الفرقان ٧)

ترجمہ:۔ ’’اور یہ (کافر) لوگ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت) یوں کہتے ہیں کہ اس رسول کو کیا ہوا کہ وہ (ہماری طرح) کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔‘‘ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)

ﵟ لَقَدۡ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ إِذۡ بَعَثَ فِيهِمۡ رَسُولٗا مِّنۡ أَنفُسِهِمۡ يَتۡلُواْ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتِهِۦ وَيُزَكِّيهِمۡ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ ﵞ (آل عمران ١٦٤)

ترجمہ:۔ ’’حقیقت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر احسان کیا جبکہ ان میں انہی کی جنس سے ایک ایسے پیغمبر کو بھیجا کہ وہ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں اور ان لوگوں کی صفائی کرتے رہتے ہیں، اور ان کو کتاب اور فہم کی باتیں بتلاتے رہتے ہیں۔‘‘

ﵟ هُوَ ٱلَّذِيٓ أَرۡسَلَ رَسُولَهُۥ بِٱلۡهُدَىٰ وَدِينِ ٱلۡحَقِّ لِيُظۡهِرَهُۥ عَلَى ٱلدِّينِ كُلِّهِۦۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ شَهِيدٗا ٢٨ﵞ (الفتح ٢٨)

ترجمہ:۔ ’’وہ اللہ ایسا ہے کہ اس نے اپنے رسول کو ہدایت دی، اور سچا دِین (یعنی اسلام) دے کر دُنیا میں بھیجا ہے، تاکہ اس کو تمام دِینوں پر غالب کرے۔‘‘ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)

ﵟ رَّسُولٗا يَتۡلُواْ عَلَيۡكُمۡ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ مُبَيِّنَٰتٖ لِّيُخۡرِجَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ مِنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِۚ ﵞ (الطلاق ١١)

ترجمہ:۔ ’’ایک ایسا رسول (بھیجا) جو تم کو اللہ کے صاف صاف اَحکام پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں، تاکہ ایسے لوگوں کو کہ جو اِیمان لاویں اور اچھے عمل کریں (کفر و جہل کی) تاریکیوں سے نور کی طرف لے آویں۔‘‘

ﵟ لَقَدۡ جَآءَكُمۡ رَسُولٞ مِّنۡ أَنفُسِكُمۡ عَزِيزٌ عَلَيۡهِ مَا عَنِتُّمۡ حَرِيصٌ عَلَيۡكُم بِٱلۡمُؤۡمِنِينَ رَءُوفٞ رَّحِيمٞ ١٢٨ ﵞ (التوبة ١٢٨)

ترجمہ:۔’’(اے لوگو!) تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف لائے ہیں، جو تمہاری جنس (بشر) سے ہیں، جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گزرتی ہے، جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں، (یہ حالت تو سب کے ساتھ ہے بالخصوص) ایمان داروں کے ساتھ بڑے ہی شفیق (اور) مہربان ہیں۔‘‘

ﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَرۡفَعُوٓاْ أَصۡوَٰتَكُمۡ فَوۡقَ صَوۡتِ ٱلنَّبِيِّ وَلَا تَجۡهَرُواْ لَهُۥ بِٱلۡقَوۡلِ ﵞ (الحجرات ٢)

ترجمہ:۔ ’’اے ایمان والو! اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے بلند مت کیا کرو، اور نہ ان سے ایسے کھل کر بولا کرو جیسے آپس میں ایک دُوسرے سے کھل کر بولا کرتے ہو۔‘‘

قرآنِ کریم میں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زمانۂ حال میں جو خطاب کیا گیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جس وقت قرآنِ کریم کا نزول آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہو رہا تھا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مادّی وجود کے ساتھ دُنیا میں موجود تھے، اس لئے زمانۂ حال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کیا گیا، یہ مطلب نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت رُوح ہر وقت، ہر جگہ موجود ہیں۔

یہ عقیدہ (رکھنا کہ چونکہ قرآن شریف میں صیغۂ حال سے پکارا گیا ہے، اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیتِ رُوح ہر جگہ موجود ہیں، اور وہ مادّی وجود سے مبرا ہیں) قرآن و سنت کی صریح نصوص اور اہلِ السنۃ والجماعۃ کے موقف کے خلاف ہے۔ علماء نے لکھا ہے کہ اگر کسی شخص کا یہ عقیدہ ہو کہ جس طرح اللہ تعالیٰ ہر وقت، ہر جگہ موجود ہیں، اسی طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہر وقت، ہر جگہ موجود ہیں، تو یہ کھلا ہوا شرک ہے، اور نصاریٰ کی طرح رسول کو خدائی کا درجہ دینا ہے، اور اگر کوئی شخص کسی تأویل کے ساتھ یہ عقیدہ رکھتا ہے تب بھی اس عقیدہ کے غلط اور فاسد ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور ایسا شخص گمراہ ہے۔ ملاحظہ ہو: جواہر الفقہ ج:۱ ص:۱۱۵، تبرید النواظر مصنفہ مولانا سرفراز صفدر صاحب مدظلہم۔

۴:۔ اہل السنۃ والجماعۃ کا متفقہ عقیدہ ہے کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیتِ مجموعی تمام انبیاء سے افضل ہیں،(۴) البتہ بعض جزئیات اور واقعات میں اگر کسی نبی کو کوئی فضیلت حاصل ہے تو وہ اس کے معارض نہیں۔ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو شرفِ کلام حاصل ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کو صفت ’’خلت‘‘ حاصل ہے، وغیرہ وغیرہ، یہ تمام جزئی فضیلتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجموعی فضیلت کے منافی اور اس کے معارض نہیں ہیں۔

اور یہ کہنا کہ: ’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جتنی بھی احادیث، تاریخ اور تفسیر میں موجود ہیں، وہ انسانوں کی من گھڑت کہانیاں ہیں۔‘‘ درحقیقت احادیثِ نبویہ کا انکار ہے، جو کہ موجبِ کفر ہے۔(۵) پوری اُمتِ محمدیہ کا اس پر اِجماع ہے کہ حدیث، قرآنِ کریم کے بعد دِین کا دُوسرا اہم ماخذ ہے،(۶) قرآنِ کریم نے جس طرح اللہ رَبّ العزّت کے اَحکام کی اِطاعت کو واجب قرار دیا ہے، اسی طرح جنابِ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال و اقوال کی بھی اطاعت کو واجب قرار دیا ہے،(۷) لہٰذا قرآن میں بہت سے ایسے اَحکام ہیں جن کی تفصیل قرآن میں مذکور نہیں، بلکہ ان کی تفصیلات اللہ رَبّ العزّت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان اور عمل پر چھوڑ دی ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث میں ان کی تفصیلات اور ان پر عمل کرنے کا طریقہ اپنے قول و فعل سے بیان کیا، اگر احادیث انسانوں کی من گھڑت ہیں تو قرآنِ کریم کے ایسے اَحکام پر عمل کرنے کا طریقہ کیا ہوگا؟ اور یہ ہمیں کیسے معلوم ہوں گے؟

اور اللہ رَبّ العزّت نے جس طرح قرآنِ کریم کے الفاظ کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے، اسی طرح قرآنِ کریم کے معانی کی بھی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے، اور معانیٔ قرآن کی تعلیم حدیث ہی میں ہوئی، اور جن ذرائع سے قرآنِ کریم ہم تک پہنچا ہے، انہی ذرائع سے احادیث بھی ہم تک پہنچی ہیں، اگر یہ احادیث من گھڑت ہیں اور ذرائع قابلِ اعتماد نہیں، تو یہ امکان قرآنِ کریم میں بھی ہوسکتا ہے، تو پھر قرآنِ کریم کو بھی ۔۔۔نعوذ باﷲ۔۔۔ من گھڑت کہنا لازم آتا ہے، لہٰذا اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جس طرح قرآنِ کریم اب تک محفوظ چلا آرہا ہے، اسی طرح احادیث بھی محفوظ چلی آرہی ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت کا بے نظیر انتظام فرمایا ہے، جس کی تفصیل تدوینِ حدیث کی تاریخ سے معلوم ہوسکتی ہے، لہٰذا اَحادیث کو انسانوں کی من گھڑت کہانیاں قرار دینا صریح گمراہی اور موجبِ کفر ہے۔

مزید تفصیل کے لئے دیکھئے: ’’حجیتِ حدیث‘‘ مصنفہ مولانا محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہم، ’’کتابتِ حدیث عہدِ رسالت و عہدِ صحابہ میں‘‘ مصنفہ مولانا محمد رفیع عثمانی صاحب مدظلہم، ’’حفاظت و حجیتِ حدیث‘‘ مصنفہ مولانا فہیم عثمانی صاحب۔

  1. (۴) وأفضل الأنبیاء محمد علیہ السلام، لقولہ تعالٰی: ﵟكُنتُمۡ خَيۡرَ أُمَّةٍ ﵞ آل عمران ١١٠۔۔۔ وذٰلک تابع لکمال نبیھم الذی یتبعونہ ۔۔۔الخ۔ (شرح عقائد ص:۲۱۵ طبع ایچ ایم سعید)۔
  2. (۵) من أنکر المتواتر فقد کفر ومن أنکر المشھور یکفر عند البعض وقال عیسَی بن أبان یضلل ولَا یکفر وھو الصحیح ومن أنکر خبر الواحد لَا یکفر غیر أنہ یأثم بترک القبول ھٰکذا فی الظھیریۃ۔ (عالمگیری ج: ۲ ص: ۲۶۵)۔
  3. (۶) واعلم ان من یعتد بعلمہ من العلماء قد اتفق علٰی ان السُّنَّۃ المطھّرۃ مستقلۃ بتشریع الأحکام وانھا کالقرآن فی تحلیل الحلال وتحریم الحرام، وقد ثبت أنہ علیہ السلام قال أوتیت القرآن ومثلہ معہ أی وأُوتیت مثلہ من السُّنَّۃ التی لم ینطق بھا القرآن۔ (تیسیر الوصولی إلٰی علم الاُصول ص:۱۳۷ طبع إدارۃ الصدیق، ملتان)۔
  4. (۷)ﵟ قُلۡ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَۖ ﵞ آل عمران ٣٢، ﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَ ﵞ النساء ٥٩، ﵟ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَوَلَّوۡاْ عَنۡهُ وَأَنتُمۡ تَسۡمَعُونَ ٢٠ ﵞ الأنفال ٢٠۔
دارالعلوم‌کراچی‌کا‌جواب (1-2) - شہید اسلام