غلط عقائد رکھنے والے فرقے
دارالعلومکراچیکاجواب (3-4)
جواب
۴:۔ جو شخص مذکورہ عقائد کو بغیر کسی مناسب تأویل کے مانتا ہے، وہ شخص مرتد اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے، اس کی مسلمان بیوی اس کے نکاح سے نکل گئی، اب اس کے عقد میں کوئی مسلمان عورت نہیں رہ سکتی، اور نہ کسی مسلمان عورت کا اس سے نکاح ہوسکتا ہے۔
مذکورہ بالا شخص کے عقائد قرآن و سنت، اِجماعِ اُمت اور اکابر علمائے اہلِ سنت والجماعت کی تصریحات کے خلاف ہیں، اس کے لئے درج ذیل تصریحات ملاحظہ ہوں:
’’فِيْ شَرْحِ الْعَقَائِدِ ص:۲۱۷: وَللهُ تَعَالٰى كُتُبٌ أَنْزَلَهَا عَلٰى أَنْبِيَائِهِ، وَبَيَّنَ فِيْهَا أَمْرَهُ وَنَهْيَهُ وَوَعْدَهُ وَوَعِيْدَهُ، وَكُلُّهَا كَلَامُ اللهِ تَعَالٰى ۔۔۔۔۔ قَدْ نُسِخَتْ بِالْقُرْآنِ تِلَاوَتُهَا وَكِتَابَتُهَا بَعْضُ أَحْكَامِهَا۔ وَفِيْ الْحَاشِيَةِ: قَوْلُهُ ’’وَللهُ كُتُبٌ‘‘ رُكْنٌ مِنْ أَرْكَانِ مَا يَجِبُ بِهِ الْإِيْمَانُ مِمَّا نَطَقَتْ بِهِ النُّصُوْصُ الْقُرْآنِيَّةُ وَالْأَخْبَارُ النَّبَوِيَّةُ۔‘‘
ترجمہ:۔ ’’شرح عقائد ص:۲۱۷ میں ہے کہ: اللہ تعالیٰ کی (قرآن کے علاوہ) کئی کتابیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء پر نازل فرمایا اور ان کتابوں میں اَمر و نہی، وعدہ و وعید کو بیان فرمایا اور یہ تمام کتابیں کلامِ الٰہی ہیں ۔۔۔۔۔ اور قرآن مجید کے نازل ہونے پر ان سابقہ کتب کی تلاوت اور کتابت اور ان کے بعض اَحکام کو منسوخ کیا گیا۔ اور حاشیہ میں ہے: قولہ ’’وﷲ کتب‘‘ یعنی ایمان کے ارکان میں سے ایک رکن یہ بھی ہے کہ ان سابقہ کتب پر ایمان لایا جائے، جن کے بارے میں نصوصِ قرآنیہ اور احادیثِ نبویہ شہادت دیتی ہیں۔‘‘
’’وَفِیْہِ ص:۴۵: وَالرَّسُوْلُ إِنْسَانٌ بَعَثَهُ اللهُ تَعَالٰى إِلَى الْخَلْقِ لِتَبْلِيْغِ الْأَحْكَامِ۔‘‘
ترجمہ:۔ ’’اور شرح عقائد ص:۴۵ میں ہے: اور رسول وہ انسان ہوتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ مخلوق کی طرف تبلیغِ اَحکام کے لئے مبعوث فرماتے ہیں۔‘‘
’’وَفِیْ شَرْحِ الْمَقَاصِدِ ج:۲ ص:۱۷۳: النَّبِيُّ إِنْسَانٌ بَعَثَهُ اللهُ تَعَالٰى لِتَبْلِيْغِ مَا أُوْحِيَ إِلَيْهِ وَكَذٰلِكَ الرَّسُوْلُ‘‘
ترجمہ:۔ ’’اور شرح مقاصد ج:۵ ص:۵ میں ہے کہ: نبی وہ انسان ہے جس کو اللہ تعالیٰ ان احکام کی تبلیغ کے لئے بھیجتے ہیں جو ان کی طرف وحی فرماتے ہیں اور رسول کی تعریف بھی یہی ہے۔‘‘
’’وَفِيْ شَرْحِ الْعَقِيْدَةِ الطَّحَاوِيَّةِ لِابْنِ أَبِي الْعِزِّ ص:۳۳۲: قَوْلُهُ: وَنُؤْمِنُ بِالْمَلَائِكَةِ وَالنَّبِيِّيْنَ وَالْكُتُبِ الْمُنَزَّلَةِ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ نَشْهَدُ أَنَّهُمْ كَانُوْا عَلَى الْحَقِّ الْمُبِيْنِ هٰذِهِ الْأُمُوْرُ مِنْ أَرْكَانِ الْإِيْمَانِ، قَالَ تَعَالٰى: ﵟ ءَامَنَ ٱلرَّسُولُ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيۡهِ مِن رَّبِّهِۦ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَۚ كُلٌّ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَمَلَٰٓئِكَتِهِۦ وَكُتُبِهِۦ وَرُسُلِهِۦ ﵞ (البقرة ٢٨٥)۔‘‘
وقال تعالیٰ: ﵟ لَّيۡسَ ٱلۡبِرَّ أَن تُوَلُّواْ وُجُوهَكُمۡ قِبَلَ ٱلۡمَشۡرِقِ وَٱلۡمَغۡرِبِ وَلَٰكِنَّ ٱلۡبِرَّ مَنۡ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَٱلۡمَلَٰٓئِكَةِ وَٱلۡكِتَٰبِ وَٱلنَّبِيِّـۧنَ ﵞ ( البقرة ١٧٧)۔
فجعل اللہ سبحانہ وتعالٰی الْإیمان ھو الْإیمان بھٰذہ الجملۃ، وسمی من آمن بھٰذہ الجملۃ مؤمنین، کما جعل الکافرین من کفر بھٰذہ الجملۃ بقولہ: ﵟ وَمَن يَكۡفُرۡ بِٱللَّهِ وَمَلَٰٓئِكَتِهِۦ وَكُتُبِهِۦ وَرُسُلِهِۦ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلَٰلَۢا بَعِيدًا ﵞ (النساء ١٣٦)۔‘‘
ترجمہ:۔ ’’اور ابنِ ابوالعزؒ کی شرح عقیدۂ طحاویہ کے ص:۳۳۲ میں ہے کہ: ہم ایمان لاتے ہیں ملائکہ پر، نبیوں پر اور ان پر نازل ہونے والی تمام کتابوں پر اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ وہ (رسول) سب کے سب حق پر تھے۔ اور یہ تمام اُمور اَرکانِ ایمان میں سے ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور مؤمنین بھی سب کے سب عقیدہ رکھتے ہیں اللہ کے ساتھ، اور اس کے فرشتوں کے ساتھ، اور اس کی کتابوں کے ساتھ، اور اس کے پیغمبروں کے ساتھ، اور اس کے پیغمبروں میں سے کسی سے تفریق نہیں کرتے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’کچھ سارا کمال اس میں نہیں کہ تم اپنا منہ مشرق کو کرلو یا مغرب کو، لیکن کمال تو یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ پر یقین رکھے اور قیامت کے دن پر، اور فرشتوں پر اور کتب پر اور پیغمبروں پر۔‘‘
(ان دلائل سے معلوم ہوا کہ) اللہ تعالیٰ نے ایمان ہی اس چیز کو قرار دیا ہے کہ ان تمام چیزوں پر ایمان ہو اور اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ’’مؤمنین‘‘ نام ہی ان لوگوں کا رکھا ہے جو اِن تمام چیزوں پر ایمان رکھتے ہیں، جیسا کہ ’’کافرین‘‘ ان لوگوں کو کہا گیا ہے جو اِن تمام چیزوں کا انکار کرتے ہیں، جیسے کہ ارشادِ اِلٰہی ہے: ’’اور جو شخص اللہ تعالیٰ کا انکار کرے، اور اس کے فرشتوں کا، اور اس کی کتابوں کا، اور اس کے رسولوں کا، اور روزِ قیامت کا، تو وہ شخص گمراہی میں بڑی دور جاپڑا۔‘‘
’’وَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَدِيْثِ الْمُتَّفَقِ عَلَى صِحَّتِهِ، حَدِيْثِ جِبْرِيْلَ، وَسُؤَالِهِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْإِيْمَانِ فَقَالَ: أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ ۔۔۔ إِلَخْفَهٰذِهِ الْأُصُوْلُ الَّتِي اتَّفَقَتْ عَلَيْهَا الْأَنْبِيَاءُ وَالرُّسُلُ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِمْ وَسَلَامُهُ، وَلَمْ يُؤْمِنْ بِهَا حَقِيْقَةَ الْإِيْمَانِ إِلَّا اتِّبَاعُ الرُّسُلِ۔‘‘ (شرح عقیدۃ طحاویۃ ص:۳۳۳)
ترجمہ:۔ ’’اور حدیثِ جبریلؑ (جس کی صحت پر بخاری و مسلم متفق ہیں) میں ہے کہ: حضرت جبریلؑ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تو ایمان لائے اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی تمام کتابوں پر، اور تمام رسولوں پر۔۔۔۔۔‘‘ پس یہ وہ اُصول ہیں جن پر تمام پیغمبروں اور رسولوں کا اتفاق ہے، اور اس پر صحیح معنی میں کوئی ایمان نہیں لایا مگر وہ جو اَنبیاء و رُسل کے متبعین ہیں۔‘‘
’’وَفِیْہِ ص:۳۴۹، ۳۵۰: وَأَمَّا الْأَنْبِيَاءُ وَالْمُرْسَلُوْنَ فَعَلَيْنَا الْإِيْمَانُ بِمَنْ سَمَّى اللهُ تَعَالٰى فِيْ كِتَابِهِ مِنْ رُسُلِهِ، وَالْإِيْمَانُ: بِأَنَّ اللهَ تَعَالٰى أَرْسَلَ رُسُلًا سِوَاهُمْ وَأَنْبِيَاءَ، لَا يَعْلَمُ أَسْمَاءَهُمْ وَعَدَدَهُمْ إِلَّا اللهُ تَعَالٰى الَّذِيْ أَرْسَلَهُمْ ۔۔۔ وَعَلَيْنَا الْإِيْمَانُ بِأَنَّهُمْ بَلَّغُوْا جَمِيْعَ مَا أُرْسِلُوْا بِهِ عَلٰى مَا أَمَرَهُمُ اللهُ بِهِ، وَأَنَّهُمْ بَيَّنُوْهُ بَيَانًا لَا يَسَعُ أَحَدًا مِمَّنْ أُرْسِلُوْا إِلَيْهِ جَهْلُهُ وَلَا يَحِلُّ خِلَافُهُ … إِلَخْ
۔۔۔۔۔ وَأَمَّا الْإِيْمَانُ بِالْكُتُبِ الْمُنَزَّلَةِ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ فَنُؤْمِنُ بِمَا سَمَّى اللهُ تَعَالٰى مِنْهَا فِيْ كِتَابِهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيْلِ وَالزَّبُوْرِ، وَنُؤْمِنُ بِأَنَّ اللهَ تَعَالٰى سِوَى ذٰلِكَ كُتُبًا أَنْزَلَهَا عَلٰى أَنْبِيَائِهِ، لَا يَعْرِفُ أَسْمَاءَهَا وَعَدَدَهَا إِلَّا اللهُ تَعَالٰى۔‘‘
ترجمہ:۔ ’’اور اسی کتاب کے ص:۳۱۱ پر ہے: رہے انبیاء اور رسول! پس ہمارے ذمہ واجب ہے کہ ان میں سے ان تمام نبیوں پر ایمان لائیں جن کا قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، (اسی طرح) اس پر بھی ایمان لائیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے علاوہ دُوسرے انبیاء اور رسول بھی بھیجے کہ جن کے نام اور تعداد اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں، یعنی اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔۔۔۔۔۔ اور ہم پر لازم ہے کہ ہم اس بات پر ایمان لائیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان انبیاء کو جن اَحکام کے پہنچانے کا حکم دیا تھا، ان انبیاء نے وہ تمام اَحکام پہنچادئیے، اور انبیاء نے ان اَحکام کو اتنا کھول کھول کر بیان کردیا کہ اُمت میں سے ناواقف سے ناواقف آدمی کو بھی کوئی اِشکال نہ رہا، اور ان کے خلاف کرنا حلال نہ رہا ۔۔۔۔۔۔ اور رہا ان کتابوں پر ایمان لانا جن کو رسولوں پر نازل کیا گیا، سو ہم ان تمام کتابوں پر ایمان لاتے ہیں، جن کا اللہ تعالیٰ نے قرآن میں نام لیا ہے، یعنی تورات، اِنجیل اور زَبور، اور ہم ایمان لاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان مذکورہ کتابوں کے علاوہ اور کتابیں بھی اپنے انبیاء پر نازل فرمائیں، جن کا نام اور ان کی تعداد سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا۔‘‘
’’وَفِيْ شَرْحِ الْعَقِيْدَةِ الطَّحَاوِيَّةِ لِلْمَيْدَانِي ص:۱۰۴: وَالْإِيْمَانُ الْمَطْلُوْبُ مِنَ الْمُكَلَّفِ هُوَ الْإِيْمَانُ بِاللهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ بِأَنَّهَا كَلَامُ اللهِ تَعَالٰى الْأَزَلِيُّ الْقَدِيْمُ الْمُنَزَّهُ عَنِ الْحُرُوْفِ وَالْأَصْوَاتِ، وَبِأَنَّهُ تَعَالٰى أَنْزَلَهَا عَلٰى بَعْضِ رُسُلِهِ بِأَلْفَاظٍ حَادِثَةٍ فِيْ أَلْوَاحٍ أَوْ عَلٰى لِسَانِ مَلَكٍ، وَبِأَنَّ جَمِيْعَ مَا تَضَمَّنَتْهُ حَقٌّ وَصِدْقٌ، وَرُسُلِهِ بِأَنَّهُ أَرْسَلَهُمْ إِلَى الْخَلْقِ لِهَدَايَتِهِمْ وَتَكْمِيْلِ مَعَاشِهِمْ وَمَعَادِهِمْ، وَأَيَّدَهُمْ بِالْمُعْجِزَاتِ الدَّالَّةِ عَلٰى صِدْقِهِمْ فَبَلَّغُوْا عَنْهُ رِسَالَتَهُ ۔۔۔ إِلَخْ‘‘
ترجمہ:۔ ’’اور میدانی کی شرح عقیدۂ طحاویہ ص:۱۰۴ پر ہے: مکلف (یعنی جن و اِنس) سے جو اِیمان مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ: اللہ پر ایمان لانا، اور اس کے فرشتوں پر، اور اس کی تمام کتابوں پر، اس طرح ایمان لانا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام، کلامِ ازلی اور قدیم ہے، جو حروف اور آواز سے پاک ہے، اور نیز اللہ تعالیٰ نے اس کلام کو اپنے بعض رسولوں پر تختیوں میں حادث الفاظ کی صورت میں نازل کیا، یا فرشتہ کی زبان پر اُتارا۔ اور نیز وہ تمام کا تمام کلام جس پر کتاب مشتمل ہے حق اور سچ ہے۔ اور اللہ کے رسول جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی طرف ان کی ہدایت، اور ان کی تکمیل معاش و معاد کے لئے بھیجا، اور ان انبیاء کی ایسے معجزات سے تائید کی جو ان انبیاء کی سچائی پر دلالت کرتے ہیں۔ ان انبیاء نے اللہ کے پیغام کو پہنچایا۔‘‘
’’قَالَ الْقَاضِيْ عِيَاضٌ فِيْ شَرْحِ الشِّفَاءِ ص:۳۳۵: وَاعْلَمْ أَنَّ مَنْ اسْتَخَفَّ بِالْقُرْآنِ أَوِ الْمُصْحَفِ أَوْ بِشَيْءٍ مِنْهُ أَوْ سَبَّهُ أَوْ جَحَدَهُ أَوْ حَرْفًا مِنْهُ أَوْ آيَةً أَوْ كَذَّبَ بِهِ أَوْ بِشَيْءٍ مِمَّا صَرَّحَ بِهِ فِيْهِ مِنْ حُكْمٍ أَوْ خَبَرٍ أَوْ أَثْبَتَ مَا نَفَاهُ أَوْ نَفَى مَا أَثْبَتَهُ عَلٰى عِلْمٍ مِنْهُ بِذٰلِكَ أَوْ شَكَّ فِيْ شَيْءٍ مِنْ ذٰلِكَ فَهُوَ كَافِرٌ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ بِإِجْمَاعٍ۔‘‘
ترجمہ:۔ ’’علامہ قاضی عیاضؒ شرح شفاء ص:۳۳۵ میں لکھتے ہیں: جان لیجئے کہ جس نے قرآن یا کسی مصحف، یا قرآن کی کسی چیز کو ہلکا جانا یا قرآن کو گالی دی یا اس کے کسی حصے کا انکار کیا یا کسی حرف کا انکار کیا یا قرآن کو جھٹلایا، یا قرآن کے کسی ایسے حصے کا انکار کیا جس میں کسی حکم یا خبر کی صراحت ہو، یا کسی ایسے حکم یا خبر کو ثابت کیا جس کی قرآن نفی کر رہا ہے، یا کسی ایسی چیز کی جان بوجھ کر نفی کی جس کو قرآن نے ثابت کیا ہے، یا قرآن کی کسی چیز میں شک کیا ہے، تو ایسا آدمی بالاجماع، اہلِ علم کے نزدیک کافر ہے۔‘‘
’’وَفِيْ شَرْحِ الْعَقَائِدِ ص:۲۱۵: وَأَفْضَلُ الْأَنْبِيَاءِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِقَوْلِهِ تَعَالٰى: ﵟ كُنتُمۡ خَيۡرَ أُمَّةٍ ﵞ وَلَا شَكَّ أَنَّ خَيْرِيَّةَ الْأُمَّةِ بِحَسَبِ كَمَالِهِمْ فِي الدِّينِ، وَذٰلِكَ تَابِعٌ لِكَمَالِ نَبِيِّهِمِ الَّذِيْ يَتَّبِعُوْنَهُ۔‘‘
ترجمہ:۔ ’’شرح عقائد ص:۲۱۵ میں ہے کہ: انبیاء میں سے سب سے افضل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے کہ: ’’تم بہترین اُمت ہو‘‘ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اُمت کا بہترین ہونا دِین میں ان کے کمال کے اعتبار سے ہے، اور اُمت کا دِین میں کامل ہونا یہ تابع ہے ان کے اس نبی کے کمال کے، جس کی وہ اتباع کر رہے ہیں۔‘‘
’’وفی المشکٰوۃ: عَن أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَنَا سَیِّدُ وُلْدِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَأَوَّلُ مَنْ یَّنْشَقُّ عَنْہُ الْقَبْرُ وَأَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ۔‘‘ (رواہ مسلم)
ترجمہ:۔ ’’اور مشکوٰۃ شریف میں ہے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ: رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں قیامت کے دن اولادِ آدم کا سردار ہوں گا، میں پہلا وہ شخص ہوں گا جس کی قبر کھلے گی، اور میں سب سے پہلے سفارش کرنے والا ہوں گا، اور سب سے پہلے میری سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘
’’وَفِيْ الْمِرْقَاةِ ج:۷ ص:۱۰: فِيْ شَرْحِ مُسْلِمٍ لِلنَّوَوِيِّ ۔۔۔ وَفِيْ الْحَدِيْثِ دَلِيْلٌ عَلٰى فَضْلِهِ عَلٰى كُلِّ الْخَلْقِ، لِأَنَّ مَذْهَبَ أَهْلِ السُّنَّةِ: أَنَّ الْآدَمِيَّ أَفْضَلُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، وَهُوَ أَفْضَلُ الْآدَمِيِّيْنَ بِهٰذَا الْحَدِيْثِ۔‘‘
ترجمہ:۔ ’’اور مرقاۃ ج:۷ ص:۱۰ میں ہے کہ: یہ حدیث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام مخلوق پر فضیلت کی دلیل ہے، کیونکہ اہلِ سنت کا مذہب ہے کہ آدمی ملائکہ سے افضل ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس حدیث کی بنا پر تمام آدمیوں سے افضل ہیں (تو گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام مخلوقات سے افضل ہوئے)۔‘‘
الغرض یہ شخص ضال و مضل اور مرتد و زِندیق ہے، اسلام اور قرآن کے نام پر مسلمانوں کے دِین و اِیمان پر ڈاکا ڈال رہا ہے، اور سیدھے سادے مسلمانوں کو نبیٔ آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے دامنِ رحمت سے کاٹ کر اپنے پیچھے لگانا چاہتا ہے۔
حکومتِ پاکستان کا فرض ہے کہ فوراً اس فتنے کا سدِباب کرے، اور اس بے دِین کی سرگرمیوں پر پابندی لگائی جائے اور اسے ایسی عبرتناک سزا دی جائے کہ اس کی آئندہ آنے والی نسلیں یاد رکھیں، اور کوئی بدبخت آئندہ ایسی جرأت نہ کرسکے۔
نیز اس کا بھی کھوج لگایا جائے اور اس کی تحقیق کی جائے کہ کن قوّتوں کے اشارے پر یہ لوگ پاکستان میں اور مسلمانوں میں اِضطراب اور بے چینی کی فضاء پیدا کر رہے ہیں۔۔۔؟

