October 15, 2026 at 8:41 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غلط عقائد رکھنے والے فرقے

مسئلہ‌جاری‌ہے

جواب

۱۲:۔’’(آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی) شخصی عظمت نے رحلتِ مصطفوی کے وقت اضطراری طور پر حضرت عمرؓ کو تھوڑی دیر کے لئے مغلوب کرلیا تھا۔‘‘ (ص:۶۰)

۱۳:۔’’حضرت عثمانؓ، جن پر اس کارِ عظیم (خلافت) کا بار رکھا گیا تھا، ان خصوصیات کے حامل نہ تھے جو ان کے جلیل القدر پیشروؤں کو عطا ہوئی تھیں، اس لئے جاہلیت کو اسلامی نظامِ اجتماعی کے اندر گھس آنے کا راستہ مل گیا۔‘‘ (ص:۶۵)

۱۴:۔’’خلفائے راشدین کے فیصلے بھی اسلام میں قانون نہیں قرار پائے، جو انہوں نے قاضی کی حیثیت سے کئے تھے۔‘‘ (ص:۶۶)

۱۵:۔’’حضرت عثمانؓ نے پے در پے اپنے رشتہ داروں کو بڑے بڑے اہم عہدے عطا کئے، اور ان کے ساتھ دوسری ایسی رعایات کیں جو عام طور پر لوگوں میں ہدفِ تنقید بن کر رہیں۔‘‘ (ص:۷۱)

۱۶:۔’’مثال کے طور پر انہوں نے افریقہ کے مالِ غنیمت کا پورا خمس (۵ لاکھ دینار) مروان کو بخش دیا۔‘‘ (ص:۷۱)

۱۷:۔’’اس سلسلہ میں خصوصیت کے ساتھ دو چیزیں ایسی تھیں جو بڑے دور رس اور خطرناک نتائج کی حامل ثابت ہوئیں۔‘‘ (ص:۷۲)

۱۸:۔’’دوسری چیز جو اس سے زیادہ فتنہ انگیز ثابت ہوئی وہ خلیفہ (حضرت عثمانؓ) کے سیکریٹری کی اہم پوزیشن پر مروان بن الحکم کی ماموریت تھی۔‘‘ (ص:۷۲)

۱۹:۔’’تاریخ بتاتی ہے اور صحیح بتاتی ہے کہ مروان اور یزید امتِ مسلمہ کے نزدیک ناپسندیدہ شخصیتیں سمجھی جاتی ہیں، یہ نرم سے نرم الفاظ ہیں جو مروان اور یزید کے بارے میں کہے جاسکتے ہیں۔‘‘ (ماہنامہ فاران ستمبر ۱۹۷۶ء ص:۴۲)

۲۰:۔’’حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی پالیسی کا یہ پہلو (جو فقرہ ۱۷، ۱۸ میں نقل ہوا) بلاشبہ غلط تھا، اور غلط کام بہرحال غلط ہے، خواہ کسی نے کیا ہو، اس کو خواہ مخواہ کی سخن سازیوں سے صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرنا، نہ عقل وانصاف کا تقاضا ہے اور نہ دین ہی کا یہ مطالبہ ہے کہ کسی صحابی کی غلطی کو غلطی نہ کہا جائے (اور ’’اَللّٰهَ! اَللّٰهَ! فِيْ أَصْحَابِيْ‘‘ کا مطالبہ کیا ہے۔۔۔؟ ــ ناقل)۔‘‘ (ص:۷۳)

۲۱:۔’’ایک اور نہایت مکروہ بدعت حضرت معاویہؓ کے عہد میں یہ شروع ہوئی کہ وہ خود اور ان کے حکم سے ان کے تمام گورنر خطبوں میں برسرِ منبر حضرت علی رضی اللہ عنہ پر سبّ و شتم کی بوچھاڑ کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔ کسی کے مرنے کے بعد اس کو گالیاں دینا، شریعت تو درکنار، انسانی اخلاق کے بھی خلاف تھا، اور خاص طور پر جمعہ کے خطبہ کو اس گندگی سے آلودہ کرنا تو دین و اخلاق کے لحاظ سے سخت گھناؤنا فعل تھا۔‘‘ (ص:۷۵)

۲۲:۔’’زیاد بن سمیہ کا استلحاق بھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ان افعال میں سے ہے جن میں انہوں نے سیاسی اغراض کے لئے شریعت کے ایک مسلّم قاعدے کی خلاف ورزی کی تھی، (غالباً اسی سنت کی تقلید میں آنجناب نے بھی فاطمہ جناح کی انتخابی مہم میں ’’سیاسی اغراض‘‘ کے لئے شریعت کے ایک مسلّم قاعدے کی خلاف ورزی کی تھی ــ ناقل)۔‘‘ (ص:۷۶، خلافت و ملوکیت ص:۱۷۵)

۲۳:۔’’حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس کو اپنا حامی اور مددگار بنانے کے لئے اپنے والد ماجد کی زناکاری پر شہادتیں لیں (زناکاری پر شہادتیں لینا! کیسا عجیب انکشاف ہے۔۔۔؟ ــ ناقل)۔ اور اس کا ثبوت بہم پہنچاکر کہ زیاد انہی (ابوسفیانؓ) کا ولد الحرام ہے، پھر اسے اسی بنیاد پر اپنا بھائی اور اپنے خاندان کا فرد قرار دے دیا۔ یہ فعل اخلاقی حیثیت سے جیسا کچھ مکروہ ہے وہ تو ظاہر ہی ہے، مگر قانونی حیثیت سے بھی یہ ایک صریح ناجائز فعل تھا، کیونکہ شریعت میں کوئی نسب زنا سے ثابت نہیں ہوتا۔‘‘ (ص:۷۷)

۲۴:۔’’حضرت عمرو بن العاصؓ ۔۔۔۔۔۔۔ سے دو کام ایسے سرزد ہوگئے ہیں جنہیں غلط کہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔‘‘ (ص:۸۴)

۲۵:۔’’حضرت علیؓ نے ۔۔۔۔۔۔ مالک بن حارث الاشتر اور محمد بن ابی بکر کو گورنری تک کے عہدے دے دئیے، درآنحالیکہ قتلِ عثمانؓ میں ان دونوں صاحبوں کا جو حصہ تھا، وہ سب کو معلوم ہے، حضرت علیؓ کے پورے زمانۂ خلافت میں ہم کو صرف یہی ایک کام (جو ان کے پورے زمانۂ خلافت پر پھیلا ہوا ہے) ایسا نظر آتا ہے جس کو غلط کہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔‘‘ (ص:۸۵)

۲۶:۔’’حضرت عائشہؓ و حضرت حفصہؓ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں کچھ زیادہ جری ہوگئی تھیں اور حضور سے زبان درازی کرنے لگی تھیں۔‘‘ (ص:۸۸، ہفت روزہ ایشیا لاہور مؤرخہ ۱۹؍نومبر ۱۹۷۶ء)

۲۷:۔’’تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اب تک کوئی مجددِ کامل پیدا نہیں ہوا، قریب تھا کہ عمر بن عبدالعزیزؒ اس منصب پر فائز ہوجاتے، مگر وہ کامیاب نہ ہوسکے۔‘‘ (ص:۹۱)

۲۸:۔’’امام غزالیؒ کے تنقیدی کام میں علمی و فکری حیثیت سے چند نقائص بھی تھے، اور وہ تین عنوانات پر تقسیم کئے جاسکتے ہیں، ایک قسم ان نقائص کی ہے جو حدیث کے علم میں کمزور ہونے کی وجہ سے ان کے کام میں پیدا ہوئے،د وسری قسم ان نقائص کی جو ان کے ذہن پر عقلیات کے غلبہ کی وجہ سے تھے، اور تیسری قسم ان نقائص کی جو تصوف کی طرف ضرورت سے زیادہ مائل ہونے کی وجہ سے تھے۔‘‘ (ص:۹۲)

۲۹:۔’’پہلی چیز جو مجھ کو حضرت مجدد الف ثانیؒ کے وقت سے شاہ (ولی اللہ) صاحب اور ان کے خلفاء کے تجدیدی کام میں کھٹکی ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے تصوف کے بارے میں مسلمانوں کی بیماری کا پورا اندازہ نہیں لگایا، اور ان کو پھر وہی غذا دے دی جس سے مکمل پرہیز کرانے کی ضرورت تھی۔‘‘ (ص:۹۲)

۳۰:۔’’اسی طرح یہ قالب (تصوف) بھی مباح ہونے کے باوجود اس بنا پر قطعی چھوڑ دینے کے قابل ہوگیا ہے کہ اس کے لباس میں مسلمانوں کو افیون کا چسکہ لگایا ہے، اور اس کے قریب جاتے ہی ان مزمن مریضوں کو پھر وہی چنیا بیگم یاد آجاتی ہے جو صدیوں سے ان کو تھپک تھپک کر سلاتی رہی ہے۔‘‘ (ص:۹۲)

۳۱:۔’’مسلمانوں کے اس مرض سے نہ حضرت مجدد صاحبؒ ناواقف تھے، نہ شاہ صاحبؒ، دونوں کے کلام میں اس پر تنقید بھی موجود ہے، مگر غالباً اس مرض کی شدت کا انہیں پورا اندازہ نہ تھا، یہی وجہ ہے کہ دونوں بزرگوں نے ان بیماروں کو پھر وہی غذا دی جو اس مرض میں مہلک ثابت ہوچکی تھی، اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ رفتہ رفتہ دونوں کا حلقہ پھر اسی پرانے مرض سے متأثر ہوتا چلا گیا۔‘‘ (ص:۹۴)

۳۲:۔’’اگرچہ مولانا اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ نے اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ کر ٹھیک وہی روش اختیار کی جو ابن تیمیہؒ نے کی تھی، لیکن شاہ ولی اللہ صاحبؒ کے لٹریچر میں تو یہ سامان موجود ہی تھا، جس کا کچھ اثر شاہ اسماعیل شہیدؒ کی تحریروں میں بھی باقی رہا، اور پیری مریدی کا سلسلہ سید صاحبؒ کی تحریک میں چل رہا تھا، اس لئے ’’مرضِ صوفیت‘‘ کے ’’جراثیم‘‘ سے یہ تحریک پاک نہ رہ سکی۔‘‘ (ص:۹۵)

۳۳:۔’’اور یہی جہالت ہم ایک نہایت قلیل جماعت (غالباً مودودی صاحب کی اپنی جماعت ــناقل) کے سوا مشرق سے لے کر مغرب تک مسلمانوں میں عام دیکھ رہے ہیں، خواہ وہ ان پڑھ عوام ہوں یا دستاربند علماء، یا خرقہ پوش مشائخ، یا کالجوں اور یونیورسٹیوں کے تعلیم یافتہ حضرات، ان سب کے خیالات اور طور طریقے ایک دوسرے سے بدرجہا مختلف ہیں، مگر اسلام کی حقیقت اور اس کی روح سے ناواقف ہونے میں سب یکساں ہیں۔‘‘ (ص:۱۹)

میں نے جناب مودودی صاحب کے بپھرے ہوئے دریائے تنقید سے یہ چند قطرے پیش کئے ہیں، اور یہ سب کچھ انہوں نے بزعم خود، خدا کے بتائے ہوئے معیار پر جانچنے اور پرکھنے کے بعد لکھا ہے، میں ان کے ایک ایک فقرے پر بحث کرنا نہیں چاہتا، تم خود سوچو کہ ان تنقیدات کے بعد اسلام کا کیا نقشہ ذہن میں آتا ہے؟ البتہ جی چاہتا ہے کہ تمہاری سہولت کے لئے چند اصولی باتیں پیش کروں۔

مسئلہ‌جاری‌ہے - شہید اسلام