October 15, 2026 at 8:41 AM

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

غلط عقائد رکھنے والے فرقے

مسئلہ‌جاری‌ہے

جواب

۲:۔جس چیز یا جس شخصیت کو ’’تنقید‘‘ کا محل سمجھا جائے، اس کے بارے میں سب سے پہلا تصور یہ قائم ہوتا ہے کہ ’’تنقید‘‘ سے پہلے یہ چیز قابل اعتماد نہیں، بلکہ جانچ پرکھ کی محتاج ہے، اور اس کے بعد ہی یہ فیصلہ ہوسکے گا کہ یہ لائق اعتماد ہے یا نہیں؟ کیونکہ جو چیز سوفی صد لائق اعتماد ہو اس کے جانچنے پرکھنے کی ضرورت نہیں رہتی، اور نہ دنیا میں کوئی ایسا عقلمند آپ نے دیکھا ہوگا جو سکہ بند اور لائق اعتماد چیزوں کی جانچ پرکھ کرتا پھرے۔ الغرض یہ ایک بدیہی اصول ہے کہ جو چیز لائق اعتماد ہے اس کی ’’تنقید‘‘ (یا اردو محاورے کے مطابق اس پر ’’تنقید‘‘) کی ضرورت نہیں۔ اور جو چیز محتاجِ ’’تنقید‘‘ ہے، وہ ’’تنقید‘‘ سے قبل لائق اعتماد نہیں۔ مثلاً: بازار میں مہر شدہ باٹ استعمال ہوتے ہیں، آپ نے کسی کو نہیں دیکھا ہوگا کہ وہ سودا خریدتے وقت دکاندار سے یہ دریافت کرے کہ میاں! اس کا وزن بھی درست ہے؟ کیونکہ وہ سرکاری مہر کے بعد ’’تنقید‘‘ سے بالاتر ہے، اور اس پر سرکاری مہر کا ہونا ہی اس کے قابل اعتماد ہونے کی ضمانت ہے، اس کے باوجود اگر کوئی شخص اس دانشمندی کا مظاہرہ کرے تو تم جانتے ہو کہ اسے کیا کہا جائے گا؟

اب جب مودودی صاحب ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وسلم) کے سوا کوئی بھی انسان ’’تنقید‘‘ سے بالاتر نہیں، تو اس کے معنی اس کے سوا اور کیا ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی انسان بھی ہمارے لئے لائق اعتماد نہیں، اسی اعتماد کو جناب مودودی صاحب ’’ذہنی غلامی‘‘ سے تعبیر کرکے یہ فرماتے ہیں کہ ’’نہ (رسولِ خدا کے سوا) کسی (انسان) کی ’’ذہنی غلامی‘‘ میں مبتلا ہو۔‘‘

گویا جناب مودودی صاحب کے نزدیک چودہ سو سال کی امت میں ایک شخص بھی ایسا نہیں جس کے کسی قول و فعل پر ہم اعتماد کرسکیں، تاوقتیکہ مودودی صاحب خدا کے بتائے ہوئے معیار پر جانچ کر اس کی درجہ بندی نہ کریں، اور ہمیں یہ نہ بتلادیں کہ فلاں شخص پر تم اس حد تک اعتماد کرسکتے ہو اور اس حد تک نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ان کے خود تراشیدہ تصورِ اسلام میں خلفائے راشدین کے قاضیانہ فیصلوں کو بھی قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی تاکید سے امت کو وصیت فرمائی تھی کہ خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوط پکڑیں، ’’مشکوٰۃ شریف‘‘ میں یہ حدیث تم نے خود پڑھی ہوگی:

’’عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ قَالَ: صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ یَوْمٍ ثُمَّ اَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْھِہٖ، فَوَعَظَنَا مَوْعِظَۃً بَلِیْغَۃً زَرَفَتْ مِنْھَا الْعُیُوْنُ، وَوَجِلَتْ مِنْھَا الْقُلُوْبُ، فَقَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُوْلَ اللہِ! کَأَنَّ ھٰذِہٖ مَوْعِظَۃُ مُوَدّعٍ فَأَوْصِنَا! فَقَالَ: اُوْصِیْکُمْ بِتَقْوَی اللہِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ وَإِنْ کَانَ عَبْدًا حَبَشِیَّا، فَإِنَّہٗ مَنْ یَّعِشْ مِنْکُمْ بَعْدِیْ فَسَیَرٰی إِخْتِلَافًا کَثِیْرًا، فَعَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَسُنَّۃِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَھْدِیِّیْنَ، تَمَسَّکُوْا بِھَا وَعَضُّوْا عَلَیْھَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِیَّاکُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُوْرِ، فَإِنَّ کُلَّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٌ وَّکُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ۔ رواہ احمد وابوداوٗد والترمذی وابن ماجۃ۔‘‘

(مشکوٰۃ ص:۲۹)

ترجمہ:۔’’حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھا کر فارغ ہوئے تو ہماری جانب رخ کرکے بہت ہی پُراثر وعظ فرمایا، جس سے آنکھیں بہہ پڑیں اور دل کانپ گئے، وعظ سن کر ایک شخص نے عرض کیا کہ: یا رسول اللہ! آج کا وعظ تو ایسا (جامع اور مؤکد) تھا جیسا رخصت کرنے والے کا وعظ ہوتا ہے (کہ وہ کوئی ایسی بات نہیں چھوڑتا جس پر تنبیہ کی حاجت ہو) پس (اگر واقعی آپ کے رخصت ہونے کا وقت قریب ہے تو) ہمیں کوئی وصیت فرمائیے (جس کو ہم عمر بھر یاد رکھیں)۔ آپ نے فرمایا: میں تمہیں اللہ سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں اور یہ کہ (تم میں سے جو اولوا الامر ہو اس کی) سنو اور مانو! خواہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو؟ کیونکہ تم میں سے جو شخص میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت سے (نظریات) اختلافات دیکھے گا، پس تم میری سنت کو اور ان خلفاء کی سنت کو، جو رشد و ہدایت پر فائز ہیں، اختیار کرو، اسے خوب مضبوط پکڑلو اور دانتوں سے تھام لو، اور نئے نئے امور سے اجتناب کرو، کیونکہ ہر نئی بات (جسے دین کا جز سمجھ لیا جائے وہ) بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘

۳:۔جانتے ہو کوئی شخص جب کسی دوسرے پر ’’تنقید‘‘ کرتا ہے تو اس کا منشا کیا ہوتا ہے؟ سنو! اگر کسی کے علم پر ’’تنقید‘‘ کی جائے (خواہ وہ صرف کسی ایک مسئلہ یا معاملہ سے متعلق ہو) تو اس کا منشا یہ ہوتا ہے کہ اس مسئلہ میں ان صاحب کا علم صحیح نہیں، بلکہ ناقد کا علم صحیح ہے، یا ناقد اس مسئلہ کو اس سے بہتر سمجھتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی کے فہم پر ’’تنقید‘‘ کی جائے تو اس کا منشا اپنے فہم کی برتری کا احساس ہے، اور اگر عمل پر ’’تنقید‘‘ کی جائے تو اس کا منشا اپنے عملی تفوق کا جذبہ ہے، الغرض جس بات میں آپ دوسرے پر ’’تنقید‘‘ کریں گے، اس میں اپنے علم و عمل اور عقل و فہم کے مقابلہ میں دوسرے کے علم و عمل اور عقل و فہم کو فروتر سمجھیں گے۔ پھر کبھی تو ناقد واقعی ان امور میں اس شخص سے جس پر ’’تنقید‘‘ کی گئی، فائق ہوتا ہے، اور کبھی واقعتا فائق نہیں ہوتا، بلکہ وہ اپنی خوش فہمی کے جنون میں اپنے کو فائق تر سمجھتا ہے۔ اسلام کی اصطلاح میں اسے ’’کبر‘‘ یا ’’تکبر‘‘ کہتے ہیں، اور یہی ’’کبر‘‘ تھا جس کا شکار سب سے پہلے ابلیس ہوا، اور اسی برخود غلط احساسِ برتری نے اسے ’’معلّم ملکوت‘‘ کے بجائے قیامت تک ملعون بنادیا۔

اب اس اصول کو سامنے رکھ کر ذرا مودودی صاحب کی ’’تنقید‘‘ اور ’’اصولِ تنقید‘‘ پر نظر ڈالئے، وہ ہر شخص کو حق دیتے ہیں کہ وہ رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وسلم) کے سوا سلفِ صالحین میں سے ہر شخص پر ’’تنقید‘‘ کرے، بتائیے! آخر اس کو کیا نام دیا جائے؟ کیا مودودی صاحب کے نزدیک ان کی جماعت کا ہر فرد سلفِ صالحین سے علم و فہم میں فائق ہے؟ اگر نہیں تو اس کا منشا برخود غلط پندار کے سوا اور کیا ہے؟ اور پھر مودودی صاحب یہ کہتے ہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام سے فریضۂ رسالت میں کچھ کوتاہیاں ہوگئی تھیں، اس وقت ان کا دعویٰ گویا یہ ہوتا ہے کہ وہ فریضۂ رسالت کی ذمہ داریوں کو حضرت یونس علیہ السلام سے زیادہ سمجھتے ہیں، بلکہ شاید خدا سے بھی زیادہ، کیونکہ کم از کم مودودی صاحب سے یہ توقع نہیں ہے کہ وہ اپنی جماعت کی کوئی ذمہ داری کسی ایسے شخص کے سپرد کردیں جس کے بارے میں انہیں علم ہے کہ وہ اسے پوری طرح ادا نہیں کرسکے گا، مگر بقول ان کے خدا نے فریضۂ رسالت کی ذمہ داری حضرت یونس علیہ السلام کے سپرد کرکے یہ احتیاط ملحوظ نہیں رکھی۔

اسی طرح جب وہ کہتے ہیں کہ: ’’نوح علیہ السلام جاہلیت کے جذبہ سے مغلوب ہوگئے تھے‘‘ تو گویا وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جذبات جاہلیت پر ان کی نظر حضرت نوح علیہ السلام سے زیادہ ہے، اور یہ کہ ان جاہلی جذبات پر غالب آنے کی وہ حضرت نوح علیہ السلام سے زیادہ ہمت رکھتے ہیں، کیونکہ اپنے بارے میں ان کا ارشاد یہ ہے:

’’خدا کے فضل سے میں کوئی کام یا کوئی بات جذبات سے مغلوب ہوکر نہیں کیا اور کہا کرتا، ایک ایک لفظ جو میں نے اپنی تقریر میں کہا ہے، تول تول کر کہا ہے، اور یہ سمجھتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا حساب مجھے خدا کو دینا ہے، نہ کہ بندوں کو۔ چنانچہ میں اپنی جگہ بالکل مطمئن ہوں کہ میں نے کوئی لفظ بھی خلافِ حق نہیں کہا۔‘‘ (مودودی مذہب ص:۲۹)

جب وہ کہتے ہیں کہ: ’’حضرت داؤد علیہ السلام نے اسرائیلی سوسائٹی کے عام رواج سے متأثر ہوکر فلاں کام کیا تھا‘‘ اس وقت وہ نہ صرف اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ جو شخص اپنی سوسائٹی کی ’’ذہنی غلامی‘‘ میں مبتلا ہوجائے وہ پیغمبر ہی نہیں ہوتا، بلکہ اس کے ساتھ وہ یہ تأثر بھی دیتے ہیں کہ داؤد علیہ السلام کی جگہ اگر حضرت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ہوتے تو اوریا سے اس کی بیوی کی طلاق کا کبھی مطالبہ نہ فرماتے۔

جب وہ کہتے ہیں کہ حضرت معاویہؓ نے فلاں معاملہ میں انسانی اخلاق تک کو ملحوظ نہیں رکھا، اس وقت وہ اپنے آپ کو انسانی اخلاقیات کا حضرت معاویہؓ سے بڑا عالم سمجھتے ہیں۔ اور جب وہ یہ کہتے ہیں کہ حضرت معاویہؓ نے شریعت کے فلاں قاعدے کی صریح خلاف ورزی کی، اس وقت وہ اپنے آپ کو حضرت معاویہؓ سے بڑھ کر عالمِ شریعت کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔

جب وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ سے لے کر حضرت سید احمد شہیدؒ تک ،مجددین کے تجدیدی کاموں میں یہ، یہ نقائص رہ گئے، اس وقت وہ یہ باور کراتے ہیں کہ وہ تجدید و احیائے دین کو ان تمام اکابر سے زیادہ سمجھتے ہیں، اور جب وہ بڑے فخر سے یہ اعلان کرتے ہیں کہ:

’’میں نے دین کو حال یا ماضی کے اشخاص سے سمجھنے کے بجائے ہمیشہ قرآن اور سنت ہی سے سمجھنے کی کوشش کی ہے (اور قرآن اور سنت کا سمجھنا آنجناب کو کس نے سکھایا تھا؟ حال یا ماضی کے اشخاص نے؟ ملاء اعلیٰ کے فرشتوں نے؟ یا مرزا غلام احمد کی طرح سب کچھ شکمِ مادر ہی سے لے کر آئے تھے؟ ناشکری کی حد ہے کہ دوچار اُلٹے سیدھے حرف جن اشخاص کی جوتیوں کی برکت سے حاصل ہوئے ان ہی کو نظرانداز کیا جارہا ہے ــ ناقل) اس لئے میں کبھی یہ معلوم کرنے کے لئے کہ خدا کا دین مجھ سے اور ہر مؤمن سے کیا چاہتا ہے، یہ دیکھنے کی کوشش نہیں کرتا کہ فلاں اور فلاں بزرگ کیا کہتے ہیں؟ بلکہ صرف یہ دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں کہ قرآن کیا کہتا ہے اور رسول نے کیا کہا؟ (بنیادی طور پر ٹھیک یہی نظریہ مرزا غلام احمد قادیانی اور غلام احمد پرویز کا ہے ــ ناقل)۔‘‘ (مودودی مذہب ص:۹۸)

اس وقت دراصل وہ لوگوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ امت کے طویل ترین دور میں کوئی ’’بزرگ‘‘ ان سے زیادہ دین کو سمجھنے والا پیدا نہیں ہوا، خیر! یہ ایک الگ موضوع ہے، اس پر اِن شاء اللہ کبھی دوسری فرصت میں کچھ کہوں گا۔ سرِدست مجھے یہ کہنا ہے کہ ’’تنقید‘‘ کا منشا ہمیشہ: ’’أَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ!‘‘ کا احساس ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص واقعتا کسی سے علم و فہم اور عمل و اخلاق میں بڑھ کر ہے تو اسے بلاشبہ اپنے چھوٹے پر ’’تنقید‘‘ کا حق حاصل ہے، اور اگر برخود غلط احساسِ برتری اس کا منشا ہو تو اس سے ہر مؤمن کو اللہ کی پناہ مانگنی چاہئے۔ اب اگر جناب مودودی صاحب واقعی ان تمام حضرات سے اپنے علم و فہم اور عمل و تقویٰ میں فائق ہیں، جن پر انہوں نے ’’تنقیدیں‘‘ کی ہیں تو بلاشبہ انہیں ’’تنقید‘‘ کا حق ہے، اور اگر ان حضرات کے مقابلہ میں علم و فہم اور عمل و تقویٰ میں تہی دامن ہونے کے باوصف وہ تنقید کا شوق رکھتے ہیں تو اس کا منشا بجز غرور و پندار اور تکبر کے کیا ہوسکتا ہے؟

۴:۔پھر جناب مودودی صاحب کے نظریہ کے مطابق جب چودہ سو سالہ امت کا کوئی بھی فرد ’’تنقید‘‘ سے بالا نہیں، نہ کسی پر اعتماد کیا جاسکتا ہے، بلکہ خدا کی بتائی ہوئی کسوٹی پر ہر ایک کو جانچنا اور پرکھنا لازم ہے تو سوال یہ ہے کہ جو دین آج کی امت کو سلفِ صالحین کی نقل و روایت اور علم و عمل کے ذریعہ پہنچا ہے، اس پر اعتماد کیسے کیا جائے؟ تم جانتے ہو کہ ہمارے دین کے دلائل کل چار ہیں:

۱:۔کتاب اللہ۔

۲:۔سنتِ رسول اللہ (خلفائے راشدینؓ کی سنت اسی کے ضمن میں آجاتی ہے)۔

۳:۔اِجماعِ اُمت۔

۴:۔اور قیاسِ مجتہدین۔

ائمہ اِجتہاد کے فقہی مسائل تو یوں ختم ہوئے کہ مودودی صاحب ماشاء اللہ! خود مجتہدِ مطلق ہیں۔ انہیں دین فہمی کے لئے ماضی و حال کے کسی بزرگ سے علمی استفادہ کی حاجت نہیں، اور جب پوری امت کو محتاجِ ’’تنقید‘‘ اور نالائق اعتماد فرض کرلیا جائے تو ظاہر ہے کہ ان کے اجماع کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہوگی، اور کتاب و سنت کا مدار، روایت و درایت پر ہے، جن لوگوںکے علم و عمل پر ہی اعتماد نہیں، ان کی روایت و درایت کا حال بھی معلوم ہوگیا، خصوصاً جبکہ جناب مودودی صاحب کی تحقیق کے مطابق صحابہ کرامؓ ایک دوسرے پر چوٹیں کیا کرتے تھے، اور ایک دوسرے کو (نعوذباللہ!) جھوٹا بتایا کرتے تھے، اگر صحابہ کرامؓ بھی ۔۔۔ نعوذباللہ! ۔۔۔ ایسے ہی تھے جس کی تصویر مودودی صاحب کی ’’تنقیدات‘‘ نے مرتب کی ہے تو بعد کی امت تو ظاہر ہے کہ ان سے بدتر ہی ہوگی، نتیجہ یہ کہ قرآن و حدیث سے لے کر اجماع و قیاس تک ہر چیز مشکوک اور ناقابلِ اِعتماد ٹھہری، جب تک کہ خدا کے بتائے ہوئے ’’معیار‘‘ پر پرکھ کر مودودی صاحب ہمیں نہ بتائیں کہ فلاں چیز کتنی حد تک قابلِ اِعتماد ہے اور کتنی حد تک نہیں۔

ذرا انصاف سے کہئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور مسٹر غلام احمد پرویز اس کے سوا اور کیا کہتے ہیں؟ اور پھر یہ ’’خدائی معیار‘‘ مودودی صاحب کو کہاں سے حاصل ہوگا؟ جس پر جانچ جانچ کر وہ سلفِ صالحین میں سے ایک ایک فرد کی درجہ بندی کریں گے (اور جیسی درجہ بندی انہوں نے کردی ہے، اس کا کچھ نمونہ تو تم دیکھ ہی چکے ہو) کیا ان پر نئے سرے سے ’’وحی‘‘ نازل ہوگی؟ یا چودہ سو سال پیچھے کی طرف زقند لگاکر وہ براہِ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن و سنت لیں گے۔۔۔؟

جب وہ ماضی یا حال کے کسی بھی بزرگ کے واسطے کے قائل نہیں، نہ کسی کی ’’ذہنی غلامی‘‘ کی ذلت اٹھانے کے لئے وہ تیار ہیں تو آخر ’’خدائی معیار‘‘ انہیں کس غار سے دستیاب ہوگا۔۔۔؟

۵:۔تم یہ بھی جانتے ہو کہ ہمارے آخری دین کو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک محفوظ رکھنے کا ذمہ لیا ہے، دین کی حفاظت جب ہی ہوسکتی ہے جبکہ نصوصِ دین کے الفاظ بھی بغیر کسی تغیر و تبدل کے محفوظ رہیں، ان کے معانی بھی محفوظ ہوں، پھر ان پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح خود عمل کرکے دکھایا اور صحابہ کرامؓ سے اپنے سامنے عمل کرایا، وہ بھی محفوظ ہو، اور پھر ان اعمال سے جو اسلامی ذوق، احسانی کیفیت اور دین فہمی کا ملکہ پیدا ہوتا ہے وہ بھی محفوظ رہے۔

غرضیکہ یہ چار چیزیں ہوئیں: الفاظ، معانی، اعمال اور ذوقِ دین۔ ہم ’’ذہنی غلامی‘‘ کے مبتلاؤں کا تو خیال ہی نہیں بلکہ عقیدہ ہے کہ حق تعالیٰ نے یہ چاروں چیزیں بغیر کسی انقطاع کے محفوظ رکھیں اور جن حضرات کے ذریعہ محفوظ رکھیں وہ ہمارے محسن ہیں، مقتدأ ہیں، معتمد علیہ ہیں، اور ہم ان کے ذہنی غلام ہیں، ممنونِ احسان ہیں، کیونکہ اگر ان حضرات کو درمیان سے ہٹادیا جائے اور یہ فرض کرلیا جائے کہ فلاں دور میں وہ دین کے الفاظ کو، یا معانی کو، یا عمل کو، یا ذوق کو محفوظ نہیں رکھ سکے تھے؟ یا یہ کہ ان پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا، تو اس سے پورے دین ہی کی نفی ہوجاتی ہے۔ مگر مودودی صاحب کے نظریہ کے مطابق تو ان چاروں چیزوں میں سے ایک چیز بھی لائق اعتماد نہیں رہی، کیونکہ ماضی اور حال کے بزرگوں کی ’’ذہنی غلامی‘‘ میں مبتلا ہونے کی ذلت ان کے منصبِ عالی کے لئے ناقابل برداشت ہے، جس کے لئے وہ کسی طرح بھی آمادہ نہیں۔

اور اگر ان کی رعایت سے یہ تسلیم بھی کرلیں کہ قرآن و سنت کے الفاظ محفوظ ہیں، تب بھی ان الفاظ کو معنی پہنانے اور ان معانی کو عملی جامہ پہنانے اور پھر ان اعمال ریاضت سے دین کا ذوق نصیب ہونے کے مراحل باقی رہیں گے، اور چونکہ مودودی صاحب کسی بھی انسان کی ’’ذہنی غلامی‘‘ قبول کرنے پر آمادہ نہیں، اس لئے یہ سارے مراحل بغیر کسی کی راہنمائی کے طے کرنے ہوں گے، اسی طرح ان کی جماعت کے ایک ایک فرد کے لئے بھی چونکہ سلفِ صالحین کی ’’ذہنی غلامی‘‘ شجر ممنوعہ ہے، اس لئے انہیں بھی اپنی عقل و فہم کی پرواز سے یہ مرحلے طے کرنے ہوں گے، اس سے ان کے دین کا جو حلیہ بنے گا اس پر کسی تبصرہ کی ضرورت نہیں۔

حاصل یہ کہ جو شخص آج چودہ سو سال پرانے اسلام کے اندر رہنا چاہتا ہے، اس کو تو حاملین دین، سلف صالحین کی ’’ذہنی غلامی‘‘ کے بغیر چارہ نہیں، اور جو شخص اس ذلت کو برداشت نہیں کرتا یا نہیں کرنا چاہتا وہ خواہ کتنا ہی بلند پرواز کیوں نہ ہو اسلام کو ۔۔۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے اسلام کو ۔۔۔ حاصل نہیں کرسکتا، اگر سلفِ صالحین کے قال و حال پر اعتماد کئے بغیر اور ان کی ’’ذہنی غلامی‘‘ میں مبتلا ہوئے بغیر بھی اسلام کو حاصل کرنے کا کوئی سائنٹفک طریقہ جناب مودودی صاحب نے ایجاد فرمایا ہے، تو اس کے معلوم کرنے کا متمنی ہوں، بشرطیکہ وہ مسٹر پرویز اور مرزا قادیانی وغیرہ ملاحدہ کے طریقہ سے ذرا مختلف ہو۔۔۔!

مسئلہ‌جاری‌ہے - شہید اسلام