غلط عقائد رکھنے والے فرقے
مسئلہجاریہے
جواب
ایک طفل مکتب کا تصور کیجئے جو پہلے دن مکتب میں گیا، استاذ نے اسے بغدادی قاعدہ شروع کرایا ہو، جب استاذ نے اس کو الف، بے کہلایا تو اس کے جواب میں وہ صاحبزادہ صاحب فرماتے ہیں کہ: حضور! میں چودہویں صدی کا مفکر ہوں، آپ کی ’’ذہنی غلامی‘‘ کیوں قبول کروں؟ تو اس صاحبزادے کی تعلیم جس قدر ’’مکمل‘‘ ہوگی؟ وہ محتاجِ بیان نہیں۔
ہم لوگ صحابہ کرامؓ اور دیگر سلفِ صالحینؒ کے مقابلہ میں وہ حیثیت بھی نہیں رکھتے جو اس ماڈرن صاحبزادے کی استاذ کے مقابلہ میں تھی، ہمیں دین کی ابجد انہی بزرگوں کے ذریعہ حاصل ہوئی ہے، ان کی ’’ذہنی غلامی‘‘ سے انحراف کا نتیجہ بھی اس صاحبزادے سے مختلف نہیں ہوگا، خدا مجھے معاف فرمائے، میرا خیال یہ ہے کہ سلفِ صالحین سے کٹ کر اور ان کی ’’ذہنی غلامی‘‘ کا جوا اُتار کر جو لوگ اسلام کا ناک، نقشہ مرتب کر رہے ہیں، وہ سرے سے اسلام کے قائل ہی نہیں، وہ قرآن و سنت کے الفاظ بار بار اس لئے استعمال کرتے ہیں کہ اسلامی معاشرے میں کفر و اِلحاد پھیلانے کے لئے اس کے بغیر کام نہیں چلتا۔ جناب مودودی صاحب کو میں ان لوگوں کی صف کا آدمی تو نہیں سمجھتا لیکن افسوس ہے کہ مودودی صاحب نے سلفِ صالحین میں سے ایک ایک فرد کی ’’ذہنی غلامی‘‘ کی نفی کرکے، دورِ حاضر کے ملاحدہ کی ’’ذہنی غلامی‘‘ کو ترجیح دی ہے اور انہوں نے ’’آزاد روی‘‘ کا وہی راستہ اپنایا ہے جس پر آج کا ماڈرن طبقہ بگٹٹ دوڑ رہا ہے۔
۷:۔جناب مودودی صاحب، سلفِ صالحینؒ کی اقتدا و اتباع کو ’’ذہنی غلامی‘‘ کا نام دے کر اس کا مذاق اُڑا رہے ہیں، حالانکہ یہ وہی ’’ذہنی غلامی‘‘ ہے جس کو قرآن ’’سَبِيلِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ‘‘ قرار دے کر اس کے چھوڑنے والوں کو جہنم رسید کرنے کی دھمکی دیتا ہے، اور پھر یہ وہی ’’ذہنی غلامی‘‘ ہے جس کو قرآن ’’ٱلصِّرَٰطَ ٱلۡمُسۡتَقِيمَ‘‘ قرار دے کر اس کی ہدایت کی دعا تلقین کرتا، اور پھر یہ وہی ’’ذہنی غلامی‘‘ ہے جس کے لئے مسلمان ناک رگڑ رگڑ کر پنج وقتہ دُعائیں کرتے ہیں، کتنی مکروہ اور بھونڈی تعبیر ہے، جس راستہ پر مقدسین کے قافلوں کے قافلے گزرے ہیں، اس کی پیروی کو ’’ذہنی غلامی‘‘ بتایا جائے۔
تم نے اگر اِسلامی دور میں اُبھرنے والے باطل فرقوں کا مطالعہ کیا ہے تو یہ حقیقت تم پر آشکارا ہوگی کہ ان سب کی بنیاد اسی ’’أَنَا وَلَا غَيْرِيْ!‘‘ پر استوار ہوئی، ان سب نے سلف کی ’’ذہنی غلامی‘‘ سے عار کی اور اپنی عقل و فہم کے بازوؤں پر تخیلات کے جنگل میں پرواز شروع کردی، اور پھر جس کا جدھر منہ اٹھا اسی سمت اڑتا رہا۔
اسلام میں سب سے پہلے فتنہ عبداللہ بن سبا یہودی نے برپا کیا، جس کی بنیاد ہی ’’رسولِ خدا کے سوا کسی انسان کو تنقید سے بالاتر نہ سمجھنے‘‘ پر تھی، پھر اسی سبائیت کے بطن سے ’’فتنہ خوارج‘‘ نے جنم لیا، جو بڑی شوخ چشمی سے کہتے تھے کہ حضرت علیؓ اور دیگر صحابہؓ نے دین کو نہیں سمجھا، ہم ان سے بہتر سمجھتے ہیں، پھر انہی بنیادوں پر معتزلہ، مرجئہ، قدریہ وغیرہ فرقے پیدا ہوئے، ان میں سے ہر ایک نے سلف کی پیروی کو ’’ذہنی غلامی‘‘ تصور کیا، ’’فَضَلُّوْا وَأَضَلُّوْا!‘‘ دورِ حاضر میں جو نئے نئے فرقے پیدا ہوئے ان میں اُصول ونظریات کے اختلاف کے باوجود تمہیں یہی قدر مشترک نظر آئے گی، سلف صالحینؒ کا مذاق اُڑانا، ان کے کاموں میں کیڑے نکالنا، ان کی حیثیت کو مجروح کرنا، ان پر تنقیدی نشتر چلانا اور ان کی پیروی کو رجعت پسندی، دقیانوسیت، قدامت پرستی، ذہنی غلامی جیسے القاب دینا، دورِ جدید کا فیشن ہے۔
افسوس ہے کہ جناب مودودی صاحب نے بھی اپنی ’’اسلامی تحریک‘‘ کی بنیاد اسی نظریہ پر اُٹھائی ہے۔ ہم جب خارجیوں کے حالات پڑھتے تھے تو ہمیں ان کی جرأت پر تعجب ہوتا تھا کہ وہ ایک ایسی شخصیت کے مقابلے میں دین فہمی کا دعویٰ کر رہے ہیں جس نے آفتابِ اسلام کو اپنی آنکھوں سے طلوع ہوتے دیکھا، جو تیئس سالہ دورِ نبوت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا رفیق ومعتمد علیہ رہا، جو نزولِ وحی کے ایک ایک واقعہ کا عینی شاہد تھا، جس نے اپنی زندگی بچپن سے کہولت تک، اسلام پر نثار کردی، ان لوگوں کی عقل کو آخر کیا ہوگیا تھا کہ وہ اس کی دین فہمی پر تنقید کرتے تھے۔ مگر تاریخ اپنے آپ کو دُہراتی ہے، آج جناب مودودی صاحب کی ’’تنقیدوں‘‘ نے (جو انہوں نے حضرت عثمانؓ اور دیگر صحابہ کبارؓ پر کی ہیں) خارجیوں سے متعلق ہمارا سارا تعجب دُور کردیا۔ مودودی صاحب ہمیں بتاتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ ’’اسلامی نظام‘‘ کو قائم نہیں رکھ سکتے تھے، نہ ان کے بعد کسی کو اس کی توفیق ہوئی، اب جناب مودودی صاحب کی ’’تحریکِ اسلامی‘‘ اسلامی نظام برپا کرے گی، ’’إِنْ هِيَ إِلَّا خَارِجِيَّةٌ جَدِيْدَةٌ! ‘‘ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے خدا کے فرشتے حیا کرتے تھے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے:
’’اَلَا اَسْتَحْیِیْ مِنْ رَّجُلٍ تَسْتَحْیِیْ مِنْہُ الْمَلائِکَۃُ۔ رواہ مسلم ۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۵۶۱)
ترجمہ:۔’’کیا میں ایسے شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔‘‘
مگر مودودی صاحب ان سے کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے، بلکہ ان پر بے لاگ تنقید کرتے ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بے پناہ قربانیوں سے متأثر ہوکر فرماتے ہیں:
’’مَا عَلٰی عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ ھٰذِہٖ، مَا عَلٰی عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ ھٰذِہٖ۔ رواہ الترمذی۔‘‘(مشکوٰۃ ص:۵۶۱)
ترجمہ:۔’’عثمان اس کے بعد جو کچھ بھی کریں ان پر الزام نہیں، عثمان آج کے بعد جو کچھ بھی کریں ان پر الزام نہیں۔‘‘
مگر مودودی صاحب ان پر الزامات کی بوچھاڑ کرنے کو سرمایۂ فخر و مباہات سمجھتے ہیں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم امت کو وصیت فرماتے ہیں:
’’اَللّه! اَللّه! فِیْ اَصْحَابِیْ لَا تَتَّخِذُوْھُمْ غَرَضًا مِّنْ بَعْدِیْ، فَمَنْ اَحَبَّھُمْ فَبِحُبِّیْ اَحَبَّھُمْ وَمَنْ اَبْغَضَھُمْ فَبِبُغْضِیْ اَبْغَضَھُمْ۔‘‘ (ترمذی ج:۲ ص:۲۲۶)
ترجمہ:۔’’میرے ساتھیوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو! اللہ سے ڈرو! ان کو میرے بعد ہدفِ تنقید نہ بنالینا، پس جس نے ان سے محبت کی، پس میری محبت کی بنا پر ان سے محبت کی، اور جس نے ان سے بغض رکھا، تو مجھ سے بغض کی بنا پر ان سے بغض رکھا۔‘‘
لیکن مودودی صاحب ان کو تنقید کی چھلنی میں چھاننا ضروری سمجھتے ہیں، ہرکس و ناکس کو ان پر تنقید کا حق دیتے ہیں، ان کی عیب چینی کرکے امت کو ان سے نفرت اور بغض رکھنے کی تلقین کرتے ہیں کہ لوگ ان کی ’’ذہنی غلامی‘‘ سے دست بردار ہوجائیں، یہ جدید رنگ میں اسی ’’خارجیت‘‘ کا احیا ہے، جو صحابہؓ کے دور میں ابھری تھی: ’’وَلَعَنَ آخِرُ ھٰذِہِ الْاُمَّۃُ اَوَّلُھَا۔‘‘ (اور اُمت کے پچھلے لوگ پہلوں پر لعن طعن کریں گے) (حدیث نبوی)۔
اس تحریر کو فقیہ الامت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ارشاد پر ختم کرتا ہوں، تاکہ ان کے ارشاد سے مودودی صاحب کے فرامین کا ’’معیارِ حق‘‘ تمہیں معلوم ہوسکے:
’’عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: مَنْ کَانَ مُسْتَنًّا فَلْیَسْتَنَّ بِمَنْ قَدْ مَاتَ، فَإِنَّ الْحَیَّ لَا تُؤَمَنْ عَلَیْہِ الْفِتْنَۃُ اُولٰٓئِکَ اَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، کَانُوْا اَفْضَلَ ھٰذِہِ الْاُمَّۃُ اَبَرُّھَا قُلُوْبًا وَّاَعْمَقُھَا عِلْمًا وَّاَقَلُّھَا تَکَلُّفًا، إِخْتَارَھُمُ اللہُ لِصُحْبَۃِ نَبِیِّہٖ وَلِاقَامَۃِ دِیْنِہٖ، فَأَعْرِفُوْا لَھُمْ فَضْلَھُمْ وَاتَّبِعُوْھُمْ عَلٰی اَثَرِھِمْ وَتَمَسَّکُوْا بِمَا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ اَخْلَاقِھِمْ وَسِیَرِھِمْ فَإِنَّھُمْ کَانُوْا عَلَی الْھُدَی الْمُسْتَقِیْمِ۔ رواہ رزین۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۳۲)
ترجمہ:۔’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم میں سے جس کو کسی کی اقتدأ کرنی ہو تو ان حضرات کی اقتدا کرے جو فوت ہوچکے ہیں، کیونکہ زندہ آدمی فتنہ کے اندیشہ سے مامون نہیں، میری مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ سے ہے۔ یہ حضرات ساری امت سے افضل تھے، سب سے زیادہ پاک دل تھے، علم میں سب سے گہرے اور سب سے کم تکلف تھے، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت و رفاقت، اپنے دین کی اقامت و حمایت کے لئے ان کو منتخب فرمایا، لہٰذا ان کے فضل و کمال کو پہچانو! ان کے نقش قدم پر چلو! جہاں تک ممکن ہو ان کی سیرت و اخلاق کو اپناؤ! کیونکہ وہ سیدھی راہ پر تھے۔‘‘
حق تعالیٰ شانہ‘ ہمیں اور پوری اُمت کو اس زرّیں نصیحت پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے، اور صراطِ مستقیم پر قائم رکھے، آمین!
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ للّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
محمد یوسف عفا اﷲ عنہ

